٭ اسحاق اثر نے اپنی پوری زندگی قلم کے ذریعے حق و انصاف کی آواز بلند کی اور اردو صحافت کو ایک نیا وقار عطا کیا: رضوان اصلاحی
محبان اردو کے زیر اہتمام معروف صحافی اسحاق اثر کی یاد میں تعزیتی نشست
پٹنہ : محبان اردو کے زیر اہتمام روزنامہ پیاری اردو پٹنہ کے دفتر میں اردو صحافت کے کہنہ مشق اور بے لوث خادم، جناب اسحاق اثر کی رحلت پر منعقد ایک پروقار تعزیتی نشست میں شہر کی ممتاز علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے انہیں پرخلوص خراج عقیدت پیش کیا۔ اس نشست میں مرحوم کی گراں قدر خدمات کو یاد کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اسحاق اثر کا خلا مدتوں تک محسوس کیا جائے گا۔
اس موقع پر مولانا رضوان عالم اصلاحی امیر جماعت اسلامی حلقہ بہار نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”موت ایک اٹل حقیقت ہے اور دنیا کی زندگی محض ایک امتحان گاہ ہے۔“انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں موت کی حقیقت پر مفصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی رضا میں راضی رہنا اور مصیبت کی گھڑی میں صبر کا دامن تھامنا ہی مومن کی اصل پہچان ہے۔ انہوں نے اسحاق اثر کی صحافتی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی قلم کے ذریعے حق و انصاف کی آواز بلند کی اور اردو صحافت کو ایک نیا وقار عطا کیا۔ ان کا انتقال علمی و صحافتی حلقوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
پروگرام کے روح رواں اور سابق رکن اسمبلی و تخمینہ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر اظہار احمد نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”جناب اسحاق اثر ایک ہمہ جہت اور ہرفن مولا شخصیت کے مالک تھے۔“ان کی رپورٹنگ میں جہاں سچائی اور گہرائی ہوتی تھی، وہیں اردو زبان پر ان کی گرفت بھی بے حد مضبوط تھی۔ وہ اردو کے ایسے بے لوث خادم تھے جنہوں نے کبھی کسی صلے کی پروا کیے بغیر اپنا سفر جاری رکھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے اب تین ممتاز شخصیات؛ مرحوم اجمل فرید صاحب، فاروقی تنظیم کے مالک مرحوم ظفرصاحب اور اسحاق اثر کے نام سے اردو کے خادموں اور صحافیوں کے لیے خصوصی ایوارڈز کا سلسلہ شروع کیا جائے گا تاکہ نئی نسل ان کے نقش قدم پر چل سکے۔
سابق وزیر اخلاق احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق اثر کی رحلت سے صحافت کا ایک باب بند ہو گیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کی تدریسی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ جس طرح قلم کے دھنی تھے، اسی طرح تدریس کے میدان میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق اثر صرف ایک صحافی نہیں تھے بلکہ وہ اردو زبان کے ایک سچے محافظ اور ہمدرد تھے، جن کی خدمات کو آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھیں گی۔
ارشد فیروز (سابق چیئرمین، بہار گورنمنٹ اردو لائبریری پٹنہ) نے کہا کہ اسحاق اثر نے صحافت کے میدان اور تحریک اردو میں جو کردار ادا کیا، وہ ناقابل فراموش ہے۔ ان کا جانا اردو صحافت کیلئے ایک بڑا خسارہ ہے۔
اسلم جاویداں نے کہا کہ اسحاق صاحب انتہائی خوش اخلاق اور ملنسار انسان تھے، جو ہر کسی سے خندہ پیشانی سے ملتے تھے۔ وہ اردو کے سچے خادم تھے اور ان کی وفات سے اردو دنیا ایک مخلص دوست سے محروم ہو گئی ہے۔
محمد شریف (ڈین، لاءکالج) اور رضا عالم دانش (جے ڈی یو لیڈر) نے اپنے مختصر تعزیتی پیغامات میں مرحوم کی علمی دیانت داری اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی مغفرت کی دعا کی۔
کرنل عظیم، سراج انور، قمر الحسن اور افروز فانی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق اثر جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اردو اور صحافت کے نام کر دی۔
ان کے علاوہ نواب عتیق الزماں ، مبین الہدی ، فاطمہ ڈگری کالج کے پرنسپل انور امام ، سب انسپکٹر شہنواز عالم ، ڈاکٹر فیض احمد قادری ، مالے لیڈر مسز صبا ، محمد رفیع ، عظمت اللہ ابو سعید ، سبودھ برنوال ، اسحاق اثر کے صاحبزادے انجینئر ذیشان ، محمد شاہد اختر ڈائریکٹر عوامی کوآپریٹیو بینک نے بھی اپنے تاثرات پیش کئے اور مرحوم کی مغفرت اور بلندی ¿ درجات کی دعا کی ۔
مشہور شاعر جمال کاکوی نے اپنے اشعار کے ذریعہ اسحاق اثر کو پرخلوص خراج عقیدت پیش کیا۔
اس موقع پر فصیح صاحب، روزنامہ تاثیر کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر گوہر کے بھی سانحہ ارتحال پر مذکورہ تمام لوگوں نے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور انہیں اپنی دعاﺅں میں یاد کیا ۔
نشست کا اختتام مرحوم اسحاق اثر ، فصیح صاحب اوررکن پارلیمنٹ طارق انور کی خوش دامن اور مرحوم شمائل نبی کی اہلیہ سمیت دیگر مرحومین کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ ہوا۔
پروگرام کا آغاز حافظ غلام سرور ندوی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، پروگرام کی نظامت پرویز عالم نے کی ۔ مرحوم نسیم انصاری کے صاحبزادے محمد عمران ، مشتاق خان ،خورشید عالم، محمد حسنین، محمد نوشاد عالم نے پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کر دار ادا کیا ۔
No comments:
Post a Comment