Showing posts with label india. Show all posts
Showing posts with label india. Show all posts

Tuesday, 2 September 2025

پٹنہ میں یونانی طب کے فروغ کیلئے تاریخی معاہدہ


سی سی آر یو ایم دہلی اور گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے درمیان مفاہمت نامہ پر دستخط



پٹنہ:ریجنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن ( آر آر آئی یوایم )، پٹنہ میں آج ایک تاریخی مفاہمت نامہ (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ یہ معاہدہ سینٹرل کونسل فار ریسرچ اِن یونانی میڈیسن (سی سی آر یوایم)، نئی دہلی، وزارت آیوش، حکومت ہند اور گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال، پٹنہ کے درمیان طے پایا۔

یہ ایم او یو یونانی طب کے شعبے میں تحقیقی تعاون، علمی ترقی اور اختراعات کو فروغ دینے کی سمت ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

تقریب کی رونق میں اضافہ کرنے والے معززین میں ڈاکٹر این۔ظہیر احمد، ڈائریکٹر جنرل، سی سی آر یوایم، وزارت آیوش پروفیسر ڈاکٹر محفوظ الرحمٰن، پرنسپل، گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال، پٹنہ ،پروفیسر شہنواز اختر، سینئر فیکلٹی ممبر ،ڈاکٹر ممتاز احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر، آر آر آئی یو ایم پٹنہ ، ڈاکٹر وہاب علی، سائنٹسٹ ایف ، آر ایم آئی آر ایم ایس پٹنہ، ڈاکٹر محمد منظر عالم، ریسرچ آفیسر (یونانی)، ڈاکٹر عبدالرشید، ریسرچ آفیسر (یونانی)، اس کے علاوہ سی سی آر یو ایم ہیڈکوارٹر کے نوڈل افسران اور مختلف ذیلی اداروں کے انچارج بھی آن لائن ج±ڑے، جس سے اس تقریب کو مزید وسعت اور اہمیت حاصل ہوئی۔

یہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ دونوں اداروں کو درج ذیل مقاصد میں مضبوطی فراہم کرے گی: ثبوت پر مبنی طریقہ علاج کے ذریعے صحت خدمات کو مو¿ثر بنانا۔تعلیمی و تحقیقی میدان میں اعلیٰ معیار کو فروغ دینا۔ یونانی طب میں اختراعات اور جدید تحقیقی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنا۔ مشترکہ تحقیقی پروجیکٹس اور تعاون پر مبنی اقدامات۔* صلاحیت سازی اور ہنر مندی کے نئے مواقع پیدا کرنا۔ روایتی علم اور جدید سائنس پر مبنی مربوط ہیلتھ ماڈل تیار کرنا۔

یہ معاہدہ یونانی طب کے میدان میں قومی سطح پر تعاون، سائنسی فکر اور علمی خوشحالی کی جانب ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔


Friday, 15 August 2025

پندرہ اگست کے پرمسرت اور مقدس موقع پر تمام ہم وطنوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد

   


پندرہ اگست کے پرمسرت اور مقدس موقع پر تمام ہم وطنوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد

آئیے، ہم اپنے پیارے وطن کی آزادی کے اس تاریخی دن کو فخر، اتحاد اور محبت کے جذبے کے ساتھ منائیں۔

جئے ہند! “



Sunday, 10 August 2025

وجے سنہا کے پاس دو ای پی آئی سی نمبر ، الیکشن کمیشن جواب دے : تیجسوی



پٹنہ، 10 اگست: بہار اسمبلی میںاپوزیشن لیڈر اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سینئر لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے آج الزام لگایا کہ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر وجے کمار سنہا کا نام بہارمیں خصوصی گہری نظرثانی( ایس آئی آر ) کے بعد جاری کردہ مسودہ فہرست میں دو جگہوں پر درج ہے۔ اس سلسلے میںانہوںنے الیکشن کمیشن سے کاروائی کامطالبہ کیا ہے ۔ 

مسٹر یادو نے آج نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے ایس آئی آر کے بعد اس ماہ کے شروع میں جاری کردہ مسودہ فہرست میں مسٹر سنہا کا نام دو جگہوں، لکھی سرائے اور بانکی پور اسمبلی حلقہ میں درج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر سے پہلے اور بعد کے دونوں حالات میں مسٹر سنہا دو اضلاع میں ووٹر ہیں اور ان کے نام پر دو ای پی آئی سی جاری کئے گئے ہیں۔ یہی نہیں دونوں جگہ ان کی عمر بھی مختلف لکھی گئی ہے۔ لکھی سرائے اسمبلی میں ان کی عمر 57 سال اور پٹنہ کی بانکی پور اسمبلی میں 60 سال درج ہے۔ مسٹر یادو نے سوال کیا کہ کیا بہار کے نائب وزیر اعلی نے بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) سے ملاقات کی اور دو جگہوں پر دو ووٹر فارم پر دستخط کئے۔ اگر یہ سچ ہے تو الیکشن کمیشن انہیں نوٹس بھیج کر قانونی کارروائی کرے اور اگر مسٹر سنہا نے دستخط نہیں کیے تو ان کی طرف سے فارم پر کس نے دستخط کیے ہیں۔ اگر دستخط جعلی ہے، تو ایس آئی آر کا پورا عمل شک کے دائرے میں آتا ہے اور اسے منسوخ کر دینا چاہیے۔

بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق مسٹر سنہا کا نام ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی دو اضلاع لکھی سرائے اور پٹنہ کی ووٹر لسٹ میں شامل ہے، اس لیے اس بات کی جانچ ہونی چاہیے کہ کیا نائب وزیر اعلیٰ نے دو جگہوں پر ووٹ کا استعمال کیا تھا۔

مسٹر یادو نے 2 اگست کو منعقدہ اپنی پریس کانفرنس کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی میرا نام دو جگہوں پر آیا، میرے جواب دینے سے پہلے ہی میرے خلاف پروپیگنڈہ شروع ہوگیا اور مجھے جیل بھیجنے کی بات بھی ہوئی۔ مجھے الیکشن کمیشن کا نوٹس اسپیڈ پوسٹ کے ذریعے 8 اگست کو موصول ہوا اور میں نے اسی دن اپنا جواب بھیج دیا۔ اب میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا الیکشن کمیشن مسٹر سنہا کو بھی ایسا ہی نوٹس بھیجے گا اور قصوروار پائے جانے پر قانونی کارروائی کرے گا۔ دوسری طرف، اگر مسٹر سنگھ نے فارم پر دستخط نہیں کیے ہیں، تو الیکشن کمیشن اپنی غلطی تسلیم کر کے اس عمل کو منسوخ کرے گا۔

آر جے ڈی لیڈر نے کہا کہ بہار کا ایک بڑا حصہ سیلاب کی زد میں ہے اور لوگ پریشان حال ہیں۔ ایسے وقت میں اس ووٹر نظرثانی کا وقت ہی سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے نام حذف کیے گئے ہیں وہ یا تو اپنی جان بچائیں یا الیکشن کمیشن سے ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کیلئے گہار لگائیں۔

مسٹر یادو نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ قواعد کے مطابق 2003 سے پہلے ووٹر لسٹ میں رجسٹرڈ شہریوں سے کوئی دستاویز نہیںطلب کرنا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے ووٹروں سے بھی دستاویزات اور خاندانی معلومات کا مطالبہ کرکے بھی پریشان کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا کہ یہ بی جے پی کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بن گئی ہے۔ کمیشن اپوزیشن کے اعتراضات پر کسی قسم کی سماعت کے لیے تیار نہیں۔ بار بار کی درخواستوں کے باوجود کمیشن ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے 65 لاکھ ناموں کے بوتھ اور ای پی آئی سی نمبر جاری نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی سائٹ پر ڈیٹا پہلے ورڈ فائلز میں اپ لوڈ ہوتا تھا اور اب اسے امیج فائلز میں اپ لوڈ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے تاریخ نکالنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔

مسٹر یادو نے کہا کہ ان کی پارٹی بہار اور ملک میں بی جے پی کی جمہوریت مخالف کوششوں کے خلاف لڑتی رہے گی اور جلد ہی الیکشن کمیشن کی طرف سے کی گئی مزید بے قاعدگیوں کو بڑے پیمانے پر بے نقاب کیا جائے گا۔


پارٹی کی مضبوطی کیلئے ہمیشہ لڑتے آئے ہیں اور آئندہ بھی لڑیںگے : ہیمنت کمار

 



پٹنہ: بانکی پور اسمبلی حلقہ 182 سے کانگریس کے ممکنہ امیدواراور بانکی پور بلاک صدر ہیمنت کمار ترویدی نے آج کہاکہ پارٹی کی مضبوطی کیلئے ہمیشہ سے لڑتے آئے ہیں اور آئندہ بھی لڑیںگے ۔

مسٹر دویدی نے کہاکہ ہم لوگ کانگریس کے پرانے اور وفادار کارکن ہیں۔ مسٹر راہل گاندھی کی فکر اور قیادت سے کافی متاثر ہیں ۔ آج مسٹر راہل گاندھی دن رات جمہوریت کوبچانے کیلئے کام کر رہے ہیں اوراس کے ساتھ ہی مسٹر راہل گاندھی نے پارٹی میں ایک نئی روح پھونک دی ہے جس سے ہم کارکنوںکے حوصلے انتہائی بلند ہیں ۔ انہوں کہاکہ راہل جی کی سوچ کہ زمینی لیڈروں کو ترجیح دی جائے، ہمارے لیے امید کی کرن ہے ۔

انہوں نے کہاکہ این ڈی اے حکومت سے لوگ پریشان ہو چکے ہیں اس حکومت میں ہر طرف گھوٹالہ ہی گھوٹالہ ہے ۔ حکومت کے وزراءاور عوامی نمائندے عوام کی کچھ بھی نہیں سنتے صرف اپنی تجوریوںکو بھرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اگر اعلیٰ قیادت نے مجھے موقع فراہم کیا تو میں اعلیٰ قیادت کی امیدوں پر کھڑا اترنے کی پوری کوشش کروںگا اور بانکی پور پٹنہ کی عوام کی فلاح کیلئے اپنی پوری صلاحیت اور طاقت لگا دوںگا۔ جوبھی کام نہیں ہو اسے ترجیحی بنیاد پر کرنے کی کوشش کر وں گا۔

 انہوں نے ایس آئی آر میں کٹے ہوئے ناموں کے بارے میں کہاکہ ہم لوگ ایک ایک نام کو جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کے لئے دن رات کام کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے مسٹر راہل گاندھی کی جانب سے ووٹ چوری کے الزام پر الیکشن کمیشن کے ردعمل پر کہاکہ یہ انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ غلطی الیکشن کمیشن کی ہے اور حلف نامہ راہل گاندھی سے مانگا جارہاے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ الیکشن کمیشن اس اہم مسئلے کو سنجیدگی سے لیتا اور اس پر کاروائی کرتا اور لوگوںکے شکوک و شبہات کو دور کرتا لیکن الٹا اس نے راہل گاندھی سے ہی حلف نامہ کا مطالبہ کر لیاجوکہ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ 

انہوںنے کہاکہ ایس آئی آر کا عمل بے ضابطگیوں سے بھرا ہے ایک طرف جہاں 65لاکھ لوگوں کے نام کٹ گئے وہیں موجودہ نائب وزیراعلیٰ وجے سنہا کے دو جگہ نام پائے گئے ہیں اور اس پر حکمراں جماعت کے لوگ منہ میں دہی جما کر بیٹھ گئے ہیں جیسے کے کچھ ہوا ہی نہیں اسی جگہ تیجسوی کے خلاف پوری حکمراں جماعت پروپیگنڈے میں مصروف ہو گئی اور انہیں جیل تک بھیجنے کی بات کرنے لگے ۔ کیا اب وجے سنہا پر کے بارے میں یہ لوگ ہمت دکھائیںگے اور کہیں گے کے انہیں جیل بھیجاجائے ۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس ہی وہ پارٹی ہے جو بانکی پور سمیت پورے بہار میں عوامی مسائل پر سنجیدگی سے آواز بلند کر رہی ہے، چاہے وہ مہنگائی ہو، بے روزگاری ہو یا جمہوری اقدار پر حملے۔

 انہوں نے اعلیٰ قیادت سے اپیل کی کہ ہم لوگ زمینی سطح کے کارکن ہیں اور پارٹی کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور ہمارے اعلیٰ لیڈر راہل گاندھی بھی کہتے ہیں کہ زمینی لیڈران کو ٹکٹ میں ترجیح دی جائے گی ہمیں پوری امید ہے کہ اعلیٰ قیادت زمینی کارکنان کو مایوس نہیں کرے گی اور انہیں ان کا واجب حق دے گی ۔ 


Wednesday, 6 August 2025

گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے وفد نے گورنر عارف محمد خان سے ملاقات کی

 




پٹنہ6 اگست:گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے ایک وفد نے پرنسپل پروفیسر محفوظ الرحمن کی قیادت میں گورنر ہاﺅ س میں بہار کے گورنر عارف محمد خان سے ملاقات کی اور انہیں کالج کے صد سالہ پروگرام میں شرکت کیلئے دعوت دی ۔

کالج کے پرنسپل پروفیسر محفوظ الرحمن نے کہاکہ صدسالہ جشن کے موقع پر گورنر مسٹر عارف خان کو مدعو کیا گیا ہے ۔ گورنر مسٹر عارف محمد خان 8 ستمبر بروز پیر کالج میں تشریف لائیں گے ۔اس موقع پر کالج کے فارغین میں سے یونانی طریقہ علاج کو فروغ دینے والوں کو اعزاز سے نوازا جائے گا۔

پرنسپل پروفیسر محمد محفوظ الرحمن نے بتایا کہ 29 جولائی 1926 میں گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کا قیام بھکنا پہاڑی میں عمل میں آیا تھا جس کے بعد سے رمنہ روڈ ، انٹا گھاٹ اور پھر موجودہ قدم کنواں پٹنہ میں منتقل ہوا۔ مستقبل میں طبی کالج پٹنہ کی مستقل بلڈنگ نالندہ میڈیکل کالج و اسپتال، پٹنہ کے کیمپس میں بن رہی ہے جو کہ 2027 تک پایہ تکمیل کو پہنچے گی۔ اسی درمیان امسال کالج نے 99واں یوم تاسیس منایا ہے اور باضابطہ صد سالہ جشن کے لئے کیلنڈر ریلیز کیا گیا ہے جس کا مقصد یونانی طریقہ علاج کو عوام تک پہنچانا ہے۔

پروفیسر محمد محفوظ الرحمن قیادت میں بہار کے گورنرمسٹر عارف محمد خان سے جن لوگوں نے ملاقات کی ان میں ڈاکٹر تنویر عالم،صدر شعبہ کلیات، ڈاکٹر محمد نجیب الرحمن صدر شعبہ معالجات کے علاوہ ڈاکٹر محمد شفاعت کریم، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ تحفظ و سماجی طب کے نام قابل ذکر ہیں۔


Sunday, 3 August 2025

ایسوسی ایشن آف یونانی فیزیشین (اے یو پی) کے چمپارن چیپٹر کے قیام کے ساتھ تنظیم کی توسیع




 ڈاکٹر میٹ کے عنوان سے جیون جیوتی اسپتال، موتیہاری میں پروگرام کا انعقاد

موتیہاری:آج مورخہ 3 اگست 2025 بروز اتوار، ”ڈاکٹر میٹ“کے عنوان سے ایک پروگرام کا انعقاد جیون جیوتی اسپتال، موتیہاری میں کیا گیا، جس میں تنظیم کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شفاعت کریم کے ساتھ تنظیم کے خازن ڈاکٹر عبداللہ انصاری، سیکریٹری (ایڈمن) ڈاکٹر خالد اقبال، اور سیکریٹری (لیگل) ڈاکٹر محمد مسرور حسن قاسمی نے شرکت کی۔اس پروگرام کی صدارت ڈاکٹر ایم یو اختر نے کی۔پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر شاکر صبا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی میٹنگ کا مقصد چمپارن میں ایسوسی ایشن آف یونانی فزیشین بہار کی ضلعی شاخ کا قیام ہے۔

ڈاکٹر فیصل پرواز خان نے پروگرام کی سرپرستی کی۔تنظیم کی توسیع کرتے ہوئے ڈاکٹر ایم یو اختر کو ضلعی صدر بنایا گیا۔ڈاکٹر امام الدین کو نائب صدر، ڈاکٹر شاکر صبا کو ضلعی سیکریٹری مقرر کیا گیا۔اس کے علاوہ ڈاکٹر امام کو خازن، ڈاکٹر مظفر حسین کو
مشترکہ سیکریٹری، اور ڈاکٹر امتیاز الحق، ڈاکٹر منظر الحق، ڈاکٹر گلریز قمر اور طارق ظفر کو ترجمان نامزد کیا گیا۔ڈاکٹر سعید الرحمٰن اور ڈاکٹر ریاض الدین نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔

ڈاکٹر عبداللہ ،ڈاکٹر ابوعبیدہ ،اس کے علاوہ مشرقی چمپارن کے بہت سے ڈاکٹر موجود تھے۔


Saturday, 2 August 2025

گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ میں بریسٹ فیڈنگ آگاہی ہفتہ کا انعقاد

 



پٹنہ،پی جی اسکالر ڈاکٹرمحمد ظفر اقبال نے پریس ریلیز کرتے ہوئے کہا کہ 29 جولائی 2026 کوگورنمنٹ طبی کالج پٹنہ اپنا سو سال مکمل کرنے جا رہا ہے۔اسی ضمن میں آج بروز سنیچر2اگست2025”بریسٹ فیڈنگ سے آگاہی پر بیداری مہم منعقد ہوا،جو اسی سو سالہ جشن کی ایک کڑی ہے۔

بریسٹ فیڈنگ آگاہی ہفتہ کے موقع پر گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ میں شعبہ ماہیت الامراض کے زیر اہتمام 2 اگست سے 7 اگست تک ”بریسٹ فیڈنگ سے آگاہی بیداری مہم “ منعقد ہوا۔ اس موقع پر پرنسپل پروفیسرمحمد محفوظ الرحمٰن بنفسِ نفیس موجود رہے۔ ان کی شرکت نے نہ صرف پروگرام کو وقار بخشا بلکہ ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی نے اس تقریب کو مزید موثر اور نتیجہ خیز بنایا۔ 

اس بیداری مہم کے تعلق سے شعبہ ماہیت الامراض کے صدر ڈاکٹر محمد شمیم اختر کی محنت اور قیادت قابلِ ستائش رہی۔ ان کے زیر نگرانی اور رہنمائی میں یہ بیداری مہم نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ انہوں نے پوری ٹیم کے ساتھ بھرپور لگن اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جس سے اس پروگرام کو تعلیمی و سماجی اعتبار سے ایک کامیاب اور یادگار تقریب بنایا گیا۔

پروگرام میں ڈاکٹر سکینہ بانونے ماں کے دودھ کی افادیت اور طبی اہمیت پر سیر حاصل لیکچر دیا اور بتایا کہ بریسٹ فیڈنگ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ناگزیر ہے، پیدائش کے فوراً بعد دودھ پلانا چاہیے اور پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماں کا دودھ نہ صرف قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے بلکہ بیماریوں سے بچاو¿ کا بھی مو¿ثر ذریعہ ہے۔مزید انہوں نے بتایا کہ ایڈس، ٹی بی جیسے امراض میں میں بچوں کو دودھ نہیں پلانا ہے، یا ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ہے۔

اس بیداری مہم میں میڈیکل آفیسرڈاکٹر شیلش کمار پنکج، ڈاکٹر خصال احمد، ڈاکٹر جمال اختر، پروفیسرتوحید کبریا ،ڈاکٹر عبدالسلام فلاحی،ڈاکٹر طلعت ناہیداور دیگر اساتذہ بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے پروگرام کے انعقاد اور کامیابی میں بھرپور تعاون کیا۔ اس موقع پر گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال پٹنہ کے طلبہ و طالبات اور دور دراز سے آئے مریضوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

بریسٹ فیڈنگ آگاہی گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کی ایک کامیاب علمی و سماجی کاوش ثابت ہوگا، جس نے ماں کے دودھ کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور طلبہ و عوام میں شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کریگا۔




Wednesday, 30 July 2025

طب یونانی اور دیگر روایتی طریقہ علاج کے فروغ کیلئے بہار حکومت پرعزم: منگل پانڈے







گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کا 99واں یومِ تاسیس جوش خروش کے ساتھ منایا گیا

پٹنہ، 30جولائی:بہار کے وزیر صحت منگل پانڈے نے کہا ہے کہ ”آیوش کے تحت طب یونانی، آیوروید، ہومیوپیتھی اور دیگر روایتی طریقہ علاج کے فروغ کیلئے بہار حکومت پرعزم ہے۔ 

وہ آج گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے 99ویں یومِ تاسیس کے موقع پر ایک شاندار تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ، ”کالج کی نئی عمارت کی تعمیر نالندہ میڈیکل کالج اسپتال کیمپس میں 64 2کروڑ روپے کی لاگت سے جاری ہے، اور اگلے دو سال میں مکمل ہو جائے گی۔ ہم پی جی اور یو جی کی نشستوں میں اضافہ کے لیے بھی کام کر رہے ہیں تاکہ یہ ادارہ ملک کا بہترین طبی ادارہ بنے۔“

 وزیر صحت مسٹر منگل پانڈے نے کہا ہے کہ ”وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طب یونانی سمیت تمام روایتی طریقہ علاج کو قومی سطح پر عزت دلانے کی سمت مضبوط قدم اٹھائے ہیں۔ ایلوپیتھی کے ساتھ یونانی، آیوروید، سدھی، ہومیوپیتھی اور یوگا کو مساوی اہمیت دی جا رہی ہے۔

انہوں نے اس موقع پر کالج کے لیے نئی ایمبولینس بھی فراہم کی، جو تقریب کے دوران ہی کالج انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی۔

اس موقع پر صد سالہ جشن کے لیے ایک سالہ تقریباتی خاکہ بھی وزیر صحت کے ہاتھوں جاری کیا گیا، جس کے تحت ہر ماہ الگ الگ پروگرام منعقد ہوں گے۔

تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محفوظ الرحمٰن نے کہا،”یہ کالج ایک تاریخی وراثت ہے، جس کی بنیاد ڈاکٹر احمد عبدالحی کے نانا جان اور دیگر بزرگوں نے حکیم اجمل خاں اور سر گنیش دت جیسے عظیم شخصیات کی سرپرستی میں رکھی تھی۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ان کی نسل آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے۔

اس موقع پر کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے کہاکہ 15 عہدے پروفیسر ، 19 عہدے ریڈر اور پری طب کے8 عہدے خالی ہیں جسے طلباءکے بہتر مستقبل کیلئے پر کیاجانا ضروری ہے ۔وہیں غیر تدریسی عملے کے قریب 39 عہدے منظور ہیں جن میں ابھی صرف چار افراد ہی کام کر رہے ہیں اور ہمیں قریب پچاس لوگوں کی اشد ضرورت ہے ۔ اس پر وزیر نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ان عہدوں پر جلد ہی بحالی کی جائے گی ۔ 

 وزیر نے کہاکہ 15 لیکچرر کے عہدوں کا اشتہار پی ایس سی کے ذریعہ شائع کر دیا گیا ہے اس پر بحالی جلد ہوگی اوردیگرتدریسی عہدوںکو فی الحال معاہدے کی بنیاد پر پر کرنے کی بات کہی ۔ اور غیر تدریسی عملوں کو آﺅٹ سورسسنگ کے ذریعہ بحال کرنے کی بات کہی ۔ 

ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے مزید کہا، ”آج ہم صرف یوم تاسیس نہیں منا رہے بلکہ صدی تقریبات کی شروعات بھی کر رہے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ میڈیا اور عوام کالج کی کمیوں اور ضروریات کو حکومت تک دیانتداری سے پہنچائیں گے تاکہ ہم ترقی کے اگلے مرحلے میں داخل ہو سکیں۔

اس موقع پر پارس اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد عبدالحی، بی پی ایس سی کے سابق چیئر مین امتیاز کریمی، مولانا شبلی القاسمی ناظم امارت شرعیہ، کالج سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شاہنواز سمیت کئی دیگر معزز شخصیات نے بھی خطاب کیا اور ادارے کی خدمات کو سراہا۔

تقریب میں آیوروید کالج کے پرنسپل، آیوش ڈائریکٹر، میڈیا نمائندگان، کالج کے اساتذہ، سابقہ طلبہ اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر شفاعت کریم نے سال بھر کے پروگرام کا تفصیلی منصوبہ پیش کیا، اور تقریب کا آغاز مصباح الدین کریم کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جب کہ نظامت کے فرائض امین عبداللہ نے انجام دیے۔




Sunday, 27 July 2025

گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کا 99واں یومِ تاسیس کل، ریاستی وزیر صحت منگل پانڈے مہمان خصوصی ہوں گے

 


پٹنہ، 27 جولائی:ریاست بہار کا واحد گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کل 28 جولائی بروز پیر اپنا 99واں یومِ تاسیس منانے جا رہا ہے۔ اس موقع پر ریاستی وزیر صحت مسٹر منگل پانڈے مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوں گے۔

گورنمنٹ طبی کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے بتایا کہ 1926 میں اس کالج کا قیام عمل میں آیا تھا اور اس کے ساتھ ہی گورنمنٹ آیورویدک کالج و اسپتال پٹنہ کی بھی بنیاد رکھی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک صدی کے سفر میں یہ ادارہ ریاست بہار ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کا ایک معروف طبی ادارہ بن چکا ہے، جہاں سے فارغ طلبہ ملک و قوم کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

یومِ تاسیس تقریب میں آئی سی ایم آر کی شاخ راجندر میموریل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کرشنا پانڈے اور طبی کالج کے فارغ التحصیل معروف طبیب مولانا (حکیم) شبلی القاسمی بھی شرکت کریں گے۔

ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے بتایا کہ طبی کالج کا پہلا خاکہ 28 مارچ 1915 کو آل انڈیا آیورویدک اینڈ یونانی طبی کانفرنس میں پیش کیا گیا تھا۔ اس کالج کا قیام حکیم اجمل خان اور ان کے رفقا کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس کے قیام میں سر گنیش دت، سر فخرالدین علی احمد، سر علی امام (چیف جسٹس)، حکیم ادریس، سر سید محمود، حکیم راشدالدین، حکیم قطب الدین، حکیم مظاہر احمد اور حکیم محمد صالح جیسی اہم شخصیات کی محنت شامل ہے۔

انہوں نے بتایاکہ اس کا قیام اس عہد کی یاد دلاتا ہے جب دیسی طب پرزوال طاری تھا۔برطانوی دور حکومت میں ہندوستانی تاریخ کا یہ پہلا سرکاری طبی کالج قائم کیا گیا۔ اس کالج سے طب کے بے شمار ماہرین مختلف میدانوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

 انہوںنے کہاکہ اس پروگرام میں صدسالہ جشن اور اس کی تیاریوں کے سلسلے میںایک سال کے دورانیہ میں مختلف علمی، ثقافتی،فنی،طبی عوامی فلاح و بہبود کے میڈیکل کیمپ،عالمی طبی سیمینار جیسے پروگرام کے خاکہ کا اجرا عمل میں آے گا۔

ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے تمام ابنائے قدیم، یونانی طبی برادری اور شہر کی علمی شخصیات کو مدعو کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گزارش کی کہ وہ اس تاریخی موقع کو کامیاب بنانے میں اپنا تعاون فراہم کریں۔اس موقع پرکالج کے آڈیٹوریم میں مشاعرے کی محفل بھی سجے گی جس میں شعرا اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کریںگے۔

Wednesday, 28 May 2025

ڈاکٹر نصرالہدی ، سابق لکچرر، گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کی وفات پر تعزیتی نششت کا اہتمام





پٹنہ (پریس ریلیز)

آ ج مورخہ 28 مئی بروز بدھ گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال، قدم کنواں پٹنہ کے اجمل خاں آڈیٹوریم میں ڈاکٹر نصرالہدی  مرحوم سابق لکچرر گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال، پٹنہ کی یاد میں تعزیتی نششت کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں کالج ہذا کے تمام آفیسران ملازمین اور طلباء و طالبات نے شرکت کی۔ مرحوم سے متعلق  جناب ڈاکٹر توحید کبریاء ، ڈاکٹر محمد شفاعت کریم، ڈاکٹر محمد تنویر عالم (کلیات)  اور پرنسپل پروفیسر محمد محفوظ الرحمن نے  اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ پروفیسر رضوان خان نے مرحوم کی مغفرت کے لئے اجتماعی دعاء کی۔ 

ڈاکٹر محمد شفاعت کریم نے پریس اعلانیہ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر نصر الہدی مورخہ 27 مئی بروز منگل، دربھنگہ کے پرائیویٹ اسپتال میں  رحلت فرما گئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مرحوم نے طبی کالج پٹنہ سے ہی بی یو ایم ایس کی تعلیم حاصل کی تھی اس کے بعد حکومت بہار میں میڈیکل آفیسر کے عہدے پر فائز ہوئے جس کے بعد 2002 میں طبی کالج پٹنہ میں لکچرر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اسی اثناء میں کچھ دنوں کے لئے آیورویدک اینڈ یونانی کونسل کے رجسٹرار  رہے۔ اپنی تعلیمی زندگی میں نہایت ہی متحرک تھے، نیشنل انٹیگریٹیڈ میڈکل ایسو سی ایشن  (NIMA) کے متحرک ممبر رہے ۔ مرحوم نے اپنے پیچھے وارثین میں اہلیہ کے علاوہ تین لڑکیاں چھوڑیں ہیں ۔مجلس کی نظامت ڈاکٹر راغب حسین کر رہے تھے۔  تعزیتی نششت میں حاضرین نے مرحوم کی مغفرت کے لئے دعاء کی اور اس طرح مجلس اپنے اختتام کو پہنچی۔

Tuesday, 27 May 2025

طبی کالج پٹنہ سے ماہر طب یونانی کا پہلا بیچ سو فیصد رزلٹ کے ساتھ فارغ :پرنسپل نے فارغین کو مبارکباد پیش کی

 



پٹنہ (پریس ریلیز)

ڈاکٹر محمد شفاعت کریم، اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال، پٹنہ نے پریس ریلیز جاری کر تے ہوئے بتایا کہ آج مورخہ 27 مئی بروز منگل گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ سے پہلے ایم ڈی بیچ کو کامیابی حاصل ہو ئی۔ گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ ایک تاریخی کالج ہے جس کی سنگ بنیاد 1926 میں رکھی گئی تھی  جس میں بی یو ایم ایس کی تعلیم دی جاتی رہی ہے۔ 2020 میں پہلی دفعہ ماہر طب (ایم ڈی یونانی) کورس کا آغاز ہوا۔ پہلے بیچ کو بےشمار دشواریوںکا سامنا کرنا پڑا، کالج کے اس ڈگری کا الحاق آریا بھٹ یونیورسٹی سے کرانے میں تاخیر ہوئی، رجسٹریشن کا عمل دیر سے ہوا، ڈیزرٹیشن کی تالیف میں وقت لگا  جس کی وجہ سے امتحان میں دیری ہوئی اور با لاخر فائنل کا رزلٹ آج شائع ہوا۔ اس طرح سے ایم ڈی یونانی کا پہلا بیچ تقریبا چار سالوں کے طویل وقفے کے بعد سو فیصد رزلٹ کے ساتھ کامیاب ہوا جس کے لئے کالج ہذا کے پرنسپل جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد محفوظ الرحمن مبارکباد کے مستحق ہیں۔ پرنسپل  نے سبھی فارغین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے مستقبل میں ایک کامیاب زندگی کے لئے دعائیں دیں۔ 

بتاتا چلوں کہ ڈیزرٹیشن کی تالیف سے لے کر امتحان کرانے اور رزلٹ کے شائع ہونے تک پرنسپل موصوف نے کافی جد و جہد کی اور ان کے اخلاص اور محنت کی بدولت ہی ماہر طب (ایم ڈی یونانی) کا پہلا بیچ کامیاب ہوا۔ خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فارغین میں سے کچھ طلباء  نے پرنسپل  گلدستہ پیش کی اور مٹھائی کھلاکر مبارکباد پیش کی۔ کالج کے اساتذہ میں ڈاکٹر نجیب الرحمن، ڈاکٹر محمد تنویر عالم (کلیات)، ڈاکٹر شمیم اختر، ڈاکٹر محمد انس، ڈاکٹر جمال اختر، ڈاکٹر متانت کریم، ڈاکٹر طلعت ناہید، ڈاکٹر ملکہ بلند اختر، ڈاکٹر وجیہ الدین،  ڈاکٹر جمال اختر، ڈاکٹر رضیہ شاہین، ڈاکٹر  ایس ایم راشد، ڈاکٹر رضوان خان نے بھی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے فارغین کو مبارکباد پیش کی۔

Friday, 11 April 2025

تاریخی “جن سوراج” ریلی: بہار میں تبدیلی کی نئی لہر کی پرواز :شکیل اشرفی/ شاہد اطہر





گاندھی میدان آج ایک تاریخی منظر کا شاہد بنا، جب “جن سوراج” کی بہار بدلاؤ ریلی میں لاکھوں افراد کا سمندر امڈ آیا۔ پرشانت کشور کی قیادت میں منعقد اس عظیم اجتماع کو بہار کی سیاست میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ جمِ غفیر اس بات کی دلیل ہے کہ بہار کی عوام اب بیروزگاری، ہجرت، اور ذات پر مبنی سیاست سے تنگ آ کر حقیقی تبدیلی کی تلاش میں ہے۔ پرشانت کشور نے جوش و جذبے سے لبریز عوام سے خطاب کرتے ہوئے تعلیم، روزگار، اور شمولیتی طرزِ حکمرانی پر مبنی نئے بہار کے قیام کا عزم ظاہر کیا۔ میدان میں ہر طرف ولولہ انگیز نعرے گونج رہے تھے، اور بینروں کے سائے میں ایک نئے دور کے آغاز کی بازگشت سنائی دے رہی تھی۔ یہ صرف ایک ریلی نہیں، یہ بہار کی بیداری ہے،” کشور نے اعلان کیا، اور نوجوانوں و مایوس ووٹرز سے اپیل کی کہ وہ اس تحریک کا حصہ بنیں۔ تاہم، یہ ریلی تنازعات سے خالی نہیں رہی۔ اطلاعات کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے ریلی میں لوگوں کی شرکت کو روکنے کی کوششیں کی گئیں — کئی سڑکیں بند کر دی گئیں اور لاکھوں افراد کو پٹنہ پہنچنے سے روکا گیا۔ مگر ان رکاوٹوں کے باوجود، ریلی میں شریک عوام نے یہ پیغام دے دیا کہ اب انہیں نہ دبایا جا سکتا ہے، نہ روکا جا سکتا ہے۔ اگر تم ہمیں روکنے کی کوشش کرو گے، تو ہم اور مضبوط ہو کر لوٹیں گے،” یہ جذبہ ہر چہرے پر نمایاں تھا — ایک ایسی للکار جو اقتدار کے ایوانوں میں خطرے کی گھنٹی بن سکتی ہے۔ یہ ریلی بہار کی سیاست میں زلزلہ لے آئی ہے۔ “جن سوراج” اب نومبر 2025 کے اسمبلی انتخابات میں ایک سنجیدہ اور مضبوط متبادل کے طور پر ابھرتا دکھ رہا ہے۔ آر جے ڈی اور جے ڈی (یو) جیسی بڑی جماعتیں اس عوامی لہر کے بعد ششدر ہیں، اور پوری توجہ کے ساتھ حالات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ پٹنہ کی فضا میں اب تبدیلی کی خوشبو ہے، اور ایک بات طے ہے - 11 اپریل 2025 کا دن بہار کی تاریخ میں اس دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب اس ریاست نے بڑے خواب دیکھنے کی ہمت کی۔ یہ انقلاب کی ابتدا ہے یا ایک لمحاتی اُمید  اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔

حکومت کسانوں کو فی ایکڑ 50 ہزار روپے معاوضہ دے: سی پی آئی

 


پٹنہ، 11 اپریل  بھارتی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی) کے ریاستی سکریٹری رام نریش پانڈے نے بہار بھر میں بے وقت بارش سے فصلوں کو پہنچنے والے بھاری نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے آندھی اور آسمانی بجلی گرنے سے ہونے والی اموات پر بھی دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

رام نریش پانڈے نے جمعہ کو کہا کہ تیز آندھی، موسلادھار بارش اور وِدْیُت پات (آسمانی بجلی) نے پورے بہار میں تباہی مچا دی ہے۔ گندم، مکئی، پیاز، مسور، چنا، مونگ، آم اور لیچی جیسی تیار فصلوں کو بھاری نقصان ہوا ہے۔ اس صورتحال میں بہار کے کسان برباد ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو فی ایکڑ 50 ہزار روپے کے حساب سے فصلوں کا معاوضہ دیا جائے۔ اس کے علاوہ آسمانی بجلی سے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو فی کس 25 لاکھ روپے معاوضہ فراہم کیا جائے۔

سی پی آئی رہنما نے کہا کہ کسانوں نے قرض لے کر گندم کی فصل بوئی تھی، لیکن اس غیرموسمی بارش اور آندھی نے ان کی محنت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ اسی طرح آم اور لیچی کے باغات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر فصل کے نقصان کا تخمینہ لگوائے اور کسانوں کو فی ایکڑ 50 ہزار روپے معاوضہ دے۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ آندھی اور آسمانی بجلی گرنے سے 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام جاں بحق افراد کے پسماندگان کو 25 لاکھ روپے فی کس کی مالی مدد کی ضمانت دے۔

Wednesday, 26 March 2025

وقف ترمیمی بل کے خلاف ہماری پارٹی ہمیشہ کھڑی رہی ہے اور کھڑی رہے گی: لالو پرساد

 




وقف ترمیمی بل کی واپسی تک آر جے ڈی سڑک سے لے کر ایوان تک احتجاج جاری رکھے گی: تیجسوی پرساد یادو




پٹنہ، 26 مارچ :مرکزی حکومت کے ذریعے پیش کردہ وقف ترمیمی بل کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، امارتِ شرعیہ، خانقاہ مجیبیہ، جمعیت علمائے ہند، جماعتِ اسلامی، خانقاہ رحمانی، جماعت اہل حدیث سمیت مختلف مسلم تنظیموں نے گردنی باغ، پٹنہ میں ایک عظیم الشان دھرنا کا انعقاد کیا۔اس موقع پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی صدر لالو پرساد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف ہماری جدوجہد کبھی ختم نہیں ہوگی، اور ہم کسی بھی قیمت پر اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل جمہوریت کے خلاف اور آئینی حقوق پر حملہ ہے، اور ہم اس کی واپسی تک آپ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

لالو پرساد نے مزید کہا:"بی جے پی ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنا چاہتی ہے، اور جو بھی پارٹی اس کی حمایت میں کھڑی ہے، وہ بے نقاب ہوچکی ہے۔ کچھ پارٹیاں محض اقتدار کی خاطر بی جے پی کی پالیسیوں کی حمایت کر رہی ہیں، جو قابل مذمت ہے۔"

اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا:"یہ بل مکمل طور پر غیر آئینی ہے، اور اس کے خلاف جو زبردست احتجاج کیا گیا ہے، میں اس کے لیے تمام تنظیموں اور عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہماری پارٹی، اور ہمارے رہنما لالو پرساد جی ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔"


انہوں نے کہا کہ:"لالو جی کی طبیعت خراب ہونے کے باوجود وہ آج اس دھرنے میں شامل ہوئے ہیں، تاکہ یہ پیغام دیا جائے کہ اقتدار رہے یا جائے، ہم اس بل کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہم نے آج اسمبلی میں وقف ترمیمی بل کے خلاف تحریک التوا پیش کیا تھا، جس کی وجہ سے حکومت کو ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔"

تیجسوی یادو نے مزید کہا:"یہ وقت آئین کی حفاظت کا ہے۔ جو لوگ محض اقتدار کی خاطر اس غیر آئینی بل کی حمایت کر رہے ہیں، وہ بابا صاحب امبیڈکر کے آئینی نظام کو کمزور کرنے کی سازش میں شامل ہیں۔ لیکن ہم عوام کے ساتھ مل کر اس سازش کو ناکام بنائیں گے۔"

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ:"اگر آپ اس احتجاج میں ایک قدم بڑھائیں گے، تو ہماری پارٹی چار قدم آگے بڑھے گی۔ ہم کسی بھی قیمت پر اس بل کو لاگو نہیں ہونے دیں گے، کیونکہ اس کا مقصد وقف جائیدادوں کو ہڑپنا ہے۔ لیکن ہم ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔"

آر جے ڈی کے ترجمان اعجاز احمد نے بتایا کہ لالو پرساد اور تیجسوی یادو خود دھرنا میں شامل ہوئے اور احتجاج کو مضبوط حمایت دی۔ اس موقع پر پارٹی کے کئی سرکردہ رہنما اور کارکنان بھی بڑی تعداد میں موجود تھے، جن میں عبدالباری صدیقی،ا±دَے نارائن چودھری،علی اشرف فاطمی،محبوب علی قیصر،ڈاکٹر تنویر حسن،رنوجے ساہو،اختر الاسلام شاہین،محمد نہال الدین،قاری محمد صہیب،یوسف صلاح الدین،شکتی سنگھ یادو،محمد فاروق،اعجاز احمد،مجتبیٰ حسین راہی،خورشید عالم صدیقی،غلام ربانی،محمد مہتاب عالم،محمد افروز عالم،محمد مشتاق احمد،سنیل کمار سنگھ،پروفیسر چندر شیکھر،ڈاکٹر ارمِلا ٹھاکر،اس کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں آر جے ڈی کارکنان اور اقلیتی برادری کے رہنما اس دھرنے میں شریک رہے۔

لالو پرساد اور تیجسوی یادو نے واضح الفاظ میں کہا کہ آر جے ڈی ہمیشہ عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑی رہے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ بل اقلیتوں کے خلاف ایک سازش ہے، اور ہم اسے کسی بھی قیمت پر کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔"ہم نے کبھی فرقہ پرست طاقتوں سے سمجھوتہ نہیں کیا، اور نہ کبھی کریں گے۔ ہمارا یہ عزم ہمیشہ برقرار رہے گا۔"


بہار دیوس میں صغیرہ فاونڈیشن کی خدمات کا اعتراف




صغیرہ فاونڈیشن کے قیام کو بمشکل تین سال ہوئے ہیں۔ان تین سالوں میں اس کی خدمات کا جائزہ ہم لیتے ہیں تو مسرت بھی ہوتی ہے اورافتخار کا جذبہ بھی پیدا ہو تا ہے۔صغیرہ فاونڈیشن کے بانیان شروع سے ہی رمضان کے مبارک مہینہ میں غیر یبوں اورمحتا جوں کے درمیان راشن کی تقسیم کرتے رہے ہیں اور اس نیک کاموں کواب نہ صرف گونڈوی تگ محدود کئے ہوئے ہیں بلکہ نیو ممبئی شیووڈ، ماہم دھاراوی اور ممبئی میں رے روڈ تک اس کام کو بخوبی انجام دینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔راشن کی تقسیم میں کسی طرح کی تفریق نہیں برتی گئی ہے، ہر طبقہ کے غریبوں اور محتاجوں کو راشن کا بستہ دیا گیا ہے۔حالیہ برسوں میں صغیرہ فاونڈیشن کا دائرہ ہیلتھ اور تعلیمی امداد تک  جا پہنچا ہے۔اپنے قیام کے باقاعدہ پہلے سال گونڈوی میں ایسے طلباء وطالبات جو اپنی فیس ادا نہیں کر پا رہے تھے ان کی پوری فیس براہ راست اسکول میں ادا کی گئی ہے۔ابتک ایسے مریض جو علاج کے اخراجات ادا نہیں کر پارہے تھے، جنہوں نے صغیرہ فاونڈیشن کے ذمہ داران سے رابطہ کیا ہے، تفتیش کے بعد ان کے علاج کے اخراجات براہ راست اسپتالوں میں داخل کئے گئے ہیں۔ ممبئی میں اہل بہار سالہا سال سے مقیم ہیں ان کے مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کے لئے ممبئی کے اسلام جمخانہ مرین لائنس میں بہار کے دانشوروں کا ایک یادگار عظیم جلسہ منعقد کیا گیا۔مذکورہ پروگرام میں بہار کے ہر مکتبہ فکر کے دانشوروں نے بہت ہی جوش وخروش سے حصہ لیا اور اسکے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔بہار فاونڈیشن ممبئی چیپٹر حکومت بہار کی تنظیم ہے جس کا بنیادی مقصد ممبئی میں مقیم اہل بہار کی فلاح وبہبود سے ہے مزید بہار کے تاجروں کو بہار میں تجارت کے قیام اور فروغ میں مدد اور رہنمائی بھی دینی ہے۔ابھی 23 مارچ سنہ2024 کو نیو ممبئی میں بہار دیوس جوش وخروش کے ساتھ ساتھ منایا گیا مذکورہ جشن میں بہار کے کئی وزراء شریک ہوئے۔ممبئی میں بہار کے اعلی عہدوں پہ فائز افسران بھی موجود تھے۔ اس جشن میں صغیرہ فاونڈیشن کی خدمات کا تذکرہ ہوا،خوب ستائش اور پذیرائی ہوئی۔ جناب سنجے سراوگی ریونیو اینڈ لینڈ منتری کے ہاتھوں جناب ابرار احمد شیخ جنرل سیکریٹری صغیرہ فاونڈیشن کو شال پیش کیا گیا، انھیں صغیرہ فاونڈیشن کی اہم خدمات کے لئے ستائشی شیلڈ بھی پیش کیا گیا۔اس موقع سے صغیرہ فاونڈیشن کے ٹرسٹی جناب نظام الدین اور یا سین انصاری صاحبان کی بھی گلپوشی کی گئ اور انھیں ستائشی کلمات سے نوازا گیا۔

ابرار احمد شیخ 

جنرل سیکرٹری صغیرہ فاونڈیشن گونڈوی ممبئی

Monday, 24 March 2025

قومی صدر لالو پرساد کی دعوتِ افطار میں گورنر عارف محمد خان سمیت ہزاروں روزہ داروںنے کی شرکت

 



پٹنہ، 24 مارچ :راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی صدر لالو پرساد یادو کی جانب سے دعوتِ افطار کا اہتمام آر جے ڈی کے قومی پرنسپل جنرل سکریٹری عبدالباری صدیقی کی سرکاری رہائش گاہ پر کیا گیا۔ اس موقع پر ہزاروں کی تعداد میں روزہ داروں کے ساتھ ساتھ بہار کے گورنر عارف محمد خان، معزز شخصیات اور مہاگٹھ بندھن کے تمام اتحادی جماعتوں کے رہنماو¿ں نے شرکت کی۔

میزبان کے طور پر لالو پرساد یادو، سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی، اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو اور عبدالباری صدیقی آنے والے تمام مہمانوں کا پرتپاک استقبال کر رہے تھے۔

افطار کے لیے روزہ داروں کے لیے علیحدہ خصوصی انتظامات کیے گئے تھے، جہاں نماز ادا کرنے کی سہولت بھی موجود تھی۔ معروف عالم مولانا حسیب اکرام الحق نے نمازِ مغرب کی امامت کی۔

نمازِ مغرب سے قبل روزے اور رمضان المبارک کی فضیلت و اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی اور اجتماعی دعا کی گئی۔ لالو پرساد یادو اور تیجسوی یادو نے کہا کہ اس طرح کے مذہبی و ثقافتی پروگرام مشترکہ وراثت کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ اس موقع پر ملک کی ترقی، یکجہتی، بھائی چارے اور محبت کے فروغ کے لیے دعا کی گئی اور کہا گیا کہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو مزید استحکام ملے گا۔

اس موقع پر جن معزز شخصیات نے شرکت کی، ان میں گورنر عارف محمد خان، غلام غوث، پشوپتی کمار پارس، پرنس راج، سورج بھان سنگھ، پرتیماداس، کے ڈی یادو، رام بابو، متھیلیش جھا، علی اشرف فاطمی، ا±دے نارائن چودھری، شیوانند تیواری، اسرائیل منصوری، ڈاکٹر تنویر حسن، سید فیصل علی، قاری شعیب، ڈاکٹر کانتی سنگھ، جے پرکاش نارائن یادو، اخترالاسلام شاہین، ابو دجانہ، اشوک سنگھ، آلوک کمار مہتا، جاوید اقبال انصاری، وجے پرکاش، شکتی سنگھ یادو، اعجاز احمد، ڈاکٹر انور عالم، چترنجن گگن، مہتاب عالم، خورشید عالم صدیقی، آرزو خان، اخلاق احمد، ساریکا پاسوان، بنٹو سنگھ، اشرف صدیقی، شاہنواز عالم، ارون یادو، بھائی ارون کمار، بلی یادو، غلام ربانی، مولانا نقیب، انعام الحق، اروند سہنی، نندو یادو، پروفیسر چندردیپ، انیل سادھو، کمار رائے سمیت ہزاروں کی تعداد میں روزہ دار اور دیگر افراد شامل تھے۔ اس کے علاوہ مختلف مسلم تنظیموں کے نمائندے بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔


20 سالوں سے ریاستی حکومت نے عوام کو دھوکہ دیا، ایکسرے تو کیا لیکن علاج نہیں: پون کھیڑا

 





پٹنہ:"سرکاربدلو، بہار بدلو" کے نعرے کے ساتھ کانگریس پارٹی ریاستی مسائل کی حقیقی تشخیص (ایکس رے) کرے گی اور اس کا حل بھی نکالے گی۔ یہ باتیں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے میڈیا اور پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین پون کھیڑا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہیں۔انہوں نے کہا کہ بہار ستیہ گرہ اور انقلابات کی سرزمین ہے۔ آج شہید بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کی برسی ہے، جبکہ گزشتہ روز بہار نے اپنی 113ویں یومِ تاسیس منائی، لیکن گزشتہ 20 سالوں میں بہار کے ساتھ دھوکہ ہوا۔ بہار کے لوگ پلائن (نقل مکانی) پر مجبور ہیں، جبکہ یہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں بلکہ اس کی صحیح استعمال کی کمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کیگ (CAG) کی رپورٹ سامنے آئی، لیکن نہ تو اس پر پارلیمنٹ میں بحث ہوئی، نہ اسمبلی میں اور نہ ہی ٹی وی چینلز پر اس کا ذکر ہونے دیا گیا۔ بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کی صحت کی سب کو فکر ہے، لیکن بہار کی صحت کا کسی کو خیال نہیں۔

ریاست کے آدھے سے زیادہ اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی کمی ہے، نرسوں کی کمی، دوائیوں کی کمی ہے۔ 86 فیصد ماہر (اسپیشلسٹ) ڈاکٹروں کی کمی ہے اور یہ خود حکومت کی رپورٹ ہے۔ بہار کے بچوں میں سوءتغذیہ (کپوشن) کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ کمسن لڑکیوں میں خون کی کمی (انیمیا) میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ذات پر مبنی مردم شماری کے نفاذ کو سازش کے تحت روکا گیا، اور جب معاملہ عدالت پہنچا، تو وہاں بھی صحیح طریقے سے وکالت نہیں کی گئی، جبکہ تلنگانہ نے یہ مردم شماری نافذ کر کے مثال قائم کی۔

پون کھیڑا نے مزید کہا کہ "اگر بہار کو بدلنا ہے تو بہار کی حکومت کو بدلنا ہوگا۔ آج ہم نعرہ دے رہے ہیں: 'سرکاربدلو، بہار بدلو'"۔ بغیر حکومت بدلے ریاست کی تقدیر نہیں بدلی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس کے پاس ہر طبقے کے لیے ایک مضبوط ویژن ہے۔ گزشتہ بیس سالوں کے بدعنوانی پر مبنی اقتدار میں کوئی بھی طبقہ ایسا نہیں جو خود کو دھوکہ کھایا محسوس نہ کر رہا ہو۔ کانگریس ہر طبقے کے لیے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت بہار میں انتخابات لڑے گی۔ جب عوام کو حکومت کی اصل ذمہ داریوں کا ادراک ہوگا، تبھی بہار کے نوجوان سمجھیں گے کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

ریاستی کانگریس کے انچارج کرشنا الاوارو نے کہا کہ بہار میں ذات پر مبنی مردم شماری کی بات کی جاتی ہے، لیکن اگر ایکسرے ہو چکا ہے، تو علاج شروع کیوں نہیں ہوا؟ ذاتوں کو شمار کرنے کا کام آپ نے کیا، لیکن اعداد و شمار کس بنیاد پر بنائے گئے، آج تک واضح نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس کی حکومت نے ذات پر مبنی مردم شماری کو مکمل کیا اور اسے صحیح طریقے سے نافذ بھی کیا۔ وہاں کی حکومت نے ہر طبقے کو مساوی مواقع فراہم کیے، لیکن بہار میں ڈبل انجن حکومت کے باوجود مردم شماری کے نتائج کو نافذ کرنے میں ناکامی ایک بڑا سوال ہے۔

بہار کانگریس کے صدر راجیش کمار نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بہار کے اپنے پروگرام میں سماجی انصاف اور آئین کے تحفظ کی بات کی تھی، اور ہم اسی راہ پر آگے بڑھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست میں دلتوں، پسماندہ طبقات اور غریبوں کو ان کا جائز حق دیا جائے گا۔ سب کو ساتھ لے کر پارٹی کو اس کے شاندار ماضی سے جوڑتے ہوئے تنظیم کو مضبوط کیا جائے گا۔

راجیش کمار نے مزید کہا کہ وہ 1990 کے دور کی مضبوط کانگریس کو بہار میں دوبارہ کھڑا کریں گے۔

اے آئی سی سی کے سکریٹری اور بہار کے معاون انچارج سشیل کمار پاسی،قومی میڈیا کوآرڈینیٹر ابھے دوبے،بہار کانگریس میڈیا ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین راجیش راٹھور،موتی لال شرما،قومی ترجمان ڈاکٹر اجے اپادھیائے،ٹینا کرم ویر، رتو سنگھ، اجے چودھری، پردیش ترجمان آنند مادھو، ڈاکٹر سنیہاشیش وردھن پانڈے، گیان رنجن، پنکج چودھری، پرینکا گپتا، جیوتی سنگھ ، امن چین کے سنیئر رپورٹر محمد اشفاق سمیت کئی دیگر رہنما موجود تھے۔


Tuesday, 17 December 2024


 نریندر مودی اور امیت شاہ فوجیوں سے معافی مانگیں :غریب داس


پٹنہ 17 دسمبر:1971 کی تاریخی فتح کی وراثت پر حملہ اور ہمارے جنگی ہیروز کی توہین برداشت نہ کرنے کے معاملے پر بہار پردیش یوتھ کانگریس کے ریاستی صدر شیو پرکاش غریب داس کی قیادت میں پٹنہ کےگردنی باغ چوراہے پر نریندر مودی کا پتلانذرآتش کیا گیا۔
شیو پرکاش غریب داس نے کہا کہ نریندر مودی اور امت شاہ کو فوجیوں سے معافی مانگنی چاہیے، مودی حکومت کی جانب سے پاکستان کے ہتھیار ڈالنے کی تصویروں کو ہٹانا ہمارے ملک کی شاندار تاریخ کے تئیں ان کی بے حسی اور منفی رویہ کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف تصاویر ہٹانا نہیں بلکہ ہمارے ہیروز کی بہادری اور قربانی کی توہین ہے۔ یوتھ کانگریس کا مطالبہ ہے کہ تصویر کو بحال کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ 1971 میں شہید ہونے والے فوجیوں کی تصاویر ہٹانا بہت بڑی توہین ہے۔ یوتھ کانگریس کا ہر کارکن متحد ہو کر اس ناانصافی کے خلاف لڑے گا، اس تصویر کو ہٹانا مودی حکومت کی گھٹیا ذہنیت کا ثبوت ہے۔
اس موقع پر راہول پاسوان، سورج کمار، امیت سکندر، امیت سوڈو، وویک چوبے، پرنس کمار آدیش سنگھ، بسنت کمار، سرفراز، چودھری چرن سنگھ، بھولا سنگھ، سونو اگروال کے علاوہ درجنوں یوتھ کانگریس کارکنان موجود تھے۔