Sunday, 12 January 2025

محبان اردو نے ہندوستان کی پہلی مسلم معلمہ فاطمہ شیخ کو ان کی یوم پیدائش پر یاد کیا

 




پٹنہ:محبان اردو( عاشقان اردو کا گہوارہ) تنظیم کے سیکرٹری محمد پرویز انور نے پریس ریلیز جاری کر بتایا کہ فاطمہ شیخ جن کو ہندوستان کی پہلی مسلم معلمہ یعنی لیڈی ٹیچر ہونے کا شرف حاصل ہے, جن کی پیدائش 9 جنوری 1831 کو پونے مہاراشٹر میں ہوئی تھی, ان کو یاد کرنے کے لیے ڈاکٹر اظہار احمد سابق ایم ایل اے کے دفتر فلیٹ نمبر 264 7th فلور گرینڈ اپارٹمنٹ ڈاک بنگلہ چوراہا پٹنہ میں ایک محفل آراستہ کی- اس محفل میں پٹنہ شہر کے نامور حضرات نے شرکت کی ،جن کے نام اس طرح ہیں ڈاکٹر اظہار احمد سابق ایم ایل اے، جناب ارشد فیروز چیئرمین گورنمنٹ اردو لائبریری پٹنہ، پروفیسر شکیل احمد قاسمی شعبہ اردو اور ینٹل کالج پٹنہ سٹی , جناب پرویز اردو لائبری،پروفیسر اسلم زیڈ اے اسلامیہ کالج سیوان ،علامہ اقبال کالج کے افتاب احمد،محمد حسنین، سیاست دان او میش کمار،عبدالقیوم انصاری صاحب کے پوتے تنویر انصاری، محمد عالمگیر نظامی،اطیب علی، معروف شاعر سید شاہ جمال کاکوی، نامور صحافیوں کی جماعت بھی وہاں موجود تھی جن میں انوار الہدی اسحاق اثر نواب عتیق الزماں ہارون رشید حافظ ضیاء اللہ سید جاوید خورشید انور کے نام اہم ہین- اس پروگرام کی صدارت جناب ارشد فیروز صاحب نے کی ۔اسپیکر کی ذمہ داری پروفیسر شکیل احمد قاسمی صاحب نے نبھائی, نظامت کے فرائض محبان اردو کے سیکرٹری محمد پرویز انور نے انجام دیے- مہمان خصوصی ڈاکٹر اظہار احمد صاحب رہے-

اس تقریب میں محترمہ فاطمہ شیخ کے خواتین کے تعلیم کے سلسلے میں کیے گئے کنٹریبیوشن کو یاد کیا گیا, بی بی فاطمہ شیخ کو یاد کرتے ہوئے جلسے کے صدر جناب ارشد فیروز صاحب نے فرمایا کہ ہندوستان کی پہلی لیڈی ٹیچر ساوتری بائی پھولے کا ساتھ فاطمہ شیخ نے بڑھ چڑھ کر دیا انہوں نے بتایا کہ فاطمہ شیخ نے اپنی پراپرٹی ساوتری بھائی پھولے کو ڈونیٹ کر دیا تاکہ اس عمارت میں اسکول چل سکے وہ دروازے دروازے گھوم کر بچیوں کو تعلیم کی طرف بلاتی تھیں اور تعلیم کی اہمیت گھر گھر جا کر لوگوں کو سمجھایا کرتیں - جناب احمد فیروز صاحب نے موجود شرکا کو یہ پیغام دیا کہ گورنمنٹ اردو لائبریری میں محترمہ فاطمہ شیخ کی ایک تصویر نمایا ںجگہ پر چسپاں کی جائیںگی تاکہ لوگوں کو معلو ہوسکے کہ تقریبا 200 سال پہلے مسلم معاشرے سے ایک خاتون تعلیمی بیداری کی علمبردار تھی, انہوں نے اپنی گفتگو میں فرمایا کہ محبان اردو کے سیکرٹری محمد پرویز انور مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے فاطمہ شیخ کی تعلیمی بیداری کے لیے کیے گئے خدمات کو یاد کرنے کے لیے اس محفل کو سجایا محمد پرویز انور نے فرمایا کہ اس تقریب کو کامیاب بنانے میں ڈاکٹر اظہار احمد صاحب کا بھی بڑا ہاتھ ہے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کی اور اپنے دفتر کے سینٹرل ہال کو تقریب کے انعقاد کے لیے فراہم کیا۔

 مزید محمد پرویز انور نے اپنی گفتگو میں جناب ارشد فیروز صاحب کا بھی تہہ دل سے شکریہ کیا جنہوں نے اس تقریب کی صدارت قبول کی اور بڑے جوش و خروس کے ساتھ جلسے میں شامل ہوئے اور اپنی قیمتی رائے اور معلومات اپنی تقریر کے ذریعے لوگوں کے بیچ شیئر کی , پروفیسر شکیل احمد قاسمی صاحب نے اپنی تقریرمیں کہا کہ اپنے قوم کی نمایاں شخصیت اور ان کے کارنامے کو یاد کرنا بہت ضروری ہے , تب ہی تو ہماری نسل یہ جان سکے گی کہ ہمارے بڑوں نے ماضی میں ہمارے معاشرے کے لیے کتنی قربانیاں دیں, پروفیسر شکیل احمد قاسمی صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ فاطمہ شیخ ایوارڈ کے نام سے اسکولوں اور کالجوں میں بچیوں کے بیچ فاطمہ شیخ ایوارڈ دیا جائے جو ان کے علمی صلاحیت کو سراہنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ہو - محمد پرویز انور نے فرمایا کہ ہمیں یہ چاہیے کہ فاطمہ شیخ کی تصویر اور ان کے بارے میں معلوماتی کتابچہ وزیر اعلی وزیر تعلیم اور گورنر کو پیش کیا جائے اور فاطمہ شیخ کی تصویر کو ان کے دفتر میں لگانے کی مانگ کی جائے اور تعلیم کے حلقے میں نمایاں کام کرنے والی کسی خاتون کو فاطمہ شیخ ایوارڈ دیا جائے- معروف صحافی انوار الہدی صاحب نے فاطمہ شیخ کے بارے میں تفصیلی جانکاری شرکا کے بیچ شیئر کی, اسحاق اثر صاحب کی تقریر کو بھی لوگوں نے بہت سراہا جو کہ چھوٹی مگر بہت معلوماتی تھی حافظ ضیاء اللہ صاحب نے کہا کہ ہمارا ملک ساوتری بائی پھولے کو تو یاد رکھ رہا ہے لیکن ہمارے قوم کی ایک خاتون جس نے ساوتری بھائی پھولے کے ساتھ شانہ بشانہ قدم سے قدم ملا کر چلی ان کو بھول گیا ہے میں محمد پرویز انور کی تعریف کرتا ہوں جنہوں نے فاطمہ شیخ کو یاد کرنے کے لیے اس تقریب کا انعقاد کیا۔تنویر انصاری صاحب نے فاطمہ شیخ کے بارے میں بڑی گہرائی سے مطالعہ کر اپنی تحقیقی تقریر کو لوگوں کے بیچ پیش کیا جس کی وہاں موجود لوگوں نے بہت تعریف کی- خورشید انور صاحب نے پورے پروگرام کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جسے وہ اپنے یوٹیوب چینل پر پیش کریں گے- جناب ارشد فیروز صاحب کی صدارتی خطبے نے تمام لوگوں کا دل جیت لیا اور موجود لوگوں نے ان کی شمولیت کو تہہ دل سے سراہا- اخر میں پروگرام جناب پرویز صاحب کی شکریہ کی تجویز کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ڈاکٹر اظہار احمد صاحب نے محفل میں موجود شرکا کی دل کھول کر ضیافت کی جس کی لوگوں نے دل کی گہرائیوں سے پذیرائی کی۔محبان اردو منتظمہ کمیٹی:- صدر نسرین خاتون نائب صدر پروفیسر تنویر احسن نظامی شبیر زبیری و ہنا شبیر سیکرٹری محمد پرویز انور مشیر ہ سید شاہ جمال کاکوی, ممبران پروفیسر سعد اللہ قادری شاداب عالم و محمد نایاب۔


No comments:

Post a Comment