Showing posts with label سیاسی خبریں. Show all posts
Showing posts with label سیاسی خبریں. Show all posts

Sunday, 19 July 2026

ڈاکٹر محمد جاوید آزاد ایک نیک اور شریف سیاستداں

 



 بہار کے ضلع کشن گنج سے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر محمد جاوید آزاد ایک نیک اور نہایت شریف مزاج رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس کے سینئر رہنما ہونے کے ساتھ پیشے کے اعتبار سے ایک معالج بھی ہیں۔ڈاکٹر جاوید آزاد 2024 کے ہندوستانی عام انتخابات میں مسلسل دوسری بار بہار کے کشن گنج لوک سبھا حلقے سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔ وہ کانگریس پارٹی کے لوک سبھا میں چیف وِپ کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کانگریس پارٹی کی قومی انتخابی کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔سیمانچل کے عوام کے ساتھ ساتھ پوری ریاست بہار کے عام لوگ ڈاکٹر جاوید صاحب کی سادگی اور شفاف سیاست کی وجہ سے انہیں بے حد پسند کرتے ہیں۔

سیاسی سفر

رکن پارلیمنٹ بننے سے قبل ڈاکٹر جاوید صاحب سال 2000 سے مسلسل 4 مرتبہ بہار قانون ساز اسمبلی کے رکن یعنی ایم ایل اے رہے۔ 2000 سے 2004 تک وہ بہار حکومت میں مختلف محکموں کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ ایم ایل اے بننے سے پہلے انہوں نے کشن گنج کے عام عوام کی ایک معالج کی حیثیت سے مفت خدمت بھی کی۔

تعلیم اور پیشہ 

پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے سرینگر کے سرکاری میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔

پارلیمانی کام 

پارلیمنٹ میں وہ کشن گنج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا مرکز قائم کرنے، جلال گڑھ-کشن گنج ریل لائن منصوبے اور کشن گنج لوک سبھا حلقے کی ترقی و خوشحالی سے جڑے متعدد اہم مسائل کو مسلسل اور مضبوطی کے ساتھ اٹھاتے رہتے ہیں۔


ذات یا مذہب کی بنیاد پر ووٹ دینے کے بجائے ایک قابل اور ایماندار امیدوار کا انتخاب کریں : پرشانت کشور

 



پٹنہ: جن سوراج پارٹی کے روح رواں پرشانت کشور نے بانکی پور اسمبلی حلقے میں عوامی مکالمے کے دوران ریاست کی سیاست میں مثبت تبدیلی اور انتخابی عمل میں عوام کے کردار پر زور دیا۔

بانکی پور کے دانشوران سے خطاب کرتے ہوئے پرشانت کشور نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں سے بہار کی سیاست بنیادی طور پر ذات، مذہب اور ”جنگل راج“ کے خوف کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی موضوعات نے ریاست کی ترقی کے عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔


بانکی پور ضمنی انتخاب کی اہمیت

انہوں نے کہا کہ بانکی پور کا ضمنی انتخاب صرف ایک ایم ایل اے کے انتخاب کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ بی جے پی کے سیاسی تکبر کو چیلنج کرنے اور اقتدار میں بیٹھی قیادت کو جوابدہ بنانے کا سنہری موقع ہے۔

پرشانت کشور نے دعویٰ کیا کہ اگر بانکی پور میں بی جے پی کو شکست ہوتی ہے تو یہ پیغام سیدھا پارٹی کے مرکزی قیادت تک جائے گا۔ اس کے نتیجے میں ریاست کی قیادت جیسے سمراٹ چودھری کی سطح پر بھی تبدیلی کا امکان بڑھ جائے گا۔


عوام سے اپیل

مکالمے کے دوران انہوں نے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ جھنڈے کے رنگ، ذات یا مذہب کی بنیاد پر ووٹ دینے کے بجائے ایک قابل اور ایماندار امیدوار کا انتخاب کریں تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے بہتر مواقع پیدا ہو سکیں۔


پرشانت کشور نے موجودہ سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندے لاپرواہ ہو چکے ہیں۔ بانکی پور میں شکست کا خوف ہی انہیں عوام کے تئیں زیادہ جوابدہ اور حساس بننے پر مجبور کرے گا۔



مکالمے میں خطاب کرنے والے مقررین

اس عوامی مکالمے میں ابو اللیث صاحب، ایم ایل سی آفاق احمد، ابو عفان فاروقی، کمار سورو، سابق ایم ایل اے کشور منا، پروفیسر منور جہاں، ڈاکٹر آشا ٹھاکر گائنا کولوجسٹ، ڈاکٹر شگفتہ یاسمین، فزکس کے پروفیسر آفتاب عالم اور رامانشو سمیت شہر کے ممتاز دانشوروں اور سماجی کارکنوں نے خطاب کیا۔ 


پرشانت کشور نے عوام سے کہا کہ وہ اپنے ووٹ کی طاقت کو صحیح سمت میں استعمال کریں تاکہ بہار کی سیاست میں ایک نئے اور مثبت دور کا آغاز ہو سکے۔




Tuesday, 14 April 2026

نوئیڈا کی سڑکوں پر جو ہوا، وہ اس ملک کے مزدوروں کی آخری چیخ ہے

 



لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نوئیڈا میں احتجاجی کارکنوں کی حمایت میں کھل کر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل نوئیڈا کی سڑکوں پر جو ہوا، وہ اس ملک کے مزدوروں کی آخری چیخ تھی، جس کی آواز کو نظر انداز کیا گیا، جو اپنا حق مانگتے مانگتے تھک گئے۔ نوئیڈا میں کام کرنے والے ایک مزدور کی 12000 ماہانہ تنخواہ اور 4000 سے 7000 تک کرایہ۔ جب تک 300 روپے کا سالانہ اضافہ ملتا ہے، مکان مالک 500 روپے سالانکہ کرایہ بڑھا دیتا ہے۔ تنخواہ بڑھنے تک یہ بے لگام مہنگائی زندگی کا گلا گھونٹ دیتی ہے، قرض کی گہرائی میں ڈوبا دیتی ہے۔ یہی ہے ترقی یافتہ ہندوستان کا سچ۔




راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پوسٹ میں ایک خاتون مزدور کے بیان کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ایک خاتون مزدور نے کہا کہ گیس کی قیمت بڑھتی ہے، لیکن ہماری تنخواہ نہیں۔ ان لوگوں نے شاید اس گیس بحران کے دوران اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے 5000 کا بھی سلنڈر خریدا ہوگا۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’’یہ صرف نوئیڈا کی بات نہیں ہے، اور یہ صرف ہندوستان کی بھی بات نہیں ہے۔ پوری دنیا میں ایندھن کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں، مغربی ایشیا میں جنگ کی وجہ سے سپلائی چین ٹوٹ گئی ہے۔ لیکن امریکہ کے ٹیرف وار، عالمی مہنگائی اور ٹوٹتی سپلائی چین کا بوجھ مودی کے دوست صنعتکاروں پر نہیں پڑا۔ اس کی سب سے بڑی مار پڑ رہی ہے اس مزدور پر جو یومیہ اجرت پر کام کرتا ہے تبھی روز کھاتا ہے۔‘‘



کانگریس لیڈر نے مزید لکھا کہ ’’وہ مزدور، جو کسی جنگ کا حصہ نہیں، جس نے کوئی پالیسی نہیں بنائی - وہ بس کام کرتا رہا۔ خاموشی سے، بغیر کسی شکایت کے۔ اور جب وہ اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہے، تو اسے کیا ملتا ہے؟ دباؤ اور جبر۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ایک اور نہایت اہم مسئلہ - مودی حکومت نے جلد بازی میں بغیر کسی مشاورت کے نومبر 2025 سے 4 لیبر کوڈ نافذ کر دیے، جن کے تحت کام کے اوقات کو بڑھا کر روزانہ 12 گھنٹے تک کر دیا گیا۔ وہ مزدور جو روزانہ 12–12 گھنٹے کھڑا ہو کر کام کرتا ہے، اور پھر بھی اپنے بچوں کی اسکول فیس ادا کرنے کے لیے قرض لیتا ہے - کیا اس کا مطالبہ غیر معقول ہے؟ اور جو ہر روز اس کے حقوق کو کچل رہا ہے - کیا اسے ترقی کہا جا سکتا ہے؟‘‘ ان کے مطابق نوئیڈا کا مزدور 20000 روپے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ لالچ نہیں بلکہ یہ اس کا حق ہے، اس کی زندگی کی واحد بنیاد ہے۔ میں ہر ایسے مزدور کے ساتھ کھڑا ہوں، جو اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر اس حکومت نے اسے بوجھ بنا دیا ہے۔


ہو گیا پلٹی بازی کے دھرندھر چاچا جی کا استعفیٰ‘

 

روہنی آچاریہ نے نتیش کمار پر چلائے طنز کے تیر




نتیش کمار نے بہار کے وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے، اور سمراٹ چودھری کو بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر بھی منتخب کر لیا ہے۔ یعنی نتیش کمار کا دور ختم، اور بہار میں پہلی بار بی جے پی لیڈر کے وزیر اعلیٰ بننے کا راستہ ہموار۔ موجودہ صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے لالو پرساد کی بیٹی روہنی آچاریہ نے نتیش کمار پر طنز کے تیر چلائے ہیں، جو تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہے ہیں۔



سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر روہنی آچاریہ نے نتیش کمار کے استعفیٰ پر اپنا تلخ رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے نتیش کمار کو ’پلٹی بازی میں دھرندھر‘ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ آخر کار ان کا استعفیٰ ہو ہی گیا۔ انھوں نے پوسٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ جو لوگ ان کے ساتھ نظر آتے ہیں، حقیقت میں وہی ان کے خلاف سازش کر رہے تھے۔



سوشل میڈیا پوسٹ میں روہنی لکھتی ہیں کہ ’’آخر کار ہو ہی گیا پلٹی بازی کے دھرندھر ہمارے چاچا جی کا استعفیٰ۔ بننے چلے تھےس یاست کے خلیفہ، بے بسی میں خود ہی سپرد کر آئے گورنر محترم کو اپنی سیاسی پاری کے خاتمہ کا لفافہ۔‘‘ انھوں نے آگے لکھا ہے کہ ’’بڑے افسوس کی بات ہے، چاچا جی کے غم میں سچے دن سے نہیں کوئی ان کے ساتھ ہے، اوپر سے جو بھی نظر آتا ان کے ساتھ ہے، حقیقت میں وہی چاچا جی پر لگائے بیٹھا گھات ہے۔‘‘



پوسٹ کے آخر میں روہنی نے لکھا ہے کہ ’’زیادہ کیا کہوں، بس اتنا ہی کافی ہے... جھوٹی شیخی بگھارنے والے چاچا جی کی اونچی اڑان کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے، چاچا جی کے پر ان کے ہی اپنے کہے جانے والے سیاسی بہیلیے کتر گئے۔‘‘ روہنی کے ذریعہ کیے گئے اس طنزیہ پوسٹ کو صارفین نہ صرف پسند کر رہے ہیں، بلکہ اس پر تبصرہ کرنے کے ساتھ ساتھ ری-پوسٹ بھی کر رہے ہیں۔



روہنی آچاریہ نے مزید ایک پوسٹ میں بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ ’’وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے بی جے پی کو ایک گھمنتو ہی ملا!! اپنی تاسیس کے 46 سال گزر جانے کے بعد بھی بہار میں بی جے پی کے پاس لیڈرشپ کی ایسی خشک سالی ہے کہ بی جے پی نہ تو کبھی اپنے دم پر حکومت بنا سکی، نہ ہی کبھی کسی اسمبلی انتخاب میں اپنا کوئی وزیر اعلیٰ کا چہرہ سامنے رکھ سکی، اور نہ ہی وسیع عوامی مقبولیت و شناخت والا ایک لیڈر تیار کر سکی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’بہار میں بی جے پی کی سیاسی کنگالی کا عالم تو کچھ ایسا ہے کہ اب جب سالوں کی مشقت کے بعد بی جے پی نتیش کمار جی کو سازش کے سہارے وزیر اعلیٰ کی کرسی سے ہٹانے میں کامیاب ہوئی، تب بھی بی جے پی کسی ایسے کو وزیر اعلیٰ بنانے جا رہی ہے، جو بنیادی طور پر نہ تو ناگپوریا نرسری سے ہے اور نہ ہی بہار بی جے پی کی بنجر بگیا سے۔‘‘ اس پوسٹ کے آخر میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں کہ ’’بغیر قسم پوری کیے مریٹھا کھولنے، فرضی ڈگری، فرضی پیدائش سرٹیفکیٹ والا وزیر اعلیٰ مبارک ہو بی جے پی والوں...۔‘‘


سمراٹ چودھری ہوں گے بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ، گورنر کو حکومت سازی کا دعویٰ پیش کیا




بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری ہوں گے۔ اس بات پر اُس وقت مہر لگ گئی، جب بی جے پی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں انہیں لیڈر منتخب کر لیا گیا۔ اس میٹنگ میں وجے سنہا نے ان کے نام کا اعلان کیا۔ میٹنگ میں ریاستی صدر سنجے سراوگی اور بی جے پی کے مبصر شیوراج سنگھ چوہان موجود تھے۔ سمراٹ چودھری کے نام کی حمایت دلیپ جیسوال اور منگل پانڈے نے بھی کی۔ بعد ازاں سمراٹ چودھری نے بہار کے گورنر سید عطا حسنین سے ملاقات کر ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کا دعویٰ پیش کر دیا۔ گورنر نے ان کا یہ دعویٰ قبول کر لیا ہے اور 15 اپریل کی صبح 11 بجے حلف برداری تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تقریب میں سمراٹ چودھری بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ کی شکل میں حلف لیں گے اور ان کے ساتھ بہار کی نئی کابینہ کے کچھ اراکین کی بھی حلف برداری ہوگی۔




بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیے جانے کے بعد سمراٹ چودھری کا پہلا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’بی جے پی کی مرکزی قیادت کے ذریعہ مجھ پر بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے بہار بی جے پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر کی ذمہ داری سونپی گئی، اس کے لیے میں دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ میرے لیے صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ بہار کی عوام کی خدمت، ان کے اعتماد اور خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ میں پوری ایمانداری کے ساتھ عوام کی امیدوں پر کھرا اترنے کا عزم لیتا ہوں۔‘‘




واضح رہے کہ نتیش کمار نے منگل (14 اپریل) کو گورنر ہاؤس پہنچ کر اپنا استعفیٰ سونپ دیا تھا۔ وہ سمراٹ چودھری اور وجے چودھری کے ساتھ ایک ہی گاڑی سے راج بھون پہنچے تھے۔ نتیش کمار نے 20 نومبر 2025 کو وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لیا تھا۔ آج 14 اپریل کو استعفیٰ دینے کے بعد یہ مدت کار 145 دنوں کی ہوئی، یہ دوسری بار ہے جب نتیش کمار انتہائی کم مدت کے لیے وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس سے قبل 2000 میں انہوں نے 3 مارچ کو وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لیا تھا، لیکن 10 مارچ کو ہی انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔


آج صبح سے ہی بہار میں سیاسی ہلچل کافی تیز تھی۔ صبح صبح وزیر اعلیٰ کی رہائش پر سنجے جھا، وجے چودھری اور للن سنگھ پہنچے تھے۔ اس کے بعد سمراٹ چودھری بھی وہاں پہنچے۔ تقریباً نصف گھنٹے کی میٹنگ کے بعد وجے چودھری، سمراٹ چودھری اور نتیش کمار ایک ہی گاڑی سے وزیر اعلیٰ کی رہائش سے باہر نکلے۔ گاڑی کی اگلی سیٹ پر وجے چودھری بیٹھے تھے، جبکہ پیچھے کی سیٹ پر سمراٹ چودھری اور نتیش کمار موجود تھے۔



قابل ذکر ہے کہ آخری کابینہ میٹنگ میں نتیش کمار جذباتی نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ 2005 میں جب وہ حکومت میں آئے، تب سے جہاں تک ممکن ہوا انہوں نے کام کیا اور نئی حکومت کو ان کی رہنمائی ملتی رہے گی۔ اس میٹنگ کے بعد کئی وزراء نے نتیش کمار کی مدت کار کو تاریخی قرار دیا۔