نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ہفتہ کی رات پیش آنے والے بھگدڑ کے المناک واقعے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ حادثے کے بعد ریلوے انتظامیہ نے اسٹیشن پر سیکورٹی بڑھاتے ہوئے بھاری پولیس فورس تعینات کر دی ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
انگریس کی ترجمان سپریہ شرینیت نے نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر پیش آئے المناک حادثے کو قتل عام قرار دیتے ہوئے ریلوے انتظامیہ اور وزیر ریلوے اشونی ویشنو پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ حکومت کی مجرمانہ لاپروائی اور ریلوے کی سنگین ناکامی کا نتیجہ ہے۔
سپریہ شرینیت نے پریس کانفرنس میں کہا، ”یہ کوئی عام حادثہ نہیں، یہ قتل عام ہے۔ آستھا اور عقیدت کے ساتھ کمبھ کی یاترا پر نکلے افراد کو انتظامیہ کی ناکامی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ حکومت کی نااہلی نے 18 قیمتی جانیں چھین لیں، جس میں 9 خواتین، 4 مرد اور 5 معصوم بچے شامل ہیں۔“
انہوں نے کہا، ”حادثے سے پہلے ہی ریلوے انتظامیہ کو اندازہ تھا کہ عقیدت مندوں کی بڑی تعداد کمبھ میں شرکت کے لیے ٹرینوں کا رخ کرے گی۔ 15 فروری کو ہر گھنٹے تقریباً 1500 جنرل ٹکٹ فروخت ہو رہے تھے لیکن اس کے باوجود بھیڑ کے کنٹرول کے لیے کوئی خاص انتظام نہیں کیا گیا۔ “
سپریہ شرینیت نے عینی شاہدین کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیشن پر خوفناک مناظر دیکھنے کو ملے۔ وہاں لوگوں کی لاشیں بے یار و مددگار پڑی تھیں، مزدوروں نے لاشوں کو اٹھا اٹھا کر باہر نکالا، اسپتالوں میں جگہ کم پڑ گئی۔ لوگ اپنے پیاروں کو کھو کر بے بسی میں رو رہے تھے لیکن حکومت ان کی چیخیں سننے کو تیار نہیں۔“
انہوں نے مزید کہا کہ پلیٹ فارم کی اچانک تبدیلی کی خبروں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ یہی اصل افراتفری اور بھگدڑ کی بڑی وجہ بنی۔ اگر ریلوے کو پہلے سے علم تھا کہ عقیدت مندوں کا رش ہوگا، تو کیا حفاظتی انتظامات کیے گئے؟ کیا پولیس فورس تعینات کی گئی؟ کیا بار بار اعلانات کر کے بھیڑ کو سنبھالنے کی کوشش کی گئی؟ یا سب کچھ حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا؟
سپریہ شرینیت نے انکشاف کیا کہ حادثے کے بعد حکومت اور ریلوے انتظامیہ نے حقائق کو دبانے کے لیے میڈیا پر دباو¿ ڈالنا شروع کر دیا۔ ریلوے پولیس نے رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے فون ضبط کیے، ان کی فوٹیج زبردستی ڈیلیٹ کرائی، حتیٰ کہ خواتین صحافیوں کے شناختی کارڈ تک چھین لیے گئے۔
انہوں نے سوال کیا کہ آخر حکومت کو کس بات کا خوف ہے؟ اگر آپ نے کچھ غلط نہیں کیا تو حقائق کو چھپانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ آپ کو اپنے عوام کے سامنے سچ بولنے سے ڈر کیوں لگ رہا ہے؟
سپریہ شرینیت نے حکومت کی ترجیحات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت عام لوگوں کے لیے کچھ کرنے کو تیار نہیں ہے، بلکہ صرف اپنے قریبی دوستوں اور وی آئی پی افراد کو سہولیات فراہم کر رہی ہے۔
ایک طرف وزیر اعظم اپنے خاص دوستوں کو وی وی آئی پی ڈبکی لگوا رہے ہیں، دوسری طرف عام عقیدت مندوں کو بھیڑ میں دم گھٹ کر مرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ایک طرف حکومت اپنے دوستوں کو ہیلی کاپٹر میں گھما رہی ہے، دوسری طرف عام عوام کو ریلوے اسٹیشن پر لاوارث چھوڑ دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے وزیر کی بے حسی حد سے تجاوز کر چکی ہے۔ جب لوگ دم گھٹنے سے مر رہے تھے، تو وزیر ریلوے اشونی ویشنو اموات کے اعداد و شمار چھپانے میں لگے تھے۔ جب بھی کوئی ریلوے حادثہ ہوتا ہے، یہ وزیر صرف لیپا پوتی میں لگ جاتے ہیں۔ ان کا مقصد عوام کو جواب دینا نہیں، بلکہ حکومت کا دامن بچانا ہوتا ہے۔ سپریہ شرینیت نے کہا کہ یہ حکومت عام لوگوں کی جان کی پرواہ نہیں کرتی، اس لیے اب انہیں جواب دہ بنانا ہوگا۔
سپریہ شرینیت نے کہا، یہ حکومت کتنی بے حس ہو چکی ہے کہ جب لوگ بے بسی میں مر رہے تھے، تب ان کی جان بچانے کی بجائے ان کی موت کے اعداد و شمار چھپانے میں زیادہ محنت کی جا رہی تھی۔ کیا حکومت کو پہلے سے معلوم نہیں تھا کہ کمبھ کے لیے لاکھوں لوگ سفر کریں گے؟ اگر معلوم تھا تو کیا اضافی ٹرینیں چلائی گئیں؟ کیا حفاظتی انتظامات کیے گئے؟ یا سب کچھ بھگوان بھروسے چھوڑ دیا گیا؟
نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ میں مرنے والوں کے تئیں بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور سابق وزیر ریل لالو پرساد یادو نے بھی گہرے افسوس اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے وزیر ریل کو بھی اپنا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کی لاپروائی سے اتنے لوگوں کی موت ہو گئی۔ وزیر ریل کو اس کی ذمہ داری لینی چاہیے۔ لالو پرساد نے حادثہ میں ہلاک ہوئے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس کے بعد انہوں نے مہا کمبھ پر بھی تبصرہ کیا۔
'لائیو ہندوستان' کے مطابق میڈیا کو دیے گئے بیان میں لالو یادو نے کہا کہ بھگدڑ حادثہ بہت افسوسناک ہے۔ اس میں ریلوے کی غلتی ہے۔ ریلوے کی بدانتظامی سے اتنے سارے لوگوں کی جان چلی گئی۔ ہم واقعہ میں مرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اس کا حادثہ کا مجھے کافی افسوس ہے۔ وزیر ریل اشونی ویشنو کو اس کی ذمہ داری لینی چاہیے۔ یہ ریلوے کا فیلور ہے۔ واضح ہو کہ لالو پرساد منموہن سنگھ کی قیادت والی حکومت میں وزیر ریل تھے اور اپنے ایکشن کو لے کر کافی سرخیوں میں رہتے تھے۔
اس سے قبل بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے بھی دہلی واقعہ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے این ڈی اے کی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ سوشل میڈیا ہینڈل 'ایکس' پر پوسٹ لکھتے ہوئے تیجسوی نے کہا، "نئی دہلی اسٹیشن پر بدانتظامی اور بھگدڑ کی وجہ سے ہوئی اموات سے من پریشان ہے۔ اتنے سارے وسا?ئل کے باوجود بھگدڑ میں عقیدت مندوں کی جانیں جا رہی ہیں اور حکومت اس سمت میں توجہ نہیں دے رہی صرف اپنی تشہیر کر رہی ہے۔"
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ اس حادثے کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پارٹی کے رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن ساکیت گوکھلے نے وزیر ریل اشونی ویشنو کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ان سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا، ”بھگدڑ کے کئی گھنٹوں بعد تک ریلوے نے اس واقعے سے انکار کیا اور اسے محض ’افواہ‘ قرار دیا، یہ حقائق کو چھپانے کی ایک بے شرمانہ کوشش تھی۔ جب لاشیں ملنے لگیں تب جا کر اعتراف کیا گیا۔“
ٹی ایم سی کی سینئر رہنما ساگریکا گھوش نے بھی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی پہلے بھگدڑ سے انکار کرتی رہی، پھر اسے افواہ قرار دیا، پھر زخمیوں کی موجودگی تسلیم کی، اور آخر میں مجبور ہو کر اموات کا اعتراف کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”بی جے پی کی حکومت ہمیشہ ایسی ہولناک اموات کو چھپانے کی کوشش کرتی ہے۔ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کا یہ واقعہ بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔“
ٹی ایم سی رہنماو¿ں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ وہ فوراً اشونی ویشنو کو برطرف کریں۔ گوکھلے نے کہا، ”اگر وزیر ریل کو ذرا بھی ذمہ داری کا احساس ہے تو انہیں فوراً استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ اگر وزیر اعظم مودی کو عوام کی جانوں کی کوئی پرواہ ہے تو انہیں وزیر ریل کو فوری برطرف کرنا چاہیے۔“
حادثے کے بعد ریلوے حکام نے اسٹیشن پر سیکورٹی کے سخت اقدامات کیے ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو اس حادثے کی وجوہات کا جائزہ لے گی اور حفاظتی اقدامات میں بہتری کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔
دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر پیش آنے والے افسوسناک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ریلوے انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ناقص انتظامات کی وجہ سے پیش آیا، جس کے باعث مسافروں میں افرا تفری مچ گئی اور قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ یادو نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کی تفصیلی جانچ کرائے اور متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی امداد فراہم کرے۔
دیویندر یادو نے اپنے بیان میں کہا، ”یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس حادثے میں خواتین اور بچوں سمیت کئی معصوم جانیں چلی گئیں، جس سے ریلوے کے ناکافی انتظامات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ ابتدائی طور پر 18 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے لیکن جو مناظر اسٹیشن پر دیکھے گئے اور وہاں موجود افراد نے جو بیان دیا، اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس حادثے کے اسباب کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے ریلوے کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر انتظامات مناسب ہوتے تو یہ حادثہ پیش نہ آتا۔ ان کے مطابق، ”جب عوام کو معلوم ہوا کہ حکومت کی جانب سے مفت ریل سروس فراہم کی جا رہی ہے، تو ہزاروں لوگ اسٹیشن پر پہنچ گئے لیکن وہاں کسی قسم کی مناسب حکمت عملی نہیں اپنائی گئی، جس کی وجہ سے حالات قابو سے باہر ہو گئے۔“
انہوں نے کہا، ”حکومت کی اولین ترجیح ہلاک شدگان کے اہل خانہ کو مالی مدد فراہم کرنا ہونی چاہیے۔ ہم اس دکھ کی گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت فوری طور پر معاوضے کا اعلان کرے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے تاکہ مستقبل میں اس قسم کی صورت حال پیدا نہ ہو۔“
ریلوے کے حوالے سے دیویندر یادو نے کہا کہ انتظامیہ کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ جب بھی کسی قسم کی خصوصی سروس فراہم کی جائے، تو ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے اتنی بڑی تعداد میں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اگر پہلے سے ہی کنٹرول روم قائم کیے جاتے، مسافروں کو بہتر طریقے سے منظم کیا جاتا اور ایمرجنسی اقدامات کیے جاتے، تو شاید یہ حادثہ روکا جا سکتا تھا۔“
انہوں نے ریلوے کی جانب سے تشکیل دی گئی جانچ کمیٹی پر بھی سوال اٹھائے اور کہا، ”تحقیقات کو شفاف اور غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جانچ کمیٹی میں آزاد ماہرین کو شامل کیا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔ متاثرہ خاندانوں کو انصاف دلانا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔“
واضح رہے کہ ہفتہ کی رات نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ مچنے سے کم از کم 18 افراد ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے۔ حادثے کے بعد ریلوے حکام نے دو رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے، جس میں شمالی ریلوے کے دو سینئر افسران شامل ہیں۔ کمیٹی کو تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لینے اور واقعے کی وجوہات کا پتہ لگانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
دریں اثنا، دہلی پولیس نے بھی واقعے کی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور اسٹیشن پر نصب کیمروں کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہجوم کس طرح قابو سے باہر ہوا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق، زخمیوں میں سے 9 کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ ہلاک شدگان میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔
حادثے میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں اور حکومت سے فوری مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔ ریلوے حکام نے کہا ہے کہ متاثرہ افراد کے اہل خانہ کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔ تاہم، حزب اختلاف اور سماجی حلقے حکومت پر دباو¿ ڈال رہے ہیں کہ وہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کرائے اور مستقبل میں اس طرح کے حادثات کو روکنے کے لیے مو¿ثر اقدامات کرے۔
No comments:
Post a Comment