Monday, 24 February 2025

غزہ میں بالغ مردوں کو قتل کردیاجائے

 





اسرائیلی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر کا مطالبہ


اسرائیلی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر نیسیم وٹوری کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان سامنے آیا ہے۔


عبرانی زبان کے ریڈیو "کول برما" کے مطابق وٹوری نے غزہ کی پٹی میں تمام بالغ مردوں کو قتل کر دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "یقینا یہ (غزہ کے فلسطینی) ٹھکرائے ہوئے ہیں اور دنیا میں کوئی بھی انہیں نہیں چاہتا، لہذا بچوں اور عورتوں کو الگ کر کے بالغ افراد (مردوں) کو ختم کر دیا جائے"۔


ڈپٹی اسپیکر کے نزدیک اسرائیل غزہ کی آبادی کے ساتھ "ضرورت سے زیادہ درگزر" کا معاملہ کر رہا ہے۔


وٹوری نے دعویٰ کیا کہ عالمی برادری یہ جانتی ہے کہ غزہ کی آبادی کو کہیں بھی خوش آمدید نہیں کہا جائے گا لہذا وہ انھیں اسرائیل کے طرف دھکیل رہی ہے۔


واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب کسی اسرائیلی عہدے دار نے فلسطینیوں کے قتل کا مطالبہ کیا ہے، اس سے قبل اسرائیلی سیاسی اور مذہبی شخصیات اس قسم کے بیان جاری کر چکی ہیں۔


شدت پسند وزیر خزانہ بتسلیل سموٹرچ ایک سے زیادہ موقع پر اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے قتل پر زور دے چکے ہیں۔

اسی طرح اسرائیلی حاخام الیاہو مالی نے یہودی شریعت سے متعلق اپنی تشریحات کے ضمن میں مطالبہ کیا تھا کہ غزہ میں فلسطینیوں کو قتل کر دیا جائے۔


سات اکتوبر 2023 کو حماس نے غلاف غزہ میں اسرائیلی فوجی اڈوں اور اسرائیلی آباد کاروں کی بستیوں پر بڑا حملہ کیا تھا۔ اس کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جانب سے خون ریز جنگ چھڑ گئی۔ اس دوران میں 1.6 لاکھ فلسطینی جاں بحق اور زخمی ہوئے جن میں زیادہ تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔

دوسری جانب غزہ کی پٹی میں 14 ہزار سے زیادہ لوگ لا پتا ہیں جب کہ 80% کے قریب عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔



واضح رہیکہ ان تمام کے باوجود پوری عالمی برادری خاموش ہے اور اسرائیل کی حمایت کر رہی ہے جو کہ انسانیت کیلئے کسی عار سے کم نہیں ہے ۔ اسرائیل فلسطینیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے انہیں بموں سے اڑا رہا ہے ان کے گھروں کو اجاڑ رہا ہے ۔ ان کی بستیوں کو بلڈوز کر رہا ہے اس کے باوجود امریکہ اور پوری دنیا اسرائیل کی گوشمالی کرنے کے بجائے اس کے مظالم پر خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے جو کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے ۔ اسرائیل تن تنہا کچھ نہیں کرسکتا ہے اس میں امریکہ اور اس کے حواری اس کی پوری مدد کر رہے ہیں تاکہ اسرائیل کے تو سیع پسندانہ عزائم کی تکمیل ہو سکے ۔ دنیا تو خاموش ہے ہی لیکن عالم اسلام بالخصوص مسلم ممالک کی خاموشی نے اسرائیل کو جری بنا دیا ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ تمام مسلم ممالک بولنے کے بجائے کچھ کریں کیونکہ جب تک اسرائیل کو آئیسولیٹ نہیں کیا جائے گا تب تک اس کی یہی حالت ر ہے گی اور فلسطینیوں سمیت پڑوسی ممالک کو پریشان کرتا رہے گا۔ یہ صرف عربوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت اور امن عالم کا مسئلہ ہوچکا ہے جتنا جلدہوسکے دنیااس بات کو سمجھ لے اور اسرائیل کے ساتھ اس کے حواریوں کی بھی گوشمالی کرے تبھی دنیا میں امن و شانتی ہوگی ورنہ امن تو رہنے سے رہا۔



No comments:

Post a Comment