پٹنہ:"سرکاربدلو، بہار بدلو" کے نعرے کے ساتھ کانگریس پارٹی ریاستی مسائل کی حقیقی تشخیص (ایکس رے) کرے گی اور اس کا حل بھی نکالے گی۔ یہ باتیں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے میڈیا اور پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین پون کھیڑا نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہیں۔انہوں نے کہا کہ بہار ستیہ گرہ اور انقلابات کی سرزمین ہے۔ آج شہید بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کی برسی ہے، جبکہ گزشتہ روز بہار نے اپنی 113ویں یومِ تاسیس منائی، لیکن گزشتہ 20 سالوں میں بہار کے ساتھ دھوکہ ہوا۔ بہار کے لوگ پلائن (نقل مکانی) پر مجبور ہیں، جبکہ یہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں بلکہ اس کی صحیح استعمال کی کمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کیگ (CAG) کی رپورٹ سامنے آئی، لیکن نہ تو اس پر پارلیمنٹ میں بحث ہوئی، نہ اسمبلی میں اور نہ ہی ٹی وی چینلز پر اس کا ذکر ہونے دیا گیا۔ بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کی صحت کی سب کو فکر ہے، لیکن بہار کی صحت کا کسی کو خیال نہیں۔
ریاست کے آدھے سے زیادہ اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی کمی ہے، نرسوں کی کمی، دوائیوں کی کمی ہے۔ 86 فیصد ماہر (اسپیشلسٹ) ڈاکٹروں کی کمی ہے اور یہ خود حکومت کی رپورٹ ہے۔ بہار کے بچوں میں سوءتغذیہ (کپوشن) کی حالت تشویشناک ہے، جبکہ کمسن لڑکیوں میں خون کی کمی (انیمیا) میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ذات پر مبنی مردم شماری کے نفاذ کو سازش کے تحت روکا گیا، اور جب معاملہ عدالت پہنچا، تو وہاں بھی صحیح طریقے سے وکالت نہیں کی گئی، جبکہ تلنگانہ نے یہ مردم شماری نافذ کر کے مثال قائم کی۔
پون کھیڑا نے مزید کہا کہ "اگر بہار کو بدلنا ہے تو بہار کی حکومت کو بدلنا ہوگا۔ آج ہم نعرہ دے رہے ہیں: 'سرکاربدلو، بہار بدلو'"۔ بغیر حکومت بدلے ریاست کی تقدیر نہیں بدلی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس کے پاس ہر طبقے کے لیے ایک مضبوط ویژن ہے۔ گزشتہ بیس سالوں کے بدعنوانی پر مبنی اقتدار میں کوئی بھی طبقہ ایسا نہیں جو خود کو دھوکہ کھایا محسوس نہ کر رہا ہو۔ کانگریس ہر طبقے کے لیے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت بہار میں انتخابات لڑے گی۔ جب عوام کو حکومت کی اصل ذمہ داریوں کا ادراک ہوگا، تبھی بہار کے نوجوان سمجھیں گے کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔
ریاستی کانگریس کے انچارج کرشنا الاوارو نے کہا کہ بہار میں ذات پر مبنی مردم شماری کی بات کی جاتی ہے، لیکن اگر ایکسرے ہو چکا ہے، تو علاج شروع کیوں نہیں ہوا؟ ذاتوں کو شمار کرنے کا کام آپ نے کیا، لیکن اعداد و شمار کس بنیاد پر بنائے گئے، آج تک واضح نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس کی حکومت نے ذات پر مبنی مردم شماری کو مکمل کیا اور اسے صحیح طریقے سے نافذ بھی کیا۔ وہاں کی حکومت نے ہر طبقے کو مساوی مواقع فراہم کیے، لیکن بہار میں ڈبل انجن حکومت کے باوجود مردم شماری کے نتائج کو نافذ کرنے میں ناکامی ایک بڑا سوال ہے۔
بہار کانگریس کے صدر راجیش کمار نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بہار کے اپنے پروگرام میں سماجی انصاف اور آئین کے تحفظ کی بات کی تھی، اور ہم اسی راہ پر آگے بڑھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں دلتوں، پسماندہ طبقات اور غریبوں کو ان کا جائز حق دیا جائے گا۔ سب کو ساتھ لے کر پارٹی کو اس کے شاندار ماضی سے جوڑتے ہوئے تنظیم کو مضبوط کیا جائے گا۔
راجیش کمار نے مزید کہا کہ وہ 1990 کے دور کی مضبوط کانگریس کو بہار میں دوبارہ کھڑا کریں گے۔
اے آئی سی سی کے سکریٹری اور بہار کے معاون انچارج سشیل کمار پاسی،قومی میڈیا کوآرڈینیٹر ابھے دوبے،بہار کانگریس میڈیا ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین راجیش راٹھور،موتی لال شرما،قومی ترجمان ڈاکٹر اجے اپادھیائے،ٹینا کرم ویر، رتو سنگھ، اجے چودھری، پردیش ترجمان آنند مادھو، ڈاکٹر سنیہاشیش وردھن پانڈے، گیان رنجن، پنکج چودھری، پرینکا گپتا، جیوتی سنگھ ، امن چین کے سنیئر رپورٹر محمد اشفاق سمیت کئی دیگر رہنما موجود تھے۔

No comments:
Post a Comment