نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سینئر ریسرچ اسکالر غالب زیاد نے بہار قانون ساز کونسل کے معزز جے ڈی یو ایم ایل سی جناب خالد انور سے ملاقات کرکے ٹی آر ای ۔4 کے تحت اعلیٰ ثانوی (پی جی ٹی، جماعت 11–12) اساتذہ کی بھرتی، یونیورسٹی سطح پر اسسٹنٹ پروفیسر کی تقرری اور 211 نئے سرکاری ڈگری کالجوں میں عربی، فارسی، میتھلی، بنگلہ، بھوجپوری، مگہی، پالی اور پراکرت مضامین کے لیے تدریسی عہدے منظور کیے جانے کے مطالبے پر مشتمل ایک میمورنڈم پیش کیا۔
غالب زیاد نے کہا کہ فارسی، میتھلی، بنگلہ، پالی، عربی، پراکرت، بھوجپوری اور مگہی صرف زبانیں نہیں بلکہ بہار کی صدیوں پر محیط تاریخی، تہذیبی، ادبی اور علمی وراثت کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان زبانوں نے بہار کی مشترکہ ثقافت، علمی روایت اور فکری ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آج بھی پٹنہ یونیورسٹی، بی آر امبیڈکر بہار یونیورسٹی (مظفرپور)، تلکا مانجھی بھاگلپور یونیورسٹی، گیا یونیورسٹی، للت نارائن متھیلا یونیورسٹی، بی این منڈل یونیورسٹی سمیت بہار کی مختلف جامعات و یونیورسٹیز میں ان مضامین کی تعلیم دی جا رہی ہے اور طلبہ ایم اے، ایم فل (جہاں قابلِ اطلاق ہو) اور پی ایچ ڈی سطح تک تحقیق کر رہے ہیں۔ اسی طرح جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور بنارس ہندو یونیورسٹی جیسے ملک کے ممتاز تعلیمی اداروں میں بھی ان زبانوں کی تدریس اور تحقیق مسلسل جاری ہے۔
غالب زیاد نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ان زبانوں کا تعلق صرف کسی ایک مذہب یا ایک مخصوص طبقے سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان زبانوں کو ملک بھر میں مختلف مذاہب، ذاتوں اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ، اساتذہ اور محققین پڑھتے، پڑھاتے اور ان پر تحقیق کرتے ہیں۔ یہ زبانیں ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، ثقافت اور علمی وراثت کی نمائندہ ہیں، جن سے ہر طبقے کے لوگ وابستہ ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں حالیہ 211 نئے سرکاری ڈگری کالجوں کے لیے اساتذہ کی تقرری سے متعلق اطلاعات میں ان زبانوں کے لیے تدریسی عہدوں کی منظوری نہیں دی گئی۔ مزید برآں، یونیورسٹی سطح پر نہ صرف اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدوں پر طویل عرصے سے تقرریاں نہیں ہو رہی ہیں بلکہ نئی بھرتیوں میں بھی ان مضامین کو مناسب نمائندگی نہیں دی جا رہی۔ اس صورتحال کے باعث ان زبانوں کے ہزاروں طلبہ اور ریسرچ اسکالرز شدید بے چینی اور غیر یقینی کا شکار ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ان زبانوں کے لیے اساتذہ اور اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے ہی موجود نہیں ہوں گے تو ان مضامین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور محققین کا مستقبل کیا ہوگا؟ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کہاں جائیں گے؟ اگر تدریسی عہدے ہی ختم ہوتے گئے تو آنے والی نسلیں ان زبانوں کی تعلیم اور تحقیق سے کیسے مستفید ہوں گی؟
غالب زیاد نے کہا کہ ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 14 تمام شہریوں کو مساوات کا حق دیتا ہے، آرٹیکل 15 ہر قسم کے امتیاز کی ممانعت کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 29 زبانوں اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اسی جذبے کے تحت آئین کی آٹھویں جدول بھی ہندوستان کی لسانی و ثقافتی تنوع کے احترام اور تحفظ پر زور دیتی ہے۔
انہوں نے بہار حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹی آر ای -4، یونیورسٹی سطح پر اسسٹنٹ پروفیسر کی تقرری اور 211 نئے سرکاری ڈگری کالجوں میں عربی، فارسی، میتھلی، بنگلہ، بھوجپوری، مگہی، پالی اور پراکرت مضامین کے لیے اسسٹنٹ پروفیسر اور دیگر تدریسی عہدے فوری طور پر منظور کیے جائیں، تاکہ ان زبانوں کے طلبہ، محققین اور اساتذہ کا مستقبل محفوظ ہو سکے اور بہار کی مشترکہ تہذیبی و علمی وراثت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اس موقع پر معزز ایم ایل سی جناب خالد انور نے مطالبات پر ہمدردانہ غور کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وہ اس معاملے کو حکومتِ بہار اور معزز وزیرِ تعلیم کے سامنے مو¿ثر انداز میں اٹھانے کی کوشش کریں گے۔
یہ مطالبہ کسی ایک زبان، مذہب یا برادری کا نہیں، بلکہ بہار کی مشترکہ تہذیبی وراثت، اعلیٰ تعلیم، آئینی مساوات اور آنے والی نسلوں کے علمی مستقبل کے تحفظ کا مطالبہ ہے۔


