Showing posts with label india. Show all posts
Showing posts with label india. Show all posts

Wednesday, 5 August 2026

بہار میں اساتذہ تقرری میں فارسی ، عربی ، میتھلی ، بنگلہ، پالی اور پراکرت کی نظر اندازی پر اظہار تشویش




 نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں فارسی، عربی، میتھلی، بنگلہ، پالی اور پراکرت جیسی کلاسیکل زبانوں سے دلچسپی رکھنے والے اساتذہ، ریسرچ اسکالرس اور طلبہ کی ایک مشترکہ علمی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ریاست بہار میں ٹی آر ای۔4، اسسٹنٹ پروفیسر اور ڈگری کالجوں میں اساتذہ کی تقرری کے عمل میں فارسی، عربی، میتھلی، بنگلہ، پالی اور پراکرت جیسی اہم زبانوں کو نمائندگی نہ ملنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

میٹنگ میں شرکائنے کہا کہ فارسی، عربی، میتھلی، بنگلہ، پالی اور پراکرت بہار کی تاریخی، تہذیبی، ادبی اور علمی شناخت کا اہم حصہ ہیں، لیکن حالیہ تقرریوں اور تدریسی عہدوں کی منظوری کے عمل میں ان زبانوں کو مناسب نمائندگی نہیں دی جا رہی ہے، جس سے ان زبانوں کی تدریس، تحقیق اور فروغ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔

شرکاءنے حکومت بہار اور متعلقہ تعلیمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ ٹی آر ای۔4، اسسٹنٹ پروفیسر اور ڈگری کالجوں میں اساتذہ کی تقرری کے دوران ان زبانوں کی تاریخی، ادبی اور تعلیمی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مناسب نمائندگی دی جائے اور ضروری تدریسی عہدوں کی منظوری کو یقینی بنایا جائے۔

میٹنگ کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بہار کی کلاسیکی، علاقائی اور تہذیبی زبانوں کے تحفظ، فروغ اور اعلیٰ تعلیم میں ان کی مو¿ثر نمائندگی کے لیے مشترکہ علمی و تعمیری کوششیں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔ اس میٹنگ میں پروفیسر اخلاق احمد آہن، صدر شعبہ سینٹر آف پرشین اینڈ سینٹرل ایشین اسٹڈیز، اسکول آف لینگویج، لٹریچر اینڈ کلچر اسٹڈیز، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ پروفیسر سید اختر حسین، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ ڈاکٹر محمد مظہر الحق، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ پروفیسر سید کلیم اصغر، صدر شعبہ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ؛ پروفیسر رضوان الرحمن، سابق چیئرپرسن، سینٹر آف عربک اینڈ افریقن اسٹڈیز، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ ڈاکٹر خورشید امام، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ ڈاکٹر اختر عالم، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ نیز مختلف دیپارٹمنٹ کے اسکالرس جناب غالب زیاد، جناب ڈاکٹر محمد کشمیری، جناب پرگتی شیل پانڈے، جناب پوشپ راج، جناب کمل کیشور، جناب امر شیکھر، جناب صفی الرحمن، جناب محمد ساجد اور دیگر اہل علم شریک ہوئے۔


Tuesday, 4 August 2026

گریجویٹ ووٹر رجسٹریشن مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، تعلیم یافتہ مسلمانوں کی بیداری وقت کی اہم ضرورت ہے: ایڈووکیٹ شاہد اطہر






دربھنگہ: خادمِ ملت و تعلیمی خدمت گار ایڈووکیٹ شاہد اطہر ڈائریکٹر متھلا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس نے 05- دربھنگہ گریجویٹ انتخابی حلقہ کے تمام اہلِ گریجویٹ شہریوں، خصوصاً مسلم نوجوانوں، اساتذہ، علمائے کرام، وکلاء، ڈاکٹروں، انجینئروں، سرکاری و غیر سرکاری ملازمین، کاروباری حضرات اور دیگر تعلیم یافتہ افراد سے پ±رزور اپیل کی ہے کہ وہ گریجویٹ ووٹر کے طور پر اپنا اندراج لازماً کرائیں اور اس قومی و جمہوری ذمہ داری کو پوری سنجیدگی کے ساتھ ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور مضبوط معاشرہ صرف تعلیم سے نہیں بلکہ اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے صحیح استعمال سے بھی تشکیل پاتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہر انتخاب میں ہزاروں ایسے اہلِ گریجویٹ افراد صرف معلومات کی کمی یا لاپرواہی کی وجہ سے ووٹر فہرست میں شامل نہیں ہو پاتے، جس کے باعث وہ اپنے قانونی حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔

ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ سال 2022 یا اس سے پہلے گریجویشن مکمل کرنے والے تمام اہل افراد کے لیے یہ ایک قیمتی موقع ہے۔ وقت بہت محدود ہے، اس لیے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ آج ہی اپنے کاغذات مکمل کرے اور اپنے ضلع کے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کے دفتر میں جا کر درخواست جمع کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں تو معاشرہ ترقی کرتا ہے، ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور عوامی مسائل زیادہ مو¿ثر انداز میں سامنے آتے ہیں۔ اس لیے ہر گریجویٹ نوجوان کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی رجسٹریشن کرائے اور اپنے والدین، بھائیوں، بہنوں، رشتہ داروں، دوستوں اور محلے کے تمام اہلِ گریجویٹ افراد کو بھی اس مہم میں شامل ہونے کی ترغیب دے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اپیل کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کے حق یا مخالفت میں نہیں، بلکہ صرف اس مقصد کے لیے ہے کہ زیادہ سے زیادہ اہلِ گریجویٹ شہری اپنے جمہوری حق کا استعمال کر سکیں اور ووٹر فہرست میں اپنا نام شامل کرا سکیں۔ درخواست کے لیے ضروری دستاویزات

- گریجویشن کی مارک شیٹ (گزیٹیڈ آفیسر سے تصدیق شدہ)

- آدھار کارڈ یا ووٹر کارڈ کی نقل (گزیٹیڈ آفیسرسے تصدیق شدہ)

تمام اہل امیدوار اپنی درخواست خود اپنے متعلقہ ضلع کے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کے دفتر میں جمع کریں۔ آخر میں ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ آئیں ہم سب مل کر ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور ذمہ دار معاشرہ تشکیل دیں، اپنے حقوق سے واقف رہیں، اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور اس اہم اطلاع کو ہر گھر اور ہر اہلِ گریجویٹ فرد تک پہنچائیں تاکہ کوئی بھی شخص محض لاعلمی کی وجہ سے اس حق سے محروم نہ رہ جائے۔


Saturday, 23 May 2026

٭اسحاق اثر ایک ہمہ جہت اور ہرفن مولا شخصیت تھے، ان کی کمی مجھے ہمیشہ محسوس ہوگی:ڈاکٹر اظہار احمد




٭ اسحاق اثر نے اپنی پوری زندگی قلم کے ذریعے حق و انصاف کی آواز بلند کی اور اردو صحافت کو ایک نیا وقار عطا کیا: رضوان اصلاحی

٭ تعلیمی اور صحافتی میدان میں ان کی خدمات ہمیشہ میں یاد رکھی جائیں گی:سابق وزیر اخلاق احمد

محبان اردو کے زیر اہتمام معروف صحافی اسحاق اثر کی یاد میں تعزیتی نشست


 پٹنہ : محبان اردو کے زیر اہتمام روزنامہ پیاری اردو پٹنہ کے دفتر میں اردو صحافت کے کہنہ مشق اور بے لوث خادم، جناب اسحاق اثر کی رحلت پر منعقد ایک پروقار تعزیتی نشست میں شہر کی ممتاز علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے انہیں پرخلوص خراج عقیدت پیش کیا۔ اس نشست میں مرحوم کی گراں قدر خدمات کو یاد کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اسحاق اثر کا خلا مدتوں تک محسوس کیا جائے گا۔

اس موقع پر مولانا رضوان عالم اصلاحی امیر جماعت اسلامی حلقہ بہار نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”موت ایک اٹل حقیقت ہے اور دنیا کی زندگی محض ایک امتحان گاہ ہے۔“انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں موت کی حقیقت پر مفصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی رضا میں راضی رہنا اور مصیبت کی گھڑی میں صبر کا دامن تھامنا ہی مومن کی اصل پہچان ہے۔ انہوں نے اسحاق اثر کی صحافتی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی قلم کے ذریعے حق و انصاف کی آواز بلند کی اور اردو صحافت کو ایک نیا وقار عطا کیا۔ ان کا انتقال علمی و صحافتی حلقوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

پروگرام کے روح رواں اور سابق رکن اسمبلی و تخمینہ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر اظہار احمد نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”جناب اسحاق اثر ایک ہمہ جہت اور ہرفن مولا شخصیت کے مالک تھے۔“ان کی رپورٹنگ میں جہاں سچائی اور گہرائی ہوتی تھی، وہیں اردو زبان پر ان کی گرفت بھی بے حد مضبوط تھی۔ وہ اردو کے ایسے بے لوث خادم تھے جنہوں نے کبھی کسی صلے کی پروا کیے بغیر اپنا سفر جاری رکھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے اب تین ممتاز شخصیات؛ مرحوم اجمل فرید صاحب، فاروقی تنظیم کے مالک مرحوم ظفرصاحب اور اسحاق اثر کے نام سے اردو کے خادموں اور صحافیوں کے لیے خصوصی ایوارڈز کا سلسلہ شروع کیا جائے گا تاکہ نئی نسل ان کے نقش قدم پر چل سکے۔

سابق وزیر اخلاق احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق اثر کی رحلت سے صحافت کا ایک باب بند ہو گیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کی تدریسی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ جس طرح قلم کے دھنی تھے، اسی طرح تدریس کے میدان میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق اثر صرف ایک صحافی نہیں تھے بلکہ وہ اردو زبان کے ایک سچے محافظ اور ہمدرد تھے، جن کی خدمات کو آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھیں گی۔

ارشد فیروز (سابق چیئرمین، بہار گورنمنٹ اردو لائبریری پٹنہ) نے کہا کہ اسحاق اثر نے صحافت کے میدان اور تحریک اردو میں جو کردار ادا کیا، وہ ناقابل فراموش ہے۔ ان کا جانا اردو صحافت کیلئے ایک بڑا خسارہ ہے۔

اسلم جاویداں نے کہا کہ اسحاق صاحب انتہائی خوش اخلاق اور ملنسار انسان تھے، جو ہر کسی سے خندہ پیشانی سے ملتے تھے۔ وہ اردو کے سچے خادم تھے اور ان کی وفات سے اردو دنیا ایک مخلص دوست سے محروم ہو گئی ہے۔

محمد شریف (ڈین، لاءکالج) اور رضا عالم دانش (جے ڈی یو لیڈر) نے اپنے مختصر تعزیتی پیغامات میں مرحوم کی علمی دیانت داری اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی مغفرت کی دعا کی۔

کرنل عظیم، سراج انور، قمر الحسن اور افروز فانی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق اثر جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اردو اور صحافت کے نام کر دی۔

ان کے علاوہ نواب عتیق الزماں ، مبین الہدی ، فاطمہ ڈگری کالج کے پرنسپل انور امام ، سب انسپکٹر شہنواز عالم ، ڈاکٹر فیض احمد قادری ، مالے لیڈر مسز صبا ، محمد رفیع ، عظمت اللہ ابو سعید ، سبودھ برنوال ، اسحاق اثر کے صاحبزادے انجینئر ذیشان ، محمد شاہد اختر ڈائریکٹر عوامی کوآپریٹیو بینک نے بھی اپنے تاثرات پیش کئے اور مرحوم کی مغفرت اور بلندی ¿ درجات کی دعا کی ۔ 

مشہور شاعر جمال کاکوی نے اپنے اشعار کے ذریعہ اسحاق اثر کو پرخلوص خراج عقیدت پیش کیا۔

اس موقع پر فصیح صاحب، روزنامہ تاثیر کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر گوہر کے بھی سانحہ ارتحال پر مذکورہ تمام لوگوں نے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور انہیں اپنی دعاﺅں میں یاد کیا ۔

نشست کا اختتام مرحوم اسحاق اثر ، فصیح صاحب اوررکن پارلیمنٹ طارق انور کی خوش دامن اور مرحوم شمائل نبی کی اہلیہ سمیت دیگر مرحومین کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ ہوا۔

پروگرام کا آغاز حافظ غلام سرور ندوی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، پروگرام کی نظامت پرویز عالم نے کی ۔ مرحوم نسیم انصاری کے صاحبزادے محمد عمران ، مشتاق خان ،خورشید عالم، محمد حسنین، محمد نوشاد عالم نے پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کر دار ادا کیا ۔ 


Tuesday, 14 April 2026

نوئیڈا کی سڑکوں پر جو ہوا، وہ اس ملک کے مزدوروں کی آخری چیخ ہے

 



لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نوئیڈا میں احتجاجی کارکنوں کی حمایت میں کھل کر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل نوئیڈا کی سڑکوں پر جو ہوا، وہ اس ملک کے مزدوروں کی آخری چیخ تھی، جس کی آواز کو نظر انداز کیا گیا، جو اپنا حق مانگتے مانگتے تھک گئے۔ نوئیڈا میں کام کرنے والے ایک مزدور کی 12000 ماہانہ تنخواہ اور 4000 سے 7000 تک کرایہ۔ جب تک 300 روپے کا سالانہ اضافہ ملتا ہے، مکان مالک 500 روپے سالانکہ کرایہ بڑھا دیتا ہے۔ تنخواہ بڑھنے تک یہ بے لگام مہنگائی زندگی کا گلا گھونٹ دیتی ہے، قرض کی گہرائی میں ڈوبا دیتی ہے۔ یہی ہے ترقی یافتہ ہندوستان کا سچ۔




راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پوسٹ میں ایک خاتون مزدور کے بیان کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ایک خاتون مزدور نے کہا کہ گیس کی قیمت بڑھتی ہے، لیکن ہماری تنخواہ نہیں۔ ان لوگوں نے شاید اس گیس بحران کے دوران اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے 5000 کا بھی سلنڈر خریدا ہوگا۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’’یہ صرف نوئیڈا کی بات نہیں ہے، اور یہ صرف ہندوستان کی بھی بات نہیں ہے۔ پوری دنیا میں ایندھن کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں، مغربی ایشیا میں جنگ کی وجہ سے سپلائی چین ٹوٹ گئی ہے۔ لیکن امریکہ کے ٹیرف وار، عالمی مہنگائی اور ٹوٹتی سپلائی چین کا بوجھ مودی کے دوست صنعتکاروں پر نہیں پڑا۔ اس کی سب سے بڑی مار پڑ رہی ہے اس مزدور پر جو یومیہ اجرت پر کام کرتا ہے تبھی روز کھاتا ہے۔‘‘



کانگریس لیڈر نے مزید لکھا کہ ’’وہ مزدور، جو کسی جنگ کا حصہ نہیں، جس نے کوئی پالیسی نہیں بنائی - وہ بس کام کرتا رہا۔ خاموشی سے، بغیر کسی شکایت کے۔ اور جب وہ اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہے، تو اسے کیا ملتا ہے؟ دباؤ اور جبر۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ایک اور نہایت اہم مسئلہ - مودی حکومت نے جلد بازی میں بغیر کسی مشاورت کے نومبر 2025 سے 4 لیبر کوڈ نافذ کر دیے، جن کے تحت کام کے اوقات کو بڑھا کر روزانہ 12 گھنٹے تک کر دیا گیا۔ وہ مزدور جو روزانہ 12–12 گھنٹے کھڑا ہو کر کام کرتا ہے، اور پھر بھی اپنے بچوں کی اسکول فیس ادا کرنے کے لیے قرض لیتا ہے - کیا اس کا مطالبہ غیر معقول ہے؟ اور جو ہر روز اس کے حقوق کو کچل رہا ہے - کیا اسے ترقی کہا جا سکتا ہے؟‘‘ ان کے مطابق نوئیڈا کا مزدور 20000 روپے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ لالچ نہیں بلکہ یہ اس کا حق ہے، اس کی زندگی کی واحد بنیاد ہے۔ میں ہر ایسے مزدور کے ساتھ کھڑا ہوں، جو اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر اس حکومت نے اسے بوجھ بنا دیا ہے۔


بہار میں غائب ہو گئے تقریباً 9 ہزار تالاب اور جھیلیں




ایک طرف ملک میں پانی کی کمی کا مسئلہ مسلسل بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف مسائل کو حل کرنے کے معاملے میں بھی خوب لاپرواہی برتی جا رہی ہے۔ دیگر ریاستوں کی طرح بہار میں بھی پانی کا مسئلہ برقرار ہے، لیکن آبی ذخائر سے متعلق سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لاپرواہی کی وجہ سے ریاست میں بڑی تعداد میں آبی ذخائر غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ تقریباً 9 ہزار آبی ذخائر کا اب کچھ پتہ نہیں ہے۔



آخر یہ آبی ذرائع کہاں غائب ہو گئے؟ یہ سوال مرکز کی آبی ذخائر سے متعلق دوسرے سروے 24-2023 کے سامنے آنے کے بعد اٹھ رہا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست میں تقریباً 8940 آبی ذخائر غائب ہو چکے ہیں۔ جل شکتی کی وزارت کی جانب سے گزشتہ سال بہار، دہلی، آسام، لداخ اور سکم کے لیے کیے گئے آبی ذخائر کے دوسرے سروے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ 19-2018 میں بہار میں درج 45793 آبی ذخائر میں سے صرف 36856 ہی موجود ہیں، جبکہ 9000 کے قریب آبی ذخائر غائب ہوتے چلے گئے۔



سروے کے مطابق ان آبی ذخائر میں سے 45 فیصد تو بہار حکومت کی ملکیت میں ہی ہے، حالانکہ ریاست کے محکمہ ریونیو اور اراضی اصلاحات کے پاس اس بات کی کوئی معلومات نہیں ہے کہ ان میں سے کتنے آبی ذخائر پر (جزوی یا مکمل طور پر) قبضہ کر لیا گیا ہے۔ ’انڈین ایکسپریس‘ نے ایک افسر کے حوالے سے بتایا کہ ’’ہم آبی ذخائر کے سروے کے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں اور تجاوزات سے پاک عوامی تالابوں پر ایک اپ ڈیٹڈ رپورٹ تیار کریں گے۔‘‘ اس سروے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ 85 فیصد آبی ذخائر دیہی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر یعنی تقریباً 91 فیصد تالاب ہیں، جبکہ باقی جھیلوں، ٹینکوں، آبی ذخائر، چیک ڈیم اور پرکولیشن ڈیم کی شکل میں ہیں۔


سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 19-2018 میں بہار میں موجود 35027 تالابوں میں سے اب صرف 33618 ہی بچے ہیں۔ ریاست میں 1409 تالاب مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ٹینکوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔ ٹینکوں کی تعداد 4221 سے گھٹ کر 859 تک آ گئی ہے، جبکہ جھیلوں کی تعداد 2693 سے کم ہو کر 258 اور آبی ذخائر کی تعداد 2156 سے گھٹ کر صرف 315 رہ گئی ہے۔ ریاست کے آبی ذخائر میں سے زیادہ تر (40.4 فیصد) پنچایتوں کی ملکیت میں ہیں، جس کے بعد ریاست کے محکمہ آبی وسائل (ڈبلیو آر ڈی) یا ریاستی محکمہ آبپاشی (22.3 فیصد) کا نمبر آتا ہے۔



واضح رہے کہ ریاست میں آبی ذخائر پر تیزی سے قبضے کیے جا رہے ہیں، اور یہ خاص طور پر لینڈ مافیا کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ ان مقامات پر مسلسل تجاوزات سے ایک نیا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ 2023 کے ایک حکم میں، پٹنہ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ریاست میں 1045 تالابوں پر ناجائز قبضہ کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح بہار اسمبلی کے حالیہ بجٹ سیشن کے دوران عوامی آبی ذخائر کے غائب ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں، ریاست کے ریونیو اور اراضی اصلاحات کے وزیر وجے سنہا نے بتایا تھا کہ صرف 5 تالابوں پر ہی قبضہ کیا گیا ہے، جبکہ انڈین انکلوسیو پارٹی (آئی آئی پی) کے رکن اسمبلی آئی پی گپتا نے اس دعوے کی مخالفت کی تھی۔ آئی پی گپتا نے کہا تھا کہ ’’اب جب کہ آبی ذخائر کے تازہ سروے نے حکومت کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیا ہے، تو ہم اس سوال کو دوبارہ اٹھائیں گے۔‘‘


ہو گیا پلٹی بازی کے دھرندھر چاچا جی کا استعفیٰ‘

 

روہنی آچاریہ نے نتیش کمار پر چلائے طنز کے تیر




نتیش کمار نے بہار کے وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے، اور سمراٹ چودھری کو بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر بھی منتخب کر لیا ہے۔ یعنی نتیش کمار کا دور ختم، اور بہار میں پہلی بار بی جے پی لیڈر کے وزیر اعلیٰ بننے کا راستہ ہموار۔ موجودہ صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے لالو پرساد کی بیٹی روہنی آچاریہ نے نتیش کمار پر طنز کے تیر چلائے ہیں، جو تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہے ہیں۔



سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر روہنی آچاریہ نے نتیش کمار کے استعفیٰ پر اپنا تلخ رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے نتیش کمار کو ’پلٹی بازی میں دھرندھر‘ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ آخر کار ان کا استعفیٰ ہو ہی گیا۔ انھوں نے پوسٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ جو لوگ ان کے ساتھ نظر آتے ہیں، حقیقت میں وہی ان کے خلاف سازش کر رہے تھے۔



سوشل میڈیا پوسٹ میں روہنی لکھتی ہیں کہ ’’آخر کار ہو ہی گیا پلٹی بازی کے دھرندھر ہمارے چاچا جی کا استعفیٰ۔ بننے چلے تھےس یاست کے خلیفہ، بے بسی میں خود ہی سپرد کر آئے گورنر محترم کو اپنی سیاسی پاری کے خاتمہ کا لفافہ۔‘‘ انھوں نے آگے لکھا ہے کہ ’’بڑے افسوس کی بات ہے، چاچا جی کے غم میں سچے دن سے نہیں کوئی ان کے ساتھ ہے، اوپر سے جو بھی نظر آتا ان کے ساتھ ہے، حقیقت میں وہی چاچا جی پر لگائے بیٹھا گھات ہے۔‘‘



پوسٹ کے آخر میں روہنی نے لکھا ہے کہ ’’زیادہ کیا کہوں، بس اتنا ہی کافی ہے... جھوٹی شیخی بگھارنے والے چاچا جی کی اونچی اڑان کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے، چاچا جی کے پر ان کے ہی اپنے کہے جانے والے سیاسی بہیلیے کتر گئے۔‘‘ روہنی کے ذریعہ کیے گئے اس طنزیہ پوسٹ کو صارفین نہ صرف پسند کر رہے ہیں، بلکہ اس پر تبصرہ کرنے کے ساتھ ساتھ ری-پوسٹ بھی کر رہے ہیں۔



روہنی آچاریہ نے مزید ایک پوسٹ میں بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ ’’وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے بی جے پی کو ایک گھمنتو ہی ملا!! اپنی تاسیس کے 46 سال گزر جانے کے بعد بھی بہار میں بی جے پی کے پاس لیڈرشپ کی ایسی خشک سالی ہے کہ بی جے پی نہ تو کبھی اپنے دم پر حکومت بنا سکی، نہ ہی کبھی کسی اسمبلی انتخاب میں اپنا کوئی وزیر اعلیٰ کا چہرہ سامنے رکھ سکی، اور نہ ہی وسیع عوامی مقبولیت و شناخت والا ایک لیڈر تیار کر سکی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’بہار میں بی جے پی کی سیاسی کنگالی کا عالم تو کچھ ایسا ہے کہ اب جب سالوں کی مشقت کے بعد بی جے پی نتیش کمار جی کو سازش کے سہارے وزیر اعلیٰ کی کرسی سے ہٹانے میں کامیاب ہوئی، تب بھی بی جے پی کسی ایسے کو وزیر اعلیٰ بنانے جا رہی ہے، جو بنیادی طور پر نہ تو ناگپوریا نرسری سے ہے اور نہ ہی بہار بی جے پی کی بنجر بگیا سے۔‘‘ اس پوسٹ کے آخر میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں کہ ’’بغیر قسم پوری کیے مریٹھا کھولنے، فرضی ڈگری، فرضی پیدائش سرٹیفکیٹ والا وزیر اعلیٰ مبارک ہو بی جے پی والوں...۔‘‘


سمراٹ چودھری ہوں گے بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ، گورنر کو حکومت سازی کا دعویٰ پیش کیا




بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری ہوں گے۔ اس بات پر اُس وقت مہر لگ گئی، جب بی جے پی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں انہیں لیڈر منتخب کر لیا گیا۔ اس میٹنگ میں وجے سنہا نے ان کے نام کا اعلان کیا۔ میٹنگ میں ریاستی صدر سنجے سراوگی اور بی جے پی کے مبصر شیوراج سنگھ چوہان موجود تھے۔ سمراٹ چودھری کے نام کی حمایت دلیپ جیسوال اور منگل پانڈے نے بھی کی۔ بعد ازاں سمراٹ چودھری نے بہار کے گورنر سید عطا حسنین سے ملاقات کر ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کا دعویٰ پیش کر دیا۔ گورنر نے ان کا یہ دعویٰ قبول کر لیا ہے اور 15 اپریل کی صبح 11 بجے حلف برداری تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تقریب میں سمراٹ چودھری بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ کی شکل میں حلف لیں گے اور ان کے ساتھ بہار کی نئی کابینہ کے کچھ اراکین کی بھی حلف برداری ہوگی۔




بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیے جانے کے بعد سمراٹ چودھری کا پہلا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’بی جے پی کی مرکزی قیادت کے ذریعہ مجھ پر بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے بہار بی جے پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر کی ذمہ داری سونپی گئی، اس کے لیے میں دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ میرے لیے صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ بہار کی عوام کی خدمت، ان کے اعتماد اور خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ میں پوری ایمانداری کے ساتھ عوام کی امیدوں پر کھرا اترنے کا عزم لیتا ہوں۔‘‘




واضح رہے کہ نتیش کمار نے منگل (14 اپریل) کو گورنر ہاؤس پہنچ کر اپنا استعفیٰ سونپ دیا تھا۔ وہ سمراٹ چودھری اور وجے چودھری کے ساتھ ایک ہی گاڑی سے راج بھون پہنچے تھے۔ نتیش کمار نے 20 نومبر 2025 کو وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لیا تھا۔ آج 14 اپریل کو استعفیٰ دینے کے بعد یہ مدت کار 145 دنوں کی ہوئی، یہ دوسری بار ہے جب نتیش کمار انتہائی کم مدت کے لیے وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس سے قبل 2000 میں انہوں نے 3 مارچ کو وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لیا تھا، لیکن 10 مارچ کو ہی انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔


آج صبح سے ہی بہار میں سیاسی ہلچل کافی تیز تھی۔ صبح صبح وزیر اعلیٰ کی رہائش پر سنجے جھا، وجے چودھری اور للن سنگھ پہنچے تھے۔ اس کے بعد سمراٹ چودھری بھی وہاں پہنچے۔ تقریباً نصف گھنٹے کی میٹنگ کے بعد وجے چودھری، سمراٹ چودھری اور نتیش کمار ایک ہی گاڑی سے وزیر اعلیٰ کی رہائش سے باہر نکلے۔ گاڑی کی اگلی سیٹ پر وجے چودھری بیٹھے تھے، جبکہ پیچھے کی سیٹ پر سمراٹ چودھری اور نتیش کمار موجود تھے۔



قابل ذکر ہے کہ آخری کابینہ میٹنگ میں نتیش کمار جذباتی نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ 2005 میں جب وہ حکومت میں آئے، تب سے جہاں تک ممکن ہوا انہوں نے کام کیا اور نئی حکومت کو ان کی رہنمائی ملتی رہے گی۔ اس میٹنگ کے بعد کئی وزراء نے نتیش کمار کی مدت کار کو تاریخی قرار دیا۔


اب لوک سبھا میں 543 کی جگہ ہوں گی 850 نشستیں

 




مرکزی حکومت نے ملک کے جمہوری ڈھانچے میں بڑی تبدیلی لانے والے 3 اہم بلوں کا مسودہ اراکین پارلیمنٹ کو دیا ہے۔ مرکزی حکومت آئین (131ویں ترمیم) بل، حد بندی بل اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ قانون (ترمیم) بل 2026 جلد پاس کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ تینوں بل آئندہ مردم شماری کی بنیاد پر لوک سبھا سیٹوں کی تعداد بڑھا کر 850 کرنے، انتخابی حلقوں کی نئے سرے سے حد بندی اور خواتین ریزرویشن کو موثر طریقے سے نافذ کرنے کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ حکومت کے اس قدم کے ساتھ ہی کئی دہائیوں سے زیر التوا سیٹوں کی تنظیم نو اور لسانی و علاقائی نمائندگی کے نئے نظام کی باقاعدہ منظوری کا عمل شروع ہو گیا ہے۔


واضح رہے کہ یہ تینوں بل ہندوستان کے سیاسی ڈھانچے اور سیٹوں کی حد بندی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی تجویز پیش کرتے ہیں:


آئین (131ویں ترمیمی) بل 2026 (بل 107):

یہ بل لوک سبھا میں سیٹوں کی تعداد کو زیادہ سے زیادہ 815 (ریاستوں سے) اور 35 (مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے) تک بڑھانے کا التزام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ آبادی کی تعریف کو تبدیل کرتا ہے تاکہ انتخابی حلقوں کی از سر نو ترتیب پارلیمنٹ کے ذریعہ طے شدہ تازہ ترین مردم شماری کی بنیاد پر کی جا سکے۔


حد بندی بل 2026 (بل 108):

یہ تازہ ترین مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کی سیٹوں کی تقسیم اور انتخابی حلقوں کی تقسیم کے لیے ایک حد بندی کمیشن کی تشکیل کا التزام کرتا ہے۔ سپریم کورٹ کے موجودہ یا سابق جسٹس کمیشن کے صدر ہوں گے۔


مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قوانین (ترمیم) بل 2026 (بل 109):

یہ بل پڈوچیری، دہلی اور جموں و کشمیر کے قوانین میں ترمیم کرتا ہے تاکہ انہیں نئے حد بندی قوانین اور خواتین کے ریزرویشن (آئین کی دفعہ 334اے) کے مطابق بنایا جا سکے۔ اس کے تحت پڈوچیری میں نامزد اراکین کی تعداد بڑھا کر 5 کرنے کی تجویز ہے، جن میں 2 خواتین ہوں گی۔



اراکین پارلیمنٹ کو سونپے گئے تینوں بل (آئین ترمیم، حد بندی اور مرکز کے زیر انتظام قانون) یہ واضح کرتے ہیں کہ ہندوستان کی انتخابی سیاست اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی کی دہلیز پر ہے۔ آئین (131 ویں ترامیم) بل 2026 کے مطابق لوک سبھا کے اراکین کی تعداد بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 850 کرنے کی تجویز ہے۔ اس میں 815 اراکین ریاستوں سے اور 35 مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے ہوں گے۔ فی الحال لوک سبھا میں سیٹوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ 550 (543 موثر) ہیں۔ 300 سے زائد سیٹوں کا یہ اضافہ گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے بڑی جمہوری توسیع ہے۔ اب تک سیٹوں کی تقسیم 1971 کی مردم شماری کی بنیاد پر اٹکی ہوئی تھی۔ بل 107 کے ذریعہ دفعہ 82 اور 170 میں ترمیم کی تجویز ہے۔ اس کے تحت آبادی کا مطلب وہ نئی مردم شماری ہوگی جس کے اعداد و شمار پارلیمنٹ کے ذریعہ طے کیے جائیں گے۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ 2026 کے کے بعد ہونے والی پہلی مردم شماری ہی نئی سیٹوں کی تقسیم کی بنیاد بنے گی۔


حد بندی بل 2026 (بل 108) ایک طاقتور حد بندی کمیشن کی تشکیل کا راہ ہموار کرتا ہے۔ یہ کمیشن طے کرے گا کہ آبادی کے تناسب سے کس ریاست کو کتنی اضافی سیٹیں ملیں گی۔ اس میں عدالتی اور انتظامی شفافیت کو برقرار رکھنے لیے سپریم کورٹ کے ججوں اور الیکشن کمیشن کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ کمیشن شمالی اور جنوبی ہندوستان کی ریاستوں کے درمیان آبادی پر مبنی نمائندگی کے عدم توازن کو بھی ختم کرے گا۔ تیسرا بل (109) مرکز کے زیر انتظام علاقوں (دہلی، پڈوچیری، جموں و کشمیر) کے قوانین میں تبدیلی لاتا ہے۔ یہ یقینی بناتا ہے کہ 106ویں آئینی ترمیم (ناری شکتی وندن ادھینیم) کے تحت 33 فیصد خواتین ریزرویشن نئی حد بندی کے ساتھ نافذ ہو۔ اس میں پڈوچیری جیسے علاقوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لیے خصوصی التزام کیے گئے ہیں۔


مزدوروں کا استحصال برداشت نہیں کیا جائے گا

 



نوئیڈا کی کئی کمپنیوں کے ملازمین اس وقت سراپا تحریک نظر آ رہے ہیں۔ اتر پردیش کی حکومت نے کم از کم تنخواہ میں 3 ہزار اضافہ کرنے کا اعلان ضرور کر دیا ہے، لیکن ملازمین کی ناراضگی ختم نہیں ہوئی ہے۔ اس معاملہ میں کانگریس لگاتار ملازمین کے مطالبات کی حمایت کر رہی ہے اور ان کی تحریک کو حق بہ جانب ٹھہرا رہی ہے۔ کانگریس کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارٹی مزدوروں کا استحصال برداشت نہیں کرے گی۔



اس معاملہ میں کانگریس لیڈر اور سابق رکن پارلیمنٹ ادت راج نے ایک پریس کانفرنس کی، جس میں کچھ اہم حقائق سامنے رکھے۔ انھوں نے کہا کہ ’’نوئیڈا میں کل ملازمین کی تحریک ہوئی۔ کچھ دن قبل ہی ہریانہ کے مانیسر میں بھی مظاہرہ ہوا تھا۔ کانگریس نے مزدوروں کے مفاد کے لیے لیبر لاء بنائے، لیکن بی جے پی کی حکومت ان قوانین کو ختم کرتے ہوئے 4 لیبر کوڈ لے آئی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ایک دہائی قبل مزدور ٹریڈ یونینوں سے اپنی بات منوانے کے لیے ہڑتال کرتے تھے، جس سے ملک متاثر ہوتا تھا اور حکومتیں ان سے بات کرتی تھیں۔ لیکن اب ماحول بدل چکا ہے۔ آج ان 4 لیبر کوڈ کی آڑ میں مزدوروں کا استحصال ہو رہا ہے۔‘‘




مزدوروں کے موجودہ مشکل حالات کا ذکر کرتے ہوئے اُدت راج نے کہا کہ ’’نوئیڈا میں مزدوروں کو ہر ماہ تقریباً 12 ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے، جس میں 6-5 ہزار روپے کرایہ میں خرچ ہو جاتے ہیں۔ بچے ہوئے پیسوں میں بچوں کی پڑھائی، کھانا اور باقی خرچ پورے کرنے ہوتے ہیں۔‘‘ کانگریس لیڈر نے ایک خاتون مزدور کی حالت زار کا ذکر بھی پریس کانفرنس میں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں نے سوشل میڈیا پر ایک خاتون کی ویڈیو دیکھی، جو کہہ رہی تھی کہ وہ اپنے بیمار بچے کو 2 دن کے وقفہ میں دوا دیتی ہے، تاکہ دوا بچی رہے۔‘‘ یہ ذکر کرنے کے بعد انھوں نے سوال کیا کہ کیا یہی امرت کال ہے؟ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’کل احتجاجی مظاہرہ کے بعد یوپی حکومت نے تنخواہ میں تھوڑا اضافہ کیا ہے، جس میں مہنگائی بھتہ شامل ہے، لیکن یہ ناکافی ہے۔‘‘



اُدت راج نے مزدوروں کو درپیش مسائل کے لیے مودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ منریگا کو کمزور بنائے جانے کے سبب مزدوروں کا انحصار ان ملازمتوں پر بڑھ گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’مزدوروں کا انحصار ان ملازمتوں پر کیوں بڑھا، کیونکہ منریگا نے دم توڑ دیا ہے۔ منریگا کے ہونے سے مزدور کی اتنی بے بسی نہیں ہوتی تھی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’بی جے پی حکومت نے وی بی-جی رام جی منصوبہ لانے سے قبل ہی منریگا کو کمزور کرنا شروع کر دیا تھا۔ منریگا کے ختم ہونے سے مزدوروں کا استحصال بڑھا ہے، ان کی تکلیف بڑھی ہے اور صنعت کاروں کا منافع بڑھا ہے۔‘‘




پریس کانفرنس میں اُدت راج نے مزدورں کے ساتھ مالکوں کے رویہ کی بھی تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملازمین کی تنخواہ سے پی ایف کے نام پر پیسہ کاٹ لیا جاتا ہے، لیکن کمپنی مالکان کے ذریعہ جمع نہیں کیا جاتا۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’نوئیڈا میں افسران جس طرح ملازمین سے بات کر رہے تھے، صاف نظر آ رہا ہے کہ استحصال کی پوری تیاری ہے۔‘‘ اپنی باتیں رکھنے کے بعد کانگریس لیڈر نے سوال کیا کہ ’’کیا یہی ہے ’وِکست بھارت‘ اور ’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس‘؟ ی ایک اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔ آخر اتنی کم تنخواہ میں کسی مزدور کا گھر کیسے چل پائے گا؟‘‘


ایران نے 5 عرب ممالک سے ہرجانہ کا کیا مطالبہ



اسرائیل و امریکہ کے ذریعہ ایران پر کیے گئے حملوں نے تباہی کا ایک دردناک منظر سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ مذاکرات کی کوششیں جاری ضرور ہیں، لیکن یہ جنگ فی الحال ختم ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ اس درمیان ایران نے 5 عرب ممالک پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے اپنے علاقوں کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی۔ اسی اجازت کے سبب امریکہ و اسرائیل کو طاقت ملی، اور اس نے حملوں کا ایک دراز سلسلہ شروع کر دیا۔


’پریس ٹی وی‘ کے مطابق ایران کے سفیر امیر سعید ایراوانی نے بحرین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور اردن کے ذریعہ معاوضہ سے متعلق کیے گئے مطالبات کو خارج کر دیا ہے۔ ایران نے اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری اینٹونیو گٹیریس اور سیکورٹل کونسل کے سربراہ جمال فاریس الرووائی کو اس سلسلے میں ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں کہا ہے کہ عرب ممالک نے اپنے علاقوں کو کھول کر امریکہ و اسرائیل کی مدد کی ہے۔ تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ حملہ کا شکار ہوا ہے، اور اپنی حفاظت کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال کر رہا ہے۔



قابل ذکر ہے کہ امریکی بحریہ نے پیر سے سبھی ایرانی بندرگاہوں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر دی ہے۔ اس سے ایران سخت ناراض ہو گیا ہے۔ جواب میں ایران نے خلیج فارس اور خلیج عمان کے سبھی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے ڈالی ہے۔ اس سے دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی ناکام ہونے اور جنگ پھر سے شروع ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔


انتخاب ختم ہوتے ہی پٹرول 18 روپے اور ڈیزل 35 روپے تک ہو سکتا ہے مہنگا

 






غیر ملکی بروکریج فرم ’میکویری‘ کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں آئی بھاری تیزی کا بوجھ اب گھریلو تیل کمپنیوں (او ایم سی) کے لیے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ حالانکہ فی الحال پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مستحکم ہیں، لیکن اس سے کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں واراننگ دی گئی ہے کہ مغربی بنگال سمیت 5 ریاستوں میں جاری اسمبلی انتخاب ختم ہوتے ہی کمپنیاں قیمتوں میں بڑا اضافہ کر سکتی ہیں۔


گزشتہ 46 دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ 27 فروری کو جو خام تیل 73 ڈالر فی بیرل پر تھا وہ 19 مارچ کو 120 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا اور فی الحال 100 ڈالر فی بیرل کے آس پاس بنا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر کا اضافہ ہندوستانی کمپنیوں کے نقصان میں 6 روپے فی لیٹر کا اضافہ کرتا ہے۔



واضح رہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود قیمتیں نہ بڑھنے کی وجہ سے تیل کمپنیوں کو پٹرول پر 18 روپے اور ڈیزل پر 35 روپے فی لیٹر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ ماہ یہ نقصان 2400 کروڑ یومیہ تک پہنچ گیا تھا، جو ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے کی تخفیف کے بعد اب 1600 کروڑ روپے یومیہ پر ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ سرکاری ریونیو میں تیل پر لگنے والی ایکسائز ڈیوٹی کا حصہ جو 2017 میں 22 فیصد تھا، اب کم ہو کر صرف 8 فیصد رہ گیا ہے، جس کی وجہ سے حکومت کے پاس قیمتوں کو مزید کم کرنے کی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔


ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً 88 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے، جس میں سے 45 فیصد مشرق وسطیٰ اور 35 فیصد روس سے آتا ہے۔ تیل کی بڑھتی قیمتیں نہ صرف مہنگائی میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی) کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ اندازہ ہے کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں یہ خسارہ بڑھ کر 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جو معیشت کی مضبوطی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔



قابل ذکر ہے کہ یہ مسئلہ صرف ہندوستان تک محدود نہیں ہے۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں اگست 2022 کے بعد پہلی بار 4 ڈالر فی گیلن کے پار نکل گئی ہے۔ ہندوستان کے پڑوسی ممالک پاکستان، نیپال اور سری لنکا پہلے ہی اپنی گھریلو قیمتوں میں بھاری اضافہ کر چکے ہیں۔ ایسے میں ہندوستان میں انتخاب کے بعد قیمتوں میں اضافے کا امکان کافی قوی نظر آ رہا ہے۔


Tuesday, 2 September 2025

پٹنہ میں یونانی طب کے فروغ کیلئے تاریخی معاہدہ


سی سی آر یو ایم دہلی اور گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے درمیان مفاہمت نامہ پر دستخط



پٹنہ:ریجنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن ( آر آر آئی یوایم )، پٹنہ میں آج ایک تاریخی مفاہمت نامہ (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ یہ معاہدہ سینٹرل کونسل فار ریسرچ اِن یونانی میڈیسن (سی سی آر یوایم)، نئی دہلی، وزارت آیوش، حکومت ہند اور گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال، پٹنہ کے درمیان طے پایا۔

یہ ایم او یو یونانی طب کے شعبے میں تحقیقی تعاون، علمی ترقی اور اختراعات کو فروغ دینے کی سمت ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

تقریب کی رونق میں اضافہ کرنے والے معززین میں ڈاکٹر این۔ظہیر احمد، ڈائریکٹر جنرل، سی سی آر یوایم، وزارت آیوش پروفیسر ڈاکٹر محفوظ الرحمٰن، پرنسپل، گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال، پٹنہ ،پروفیسر شہنواز اختر، سینئر فیکلٹی ممبر ،ڈاکٹر ممتاز احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر، آر آر آئی یو ایم پٹنہ ، ڈاکٹر وہاب علی، سائنٹسٹ ایف ، آر ایم آئی آر ایم ایس پٹنہ، ڈاکٹر محمد منظر عالم، ریسرچ آفیسر (یونانی)، ڈاکٹر عبدالرشید، ریسرچ آفیسر (یونانی)، اس کے علاوہ سی سی آر یو ایم ہیڈکوارٹر کے نوڈل افسران اور مختلف ذیلی اداروں کے انچارج بھی آن لائن ج±ڑے، جس سے اس تقریب کو مزید وسعت اور اہمیت حاصل ہوئی۔

یہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ دونوں اداروں کو درج ذیل مقاصد میں مضبوطی فراہم کرے گی: ثبوت پر مبنی طریقہ علاج کے ذریعے صحت خدمات کو مو¿ثر بنانا۔تعلیمی و تحقیقی میدان میں اعلیٰ معیار کو فروغ دینا۔ یونانی طب میں اختراعات اور جدید تحقیقی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنا۔ مشترکہ تحقیقی پروجیکٹس اور تعاون پر مبنی اقدامات۔* صلاحیت سازی اور ہنر مندی کے نئے مواقع پیدا کرنا۔ روایتی علم اور جدید سائنس پر مبنی مربوط ہیلتھ ماڈل تیار کرنا۔

یہ معاہدہ یونانی طب کے میدان میں قومی سطح پر تعاون، سائنسی فکر اور علمی خوشحالی کی جانب ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔


Friday, 15 August 2025

پندرہ اگست کے پرمسرت اور مقدس موقع پر تمام ہم وطنوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد

   


پندرہ اگست کے پرمسرت اور مقدس موقع پر تمام ہم وطنوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد

آئیے، ہم اپنے پیارے وطن کی آزادی کے اس تاریخی دن کو فخر، اتحاد اور محبت کے جذبے کے ساتھ منائیں۔

جئے ہند! “



Sunday, 10 August 2025

وجے سنہا کے پاس دو ای پی آئی سی نمبر ، الیکشن کمیشن جواب دے : تیجسوی



پٹنہ، 10 اگست: بہار اسمبلی میںاپوزیشن لیڈر اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سینئر لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے آج الزام لگایا کہ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر وجے کمار سنہا کا نام بہارمیں خصوصی گہری نظرثانی( ایس آئی آر ) کے بعد جاری کردہ مسودہ فہرست میں دو جگہوں پر درج ہے۔ اس سلسلے میںانہوںنے الیکشن کمیشن سے کاروائی کامطالبہ کیا ہے ۔ 

مسٹر یادو نے آج نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے ایس آئی آر کے بعد اس ماہ کے شروع میں جاری کردہ مسودہ فہرست میں مسٹر سنہا کا نام دو جگہوں، لکھی سرائے اور بانکی پور اسمبلی حلقہ میں درج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر سے پہلے اور بعد کے دونوں حالات میں مسٹر سنہا دو اضلاع میں ووٹر ہیں اور ان کے نام پر دو ای پی آئی سی جاری کئے گئے ہیں۔ یہی نہیں دونوں جگہ ان کی عمر بھی مختلف لکھی گئی ہے۔ لکھی سرائے اسمبلی میں ان کی عمر 57 سال اور پٹنہ کی بانکی پور اسمبلی میں 60 سال درج ہے۔ مسٹر یادو نے سوال کیا کہ کیا بہار کے نائب وزیر اعلی نے بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) سے ملاقات کی اور دو جگہوں پر دو ووٹر فارم پر دستخط کئے۔ اگر یہ سچ ہے تو الیکشن کمیشن انہیں نوٹس بھیج کر قانونی کارروائی کرے اور اگر مسٹر سنہا نے دستخط نہیں کیے تو ان کی طرف سے فارم پر کس نے دستخط کیے ہیں۔ اگر دستخط جعلی ہے، تو ایس آئی آر کا پورا عمل شک کے دائرے میں آتا ہے اور اسے منسوخ کر دینا چاہیے۔

بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق مسٹر سنہا کا نام ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی دو اضلاع لکھی سرائے اور پٹنہ کی ووٹر لسٹ میں شامل ہے، اس لیے اس بات کی جانچ ہونی چاہیے کہ کیا نائب وزیر اعلیٰ نے دو جگہوں پر ووٹ کا استعمال کیا تھا۔

مسٹر یادو نے 2 اگست کو منعقدہ اپنی پریس کانفرنس کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی میرا نام دو جگہوں پر آیا، میرے جواب دینے سے پہلے ہی میرے خلاف پروپیگنڈہ شروع ہوگیا اور مجھے جیل بھیجنے کی بات بھی ہوئی۔ مجھے الیکشن کمیشن کا نوٹس اسپیڈ پوسٹ کے ذریعے 8 اگست کو موصول ہوا اور میں نے اسی دن اپنا جواب بھیج دیا۔ اب میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا الیکشن کمیشن مسٹر سنہا کو بھی ایسا ہی نوٹس بھیجے گا اور قصوروار پائے جانے پر قانونی کارروائی کرے گا۔ دوسری طرف، اگر مسٹر سنگھ نے فارم پر دستخط نہیں کیے ہیں، تو الیکشن کمیشن اپنی غلطی تسلیم کر کے اس عمل کو منسوخ کرے گا۔

آر جے ڈی لیڈر نے کہا کہ بہار کا ایک بڑا حصہ سیلاب کی زد میں ہے اور لوگ پریشان حال ہیں۔ ایسے وقت میں اس ووٹر نظرثانی کا وقت ہی سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے نام حذف کیے گئے ہیں وہ یا تو اپنی جان بچائیں یا الیکشن کمیشن سے ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کیلئے گہار لگائیں۔

مسٹر یادو نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ قواعد کے مطابق 2003 سے پہلے ووٹر لسٹ میں رجسٹرڈ شہریوں سے کوئی دستاویز نہیںطلب کرنا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے ووٹروں سے بھی دستاویزات اور خاندانی معلومات کا مطالبہ کرکے بھی پریشان کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا کہ یہ بی جے پی کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بن گئی ہے۔ کمیشن اپوزیشن کے اعتراضات پر کسی قسم کی سماعت کے لیے تیار نہیں۔ بار بار کی درخواستوں کے باوجود کمیشن ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے 65 لاکھ ناموں کے بوتھ اور ای پی آئی سی نمبر جاری نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی سائٹ پر ڈیٹا پہلے ورڈ فائلز میں اپ لوڈ ہوتا تھا اور اب اسے امیج فائلز میں اپ لوڈ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے تاریخ نکالنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔

مسٹر یادو نے کہا کہ ان کی پارٹی بہار اور ملک میں بی جے پی کی جمہوریت مخالف کوششوں کے خلاف لڑتی رہے گی اور جلد ہی الیکشن کمیشن کی طرف سے کی گئی مزید بے قاعدگیوں کو بڑے پیمانے پر بے نقاب کیا جائے گا۔


پارٹی کی مضبوطی کیلئے ہمیشہ لڑتے آئے ہیں اور آئندہ بھی لڑیںگے : ہیمنت کمار

 



پٹنہ: بانکی پور اسمبلی حلقہ 182 سے کانگریس کے ممکنہ امیدواراور بانکی پور بلاک صدر ہیمنت کمار ترویدی نے آج کہاکہ پارٹی کی مضبوطی کیلئے ہمیشہ سے لڑتے آئے ہیں اور آئندہ بھی لڑیںگے ۔

مسٹر دویدی نے کہاکہ ہم لوگ کانگریس کے پرانے اور وفادار کارکن ہیں۔ مسٹر راہل گاندھی کی فکر اور قیادت سے کافی متاثر ہیں ۔ آج مسٹر راہل گاندھی دن رات جمہوریت کوبچانے کیلئے کام کر رہے ہیں اوراس کے ساتھ ہی مسٹر راہل گاندھی نے پارٹی میں ایک نئی روح پھونک دی ہے جس سے ہم کارکنوںکے حوصلے انتہائی بلند ہیں ۔ انہوں کہاکہ راہل جی کی سوچ کہ زمینی لیڈروں کو ترجیح دی جائے، ہمارے لیے امید کی کرن ہے ۔

انہوں نے کہاکہ این ڈی اے حکومت سے لوگ پریشان ہو چکے ہیں اس حکومت میں ہر طرف گھوٹالہ ہی گھوٹالہ ہے ۔ حکومت کے وزراءاور عوامی نمائندے عوام کی کچھ بھی نہیں سنتے صرف اپنی تجوریوںکو بھرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اگر اعلیٰ قیادت نے مجھے موقع فراہم کیا تو میں اعلیٰ قیادت کی امیدوں پر کھڑا اترنے کی پوری کوشش کروںگا اور بانکی پور پٹنہ کی عوام کی فلاح کیلئے اپنی پوری صلاحیت اور طاقت لگا دوںگا۔ جوبھی کام نہیں ہو اسے ترجیحی بنیاد پر کرنے کی کوشش کر وں گا۔

 انہوں نے ایس آئی آر میں کٹے ہوئے ناموں کے بارے میں کہاکہ ہم لوگ ایک ایک نام کو جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کے لئے دن رات کام کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے مسٹر راہل گاندھی کی جانب سے ووٹ چوری کے الزام پر الیکشن کمیشن کے ردعمل پر کہاکہ یہ انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ غلطی الیکشن کمیشن کی ہے اور حلف نامہ راہل گاندھی سے مانگا جارہاے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ الیکشن کمیشن اس اہم مسئلے کو سنجیدگی سے لیتا اور اس پر کاروائی کرتا اور لوگوںکے شکوک و شبہات کو دور کرتا لیکن الٹا اس نے راہل گاندھی سے ہی حلف نامہ کا مطالبہ کر لیاجوکہ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ 

انہوںنے کہاکہ ایس آئی آر کا عمل بے ضابطگیوں سے بھرا ہے ایک طرف جہاں 65لاکھ لوگوں کے نام کٹ گئے وہیں موجودہ نائب وزیراعلیٰ وجے سنہا کے دو جگہ نام پائے گئے ہیں اور اس پر حکمراں جماعت کے لوگ منہ میں دہی جما کر بیٹھ گئے ہیں جیسے کے کچھ ہوا ہی نہیں اسی جگہ تیجسوی کے خلاف پوری حکمراں جماعت پروپیگنڈے میں مصروف ہو گئی اور انہیں جیل تک بھیجنے کی بات کرنے لگے ۔ کیا اب وجے سنہا پر کے بارے میں یہ لوگ ہمت دکھائیںگے اور کہیں گے کے انہیں جیل بھیجاجائے ۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس ہی وہ پارٹی ہے جو بانکی پور سمیت پورے بہار میں عوامی مسائل پر سنجیدگی سے آواز بلند کر رہی ہے، چاہے وہ مہنگائی ہو، بے روزگاری ہو یا جمہوری اقدار پر حملے۔

 انہوں نے اعلیٰ قیادت سے اپیل کی کہ ہم لوگ زمینی سطح کے کارکن ہیں اور پارٹی کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور ہمارے اعلیٰ لیڈر راہل گاندھی بھی کہتے ہیں کہ زمینی لیڈران کو ٹکٹ میں ترجیح دی جائے گی ہمیں پوری امید ہے کہ اعلیٰ قیادت زمینی کارکنان کو مایوس نہیں کرے گی اور انہیں ان کا واجب حق دے گی ۔ 


Wednesday, 6 August 2025

گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے وفد نے گورنر عارف محمد خان سے ملاقات کی

 




پٹنہ6 اگست:گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے ایک وفد نے پرنسپل پروفیسر محفوظ الرحمن کی قیادت میں گورنر ہاﺅ س میں بہار کے گورنر عارف محمد خان سے ملاقات کی اور انہیں کالج کے صد سالہ پروگرام میں شرکت کیلئے دعوت دی ۔

کالج کے پرنسپل پروفیسر محفوظ الرحمن نے کہاکہ صدسالہ جشن کے موقع پر گورنر مسٹر عارف خان کو مدعو کیا گیا ہے ۔ گورنر مسٹر عارف محمد خان 8 ستمبر بروز پیر کالج میں تشریف لائیں گے ۔اس موقع پر کالج کے فارغین میں سے یونانی طریقہ علاج کو فروغ دینے والوں کو اعزاز سے نوازا جائے گا۔

پرنسپل پروفیسر محمد محفوظ الرحمن نے بتایا کہ 29 جولائی 1926 میں گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کا قیام بھکنا پہاڑی میں عمل میں آیا تھا جس کے بعد سے رمنہ روڈ ، انٹا گھاٹ اور پھر موجودہ قدم کنواں پٹنہ میں منتقل ہوا۔ مستقبل میں طبی کالج پٹنہ کی مستقل بلڈنگ نالندہ میڈیکل کالج و اسپتال، پٹنہ کے کیمپس میں بن رہی ہے جو کہ 2027 تک پایہ تکمیل کو پہنچے گی۔ اسی درمیان امسال کالج نے 99واں یوم تاسیس منایا ہے اور باضابطہ صد سالہ جشن کے لئے کیلنڈر ریلیز کیا گیا ہے جس کا مقصد یونانی طریقہ علاج کو عوام تک پہنچانا ہے۔

پروفیسر محمد محفوظ الرحمن قیادت میں بہار کے گورنرمسٹر عارف محمد خان سے جن لوگوں نے ملاقات کی ان میں ڈاکٹر تنویر عالم،صدر شعبہ کلیات، ڈاکٹر محمد نجیب الرحمن صدر شعبہ معالجات کے علاوہ ڈاکٹر محمد شفاعت کریم، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ تحفظ و سماجی طب کے نام قابل ذکر ہیں۔


Sunday, 3 August 2025

ایسوسی ایشن آف یونانی فیزیشین (اے یو پی) کے چمپارن چیپٹر کے قیام کے ساتھ تنظیم کی توسیع




 ڈاکٹر میٹ کے عنوان سے جیون جیوتی اسپتال، موتیہاری میں پروگرام کا انعقاد

موتیہاری:آج مورخہ 3 اگست 2025 بروز اتوار، ”ڈاکٹر میٹ“کے عنوان سے ایک پروگرام کا انعقاد جیون جیوتی اسپتال، موتیہاری میں کیا گیا، جس میں تنظیم کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شفاعت کریم کے ساتھ تنظیم کے خازن ڈاکٹر عبداللہ انصاری، سیکریٹری (ایڈمن) ڈاکٹر خالد اقبال، اور سیکریٹری (لیگل) ڈاکٹر محمد مسرور حسن قاسمی نے شرکت کی۔اس پروگرام کی صدارت ڈاکٹر ایم یو اختر نے کی۔پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر شاکر صبا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی میٹنگ کا مقصد چمپارن میں ایسوسی ایشن آف یونانی فزیشین بہار کی ضلعی شاخ کا قیام ہے۔

ڈاکٹر فیصل پرواز خان نے پروگرام کی سرپرستی کی۔تنظیم کی توسیع کرتے ہوئے ڈاکٹر ایم یو اختر کو ضلعی صدر بنایا گیا۔ڈاکٹر امام الدین کو نائب صدر، ڈاکٹر شاکر صبا کو ضلعی سیکریٹری مقرر کیا گیا۔اس کے علاوہ ڈاکٹر امام کو خازن، ڈاکٹر مظفر حسین کو
مشترکہ سیکریٹری، اور ڈاکٹر امتیاز الحق، ڈاکٹر منظر الحق، ڈاکٹر گلریز قمر اور طارق ظفر کو ترجمان نامزد کیا گیا۔ڈاکٹر سعید الرحمٰن اور ڈاکٹر ریاض الدین نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔

ڈاکٹر عبداللہ ،ڈاکٹر ابوعبیدہ ،اس کے علاوہ مشرقی چمپارن کے بہت سے ڈاکٹر موجود تھے۔


Saturday, 2 August 2025

گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ میں بریسٹ فیڈنگ آگاہی ہفتہ کا انعقاد

 



پٹنہ،پی جی اسکالر ڈاکٹرمحمد ظفر اقبال نے پریس ریلیز کرتے ہوئے کہا کہ 29 جولائی 2026 کوگورنمنٹ طبی کالج پٹنہ اپنا سو سال مکمل کرنے جا رہا ہے۔اسی ضمن میں آج بروز سنیچر2اگست2025”بریسٹ فیڈنگ سے آگاہی پر بیداری مہم منعقد ہوا،جو اسی سو سالہ جشن کی ایک کڑی ہے۔

بریسٹ فیڈنگ آگاہی ہفتہ کے موقع پر گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ میں شعبہ ماہیت الامراض کے زیر اہتمام 2 اگست سے 7 اگست تک ”بریسٹ فیڈنگ سے آگاہی بیداری مہم “ منعقد ہوا۔ اس موقع پر پرنسپل پروفیسرمحمد محفوظ الرحمٰن بنفسِ نفیس موجود رہے۔ ان کی شرکت نے نہ صرف پروگرام کو وقار بخشا بلکہ ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی نے اس تقریب کو مزید موثر اور نتیجہ خیز بنایا۔ 

اس بیداری مہم کے تعلق سے شعبہ ماہیت الامراض کے صدر ڈاکٹر محمد شمیم اختر کی محنت اور قیادت قابلِ ستائش رہی۔ ان کے زیر نگرانی اور رہنمائی میں یہ بیداری مہم نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ انہوں نے پوری ٹیم کے ساتھ بھرپور لگن اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جس سے اس پروگرام کو تعلیمی و سماجی اعتبار سے ایک کامیاب اور یادگار تقریب بنایا گیا۔

پروگرام میں ڈاکٹر سکینہ بانونے ماں کے دودھ کی افادیت اور طبی اہمیت پر سیر حاصل لیکچر دیا اور بتایا کہ بریسٹ فیڈنگ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ناگزیر ہے، پیدائش کے فوراً بعد دودھ پلانا چاہیے اور پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماں کا دودھ نہ صرف قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے بلکہ بیماریوں سے بچاو¿ کا بھی مو¿ثر ذریعہ ہے۔مزید انہوں نے بتایا کہ ایڈس، ٹی بی جیسے امراض میں میں بچوں کو دودھ نہیں پلانا ہے، یا ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ہے۔

اس بیداری مہم میں میڈیکل آفیسرڈاکٹر شیلش کمار پنکج، ڈاکٹر خصال احمد، ڈاکٹر جمال اختر، پروفیسرتوحید کبریا ،ڈاکٹر عبدالسلام فلاحی،ڈاکٹر طلعت ناہیداور دیگر اساتذہ بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے پروگرام کے انعقاد اور کامیابی میں بھرپور تعاون کیا۔ اس موقع پر گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال پٹنہ کے طلبہ و طالبات اور دور دراز سے آئے مریضوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

بریسٹ فیڈنگ آگاہی گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کی ایک کامیاب علمی و سماجی کاوش ثابت ہوگا، جس نے ماں کے دودھ کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور طلبہ و عوام میں شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کریگا۔




Wednesday, 30 July 2025

طب یونانی اور دیگر روایتی طریقہ علاج کے فروغ کیلئے بہار حکومت پرعزم: منگل پانڈے







گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کا 99واں یومِ تاسیس جوش خروش کے ساتھ منایا گیا

پٹنہ، 30جولائی:بہار کے وزیر صحت منگل پانڈے نے کہا ہے کہ ”آیوش کے تحت طب یونانی، آیوروید، ہومیوپیتھی اور دیگر روایتی طریقہ علاج کے فروغ کیلئے بہار حکومت پرعزم ہے۔ 

وہ آج گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے 99ویں یومِ تاسیس کے موقع پر ایک شاندار تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ، ”کالج کی نئی عمارت کی تعمیر نالندہ میڈیکل کالج اسپتال کیمپس میں 64 2کروڑ روپے کی لاگت سے جاری ہے، اور اگلے دو سال میں مکمل ہو جائے گی۔ ہم پی جی اور یو جی کی نشستوں میں اضافہ کے لیے بھی کام کر رہے ہیں تاکہ یہ ادارہ ملک کا بہترین طبی ادارہ بنے۔“

 وزیر صحت مسٹر منگل پانڈے نے کہا ہے کہ ”وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طب یونانی سمیت تمام روایتی طریقہ علاج کو قومی سطح پر عزت دلانے کی سمت مضبوط قدم اٹھائے ہیں۔ ایلوپیتھی کے ساتھ یونانی، آیوروید، سدھی، ہومیوپیتھی اور یوگا کو مساوی اہمیت دی جا رہی ہے۔

انہوں نے اس موقع پر کالج کے لیے نئی ایمبولینس بھی فراہم کی، جو تقریب کے دوران ہی کالج انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی۔

اس موقع پر صد سالہ جشن کے لیے ایک سالہ تقریباتی خاکہ بھی وزیر صحت کے ہاتھوں جاری کیا گیا، جس کے تحت ہر ماہ الگ الگ پروگرام منعقد ہوں گے۔

تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محفوظ الرحمٰن نے کہا،”یہ کالج ایک تاریخی وراثت ہے، جس کی بنیاد ڈاکٹر احمد عبدالحی کے نانا جان اور دیگر بزرگوں نے حکیم اجمل خاں اور سر گنیش دت جیسے عظیم شخصیات کی سرپرستی میں رکھی تھی۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ان کی نسل آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے۔

اس موقع پر کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے کہاکہ 15 عہدے پروفیسر ، 19 عہدے ریڈر اور پری طب کے8 عہدے خالی ہیں جسے طلباءکے بہتر مستقبل کیلئے پر کیاجانا ضروری ہے ۔وہیں غیر تدریسی عملے کے قریب 39 عہدے منظور ہیں جن میں ابھی صرف چار افراد ہی کام کر رہے ہیں اور ہمیں قریب پچاس لوگوں کی اشد ضرورت ہے ۔ اس پر وزیر نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ان عہدوں پر جلد ہی بحالی کی جائے گی ۔ 

 وزیر نے کہاکہ 15 لیکچرر کے عہدوں کا اشتہار پی ایس سی کے ذریعہ شائع کر دیا گیا ہے اس پر بحالی جلد ہوگی اوردیگرتدریسی عہدوںکو فی الحال معاہدے کی بنیاد پر پر کرنے کی بات کہی ۔ اور غیر تدریسی عملوں کو آﺅٹ سورسسنگ کے ذریعہ بحال کرنے کی بات کہی ۔ 

ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے مزید کہا، ”آج ہم صرف یوم تاسیس نہیں منا رہے بلکہ صدی تقریبات کی شروعات بھی کر رہے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ میڈیا اور عوام کالج کی کمیوں اور ضروریات کو حکومت تک دیانتداری سے پہنچائیں گے تاکہ ہم ترقی کے اگلے مرحلے میں داخل ہو سکیں۔

اس موقع پر پارس اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد عبدالحی، بی پی ایس سی کے سابق چیئر مین امتیاز کریمی، مولانا شبلی القاسمی ناظم امارت شرعیہ، کالج سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شاہنواز سمیت کئی دیگر معزز شخصیات نے بھی خطاب کیا اور ادارے کی خدمات کو سراہا۔

تقریب میں آیوروید کالج کے پرنسپل، آیوش ڈائریکٹر، میڈیا نمائندگان، کالج کے اساتذہ، سابقہ طلبہ اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر شفاعت کریم نے سال بھر کے پروگرام کا تفصیلی منصوبہ پیش کیا، اور تقریب کا آغاز مصباح الدین کریم کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جب کہ نظامت کے فرائض امین عبداللہ نے انجام دیے۔