Friday, 31 January 2025

ڈونلڈ ٹرمپ کی ہندوستان اور چین کو وارننگ، ’ڈالر کو چیلنج کیا تو 100 فیصد ’ٹیرف‘ لگایا جائے گا‘

 







واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برکس ممالک، جن میں ہندوستان، چین، روس، برازیل اور جنوبی افریقہ شامل ہیں، کو سخت وارننگ دی ہے کہ اگر انہوں نے امریکی ڈالر کے غلبہ کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی کرنسی لانچ کی تو ان پر 100 فیصد ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں دیا۔


ٹرمپ نے کہا کہ برکس ممالک امریکی ڈالر کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر وہ نئی کرنسی کا اجراء یا کسی اور کرنسی کی حمایت کریں گے تو انہیں امریکی بازار سے باہر کر دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اس خطرے کو خاموشی سے نہیں دیکھے گا اور سخت اقدامات کرے گا۔



برکس ممالک کی جانب سے اپنی کرنسی بنانے کا مقصد عالمی تجارت میں امریکی ڈالر پر انحصار کو کم کرنا ہے۔ روس اور چین پہلے ہی یوان اور دیگر مقامی کرنسیوں میں تجارت کر رہے ہیں اور اب یہ گروپ ایک مشترکہ کرنسی کے ذریعے امریکی ڈالر کی برتری کو کم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔


ماہرین کے مطابق، اگر برکس ممالک اپنی کرنسی لانچ کرتے ہیں، تو یہ امریکی ڈالر کے غلبہ کو کمزور کر سکتا ہے اور امریکہ کی اقتصادی طاقت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ امریکہ کی عالمی معاشی برتری کی ایک بڑی وجہ اس کے ڈالر کی اہمیت ہے، جو اگر کم ہوئی تو امریکی معیشت کو بڑا جھٹکا لگ سکتا ہے۔


چین اور روس پہلے ہی امریکی ڈالر سے دور ہونے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں، اور ہندوستان اور برازیل بھی مقامی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔



صدر ٹرمپ کا خطرناک منصوبہ، 30000 غیر قانونی تارکین وطن کو گوانتانامو بے جیل بھیجنے کی تیاری!

 








امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ حلف برداری کے بعد سے ہی غیر قانونی تارکین وطن پر شکنجہ کسنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ اس درمیان بدھ کو ان کے ایک بیان نے سبھی کو چونکا دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کے لیے ایک ڈِٹینشن سینٹر بنائیں گے جہاں 30 ہزار سے زیادہ لوگوں کو ایک ساتھ رکھا جائے گا۔


ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر امریکہ میں رہ رہے لوگوں کو کیوبا کے مشرقی کنارے پر واقع بدنام زمانہ گوانتانامو جیل میں رکھنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ غور طلب ہے کہ اس جیل کو 9/11 کے حملوں کے بعد بنوایا گیا تھا جہاں سب سے خطرناک دہشت گردوں کو رکھا جاتا تھا۔


اس سے پہلے بدھ کو ٹرمپ نے غیر قانونی تارکین وطن کو بغیر مقدمہ کے حراست میں لینے کی اجازت دینے والے قانون کو بھی منظوری دے دی۔ یہ دوسری مدت کار میں ٹرمپ کے ذریعہ دستخط کیا گیا پہلا قانون بھی بن گیا ہے۔ اس قانون کو منظوری دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ گوانتانامو جیل کا یہ منصوبہ امریکہ میں تارکین وطن کے ذریعہ کیے جا رہے جرم کی لعنت سے ا?زادی دلائے گا۔


ٹرمپ نے کہا "ہمارے پاس گوانتانامو میں 30000 بیڈ ہیں جہاں ہم امریکی لوگوں کو دھمکانے والے خطرناک مجرم غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں رکھ سکتے ہیں۔"



قابل ذکر ہے کہ گوانتانامو بے فوجی جیل کو جنوری 2002 میں جنوب-مشرقی کیوبا میں امریکی بحریہ کے ایک بیس پر کھولا گیا تھا۔ اس کے بعد سے دہشت گردانہ سرگرمیوں اور دہشت گردی سے متعلق جرائم کے شبہ میں حراست میں لیے گئے تقریباً 800 لوگوں کو یہاں رکھا گیا تھا۔ گوانتانامو بے میں فی الحال افغانستان اور عراق کے جنگجو سمیت 9/11 حملوں میں شامل 15 مجرمین قید ہیں جن میں ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد بھی شامل ہے۔


حالانکہ یہاں کی حالت ٹھیک نہیں ہونے کی وجہ سے کئی بار امریکہ کی سخت تنقید بھی ہوئی ہے۔ حقوق انسانی تنظیموں کی تنقید کے بعد سابق صدر براک اوبامہ اور جو بائیڈن نے اپنی مدت کار کے دوران اس جیل کو بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اراکین پارلیمنٹ نے اس کی مخالفت کی تھی جس کی وجہ سے ا?ج بھی یہ جیل کھلا ہے۔




امریکہ: طیارے اور ہیلی کاپٹر کے حادثے میں تمام 67 افراد ہلاک

 



امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب امریکن ایئرلائنز کا ایک طیارہ اور ایک ہیلی کاپٹر آمنے سامنے ٹکرا گئے۔ تصادم کے بعد طیارہ اور ہیلی کاپٹر ٹوٹ کر دریا میں جا گرے۔ اب اس حادثے کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے واشنگٹن کے فائر چیف نے کہا کہ اس حادثے میں تمام 67 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔


واشنگٹن ڈی سی کے فائر چیف کا کہنا ہے کہ طیارے اور ہیلی کاپٹر کے درمیان تصادم میں کوئی بھی زندہ نہیں بچا۔ واشنگٹن ڈی سی فائر اور ای ایم ایس کے سربراہ جان ڈونیلی نے کہا کہ اب ہم ریسکیو آپریشن کو ریکوری آپریشن میں تبدیل کر رہے ہیں۔ کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اس حادثے میں کوئی نہیں بچا۔ اے پی کی رپورٹ کے مطابق ٹرانسپورٹیشن سیکرٹری نے بتایا کہ حادثے کے بعد امریکن ایئر لائن کے طیارے کے تین ٹکڑوں میں پوٹو میک دریا میں پائے گئے۔



حکام کا خیال ہے کہ امریکن ایگل فلائٹ 5342 ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب آرمی کے بلیک ہاک ہیلی کاپٹر سے ٹکرا گئی۔ طیارے میں سوار تمام مسافر اور عملے کے ارکان کی موت ہوگئی اور سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ قبل ازیں ریسکیو ٹیم نے دریا سے 19 لاشیں نکالیں۔


رپورٹ کے مطابق یہ ایک چھوٹا مسافر طیارہ تھا جو کنساس سے واشنگٹن آرہا تھا۔ طیارے میں 65 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ حادثے کے وقت طیارے میں 64 مسافر سوار تھے۔ جبکہ آرمی ہیلی کاپٹر میں تین افراد سوار تھے۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب طیارہ ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے والا تھا۔ اس کے بعد پیچھے سے آنے والا امریکی فوج کا بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اس سے ٹکرا گیا۔ اس کے بعد وہ دونوں ٹکرا گئے اور دریائے پوٹومیک میں گر گئے۔



’عبوری حکومت میں سب کو شامل کریں گے‘، شامی صدر احمد الشرع کا پہلا خطاب

 





شام کے نئے صدر احمد الشرع نے اپنے پہلے باضابطہ خطاب میں اعلان کیا ہے کہ وہ ملک میں ایک جامع عبوری حکومت تشکیل دیں گے جس میں تمام طبقوں کی نمائندگی ہوگی۔ یہ حکومت ملکی اداروں کا قیام عمل میں لاتے ہوئے ملک کا نظم و نسق چلائے گی اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرائے گی۔ احمد الشرع نے کہا کہ وہ ایک مختصر قانون ساز ادارہ بھی قائم کریں گے جو نئے انتخابات تک کام کرے گا۔


احمد الشرع نے 29 جنوری کو شام کے صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا، اور یہ ان کا قوم سے پہلا خطاب تھا۔ اس خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ اس عبوری حکومت کے تحت ملک کی سیاسی صورتحال کو مستحکم کریں گے اور ایک نئے آئین کی تشکیل کے عمل کو آگے بڑھائیں گے۔


اس سے قبل بدھ کے روز شامی پارلیمنٹ کو باقاعدہ طور پر تحلیل کر دیا گیا تھا، جس کے بعد صدر احمد الشرع نے قانون ساز ادارہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ ادارہ اس وقت تک کام کرے گا جب تک نئے انتخابات کا انعقاد نہ ہو جائے۔



احمد الشرع نے اپنی تقریر میں ایک اہم اعلان بھی کیا کہ وہ ایک کمیٹی قائم کریں گے جو قومی مکالمے کے لیے ایک کانفرنس کا اہتمام کرے گی۔ اس کانفرنس میں ملک کے سیاسی مستقبل کا پروگرام ترتیب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئینی اعلامیہ کے تحت نئے آئین کی تشکیل کی جائے گی تاکہ ملک کے نظام کو ایک قاعدے کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکے۔


صدر احمد الشرع کا یہ خطاب شام میں 13 سال کی خانہ جنگی کے بعد ایک اہم سیاسی موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ 8 دسمبر 2024 کو 'ہیتہ التحریر الشام' کے سربراہ نے بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالا تھا، جس کے بعد سے ملک میں مختلف سیاسی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔


Thursday, 30 January 2025

احمد الشرع کو شام میں عبوری صدر تعینات کردیا گیا: ذرائع

 




اقتدار کے خلا کو پر کرنا، امن برقرار رکھنا اور ریاستی اداروں کی تعمیر آج شام کی ترجیحات ہیں: احمد الشرع


احمد الشرع کو شام میں عبوری دور کے صدر کے طور پر تعینات کردیا گیا۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب العربیہ کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ شام میں قومی مذاکراتی کانفرنس شرائط کی کمی کی وجہ سے اگلے نوٹس تک ملتوی کر دی گئی ہے۔


شام میں نئی انتظامیہ کے کمانڈر انچیف احمد الشرع نے بدھ کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ شام کی آج کی ترجیحات میں اقتدار کے خلا کو پر کرنا، شہری امن کا تحفظ، ریاستی اداروں کی تعمیر، ترقیاتی اقتصادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے کام کرنا اور شام کی علاقائی اور بین الاقوامی حیثیت کی بحالی ہے۔


احمد الشرع نے ” شامی فتح کا اعلان“ کے نام سے کانفرنس کی سرگرمیوں کے دوران ملٹری آپریشن ڈیپارٹمنٹ اور شامی انقلابی فورسز کے گروپوں کی موجودگی میں کہا کہ کچھ ماہ قبل دمشق نے میرے لیے اس طرح کی تیاری کی تھی جیسے ایک سرشار ماں اپنے بچوں کو مدد کی متلاشی نظروں سے دیکھتی ہے، زخموں، ذلتوں اور رسوائی کی شکایت کرتی ہے، خون بہتے ہوئے درد پر فخر کرتی ہے، یہ کہتے ہوئے گرپڑتی ہے کہ اپنے قوم کو قبول کرلو، انہوں نے مزید کہا کہ جس چیز کی آج شام کو ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ماضی میں جس طرح ہم نے اسے آزاد کرنے کا عزم کیا تھا اسی طرح ہم اس کی تعمیر و ترقی کا بھی عزم کریں۔


سرکاری خبر ایجنسی نے کہا ” شامی انقلاب کی فتح کا اعلان" کے عنوان سے کانفرنس کی سرگرمیاں دمشق میں ملٹری آپریشنز ڈیپارٹمنٹ اور شامی انقلابی فورسز کے دھڑوں کی موجودگی میں شروع کی گئیں۔ احمد الشرع نے مزید کہا کہ ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اذیت دینے والوں کو آزاد کر دیا۔ یہ ایک عظیم فتح تھی جو بڑی تباہی اور خونریزی کے بعد حاصل ہوئی لیکن شام کی فتح حاصل ہوئی اور وہ رحمت اور عدل سے بھر گیا۔


انہوں نے مزید کہا کہ فتح اپنے آپ میں ایک کام ہے۔ فتح کرنے والوں کا کام بھاری ہے اور ان کی ذمہ داری بہت بڑی ہے۔ شام کو آج جس چیز کی ضرورت ہے وہ ماضی سے زیادہ ہے۔ جس طرح ہم ماضی میں اس کی آزادی کے لیے پرعزم تھے، اسی طرح ہمارا فرض ہے کہہم اس کی تعمیر اور ترقی کا عزم کریں






احمد الشرع کو شام کا عبوری صدر بننے پر سعودی عرب کی مبارکباد

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شام کے عبوری صدر احمد الشرع کو عبوری صدر بننے پر مبارکباد دی ہے۔ اس امر کا اعلان سعودی خبر رساں ادارے 'ایس پی اے' نے جمعرات کے روز کیا ہے۔


خیال رہے شام کے حکام نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ بشار الاسد رجیم کے اقتدار کے خاتمے کے بعد احمد الشرع شام کے عبوری صدر ہوں گے۔ بطور عبوری صدر احمد الشرع عبوری مقننہ تشکیل دیں گے۔

یاد رہے گزشتہ ہفتے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے دمشق کا دورہ کیا تھا۔ ان کے اس دورے کے دوران ان کی احمد الشرع سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔

اس موقع پر شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا 'ریاض شام کے نئے حکام کو بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے میں مدد فراہم کرنا چاہتا ہے۔' ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب شام کے ساتھ کھڑا ہے۔

خیال رہے شام کی نئی رجیم نے پہلا سرکاری دورہ سعودی عرب کا کیا ہے۔

گزشتہ ماہ 'العربیہ' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں احمد الشرع نے کہا تھا کہ ' مملکت شام کے مستقبل کے حوالے سے اہم کردار ادا کرے گی۔'


قرآن پاک نذرِ آتش کرنے والے سلوان مومیکا کا سویڈن میں گولی مار کر قتل

 






قرآن پاک نذرِ آتش کرنے والے بدنام زمانہ عراقی شخص سلوان مومیکا کا آج گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق سلوان مومیکا کو سوڈرٹالجے واقع ہووسجو میں گولی ماری گئی۔ اس کی خبر ملتے ہی سویڈش افسران جائے حادثہ پر پہنچے اور لاش کو قبضے میں لیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ مبینہ طور پر سلوان کے قتل کی ویڈیو سی سی ٹی وی میں قید ہو گئی ہے۔ یہ بھی جانکاری سامنے آئی ہے کہ گولی باری سے کچھ دیر قبل ہی سلوان لائیو اسٹریم پر آیا تھا۔

مقامی پولیس نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ گولی باری میں ہلاک ہونے والا شخص 38 سالہ سلوان مومیکا ہی ہے۔ سلوان پر کئی مرتبہ قرآن پاک کو نذرِ آتش کرنے کا الزام ہے۔ 2023 میں عیدالاضحیٰ سے عین قبل اس نے سویڈن میں عراقی قرآن کو بھی نذر آتش کیا تھا۔ اس کے لیے سلوان نے باضابطہ انتظامیہ سے اجازت مانگی تھی اور پولیس نے اجازت دے بھی دی تھی۔ اس کے بعد اس نے قرآن پاک کو نذرِ آتش کرتے ہوئے اسلام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔


عراقی باشندہ سلوان مومیکا اسلامی نظریات اور عقیدے کا سخت ناقد تھا۔ سلوان کا کہنا تھا کہ وہ سویڈن کے ناٹو میں شامل ہونے کا مخالف نہیں ہے، بلکہ اسلام کی مخالفت میں قرآن جلانا چاہتے تھے۔ قرآن پاک نذر آتش کرنے سے پہلے اس نے کہا تھا ’سویڈن جاگو۔ یہ جمہوریت ہے۔‘ سلوان کے قرآن جلانے کے بعد کئی مسلم ممالک نے اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔ اس مخالفت کے بعد اس نے سویڈن چھوڑ کر ناروے میں پناہ لینے کا منصوبہ بنایا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ سویڈین کی حکومت نے اس کی ریسیڈنسی پرمٹ (رہنے کی اجازت) کو رد کر دیا تھا۔ سویڈن میں وہ ایک عراقی پناہ گزیں کے طور پر مقیم تھا۔ سویڈن چھوڑنے کی بات پر مومیکا نے کہا تھا کہ سویڈن میں اظہارِ رائے کی آزادی اور حقوق انسانی کا تحفظ ایک بڑا جھوٹ ہے۔



یکساں سول کوڈ معاملے پر اب بہار میں سیاست شروع، بی جے پی نے جلد نافذ کرنے کا کیا مطالبہ، جنتا دل یو کی مخالفت!

 




جے ڈی یو ایم ایل سی خالد انور نے کہا کہ ”اتراکھنڈ میں جو یو سی سی نافذ کیا گیا ہے وہ افسوسناک ہے۔ اتراکھنڈ میں جبراً مسلمانوں پر مسلط کیا گیا ہے۔ آئین یو سی سی کی اجازت نہیں دیتا ہے۔“


بی جے پی اتراکھنڈ کی طرح بہار میں بھی یکساں سِول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ حالانکہ جے ڈی یو نے بی جے پی کے اس مطالبہ کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ بہار میں یو سی سی نافذ نہیں کیا جائے گا۔ جنتا دل یو کے ایک لیڈر کا یہاں تک کہنا ہے کہ ”یو سی سی اتراکھنڈ میں مسلمانوں پر جبراً مسلط کیا گیا ہے۔ بی جے پی کے سامنے ہم نے اپنا نظریہ گِروی نہیں رکھا ہے۔ مسلمانوں کو بی جے پی خوفزدہ کر رہی ہے۔“ دلچسپ بات یہ ہے کہ رواں سال بہار میں اسمبلی انتخاب ہونے والا ہے، ایسے میں یو سی سی ایک بڑا سیاسی ایشو بن سکتا ہے۔



بی جے پی لیڈر اور سینئر ترجمان رنجن پٹیل نے بہار میں یو سی سی نافذ کرنے کا مطالبہ سامنے رکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”اتراکھنڈ کی طرح بہار میں بھی یونیفارم سِول کوڈ نافذ کیا جائے۔ پشکر دھامی قابل مبارکباد ہیں۔ اتراکھنڈ یو سی سی نافذ کرنے والی پہلی ریاست بن گئی ہے۔ اب پورے ملک میں یو سی سی کا نفاذ ہو۔ تمام مذاہب کے لیے یکساں قوانین ہونے چاہئیں۔ کسی مذہب یا خاص برادری کے لیے الگ قانون نہیں ہونا چاہیے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ”یو سی سی ایسا قانون ہے جس کا مقصد مذہب، ذات، جنس یا برادی کی بنیاد پر کسی بھی طرح کے امتیاز کو ختم کرنا ہے۔ اس کے نفاذ سے شادی، طلاق، وراثت اور جائیداد کے حقوق جیسے معاملات میں سب کے لیے ایک ہی قانون ہوگا۔ اس کو نافذ کر کے اتراکھنڈ نے تمام ریاستوں کے لیے ایک نظیر پیش کی ہے۔ مسلم طبقہ کو یو سی سی سے کوئی گھبراہٹ نہیں ہے۔ جب سب کے لیے ایک طرح کا قانون ہوگا تو گھبراہٹ کیوں رہے گی۔“



اس معاملے میں جنتا دل یو کے ایم ایل سی خالد انور نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”اتراکھنڈ میں جو یو سی سی نافذ کیا گیا ہے وہ افسوسناک ہے۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ قانون اتراکھنڈ میں جبراً مسلمانوں پر مسلط کیا گیا ہے۔ آئین یو سی سی کی اجازت نہیں دیتا۔ اتراکھنڈ حکومت مسلمانوں کو پریشان کرنے کے لیے یہ قانون لائی ہے۔“ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ”بہار میں یہ کبھی نافذ نہیں ہوگا۔ بی جے پی کے سامنے ہم لوگوں نے اپنا نظریہ گروی نہیں رکھا ہے۔ یو سی سی پر کبھی بھی مرکزی حکومت کی حمایت نہیں کریں گے۔ بی جے پی لیڈران سوچ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو ڈرا کر اقتدار حاصل کر لیں گے۔“



’ہم جان دے سکتے ہیں لیکن بی جے پی-آر ایس ایس سے سمجھوتہ نہیں کر سکتے‘:راہل گاندھی

 



راہل گاندھی نے کہا کہ مودی جی نفرت پھیلاتے ہیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک کی عوام تقسیم ہو جائے اور پھر آپ کی دولت اڈانی و امبانی جیسے لوگوں کو دی جا سکے۔


کانگریس رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے جمعرات کو بادلی میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کیا۔ اس دوران انھوں نے کہا کہ پی ایم مودی اور کیجریوال میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں ریزرویشن اور دلت مخالف ہیں، دونوں ہی اقتدار کی طاقت صرف اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتے ہیں۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ ”میں اپنی جان دے سکتا ہوں، لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس سے کبھی سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔“

بادلی اسمبلی حلقہ سے کانگریس امیدوار اور دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو کے لیے انتخابی تشہیر کرنے بادلی پہنچے راہل گاندھی نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر ملک میں نفرت پھیلانے کا الزام عائد کیا۔ ساتھ ہی انھوں نے دعویٰ کیا کہ جن لوگوں نے مہاتما گاندھی کو گولی ماری تھی ان کے نظریات آج ہندوستان کو چلا رہے ہیں۔ عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ”آپ کبھی مت بھولیے گا کہ آپ کے ساتھ کون کھڑا ہوتا ہے، آئین کو کون بچاتا ہے اور آپ سے سچ کون بولتا ہے۔ کانگریس پارٹی نے آپ سے وعدہ کیا تھا منریگا دیں گے، کھانے کا حق دیں گے، قرض معاف کریں گے، کرناٹک کی خواتین کے لیے مفت بس سروس دیں گے، کرناٹک و تلنگانہ میں خواتین کے اکاو¿نٹس میں براہ راست پیسہ دیں گے، چھتیس گڑھ میں کسانوں کو دھان کی صحیح قیمت دیں گے... کانگریس پارٹی نے ان سبھی وعدوں کو پورا کیا۔ کانگریس پارٹی کبھی جھوٹے وعدے نہیں کرتی۔ یہ اس لیے کیونکہ کانگریس پارٹی اور عوام کا رشتہ محبت و بھائی چارے کا رشتہ ہے۔“

راہل گاندھی نے عآپ کے قومی کنوینر اروند کیجریوال پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ صاف ستھری سیاست کی بات کرنے والے سابق وزیر اعلیٰ نے سب سے بڑا آبکاری گھوٹالہ کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ ”کیجریوال جی کچھ سال قبل سیاست میں آئے تھے۔ بجلی کے کھمبے پر چڑھ گئے تھے، چھوٹی گاڑی میں گھومتے تھے۔ آج کل وہی کیجریوال جی شیش محل میں رہتے ہیں۔“

جمنا میں گندے پانی کا تذکرہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ کیجریوال نے 5 سال پہلے جمنا کو صاف کرنے کا وعدہ کیا تھا جو اب تک وفا نہیں ہو سکا۔ وہ کہتے ہیں کہ ”کیجریوال جی جمنا کا پانی چھوڑو، لوگوں کے گھروں میں جو پانی آ رہا ہے وہی پانی پی کر دکھا دو۔“ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ کیجریوال دراصل مودی جی کے ہی نئے ورڑن ہیں۔ دونوں کھوکھلی باتیں کرتے ہیں، دونوں ایک پر ایک جھوٹ بولتے ہیں، دونوں ریزرویشن اور دلت مخالف ہیں، دونوں بہوجنوں کی شراکت داری نہیں چاہتے، دونوں اقتدار کی طاقت بس اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتے ہیں۔



بہار میں نئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر تبادلہ خیال

 




 پٹنہ(پریس ریلیز) شکتی انفوٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ، واحد 5 اسٹار ٹیلی سافٹ ویئر، جو گزشتہ 25 سالوں سے ٹیلی کے ساتھ سرکاری اور بڑے اکاو¿نٹس پارٹنر کے طور پر کام کر رہا ہے، نے پٹنہ میں ٹیلی سلوشنز کے ڈائریکٹر تیجس گوئنکا کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کا اہتمام کیا۔ یہ میٹنگ شکتی انفوٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ کے دفتر، نمائش روڈ، پٹنہ میں ہوئی جہاں کمپنی کے ڈائریکٹر روشن ڈھنڈھاریا کے ساتھ بہار کے بازار کو سمجھنے کے لیے بات چیت کی گئی۔ اس کا مقصد سافٹ ویئر میں نئی خصوصیات لانے کے لیے درکار معلومات جمع کرنا اور بہار میں نئے روزگار فراہم کرنے کے حوالے سے بات چیت کرنا تھا۔ اس موقع پر، ٹیلی 6.0 کا نیا ورڑن لانچ کیا گیا جس میں بینک سے متعلق خصوصیات شامل ہیں جو بینکنگ کے عمل کو مزید آسان بنائیں گی۔ نیز، GSTR 2A اور 2B کو ٹیلی ڈیٹا بیس کے ساتھ ملانے کی سہولت بھی شامل کی گئی ہے۔ اس میٹنگ میں کمپنی کے نمائندے تبریز حیات، ندیم احمد، کمار مونو، ودیوت جیوتی چکرورتی، آشیش کمار سنگھ، ابھے کمار سنگھ، مکرند بھاسکر اور منیش موجود تھے۔ یہ ڈائیلاگ بہار کی کاروباری ترقی کے لیے ایک اہم قدم ہے جو مقامی مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سافٹ ویئر میں جدید ترین ٹیکنالوجیز کو شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے روزگار پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔


بھاگلپور کے کھرمن چک میںں دی جاوید حبیب سیلون کا آغاز

 




 بھاگلپور (پریس ریلیز) بین الاقوامی شہرت یافتہ ہیئر اینڈ بیوٹی سیلون جاوید حبیب نے ایس ایس ٹاور، کھرمنچک، بھاگلپور میں اپنے پریمیم سیلون کا آغاز کیا۔ اس لگڑری سیلون میں صارفین کو بال، بیوٹی، میک اپ، ناخن وغیرہ تمام سہولیات میسر ہوں گی۔ سیلون کا افتتاح بھاگلپور کی میئر بسندھرا لال، بالوں کے عالمی ماہر جاوید حبیب، ماسٹر فرنچائزی بہار اروند کمار، فرنچائزی مالکان ابھے کمار گپتا اور راجکمار گپتا، وارڈ کونسلر اشونی جوشی مونٹی، بی جے پی ضلع صدر سنتوش ساہ، بی جے پی رکن چندن ٹھاکر نے مشترکہ طور پر کیا۔ یہ ربن کاٹ کر اور چراغ جلا کر کیا گیا تھا۔ اس موقع پر موجود بالوں کے ماہر جاوید حبیب نے کہا کہ سردیوں کا موسم چل رہا ہے اور ہم سب اپنے بالوں اور جلد کے حوالے سے پریشان ہیں۔ اس موسم میں اپنے بالوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے کیونکہ یہ نم ہو جاتے ہیں۔ بالوں کو گرم پانی سے دھونا ایک عام غلطی ہے جو لوگ کرتے ہیں۔ گرم پانی آپ کی کھوپڑی کو خشک کر دیتا ہے، جس سے خارش اور خشکی ہوتی ہے۔ اپنے بالوں کو ٹھنڈے پانی سے دھونا آپ کے بالوں کو مزید نقصان سے بچاتا ہے۔ بہترین کنڈیشنر یہ ہے کہ اپنے بالوں کو دھونے سے صرف 10 منٹ پہلے تھوڑا سا تیل لگائیں ورنہ ہفتے میں ایک بار ہیئر سپا کے لیے جائیں۔ باقاعدگی سے فیشل مناسب غذائیت کے ساتھ آپ کے چہرے کو چمکدار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

 فرنچائز کے مالکان ابھے کمار گپتا اور راج کمار گپتا نے کہا کہ اس سیلون میں ہمارے پاس صفائی، ڈی ٹی اے این اور ہربل فیشل سروس کی وسیع رینج موجود ہے۔ اس نئے سیلون میں آپ یہ تمام سہولیات بہترین حفظان صحت، اقدامات اور انتہائی حفاظت کی ضمانت کے ساتھ حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ تمام جاوید حبیب سیلونز میں ایک لگڑری فارمیٹ سیلون ہے جہاں آپ کو خوبصورتی کی تمام سہولیات ایک ہی چھت کے نیچے قابل رسائی طریقے سے حاصل ہوں گی۔ ماسٹر فرنچائزی بہار اروند کمار نے کہا کہ جاوید حبیب ہندوستان میں فلاح و بہبود پھیلانے والے سرکردہ بالوں اور بیوٹی سیلونز میں سے ایک ہیں۔ کمپنی کے پورے ہندوستان میں تقریباً 1000+ سیلون ہیں۔ کمپنی بہار - جھارکھنڈ میں پرجوش شراکت داروں کو مدعو کر رہی ہے تاکہ وہ اس سیلون میں شامل ہو سکیں اور اس کے فوائد حاصل کر سکیں۔


الحراءپبلک اسکول شاہ گنج، پٹنہ میں کوئز کا انعقاد

 



مورخہ30جنوری: الحراءپبلک اسکول شاہ گنج کے پرنسپل سیدندیم احمدنے پریس اعلانیہ میں بتایا کہ اسکول انتظامیہ کی یہ کوشش رہی ہے کہ بچے ہر شعبہ میںاپنی مضبوط گرفت بنائے رکھیں۔ اس کے لئے اسکول میں مختلف سرگرمیاں مثلاً کراٹے، ثقافتی پروگرام، تحریر ی ،تقریری،بیت بازی، کرکٹ ، آرٹ اور پینٹنگ مقابلے مختلف مواقع سے ہوتے رہتے ہیںتاکہ بچوں کے اندر تعلیم کے ساتھ دیگر صلاحیتیں پیدا ہوںاور ان میں احساس کمتری پیدا نہ ہو۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کوئز کنٹیسٹ بھی ہے۔ اس مقابلے کی تیاری کرانے میںاساتذہ اور بچے بھی خوب دل جمعی کے ساتھ مصروف رہے۔کوئز کو دو segmentمیں تقسیم کیا گیا تھا پہلا سیگمنٹ طالبات اور دوسرا طلبا کے ما بین ہوا اور کامیاب طلبا و طالبات کو مہمانان خصوصی کے ہاتھوں سند، میڈل اورٹرافی سے نوازاگیا۔

ٹیولپ پلازہ ، شاہ گنج کے وسیع و عریض لان میںاسکول کے طلباء و طالبات کا شاندار کوئز کنٹسٹ ہوا۔جس میں مہمانان کی حیثیت سے انگریزی کے مشہور استاد ارشد نظامی اور روز نامہ تاثیر کے سب ایڈیٹر محمد مشتاق خان وغیرہ شریک ہوئے۔ اس موقع پرارشد نظامی صاحب نے اپنی مختصرگفتگو میں طلباء و طالبات کو مقابلہ میںاس کے ضابطہ کا پاس و لحاظ رکھنے،بچوں کی حاضر دماغی اور ان کے معلومات عامہ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیںمبارک باد دی۔الحراء پبلک اسکول ، شاہ گنج کے ڈائرکٹرنذیر احمد نے اپنی گفتگو میںطلباو طالبات کی حوصلہ افزائی کی۔پروگرام کے بہتر انعقاد پر منتظمین اور تمام اساتذہ¿ کرام کو مبارک باد دی اور کوئز مقابلہ میںکامیاب ہونے والے بچوں کو دعاﺅں سے نوازا اور آئے ہوئے تمام مہمانوں ، گارجین حضرات اور اساتذہ کا شکریہ ادا کیا۔

کوئیز انچارج حسن شاہد اور شاذیہ احمدنے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا ہے کہ درجہ ہفتم تا دہم کے درمیان کوئز مقابلہ احسن طریقے سے اختتام کو پہنچا۔ساتھ ہی تمام شرکائ کے ساتھ ساتھ منتظمین بالخصوص نظر الاسلام ندوی، اقبال احمد، ، محمد احتشام الدین ،محمد صابرحسین، عبد الرحمٰن، ابوالکلام، نورالزماں، عزیر احمد ، ریاض الماس،عتیق الرحمٰن، صوفیہ سلطانہ ، ہما فاطمہ، شائقہ نیازی، وغیرہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔

کوئز مقابلہ میں شریک طلبہ و طالبات کے نام یہ ہیں: (علامہ اقبال ٹیم )محمد طفیل ریاض، محمد زید حق، ناظر امام ، عبدالحمید ، محمد دلشاد انصاری، (مولانا آزاد ٹیم)محمد رافع، زید اختر انصاری، محمد منتخب الحسن ، محمد توحید شمس ، شاکر امام، (سر سید احمد ٹیم) مائرہ جبیں، ناہدہ پروین، عبیرہ تحریم فاطمہ، عظمیٰ رحمٰن، وانیہ ظفر، (پنڈت جواہر لال نہرو ٹیم) صدف فاطمہ، ضحی ناز، سکینہ امتیاز، شاریہ سہیل ، ناصرین پروین۔ واضح رہے کہ ان چاروں ٹیموں کے درمیان کوئز کمپٹیشن ہوا۔ دو ٹیمیں فائنل میں پہنچی جس میں حکم صاحبان کے فیصلے کے مطا بق سر سید احمد ٹیم کو فاتح قرار دیا گیا۔


گورنمنٹ طبی کالج میں عالمی یوم جذام کے موقع پر بیداری پروگرام کا انعقاد

 



پٹنہ :30جنوری 2025 کو عالمی یوم جذام کے موقع پر شعبہ ماہیت الامراض ،گورنمنٹ طبی کالج واسپتال کی جانب سے بیداری پروگرام کا انعقادکیا گیا۔

پروگرام کی شروعات تلاوت قران پاک سے ہوئی، ڈاکٹر محمد نعمت اللہ نے تلاوت کی۔یہ پروگرام ڈاکٹرمحفوظ الرحمان پرنسپل گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال کی سرپرستی میں منعقد ہوا۔ مہما ن خصوصی پروفیسر محفوظ الرحمان کا استقبال شعبہ کے سینئر استاذ پروفیسر توحید کبریا نے پھولوں کا گلدستہ پیش کرتے ہوئے کیا۔ شعبہ علم الادویہ کے صدر، ڈاکٹر محمد انس نے پروگرام کے آرگنائزنگ چیئرمین ڈاکٹر محمد شمیم اختر ،صدر شعبہ ماہیت الامراض گورنمنٹ طبی کالج واسپتال کاپھولوں کا گلدستہ پیش کر کے استقبال کیا، پی جی اسکالر ڈاکٹر سعدیہ تبسم نے پی پی ٹی کے توسط سے جزام کے موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔جس میں اس نے اس مہلک مرض کی روک تھا م ،علاج اور عوامی شعور کی ضرورت و اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے بتا یا کہ جذام ایک دائمی اور متعدی بیماری ہے جو مائکوبیکٹریم لیپری نامی بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ بیماری جلد، اعصاب، آنکھوں اور سانس کی نالی کو متاثر کر تی ہے، جس کے نتیجے میں جلد پر دھبے اوراعصاب متاثر ہوتے ہیں۔بر وقت علاج نہ ہونے کی صورت میں جسمانی معذوری پیدا ہو تی ہے۔ بر وقت تشخیص اور مکمل علاج سے اس بیماری پر قابو پایا جا سکتا ہے اور اس کے پھیلاو¿ کو روکا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر محمد شمیم اختر نے اپنے خطاب میں یونانی طب کے تناظر میں جذام کی تشخیص، اس کے اسباب اور علاج پر تفصیل سے روشنی ڈالی، جس سے حاضرین کو اس مرض کے بارے میں ایک نئی بصیرت حاصل ہوئی۔ انہوں نے اس امر کو بھی یقینی بنایا کہ پروگرام کے ذریعے جذام کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کیا جائے اور معاشرے میں اس حوالے سے بیداری پیدا کی جائے۔ ان کی انتھک محنت، تنظیمی صلاحیت اور علمی کاوشوں نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جس پر وہ بجا طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔



اس پروگرام کے سرپرست و مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد محفوظ الرحمان نے اس مرض کے سماجی اثرات اور مدر ٹریسا کی اس سلسلہ میں دی جانے والی خدمات کا خصوصی طور پر ذکر کیا نیز طب یونانی میں اس کے علاج و معالجہ پر موجود معلومات کا تذکرہ کیا۔ اسکے علاوہ سابق پرنسپل پروفیسر توحید کبریا نے بھی پروگرام کے شرکاءسے خطاب کیا ، شعبہ علم الادویہ کے صدر و ایسوسیٹ پروفیسر ڈاکٹر محمدانس نے اس مرض پر اظہار خیال کرتے ہوئے اس مرض میں استعمال ہونے والی ادویہ کا ذکر کرتے ہوئے اس کی بیداری کی اہمیت پر زور دیا۔ عالمی یوم جذام کے اس بیداری پروگرام میں ڈاکٹر سیلیش کمار پنکج بھی موجود تھے اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اس مرض کی تشخیص و تفتیش پر جدید طبی معلومات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔اس پروگرام کے کوآرڈینیٹرکے فرائض،پی جی اسکا لر ڈاکٹر تنویر نور، ڈاکٹرمحمد نعمت اللہ نے انجام دیا اور پی جی اسکالر ڈاکٹر ندیم اخترنے پروگرام کی نظامت کی۔اخیر میں اسسٹنٹ پروفیسر جناب ڈاکٹر ادیب احمد نے اس پروگرام کی کامیابی پر مہمانان خصوصی ،آرگنازنگ چیئرمین ،کوارڈینیٹر اور شرکاء کا شکریہ کرتے ہوئے پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا۔

قومی اساتذ تنظیم مظفر پور کے ضلع سکریٹری آفتاب عالم نے ”تحفظ اردو زبان واب “کے سلسلے میں لوگوں سے ملاقات کی

 




میناپور (مظفرپور) :قومی اساتذہ تنظیم کے ضلع سکریٹری آفتاب عالم نے مجھولیا، میناپور کے جناب اشرف، جناب علاءالدین انصاری، جناب زین الدین، جناب عباس علی انصاری وغیرہ صاحبان سے تحریک "تحفظ اردو زبان و ادب" کے سلسلے میں ملاقات کی اور انہیں تحریک کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا نیز انکی خدمت میں اسٹکر وغیرہ پیش کرتے ہوئے اس تحریک کو آگے بڑھانے کی اپیل کی-تمام حضرات نے مثبت جواب دیا۔


Tuesday, 28 January 2025

دہلی اسمبلی انتخابات: طاہر حسین کو پولیس تحویل میں رہتے ہوئے تشہیر کی اجازت، ہر رات جیل واپس لوٹنا ہوگا

 






سپریم کورٹ نے دہلی اسمبلی انتخابات کے لیے اے آئی ایم آئی ایم (آل انڈیا مسلم اتحاد المسلمین) کے امیدوار اور دہلی فسادات کے ملزم طاہر حسین کو پولیس تحویل میں رہتے ہوئے تشہیر کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے کئی شرائط عائد کرتے ہوئے کہا کہ طاہر حسین کو دن کے وقت پولیس کی نگرانی میں تشہیر کے لیے باہر جانے اور ہر رات جیل واپس لوٹنے کی اجازت ہوگی۔


عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ طاہر حسین کو روزانہ 2.47 لاکھ روپے سکیورٹی اخراجات کے طور پر جمع کرانے ہوں گے۔ تین ججوں پر مشتمل بنچ، جس میں جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سنجے کرول اور جسٹس سندیپ مہتا شامل تھے، نے طاہر حسین کی 29 جنوری سے 3 فروری تک انتخابات کی تشہیر کے لیے پولیس تحویل کی درخواست قبول کی۔



حسین کے وکیل سدھارتھ اگروال نے عدالت میں دلیل دی کہ انتخابات کے لیے صرف چار پانچ دن باقی ہیں، اس لیے ان کے مو¿کل کو پولیس تحویل میں رہتے ہوئے ووٹروں سے رابطہ کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حسین اپنا قیام کسی ہوٹل میں کریں گے اور گھر نہیں جائیں گے۔


ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حسین کی فسادات میں ملوث ہونے کی سنگین نوعیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم عدالت نے ان سے کہا کہ سکیورٹی انتظامات اور اخراجات کے متعلق ہدایات پیش کریں۔ یہ فیصلہ اس وقت آیا جب 22 جنوری کو سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے حسین کی عبوری ضمانت پر متفقہ فیصلہ نہیں دیا تھا۔



واضح رہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے 14 جنوری کو طاہر حسین کو ایم آئی ایم کے ٹکٹ پر مصطفیٰ باد نشست سے کاغذاتِ نامزدگی داخل کرنے کے لیے پولیس تحویل کے ساتھ پیرول دی تھی۔ طاہر حسین دہلی 2020 فسادات کے دوران آئی بی کے ملازم انکت شرما کے قتل کے معاملے میں بھی ملزم ہیں۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے تھے۔


ٹرمپ کی ڈپورٹیشن پالیسی سے ہالی ووڈ اداکارہ سیلینا گومیز ہوئیں غمزدہ، پھوٹ پھوٹ کر رونے کا ویڈیو وائرل

 




ہالی ووڈ گلوکار اور اداکارہ سیلینا گومیز اس وقت سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہی ہیں۔ دراصل سیلینا نے اپنی اپنی انسٹا گرام اسٹوری پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی۔ جس میں انہیں پھوٹ پھوٹ کر روتا ہوا دیکھا گیا تھا۔ سیلینا کے رونے کی وجہ امریکہ کے 47 ویں صدر بنے ڈونالڈ ٹرمپ کی نئی ڈپورٹیشن پالیسی ہے۔


امریکہ میں ٹرمپ کی حکومت شروع ہونے کے ساتھ ہی ایمیگریشن انفورسمنٹ پر تیزی سے کام شروع ہو گیا ہے۔ 26 جنوری کو امریکہ میں ٹرمپ کے حکم کے بعد کئی ایجنسیوں نے ہزاروں ایمیگرینٹس کو گرفتار کیا ہے۔ اسی پر بات کرتے ہوئے سیلینا گومیز نے ایک جذباتی ویڈیو شیئر کی تھی۔


اپنے جاری کیے گئے ویڈیو کے کیپشن میں سیلینا نے لکھا تھا، 'مجھے معاف کر دینا'۔ ساتھ ہی انہوں نے میکسیکو کے پرچم والی ایموجی بھی لگائی تھی۔ امریکہ میں غیر قانونی طور پر رہ رہے تارکین وطن کی گرفتاری اور انہیں ان کے ملک واپس بھیجنے کے عمل پر سیلینا نے بات کی۔


انہوں نے کہا "میرے سبھی لوگوں پر حملہ ہو رہا ہے، بچے بھی محفوظ نہیں ہیں، مجھے سمجھ نہیں آ رہا ہے، مجھے معاف کر دیجیے۔ کاش! میں کچھ کر پاتی، لیکن میں نہیں کر سکتی، مجھے نہیں پتہ کہ کیا کرنا چاہیے۔ میں ہر چیز آزماو¿ں گی، وعدہ کرتی ہوں"۔ یہ کہتے ہوئے سیلینا گومیز پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں۔ حالانکہ بعد میں انہوں نے اپنے اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کر دیا۔


دراصل اپنی ویڈیو شیئر کرنے کے بعد سیلینا گومیز کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یوزرس نے گومیز کو ٹرول کرنا شروع کر دیا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے ویڈیو کو ڈیلیٹ کر دیا۔ خود کو ملی تنقید کے جواب میں انہوں نے اپنی انسٹا اسٹوری پر پیغام لکھا 'ظاہر طور پر لوگوں کے لیے ہمدردی دکھانا ٹھیک نہیں ہے۔'

واضح ہو کہ امریکہ میں 26 جنوری کے دن ایمیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ (آئی سی ای) نے 956 لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔ یہ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد کا سب سے بڑا نمبر ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کا مقصد امریکہ میں رہ رہے غیر دستاویز تارکین وطن کو باہر نکالنا ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں میں زبردست ڈر کا ماحول ہے۔


فلسطینیوں کی جبری ہجرت پر ٹرمپ کا اصرار ... بین الاقوامی قوانین کیا کہتے ہیں ؟

 






اگرچہ مصر اور اردن فلسطینیوں کی بیرون ملک جبری ہجرت کے منصوبوں کو مسترد کر چکے ہیں تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی غزہ کی پٹی سے باہر منتقلی کی تجویز سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ٹرمپ کے مطابق وہ مصری صدر کے ساتھ اس موضوع پر بات کر چکے ہیں۔


دوسری جانب بین الاقوامی قانون کے ماہر اور بین الاقوامی قانون سے متعلق امریکی اور یورپی انجمنوں کے رکن ڈاکٹر محمد محمود مہران کا کہنا ہے کہ جبری ہجرت کی صورت میں فلسطینیوں کی غزہ کی پٹی سے باہر ہمسایہ ممالک منتقلی کے حوالے سے امریکی صدر کا بیان بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور جنگی جرائم پر اکسانے کے مترادف ہے۔


العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے خصوصی بیان میں ڈاکٹر مہران کا کہنا تھا کہ چوتھا جنیوا کنونشن اپنے آرٹیکل 49 میں مقبوضہ اراضی سے افراد کی انفرادی یا اجتماعی جبری منتقلی کو قطعا ممنوع قرار دیتا ہے۔ اسی طرح بین الاقوامی فوجداری عدالت کا 'روم اسٹیچو' اپنے آرٹیکل 8 میں جبری ہجرت کو جنگی جرم کا درجہ دیتا ہے جس پر عدالتی کارروائی لازم ہے۔


بین الاقوامی قانون کے ماہر کے مطابق Additonal Protocal 1 کا آرٹیکل 85 شہری آبادی کی جبری منتقلی کو سنگین خلاف ورزی قرار دے کر اس کے خلاف عدالتی کارروائی کو لازم گردانتا ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت اس نوعیت کے جرائم پر قانونی کارروائی کا اختیار رکھتی ہے۔


ڈاکٹر مہران نے واضح کیا کہ عالمی سلامتی کونسل کی 1967 میں منظور شدہ قرار داد 242 باور کراتی ہے کہ کسی سرزمین پر بزور طاقت قبضہ کرنا قانونا جائز نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور کا آرٹیکل 1(2) اسی امر کی تصدیق کرتا ہے۔ منشور کے مطابق اقوام اور عوام کو اپنے راستے کے فیصلے کا حق حاصل ہے۔ علاوہ ازیں انسانی حقوق سے متعلق عالمی اعلان کا آرٹیکل 13 ہر فرد کو اپنی ریاست کی حدود کے اندر آمد و رفت اور اپنے قیام کی جگہ منتخب کرنے کا حق دیتا ہے۔


ڈاکٹر مہران نے بتایا کہ شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی سمجھوتا (ICCPR) اپنے پہلے آرٹیکل میں باور کراتا ہے کہ اقوام کو اپنا راستہ چننے اور اپنے ملک کی قدرتی دولت اور وسائل کے آزادانہ استعمال کا حق حاصل ہے۔ لہذا فلسطینی قوم بھی اپنی قانونی مزاحمت میں اسی موقف پر ڈٹی ہوئی ہے۔


یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد چھڑنے والی جنگ کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کے تقریبا 24 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے۔


غزہ کے فلسطینیوں کی کوئی بھی جبری ہجرت قابل قبول نہیں ہے : فرانس

 




فرانس کے وزیر خارجہ جان نویل بارو کا کہنا ہے کہ غزہ کی آبادی کو عرب ممالک میں آباد کرنے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز دو خود مختار ریاستوں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پر امن باہمی بقائ کے مفہوم سے متصادم ہے۔ انھوں نے کہا کہ فرانس دو ریاستی حل پر زور دیتا ہے اور پیرس کے نزدیک غزہ کے فلسطینیوں کی کوئی بھی جبری ہجرت "نا قابل قبول" ہے۔

فرانس کے وزیر خارجہ نے ریڈیو کے ذریعے دیے گئے بیان میں کہا کہ "مصر اور اردن ہمیشہ یہ باور کراتے رہے ہیں کہ وہ اس طرح کے حل کے خلاف ہیں، جہاں تک فرانس کا تعلق ہے تو ہمیں یقین ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام دو ریاستی حل کا تقاضا کرتا ہے جہاں فلسطین اور اسرائیل پہلو بہ پہلو رہیں۔ لہذا فلسطینیوں کی ہمسایہ ممالک جبری ہجرت مجھے اس فیصلے کے ساتھ ہم آہنگ نظر نہیں آتی"۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹڑمپ نے 25 جنوری کو صحافیوں سے گفتو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ غزہ کی پٹی کی وہ آبادی جو اسرائیل کے حالیہ فوجی آپریشن میں اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں، انھیں عرب ممالک میں آباد کیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ کے خیال کے مطابق 15 لاکھ افراد کو غزہ کی پٹی سے باہر آباد کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس معاملے پر اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ الثانی سے بھی بات کی ہے۔


قاہرہ اور عمّان حکومتوں نے ایک بار پھر غزہ کی پٹی کی آبادی کو منتقل کرنے کے لیے اسرائیل یا اس کے علاوہ کسی اور کی منصوبہ بندی کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ جبری ہجرت کی دوسری مہم ہے۔

اس سلسلے میں مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی نے کل پیر کے روز ان جبری ہجرت کی کوششوں پر اپنے ملک کی تشویش کا اظہار کیا جن کا مقصد ہمسایہ ممالک میں عوام کو نشانہ بنانا ہے۔ بدر کے مطابق خطے میں سیاسی اور انسانی صورت ابتری کا شکار ہے۔ ان میں سیاسی تنازعات اور بحرانات کے علاوہ ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات شامل ہیں۔

مصری وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ یہ عوامل بے گھر افراد اور مہاجرین میں اضافے میں اپنے کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مصر کی جانب مہاجرین کے بہاو¿ میں اضافہ ہو رہا ہے جو پہلے ہی 90 لاکھ سے زیادہ مہاجرین اور پناہ گزینوں کا میزبان ہے۔

دوسری جانب اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے پیر کے روز ایک بار پھر اس موقف کو دہرایا کہ اردن کی مملکت فلسطینیوں کی جبری ہجرت کے بارے میں کسی بھی بات چیت کو مسترد کرتی ہے۔ انھوں نے باور کرایا کہ اردن اس موقف کے سامنے ڈٹا رہے گا۔

پارلیمنٹ میں بریفنگ دیتے ہوئے الصفدی کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے لیے متبادل وطن سے متعلق ہر بات مسترد شدہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اردن اردنیوں کا ہے اور فلسطین فسلطینیوں کا ہے اور قضیہ فلسطین کا حل فلسطینی مٹی پر ہی ہو گا۔


روس کا اعلیٰ سطح کا وفد احمد الشرع سے ملاقات کے لیے دمشق پہنچ گیا

 





روس کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد شام کے دار الحکومت پہنچا ہے۔ روسی میڈیا کے مطابق آج منگل کے روز دمشق پہنچنے والے وفد کی صدارت نائب وزیر خارجہ میخائل بوغدانوف کر رہے ہیں۔روسی میڈیا نے بوغدانوف کے حوالے سے بتایا ہے کہ روسی وفد شام میں نئی انتظامیہ کے قائد احمد الشرع سے بات چیت کرے گا۔بوغدانوف کا کہنا ہے کہ دمشق کا دورہ "مشترکہ مفادات کے قاعدے کے تحت" کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ماسکو شامی اراضی کی یکجہتی ، آزادی اور سلامتی کا خواہاں ہے۔


گذشتہ ماہ آٹھ دسمبر کو ماسکو کے اتحادی بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کے بعد شام میں روسی فوجی اڈوں کے مستقبل کے حوالے سے سوالات نے جنم لیا۔کرملن ہاو¿س کے ترجمان دمتری بیسکوف یہ واضح کر چکے ہیں کہ ان اڈوں کے مستقبل کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ البتہ انھوں نے تصدیق کی تھی کہ روس اس وقت شام کا کنٹرول رکھنے والی قوتوں کے نمائندوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔


روس کے شام میں دو فوجی اڈے قائم ہیں۔ ان میں پہلا اڈا طرطوس میں روسی بحریہ کا لوجسٹک سینٹر ہے جو 1971 میں دو طرفہ معاہدے کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ دوسرا اڈا لاذقیہ سے 20 کلو میٹر جنوب مشرق میں حمیمیم کا فضائی اڈا ہے۔ یہ 30 ستمبر 2015 کو قائم کیا گیا تا کہ داعش تنظیم کے خلاف لڑائی میں شامی فوج کی معاونت کے لیے فوجی آپریشن انجام دیا جا سکے۔

گذشتہ عرصے کے دوران میں روس نے شام سے اپنا بعض ساز و سامان اور افراد کو واپس بلا لیا تاہم ماسکو مذکورہ دونوں اڈوں کی اہمیت کو اچھی طرح جانتا ہے۔ یہ روس کو بحیرہ روم تک رسائی فراہم کرتے ہیں اور ساتھ ہی اسے بعض افریقی ممالک کے قریب تر بناتے ہیں۔



Monday, 27 January 2025

’گنگا میں ڈبکی لگانے سے غریبی دور ہوگی کیا؟‘، کھڑگے نے ’جے باپو، جے بھیم، جے آئین‘ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پوچھا سوال

 







مدھیہ پردیش کے مَہو میں ’جے باپو، جے بھیم، جے آئین‘ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کسی
کا نام لیے بغیر کہا کہ ”گنگا میں ڈبکی لگانے سے نوجوانوں کو روزگار ملے گا کیا؟ غریبی دور ہوگی کیا؟ پیٹ کو کھانا ملے گا کیا؟“ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میں کسی کے عقیدہ کو چوٹ نہیں پہنچانا چاہتا ہوں۔ ملک میں بچے اسکول نہیں جا رہے ہیں اور مزدوروں کو مزدوری نہیں مل رہی ہے۔ واضح ہو کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کا مذکورہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پیر (27 جنوری) کو مہاکبمھ میں ڈبکی لگائے ہیں۔ امت شاہ پریاگ راج پہنچ کر سادھو-سنتوں کے ساتھ مہاکمبھ میں ڈبکی لگائی۔ اس موقع پر امت شاہ کے ساتھ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی موجود تھے۔


ملکارجن کھڑگے نے پریاگ راج کے مہاکمبھ میں سیاستدانوں کے گنگا میں ڈبکی لگانے کے بارے میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ”لوگ کمپٹیشن میں ڈبکی مار رہے ہیں۔ جب تک ٹی وی میں ڈبکی اچھی نہیں آتی ہے تب تک ڈبکی مارتے رہتے ہیں۔ مذہب پر ہم سبھی کا عقیدہ ہے۔ مذہب ہم سبھی کے ساتھ ہے لیکن مذہب کے نام پر کسی سماج میں غریبوں کا استحصال ہوگا تو ہم کبھی برداشت نہیں کریں گے۔“ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر نے آگے کہا کہ ”سماج میں لوگوں کے درمیان مساوات قائم کرنا بابا صاحب کا مقصد تھا اور اسی لیے انہوں نے بہت سے قانون بنائے۔ اگر کسی نے ان کی مکمل طور پر حمایت کی تو وہ پنڈت نہرو اور مہاتما گاندھی نے کی تھی۔ حمایت کے بعد ہی بابا صاحب بھیم راو¿ امبیڈکر کو دستور ساز اسمبلی کا صدر منتخب کیا گیا تھا۔ اگر آپ کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو متحد ہو کر محنت کرنی چاہیے۔ جب تک آپ متحد نہیں ہوں گے تب تک مندر میں داخلہ نہیں ملے گا۔“



کانگریس صدر نے ’جے باپو، جے بھیم، جے آئین‘ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ”جب آپ کے بچے شادی کر کے گھوڑے پر سوار ہو کر گاو¿ں سے جاتے ہیں تو وہ حق آپ کو نہیں ملے گا۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ مدھیہ پردیش میں پہلے کیا ہوا تھا؟ ایک آدیواسی بچے کے منہ میں پیشاب کر کے اس کو ذلیل کیا گیا تھا۔ واقعہ کے بعد اس وقت کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان متاثرہ کے پاو¿ں دھو رہے تھے لیکن پیر دھونے سے کچھ نہیں ہونے والا ہے۔ جن کے لیے آئین نے جو تحفظ فراہم کیا ہے اس کا استعمال کریں اور ان کی حفاظت کریں تبھی کچھ ہوگا۔“



’ایک دن پورے ملک میں نافذ ہوگا یو سی سی‘، اتراکھنڈ میں یونیفارم سول کوڈ نافذ ہونے پر نائب صدر دھنکھڑ کا اظہارِ خوشی

 




آج اتراکھنڈ وہ پہلی ریاست بن گیا جہاں یو سی سی یعنی یونیفارم سول کوڈ باضابطہ طور پر نافذ ہو گیا ہے۔ اس تعلق سے ہندوستان کے نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئین بنانے والوں کے خوابوں کو شرمندہ¿ تعبیر کرنے والا قدم بتایا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جو نہ صرف ملک کے آئین میں موجود پالیسی کے ہدایتی اصولوں کو نافذ کرتا ہے، بلکہ ملک میں جنسی مساوات اور سماجی توازن کو بھی فروغ دے گا۔

نائب صدر نے یہ تبصرہ راجیہ سبھا انٹرنشپ پروگرام کے پانچویں بیچ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اپنی تقریر کے دوران انھوں نے کہا کہ ”آج کا دن نیک اشارہ لے کر آیا ہے۔ اتراکھنڈ نے یونیفارم سول کوڈ کو اپنا کر آئین کے آرٹیکل 44 کو زمین پر اتارا ہے۔ یہ وہ آرٹیکل ہے جو ہندوستانی شہریوں کے لیے پورے ملک میں یکساں قانون یقینی کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔“ اتراکھنڈ حکومت کی دور اندیشی کی تعریف کرتے ہوئے انھوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی پورا ملک اس سمت میں قدم بڑھائے گا۔

نائب صدر نے یونیفارم سول کوڈ کی مخالفت کرنے والوں پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئین کی ہدایت ہے اور اس کی مخالفت کرنا جہالت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ”کچھ لوگ سیاسی فائدہ کے لیے قومیت کو خیر باد کہنے میں بھی جھجک نہیں کرتے۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ یو سی سی جنسی مساوات اور سماجی انصاف کو فروغ دے گا۔ آئین ساز اسمبلی کی بحثیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے بار بار اس کی ضرورت کو نشان زد کر چکے ہیں۔“


شمالی غزہ کی طرف لوگوں کا سیلاب امڈ آیا، ناقابل فراموش مناظر






خون، تباہی، قتل و غارت اور آنسوو¿ں کے درمیان 15 ماہ کے انتظار کے بعد ہزاروں بے گھر فلسطینی اپنی امیدو بیم کی کیفیت میں

پیدل غزہ کی پٹی کے شمال کی طرف بڑھ رہے ہیں۔


شہریوں کی خوشی ناقابل بیان

شمالی غزہ کی پٹی جانے والے بے گھر افراد کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور پٹی کے شمال کی طرف ساحلی ریشد سٹریٹ پر ہجوم لگ گیا۔


اگرچہ شمالی غزہ کی طرف بڑھنے والے شہری ایک گم نام منزل کے مسافر ہیں کیونکہ جنگ کی وجہ سے وہ اپنے گھروں کو کھو چکے ہیں، شمالی علاقہ تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور یہاں تک کہ زندگی کی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہے۔ اس کے باوجود لوگوں کی خوشی دیدنی ہے۔


تصاویر میں غزہ کے باشندوں کو ایک دوسرے سے گلے ملتے، ایک دوسرے کو سلام کرتے، اپنے تباہ شدہ گھروں کے سامنے تصویریں کھینچتے اور پھر اپنے راستے پر چلتے ہوئے بھی دکھایا گیا۔


العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق شمالی غزہ کی طرف لوگوں کی واپسی اس وقت ہوئی ہے جب اسرائیلی فوج نے نیٹزارم کے محور سے انخلائ شروع کیا۔ یہ علاقہ اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہےجو غزہ کی پٹی کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔


گذشتہ دو دنوں کے دوران اسرائیل نے بے گھر افراد کے لیے شمال کی طرف جانے کے لیے اس راہداری کو کھولنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ جب تک حماس اسرائیلی اسیر خاتون اربیل یہود کو رہا نہیں کرتی تب تک بے گھر فلسطینیوں کو شمال کی طرف نہیں جانے دیا جائے گا۔


گھر نہ خیمے

یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ ہزاروں لوگ نہیں جانتے کہ وہ اپنے گھروں کے ملبے پر کیسے زندگی بسر کریں گے، خاص طور پر چونکہ اقوام متحدہ نے شمالی غزہ کی پٹی میں 80 فیصد عمارتوں کی تباہی کا تخمینہ لگایا ہے۔

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے بتایا کہ کچھ خیمے اور قافلے ان میں سے کچھ کو لوگوں کو پناہ دے سکتے ہیں مگر اس وقت ہزاروں خیموں کی فوری ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ اچیم سٹینر نے اس سے قبل وضاحت کی تھی کہ "اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی میں دو تہائی عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "غزہ میں 65 سے 70 فیصد کے درمیان عمارتیں مکمل طور پر تباہ یا تباہ ہوچکی ہیں"۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جنگ نے "60 سال کی ترقی کو ختم کر دیا، 42 ملین ٹن ملبے کو ہٹانا ایک خطرناک اور پیچیدہ عمل ہوگا۔


یوم جمہوریہ کے موقع پہ متھلا انسٹیٹیوٹ میں پرچم کشائی ہوئی



 دربھنگہ:- 76ویں یوم جمہوریہ کے موقع پہ ہر سال کی طرح اس سال بھی متھیلا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس میں چیئرمین ڈاکٹر احمد نسیم آرزو ڈائریکٹر الہلال ہاسپٹل کے ہاتھوں پرچم کشائی کی گئی جس میں جنرل منیجر شمشاد نور سنٹر ہیڈ تنویر امام گوپی کشن امیت منڈل سمرن میڈم محمد سعید انور دانش احمد و ایڈووکیٹ شاہد اطھر کے علاوہ طلبہ و طالبات شامل ہو کر ملک وآئین کے تئی وفاداری کا محبت کا ثبوت  دیتے ہوئے سبھی لوگوں نے کہا کہ ملک ہمارا ہے اور اس کی حفاظت کرنے کے ذمہ داری ہم سبھی لوگوں کی ہے - آج کے دن آئین عمل میں لائی گئی تھی اور اسی آئین کے تحت ہمارا ملک چلتا ہے اور قیامت تک ہمارا ملک آئین کے تئیں چلتا رہے گا-

صاف شفاف چہرہ والے کو ہی اسمبلی میں بھیجا جائے: صبیح محمود

 


دربھنگہ:- یوم جمہوریہ 2025 کے موقع پہ آج دربھنگہ ضلع کے مختلف حلقہ سے مشہور و معروف شخصیات کا آج محمود رہائش گاہ باڑھ سمیلا کیوٹی میں صلاہ مشورہ کا پروگرام انعقاد کیا گیا- جس میں جالے سے صادق آرزو و آمر اقبال کنور بڑھی سے ذوالقرنین عاقل پٹھان کوئی سے ماجد حسین خان ملکی چک سے فیصل اقبال باڑھ سمیلہ سے ڈاکٹر فیروز احمد باقی بصر دربھنگہ شہر سے انجینئر عمر فاروق رحمانی ڈاکٹر احمد نسیم آرزو عیاز احمد فصیح محمود و ایڈوکیٹ شاہد اطہر کے علاوہ سماج کے مختلف حلقے سے لوگ شامل ہوئے۔ اس موقع پہ سبھی لوگوں کے رائے مشورہ سے یہ بات ائی کہ مسلمانوں کا ووٹ تقسیم کر کے غیر سیکولر پارٹیاں جیتنے کا کام کرتی ہے اج بھی کم و بیش 60 فیصد ووٹ سیکولر ہے پھر بھی سیکولر امیدوار کیوں نہیں جیت رہے ہیں؟ صرف اس لیے کہ سیکولر ووٹوں کا تقسیم کرایا جاتا ہے جس کا فائدہ دوسرے پارٹی کو مل جاتا ہے۔ اس لیے اس دفعہ بہار اسمبلی 2025 کے الیکشن میں صاف امیج ایماندار محنتی و عوام الناس میں جانا پہچانا نام رکھنے والے ہی امیدوار کو الیکشن جتا کر اسمبلی میں بھیجنے کا کام کیا جائے گا۔

انفرادی و اجتماعی سطح پر اردو کے فروغ کیلئے کام کرنا وقت کی اہم ضرورت: آفتاب عالم

 



مظفر پور ( نمائندہ)قومی اساتذہ تنظیم مظفر پور کے صدر شمشاد احمد ساحل، سکریٹری آفتاب عالم کی قیادت میں برہنڈ ہ ، مینا پور ، مظفر پور میں اردو زبان ادب کے فروغ کیلئے تحریک چلائی گئی جس میں علاقے کی نامور شخصیات نے شرکت کی اور اردو کے فروغ کا عزم لیا ۔ اس موقع پر قومی اساتذہ تنظیم کے سکریٹری آفتاب عالم نے کہاکہ اردو زبان کا فروغ نہ صرف ہماری تہذیب و ثقافت کی بقا کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ قومی یکجہتی اور ترقی کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پر اس زبان کے فروغ کے لیے کام کرنا ہوگا تاکہ ہماری آئندہ نسلیں بھی اس زبان کے عظیم ورثے سے مستفید ہو سکیں۔ 

انہوں نے مزید کہاکہ جدید دور کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے، اردو زبان کو تعلیمی، سائنسی، ادبی، اور ڈیجیٹل میدانوں میں فعال بنانے کے اقدامات ناگزیر ہیں۔انہوںنے کہاکہ صرف حکومتی سطح سے تو اردو کے فروغ کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے ہی ساتھ ہی انفرادی واجتماعی سطح سے بھی اردو کے فروغ کیلئے کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔انہوںنے کہاکہ اسی مقصد کے تحت قومی اساتذہ تنظیم نے یہ عہدلیا ہیکہ اردو کے جو بھی مسائل ہیں اسے حل کیاجائے اور عوام میں اس کیلئے بیداری لائی جائے ۔ 

مسٹر آفتاب نے یہ بھی کہاکہ اردو میں بھی کافی مواقع ہیں ۔ضروت ہے کہ ان مواقع سے فائدہ اٹھایاجائے اور اپنی روزہ مرہ کی زندگی میں اردو کو استعمال کیاجائے ۔ اس موقع پر محمد آدم ، عبدالجبار، حسیب الرحمن ،مولانا امان اللہ ،مولانا الفت ، محی الدین ، افسر، نصراللہ وغیرہم نے بھی اپنے خیالات پیش کئے۔ 


Friday, 24 January 2025

وقف بل: ’فون آیا اور ہمیں معطل کر دیا گیا‘، جے پی سی میں شامل اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کا سنگین الزام، اوم برلا کو لکھا خط

 




’وقف (ترمیمی) بل 2024‘ کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل جے پی سی کی میٹنگ میں 24 جنوری (جمعہ) کو زوردار ہنگامہ ہوا۔ کمیٹی میں شامل اپوزیشن کے 10 اراکین پارلیمنٹ کو ایک دن کے لیے معطل بھی کر دیا گیا۔ اس معاملے میں اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ کچھ کمیٹی اراکین نے میڈیا کے سامنے بیان میں کمیٹی چیئرمین جگدمبیکا پال پر سنگین الزام عائد کیا ہے، اور معطل اراکین پارلیمنٹ نے اوم برلا کو مشترکہ خط لکھ کر اپنے اعتراضات کا اظہار بھی کیا ہے۔

ترنمول کانگریس رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے آج میٹنگ میں ہوئے ہنگامہ کے بعد کہا کہ ”جب میٹنگ چل رہی تھی تو جے پی سی چیئرمین کے پاس لگاتار فون آ رہے تھے۔ ایک فون آیا جس کے بعد ہمیں معطل کر دیا گیا۔“ وہ مزید کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے جیسے چیئرمین کو حکومت کی طرف سے ہدایت دی جا رہی تھی۔ کمیٹی میں شامل اپوزیشن اراکین نے جگدمبیکا پال پر کارروائی کو ایک تماشہ بنانے، منمانی کرنے اور اصولوں کی خلاف ورزی کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ حکومت کی اعلیٰ سطح سے ہدایت لے رہے ہیں۔


اپوزیشن میں ہوئے ہنگامہ اور پھر بڑھی سیاسی ہلچل کے درمیان کمیٹی سے معطل اراکین پارلیمنٹ نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو ایک خط لکھ کر کمیٹی چیئرمین کی کارگزاری اور طور طریقوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ 27 جنوری کو مجوزہ میٹنگ ملتوی کی جائے۔ جے پی سی اراکین اے راجہ، کلیان بنرجی، اسدالدین اویسی، نصیر حسین، ارونت ساونت، گورو گگوئی، محمد جاوید، عمران مسعود، محب اللہ ندوی، ایم عبداللہ کی طرف سے لکھے گئے اس خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ چیئرمین منمانے طریقے سے میٹنگوں کی تاریخیں بدلتے رہے ہیں۔ جمعہ کو ہوئی میٹنگ میں جب کمیٹی میں شامل اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے اس پر اعتراض ظاہر کیا اور اپنی بات رکھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو انھوں نے اپوزیشن کے 10 اراکین کو معطل کر دیا۔


معطل کمیٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ ان کے اعتراضات کے باوجود پہلے تو 24 اور 25 جنوری کو جے پی سی کی میٹنگ طے کی گئی، اور پھر جمعہ کی صبح بتایا گیا کہ 25 جنوری کی میٹنگ 27 جنوری کو ہوگی۔ ناراض اراکین کا کہنا ہے کہ پہلے کے طے شیڈول کی بنیاد پر اراکین پارلیمنٹ نے اپنے اپنے علاقوں میں اپنے پروگرام مقرر کر لیے ہیں، ایسے میں میٹنگ کی تاریخ تبدیل ہونے سے مشکل ہو رہی ہے۔ خط لکھنے والوں نے میٹنگ 29 جنوری کی جگہ 30 جنوری کو کرائے جانے کی گزارش کی ہے تاکہ سبھی اراکین اس اہم بل پر اپنی بات رکھ سکیں۔



اوم برلا کو لکھے گئے خط میں دستخط کنندگان نے الزام عائد کیا ہے کہ ”ہم نے اہم باتوں کو مہذب طریقے سے چیئرمین کے سامنے رکھا، حالانکہ انھوں نے اس پر جواب دینے کی کوشش بھی نہیں کی۔ اس درمیان چیئرمین نے کسی سے فون پر بات کی اور اچانک حیرت انگیز طریقے سے انھوں نے چیختے ہوئے ہماری معطلی کا حکم صادر کر دیا۔“ خط میں لوک سبھا اسپیکر سے کہا گیا ہے کہ ”ہمارا ماننا ہے جے پی سی چیئرمین کو کمیٹی اراکین کو معطل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس لیے استدعا ہے کہ جے پی سی چیئرمین کو کارروائی شفاف اور غیر جانبدار طریقے سے چلانے کی ہدایت دی جائے۔“


وقف ترمیمی بل: جے پی سی اجلاس میں ہنگامہ، حزب اختلاف کے 10 ارکان پارلیمنٹ معطل

 






وقف ترمیمی بل پر قائم شدہ پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی (جے پی سی) کے اجلاس کے دوران ٹی ایم سی کے رکن کلیان بنرجی اور بی جے پی کے ایم پی نشی کانت دوبے کے درمیان لفظی جنگ ہوئی، جس کے بعد کمیٹی کے 10 اپوزیشن ارکان کو ایک دن کے لیے معطل کر دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، اجلاس میں ہنگامہ اس وقت ہوا جب کلیان بنرجی نے اجلاس کو اتنی جلدی بلانے پر سوال اٹھایا، جس پر نشی کانت دوبے نے سخت اعتراض کیا اور دونوں رہنماو¿ں کے درمیان شدید تکرار شروع ہو گئی۔ اس کے بعد اجلاس کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔


کلیان بنرجی کا کہنا تھا کہ اجلاس کی اتنی جلدی کیا ضرورت تھی؟ انھوں نے اس پر سوال اٹھایا کہ آیا اس بل پر جلدی فیصلے کی کوئی خاص وجہ ہے؟ ان کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے نشی کانت دوبے نے کہا کہ حکومت نے اس بل کو اہمیت دی ہے اور اس پر جلدی فیصلے کی ضرورت ہے۔ دونوں کے درمیان یہ بات چیت اتنی بڑھ گئی کہ دونوں کے درمیان لفظوں کا تبادلہ شدید ہو گیا اور اس کی وجہ سے اجلاس کو عارضی طور پر روکنا پڑا۔


جیسے ہی یہ تنازعہ بڑھا، کمیٹی نے اپوزیشن کے 10 ارکان کو معطل کر دیا، جنہوں نے اس بحث میں مداخلت کی تھی۔ ان ارکان کی معطلی نے اجلاس کی فضا کو مزید متنازعہ بنا دیا اور اجلاس کو 27 جنوری تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔



اس اجلاس میں کشمیر کے مذہبی رہنما میر واعظ عمر فاروق بھی اپنے اعتراضات پیش کرنے کے لیے کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ اس کے علاوہ کچھ مزید اہم شخصیات بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں گی، جن میں ’لائیرز فار جسٹس‘ گروپ بھی شامل ہے۔


اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بی جے پی کے رکن نشی کانت دوبے نے کہا کہ وقف بل کا مقصد مسلمانوں کی بہتری کے لیے ہے اور اس کے ذریعے وقف کے اداروں میں شفافیت لانا مقصود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل کو جلد پاس کرنا ضروری ہے تاکہ وقف کے اداروں کے انتظام میں بہتری لائی جا سکے اور اس کے ذریعے ملک کے مسلمانوں کی فلاح کی جا سکے۔


دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے اس بل کی مخالفت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ بل مسلمانوں کے مفادات کے خلاف ہے اور اس کے ذریعے حکومت وقف کے اداروں پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس بل میں مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے اور اس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔



آئندہ اسمبلی انتخابات میں میتھیلانچل سمیت پورے بہار میں جن سوراج کا لہر قائم ہوگا: ایڈووکیٹ صبیح

 




دربھنگہ:- بہار جن سوراج پارٹی کے بانی رکن و ممبر ایکٹنگ کمیٹی بہار ایڈووکیٹ صبیح محمود نے کہا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں فرقہ پرست اور بچوں کے مستقبل سے کھیلنے والی جدیو و بھاجپا سرکار کا خاتمہ ہو جائے گا چونکہ متھلانچل سمیت پورے بہار میں بانی پرشانت کشور جی کے نگرانی میں بدلاؤ  کی لہر دور رہی ہےـ آج متھلانچل کے دربھنگہ شہری اسمبلی حلقہ کے دورہ پہ انے کے بعد پارٹی کے بانی رکن و دربھنگہ شہر سے ممکنہ امیدوار ایڈووکٹ شاہد اطہر سے اپنے رہائش گاہ پہ ملاقات کرنے کے بعد جاری پریس ریلیز میں بتایاـ ایڈووکیٹ صبیح محمود نے کہا کہ لوگوں میں بہت ناراضگی اور نا امیدی کی کرن ظاہر ہو رہی ہے کہ پورا پانچ سال کا مدت ختم ہونے کو ہے اور جگہ بہ جگہ ترقی کا معاملات رکا ہوا ہے وہیں ابھی کل کی بات ہے کہ ضلع ایجوکیشن افسر بتیا کے گھر پہ کرپشن سے لوٹا ہوا پیسہ کا امبار ملا ہے جس کو گنتی کرنے کے لیے مشین بھی کم پڑ گئی ہے ـ اس موقع پہ ایڈووکٹ شاہد اطہر نے کہا کہ اگر پارٹی اور دربھنگہ کی عوام چاہے گی تو میں ان کی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پورے دم خم کے ساتھ الیکشن لڑوں گا وہیں شاہد اطہر نے کہا کہ الیکشن لڑنے کے لیے پیسہ معنی نہیں نہیں رکھتی ہے ہاں عوام کا پیار سب سے بڑی طاقت ہے وقت انے پہ عوام اپنے ممبر اسمبلی سے پورے مدت کا حساب کتاب مانگے گی اور ان کو اس کا حساب دینا ہی پڑے گاـ

Thursday, 23 January 2025

’برتنوں کی قیمت سن کر آپ کا دماغ چکرا جائے گا‘، مدھیہ پردیش میں بی جے پی کے ’برتن گھوٹالہ‘ پر کانگریس کا طنز

 





مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت میں کروڑوں روپے کے ’برتن گھوٹالہ‘ کا پردہ فاش ہوا ہے۔ اس خبر کے سامنے آتے ہی کانگریس نے حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے تازہ گھوٹالہ کو مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت میں گھوٹالے کا ’نیا ریکارڈ‘ قرار دیا ہے۔ کانگریس نے ہندی نیوزی چینل ’ٹی وی 9 بھارت وَرش‘ کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت نے گھوٹالہ کرنے میں نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ آپ بھلے ہی چمچ 15-10 روپے میں خریدتے ہوں، لیکن مدھیہ پردیش حکومت میں خریدے گئے برتنوں کی قیمت سن کر آپ کا دماغ چکرا جائے گا۔“


دراصل یہ گھوٹالہ آنگن باڑی کے لیے خریدے گئے برتنوں کے ساتھ ہوا ہے۔ کانگریس نے اس تعلق سے اپنے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ”یہاں آنگن باڑی کے لیے کروڑوں روپے کے ہزاروں برتن خریدے گئے، جن میں 1 چمچ 810 روپے میں خریدا گیا، 1 کرچھی 1348 روپے میں خریدی گئی، 1 جگ 1247 روپے میں خریدا گیا۔“ ریاست میں برسراقتدار طبقہ پر حملہ کرتے ہوئے کانگریس نے یہ بھی لکھا ہے کہ ”یہ مدھیہ پردیش کی حکومت میں کروڑوں روپے کا گھوٹالہ ہے۔ لگتا ہے مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت پی ایم مودی کے فنڈے پر ہی آگے بڑھ رہی ہے– عوام کو لوٹو-موج اڑاو¿۔“



سنگرولی ضلع میں پیش آئے اس گھوٹالہ کے تعلق سے جب ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ راجندر شکلا سے سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ”ہماری حکومت بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹولرنس کی پالیسی کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ اگر (بدعنوانی کا) کوئی معاملہ سامنے ا?تا ہے، تو ضروری کارروائی کی جاتی ہے۔ قصوروار پائے جانے پر سزا بھی دی جاتی ہے۔“ انھوں نے مزید کہا کہ جس معاملے کا تذکرہ کیا جا رہا ہے، اس کی حقیقت بھی پتہ کی جائے گی۔ بی جے پی حکومت کے تحت اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو سیاسی تحفظ نہیں دیا جاتا۔

دوسری طرف مدھیہ پردیش کانگریس ترجمان عباس حفیظ کا کہنا ہے کہ ”یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش میں بی جے پی حکومت پہلے بھی بلوں میں اضافہ کر مہنگی کیٹرنگ اشیائ کا استعمال کر چکی ہے۔ یہاں تو ہر روز بدعنوانی کا ایک نیا معاملہ سامنے ا? رہا ہے۔“ انھوں نے مزید کہا کہ ”اس وقت موہن یادو حکومت کو انتہائی بدعنوان حکومت کہا جا رہا ہے۔“


واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں سنگرولی ضلع کے محکمہ برائے ترقی خواتین و اطفال میں برتن گھوٹالہ کا یہ معاملہ سامنے آیا ہے۔ 1500 آنگن باڑیوں کے نام پر 5 کروڑ روپے کا یہ برتن گھوٹالہ کیا گیا ہے۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ 10 روپے میں ملنے والی چمچ کی قیمت 810 روپے لگائی گئی ہے۔ اس حساب سے 46500 چمچ 3 کروڑ 76 لاکھ 65 ہزار روپے میں خریدی گئیں۔ اتنا ہی نہیں ایک سروِنگ چمچ کی قیمت 1348 روپے بتائی گئی ہے۔ اس طرح 6200 سروِنگ چمچ 83 لاکھ 57 ہزار 600 روپے میں خریدی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں پانی پینے والے ایک جگ کی قیمت 1247 روپے لگائی گئی ہے۔ 3100 جگ کی خریداری ہوئی ہے جس کی مجموعی قیمت 38 لاکھ 65 ہزار 700 روپے ہے۔ کچھ مزید برتن بھی خریدے گئے ہیں اور اس کی قیمت بھی بہت زیادہ بتائی گئی ہے۔



مودی حکومت کی غلط پالیسیوں سے مہنگائی اور بے روزگاری میں ہوا بے تحاشہ اضافہ: جے رام رمیش

 






کانگریس نے ایک بار پھر مہنگائی اور بے روزگاری کے حوالے سے مودی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے جمعرات (23 جنوری) کو کہا کہ مودی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہی مہنگائی اور بے روزگاری نے نچلے اور متوسط طبقات کے خاندانوں کے لیے زندگی کو بہت مشکل کر دیا ہے۔ جے رام رمیش نے مزید کہا کہ ملک کو اب ایسے بجٹ کی ضرورت ہے جو بڑھتی مہنگائی سے راحت دے۔ جے رام رمیش کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کیے گئے پوسٹ کے مطابق گزشتہ 10 سالوں میں مہنگائی نے عام لوگوں کی جیبیں خالی کر دی ہیں۔


کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر کیے گئے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ”موڈانی حکومت نے گزشتہ 10 سالوں میں صرف اپنے امیر دوستوں کا خیال رکھا ہے۔ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہی مسلسل مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے جس نے نچلے اور متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے زندگی کو کافی مشکل بنا دیا ہے۔ دودھ، آٹا، دال، پٹرول، ڈیزل اور سبزیوں کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔“ جے رام رمیش یہ بھی کہتے ہیں کہ ”ای ایم آئی اور روزمرہ کی ضرورتوں کا بوجھ ہر گھر پر بڑھتا جا رہا ہے۔ ملک کو اب مہنگائی سے راحت دینے والا بجٹ چاہیے۔ کیا حکومت عوام کی تکلیفیں سن کر کوئی ٹھوس قدم اٹھائے گی؟“


قابل ذکر ہے کہ کانگریس نے بدھ (22 جنوری) کو دعویٰ کیا تھا کہ کوارٹر-2 جی ڈی پی کی شرح نمو کوئی جھٹکا نہیں ہے بلکہ معیشت میں واضح کساد بازاری ہے اور وبائی امراض کے بعد کی تیزی، ترقی میں اضافے کے لیے کافی نہیں ہے۔ وہیں کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بھی مودی حکومت پر ان کی اقتصادی پالیسیوں کے متعلق حملہ کیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حقیقی معنوں میں ترقی تب ہوگی جب ہر شخص ترقی کرے گا۔ تجارت کے لیے ایک مناسب ماحول ہوتا ہے، ٹیکس کا منصفانہ نظام ہوتا ہے اور مزدوروں کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔



بتیا میں ڈی ای او کے گھر پر ویجی لینس کا چھاپہ، کثیر تعداد میں نقد برآمد

 






پٹنہ:بہار کی خصوصی نگرانی اکائی نے جمعرات کی صبح مغربی چمپارن کے ضلع تعلیمی افسر (ڈی ای او) کے ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی۔ اس چھاپہ ماری میں افسر کے گھر سے بڑی تعداد مین نقد برآمد ہوئے۔ ڈی ای او رجنی کانت پروین پر الزام تھا کہ اس نے 20 برس کی اپنی سرکاری خدمات کے دوران کروڑوں روپے کی ناجائز کمائی کی ہے۔ اس کی اطلاع ملنے پر خصوصی نگرانی اکائی نے ان کے بتیا، سمستی پور اور دربھنگہ میں تین ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی۔


ویجی لینس کی ٹیم صبح سے ڈی ای او سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ جانچ میں ابھی تک کثیر تعداد میں نقد برا?مد ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ نوٹ دو بیڈ میں بھرے ہوئے تھے۔ نوٹوں کی تعداد اتنی تھی کہ اسے گننے کے لیے مشین منگوانی پڑی۔


ذرائع کے مطابق پٹنہ سے پہنچی نگرانی کی ٹیم نے آج صبح سے ڈی ای او کی رہائش پر چھاپہ ماری شروع کی۔ اس دوران کسی کو بھی اندر جانے یا باہر آنے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ کارروائی بتیا کے مفصل تھانہ حلقہ واقع بسنت بہار کالونی میں ڈی ای او کے گھر پر کی جا رہی ہے۔ رجنی کانت پروین گزشتہ تین برسوں سے بتیا میں تعینات ہیں۔ ویجی لینس کی ٹیم ان کے گھر میں کئی گھنٹے سے موجود ہے اور ان سے پوچھ تاچھ کر رہی ہے۔ اس معاملے پر مقامی انتظامیہ اور ویجی لینس محکمہ کے افسران فی الحال کچھ بھی بولنے سے بچ رہے ہیں۔




واضح ہو کہ خصوصی نگرانی اکائی کو قابل اعتماد ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ رجنی کانت پروین جو حال میں ڈی ای او بتیا (مغربی چمپارن) کے عہدے پر ہیں، انہوں نے 2005 سے اب تک کی مدت کے دوران ناجائز طریقے سے مجرمانہ سازش کو ا?گے بڑھانے کے لیے تقریباً 18723625 روپے کی کی بھاری منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے جمع کر لیے ہیں، جو ان کی اصل آمدنی سے کافی زیادہ ہے۔


ایس وی یو سے ملی اطلاع کے مطابق رجنی کانت پروین بہار اسٹیٹ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے 45ویں بیچ کے افسر ہیں۔ وہ 2005 سے خدمات میں آئے اور دربھنگہ، سمستی پور اور بہار کے دیگر ضلعوں میں ضلع افسر کے عہدے پر کام کرتے رہے۔ ان کی سروس کی مدت تقریباً 20-19 سال ہے۔



'ترقی یافتہ ہندوستان' کی تعمیر کے لیے آرام دہ دائرے سے باہر نکلنا ضروری: وزیر اعظم

 



نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو نیتاجی سبھاش چندر بوس کی 128ویں جینتی کے موقع پر کٹک میں منعقدہ 'پراکرم دیوس' تقریب سے خطاب کیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ جیسے نیتاجی نے آزادی کے لیے اپنی آرام دہ زندگی کو ترک کر کے مشکلات
اور چیلنجز کو اپنایا، اسی طرح ہمیں بھی ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر کے لیے اپنے آرام دہ دائرے سے باہر نکلنا ہوگا۔


وزیر اعظم مودی نے کہا، ”آج نیتاجی سبھاش چندر بوس کے یومِ پیدائش کے موقع پر پورا ملک انہیں عقیدت کے ساتھ یاد کر رہا ہے۔ میں نیتاجی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ اس سال کے 'پراکرم دیوس' کا شاندار انعقاد ان کے جائے پیدائش میں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر کٹک میں ایک بڑی نمائش کا انعقاد کیا گیا ہے، جس میں نیتاجی کی زندگی سے جڑی مختلف یادگاروں کو پیش کیا گیا ہے۔



وزیراعظم مودی نے کہا کہ آج جب ہمارا ملک 'ترقی یافتہ ہندوستان' کے عزم کی تکمیل کے لیے کوشاں ہے تو ہمیں نیتاجی کی زندگی سے مسلسل تحریک ملتی ہے۔ ان کا سب سے بڑا ہدف آزاد ہندوستان تھا، جس کے لیے انہوں نے اپنی پرتعیش زندگی کو چھوڑ کر جدوجہد کو ترجیح دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں عالمی سطح پر بہترین بننے، کام میں مہارات اور کارکردگی پر توجہ مرکوز کرنی ہے۔


وزیراعظم نے کہا کہ نیتاجی نے آزادی کے لیے 'آزاد ہند فوج' بنائی، جس میں ملک کے ہر علاقے اور ہر طبقے کے لوگ شامل تھے۔ ان کی یکجہتی آج بھی 'ترقی یافتہ ہندوستان' کے لیے ایک بڑی سبق ہے۔ ہمیں ان عناصر سے محتاط رہنا ہوگا جو ملک کو کمزور اور تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔


انہوں نے مزید کہا کہ یہ ان کی حکومت کی خوش قسمتی ہے کہ آزاد ہند سرکار کے 75 سال مکمل ہونے پر لال قلعے پر ترنگا لہرایا گیا۔ حکومت نے نیتاجی کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں 2019 میں لال قلعے میں ان کے نام سے عجائب گھر کی تعمیر اور 'پراکرم دیوس' کا اعلان شامل ہے۔



وزیراعظم نے کہا کہ ”پچھلے 10 سال میں حکومت نے تیز رفتار ترقی کے ذریعے عوام کی زندگی کو آسان بنایا ہے۔ 25 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا گیا، دیہات اور شہروں میں جدید انفراسٹرکچر تعمیر کیا جا رہا ہے اور ہندوستانی فوج کی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آج عالمی سطح پر ہندوستان کی حیثیت مضبوط ہو رہی ہے۔ ہمیں نیتا سبھاش جی کے نظریے سے متاثر ہو کر ترقی یافتہ ہندوستان کے خواب کو پورا کرنے کے لیے مسلسل کام کرنا ہوگا۔ یہی ان کو ہماری سچی خراج عقیدت ہوگی۔“



کوٹہ میں طلبا کی خودکشی کے بڑھتے واقعات سے پرینکا گاندھی افسردہ

 





راجستھان کے کوٹہ شہر میں طلبا کی خودکشی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ روز بہ روز خودکشی کے معاملوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بدھ (22 جنوری) کو گجرات کی ایک نیٹ طالبہ اور جے ای ای کی کوچنگ کرنے والے آسام کے طالب علم نے پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔ ایک ہی روز میں 2 طلبا کی موت سے لوگوں کو کافی صدمہ ہوا ہے۔ اس حوالے سے کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ”کوٹہ راجستھان میں ایک ہی روز 2 بچوں کی خودکشی کی خبر انتہائی خوفناک اور دل دہلانے والی ہے۔“


وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی کا کہنا ہے کہ ”یہاں 3 ہفتے کے اندر 5 طالب علموں نے خودکشی کی ہے، یہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔“ علاوہ ازیں پرینکا گاندھی نے اپنی پوسٹ میں لکھتی ہیں کہ ”یہ وقت تعلیمی اداروں، سرپرستوں اور حکومتوں کو مل کر سوچنے اور خود احتسابی کا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیا ہمارے بچوں پر اس قدر دباو¿ ہے کہ وہ اسے سنبھال نہیں پاتے، یا پورا ماحول ان کے لیے سازگار نہیں ہے؟“ وہ مزید کہتی ہیں کہ ”حکومت کو اس سمت میں ٹھوس قدم اٹھانا چاہیے۔ بچوں کی نفسیات، تعلیم کے طریقوں اور ماحول کے متعلق گہرائی سے مطالعہ ہونا چاہیے اور ضروری اصلاحی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔“ 




قابل ذکر ہے کہ بدھ کو جن 2 طالب علموں نے خودکشی کی تھی اس میں ایک گجرات کے احمد آباد کی رہنے والی آصفہ شیخ تھی۔ نیٹ کی طالبہ آصفہ جواہر نگر علاقہ میں ایک کرایہ کے مکان میں رہتی تھی۔ طالبہ نے بدھ کو صبح قریب 10 بجے کمرے میں پھانسی لگا کر اپنی جان دے دی۔ آصفہ کی موت کے 2 گھنٹے بعد ہی ایک اور طالب علم نے خود کشی کی تھی۔ گوہاٹی کے رہنے والے 18 سالہ طالب علم جے ای ای کے امیدوار نے مہاویر نگر علاقہ میں واقع اپنے ہاسٹل کے کمرے میں پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔ پولیس کے مطابق متوفی طالب علم کو اگلے ہفتہ جے ای ای-مینس کا امتحان دینا تھا۔ واضح ہو کہ کوچنگ ہب کے نام سے مشہور کوٹہ شہر میں سال کے پہلے 22 دنوں میں خودکشی کے ایسے 6 معاملے سامنے آ چکے ہیں۔ وہیں 2024 میں ایسے 17 معاملے سامنے آئے تھے۔