Sunday, 27 July 2025

گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کا 99واں یومِ تاسیس کل، ریاستی وزیر صحت منگل پانڈے مہمان خصوصی ہوں گے

 


پٹنہ، 27 جولائی:ریاست بہار کا واحد گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کل 28 جولائی بروز پیر اپنا 99واں یومِ تاسیس منانے جا رہا ہے۔ اس موقع پر ریاستی وزیر صحت مسٹر منگل پانڈے مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوں گے۔

گورنمنٹ طبی کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے بتایا کہ 1926 میں اس کالج کا قیام عمل میں آیا تھا اور اس کے ساتھ ہی گورنمنٹ آیورویدک کالج و اسپتال پٹنہ کی بھی بنیاد رکھی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک صدی کے سفر میں یہ ادارہ ریاست بہار ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کا ایک معروف طبی ادارہ بن چکا ہے، جہاں سے فارغ طلبہ ملک و قوم کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

یومِ تاسیس تقریب میں آئی سی ایم آر کی شاخ راجندر میموریل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کرشنا پانڈے اور طبی کالج کے فارغ التحصیل معروف طبیب مولانا (حکیم) شبلی القاسمی بھی شرکت کریں گے۔

ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے بتایا کہ طبی کالج کا پہلا خاکہ 28 مارچ 1915 کو آل انڈیا آیورویدک اینڈ یونانی طبی کانفرنس میں پیش کیا گیا تھا۔ اس کالج کا قیام حکیم اجمل خان اور ان کے رفقا کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس کے قیام میں سر گنیش دت، سر فخرالدین علی احمد، سر علی امام (چیف جسٹس)، حکیم ادریس، سر سید محمود، حکیم راشدالدین، حکیم قطب الدین، حکیم مظاہر احمد اور حکیم محمد صالح جیسی اہم شخصیات کی محنت شامل ہے۔

انہوں نے بتایاکہ اس کا قیام اس عہد کی یاد دلاتا ہے جب دیسی طب پرزوال طاری تھا۔برطانوی دور حکومت میں ہندوستانی تاریخ کا یہ پہلا سرکاری طبی کالج قائم کیا گیا۔ اس کالج سے طب کے بے شمار ماہرین مختلف میدانوں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

 انہوںنے کہاکہ اس پروگرام میں صدسالہ جشن اور اس کی تیاریوں کے سلسلے میںایک سال کے دورانیہ میں مختلف علمی، ثقافتی،فنی،طبی عوامی فلاح و بہبود کے میڈیکل کیمپ،عالمی طبی سیمینار جیسے پروگرام کے خاکہ کا اجرا عمل میں آے گا۔

ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے تمام ابنائے قدیم، یونانی طبی برادری اور شہر کی علمی شخصیات کو مدعو کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گزارش کی کہ وہ اس تاریخی موقع کو کامیاب بنانے میں اپنا تعاون فراہم کریں۔اس موقع پرکالج کے آڈیٹوریم میں مشاعرے کی محفل بھی سجے گی جس میں شعرا اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کریںگے۔

No comments:

Post a Comment