غزہ جنگ کی وجہ سے ہونے والی بڑے پیمانے پر تباہی کے بعد تعمیر نو کا عمل، اس کی لاگت اور کام کے سالوں کی تعداد ابھی تک واضح نہیں ہے۔ جنوری 2025 میں اقوام متحدہ کی طرف سے کیے گئے نقصان کے تخمینے سے ظاہر کیا گیا تھا کہ غزہ میں جنگ کے نتیجے میں 50 ملین ٹن سے زیادہ ملبے کو ہٹانے میں 21 سال لگ سکتے ہیں اور اس کی لاگت 1.2 بلین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے ایک مصری تاجر نے حیران کن بیان دیا ہے۔
متبادل منصوبہ
مصری بزنس مین ہشام طلعت مصطفیٰ نے 3 سال کے اندر غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک متبادل منصوبے کا انکشاف کیا۔ اپنے منصوبے میں انہوں نے مصر کے تجربات کی بنیاد پر بڑے ہاو¿سنگ پراجیکٹس کو موثر طریقے سے نافذ کرنے کے امکان کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے چینل "ایم بی سی مصر" کے پروگرام ” الحکای?“ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں 1.2 سے 1.3 ملین بے گھر افراد ہیں۔ تعمیر نو کے لیے 100 مربع میٹر فی یونٹ کی شرح سے 200,000 مکانات کی تعمیر کی ضرورت ہے۔ اس کا مطلب ہے ہر مربع میٹر پر تعمیر کی لاگت ایک ہزار ڈالر آئے تو تعمیر کی لاگت کا تخمینہ 20 ملین ڈالر ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس منصوبے کو 40 سے 50 کنٹریکٹ کرنے والی کمپنیوں کے ذریعے 3 سال کے اندر 6 مرحلوں میں لاگو کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس پر ” مدینتی“ اور ” الرحاب“ کے منصوبوں کا حوالہ بھی دیا جن میں ایک لاکھ 80 ہزار رہائشی یونٹس موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسی طرح ایک لاکھ 20 ہزار رہائشی یونٹس ” نور“ تعمیراتی منصوبے میں بھی موجود ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مصر کے پاس یہ استعداد ہے کہ وہ غزہ میں بھی ایسے ہی منصوبے مکمل کر سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غزہ میں فلسطینیوں کے لیے بین الاقوامی برادری کی اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ صورت حال کا تسلسل خطرناک حالات کا باعث بن سکتا ہے۔
واضح رہے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکو نے 30 جنوری کو وضاحت کی تھی کہ غزہ کی پٹی میں تقریباً کچھ بھی نہیں بچا ہے۔ انہوں نے تجویز کیا تھا کہ غزہ کی تعمیر نو کے عمل میں 10 سے 15 سال لگ جائیں گے۔ انہوں نے غزہ کے لیے 5 سال کے اندر کسی ٹھوس منصوبے تک پہنچنے کو بھی ناممکن قرار دیا اور کہا کہ تعمیر نو میں 10 سے 15 سال لگ سکتے ہیں۔
یاد رہے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ 15 ماہ کی وحشیانہ جنگ کے بعد 19 جنوری کو نافذ ہوا اور دونوں فریقوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی شرط رکھی گئی۔ اس میں شمال میں بفر زون کے قیام کے ساتھ ساتھ پوری غزہ کی پٹی سے بتدریج اسرائیلی انخلائ بھی شامل تھا۔ معاہدے میں جنگ کے مستقل خاتمے اور غزہ کی تعمیر نو کی بھی شرط رکھی گئی تھی۔
No comments:
Post a Comment