Tuesday, 28 January 2025

روس کا اعلیٰ سطح کا وفد احمد الشرع سے ملاقات کے لیے دمشق پہنچ گیا

 





روس کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد شام کے دار الحکومت پہنچا ہے۔ روسی میڈیا کے مطابق آج منگل کے روز دمشق پہنچنے والے وفد کی صدارت نائب وزیر خارجہ میخائل بوغدانوف کر رہے ہیں۔روسی میڈیا نے بوغدانوف کے حوالے سے بتایا ہے کہ روسی وفد شام میں نئی انتظامیہ کے قائد احمد الشرع سے بات چیت کرے گا۔بوغدانوف کا کہنا ہے کہ دمشق کا دورہ "مشترکہ مفادات کے قاعدے کے تحت" کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ماسکو شامی اراضی کی یکجہتی ، آزادی اور سلامتی کا خواہاں ہے۔


گذشتہ ماہ آٹھ دسمبر کو ماسکو کے اتحادی بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کے بعد شام میں روسی فوجی اڈوں کے مستقبل کے حوالے سے سوالات نے جنم لیا۔کرملن ہاو¿س کے ترجمان دمتری بیسکوف یہ واضح کر چکے ہیں کہ ان اڈوں کے مستقبل کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ البتہ انھوں نے تصدیق کی تھی کہ روس اس وقت شام کا کنٹرول رکھنے والی قوتوں کے نمائندوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔


روس کے شام میں دو فوجی اڈے قائم ہیں۔ ان میں پہلا اڈا طرطوس میں روسی بحریہ کا لوجسٹک سینٹر ہے جو 1971 میں دو طرفہ معاہدے کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ دوسرا اڈا لاذقیہ سے 20 کلو میٹر جنوب مشرق میں حمیمیم کا فضائی اڈا ہے۔ یہ 30 ستمبر 2015 کو قائم کیا گیا تا کہ داعش تنظیم کے خلاف لڑائی میں شامی فوج کی معاونت کے لیے فوجی آپریشن انجام دیا جا سکے۔

گذشتہ عرصے کے دوران میں روس نے شام سے اپنا بعض ساز و سامان اور افراد کو واپس بلا لیا تاہم ماسکو مذکورہ دونوں اڈوں کی اہمیت کو اچھی طرح جانتا ہے۔ یہ روس کو بحیرہ روم تک رسائی فراہم کرتے ہیں اور ساتھ ہی اسے بعض افریقی ممالک کے قریب تر بناتے ہیں۔



No comments:

Post a Comment