E-Paper
- page-8
- page-7
- Page-6
- Page-5
- Page-4
- Page-3
- Page-2
- Page-1
- English News
- Patna Hindi News
- خصوصی ای میگزین/Special E-Magazine
- Home
- BIHAR NEWS
- UP/یوپی
- Advertisement
- classified/کلاسیفائیڈ
- About Us
- PATNA
- Contact Us
- Eid 2026/اسپیشل عید
- کاروباری شخصیات
- Educational institutions/تعلیمی ادارے
- مضامین
- ملکی/بین الاقوامی خبریں
- ریاستی خبریں
- مبارکبادیاں
- سیاسی خبریں
- جاب/کیریئر/سرکاری نوکری
- صحت/Health
Wednesday, 27 May 2026
17 لاکھ سے زائد حجاج کرام نے مناسکِ حج ادا کیے
مکہ مکرمہ
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے اسٹیٹسٹکس (محکمہ شماریات) نے اعلان کیا ہے کہ حج سنہ 1447ھ کے سیزن کے لیے حجاج کرام کی کل تعداد 17,07,301 رہی ہے، جن میں مختلف سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے سعودی عرب سے باہر سے آنے والے 15,46,655 حجاج کرام شامل ہیں۔
اسی تناظر میں، سعودی محکمہ شماریات کے ڈیٹا کے مطابق سعودی شہریوں اور مملکت میں مقیم غیر ملکیوں پر مشتمل داخلی حجاج کی تعداد 1,60,646 رہی۔
محکمے نے اپنے شماریاتی نتائج میں واضح کیا ہے کہ اندرون اور بیرون ملک کے مجموعی حجاج میں سے مرد حجاج کی تعداد آٹھ لاکھ، 93 ہزار396 تھی، جبکہ خواتین حجاج کی تعداد 813,905 رہی۔
فضائی راستے حجاج کی آمد میں سب سے آگے
محکمہ شماریات نے بتایا کہ مملکت سے باہر سے آنے والے بیشتر حجاج کرام فضائی گزرگاہوں کے ذریعے پہنچے، جن کی کل تعداد 1,485,729 رہی، جبکہ 54,429 حجاج زمینی راستوں سے اور 6,497 حجاج بحری گزرگاہوں کے ذریعے پہنچے۔
عمومی مقتدرہ برائے شماریات نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے حج سنہ 1447ھ کے ڈیٹا اور انڈیکیٹرز کے اجراء کے لیے وزارتِ داخلہ کے ایڈمنسٹریٹو ریکارڈز پر انحصار کیا ہے جو کہ ڈیٹا کا بنیادی ذریعہ ہے۔ یہ ایک ایسے متحد شماریاتی ماڈل کے تحت کیا گیا ہے جس کا مقصد انتہائی درست اور قابلِ اعتماد ڈیٹا فراہم کرنا ہے، جو کہ گذشتہ چھ برسوں کے دوران اپنائے گئے شماریاتی طریقہ کار کا ہی تسلسل ہے۔
سعودی عرب میں اعداد و شمار کا سرکاری ادارہ
واضح رہے کہ عمومی مقتدرہ برائے شماریات مملکتِ سعودی عرب میں شماریاتی ڈیٹا اور معلومات کے لیے واحد اور سرکاری حوالہ ہے، جو منظور شدہ طریقہ کار اور معیارات کے مطابق قومی اشاریے اور اعداد و شمار جاری کرنے کی ذمہ دار ہے۔
بیت اللہ میں روح پرور مناظر، حجاج طوافِ زیارت میں مصروف
سعودی عرب
مکۃ المکرمہ
عیدالاضحیٰ کی صبح سویرے ہی مسجد الحرام کے صحنوں اور راہداریوں میں حجاجِ بیت اللہ کی بڑی تعداد جمع ہوگئی، جہاں انہوں نے پُرامن، روحانی اور ایمان افروز ماحول میں طوافِ زیارت ادا کیا۔
ضیوفِ رحمن کی سہولت اور خدمت کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے مکمل اور جامع انتظامات کیے گئے، تاکہ حجاج کرام عبادات اطمینان اور سکون کے ساتھ ادا کر سکیں۔
حجاج کی مشاعر مقدسہ کے درمیان نقل و حرکت میں ہمواری
حجاج کرام کے قافلے گزشتہ رات آدھی رات کے بعد مزدلفہ سے منیٰ کی جانب روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے جمرہ عقبہ کبریٰ کو سات کنکریاں مارنے کا مناسک ادا کیا۔
اس سے قبل اللہ کے فضل سے وہ میدانِ عرفات میں وقوف اور حج کا اہم ترین رکن ادا کر چکے تھے، جس کے بعد انہوں نے مزدلفہ میں رات قیام کیا۔
مشاعر مقدسہ کے درمیان حجاج کی نقل و حرکت انتہائی منظم اور ہموار انداز میں جاری رہی، جو پہلے سے تیار کردہ انتظامی اور تفویجی منصوبوں کے مطابق تھی، تاکہ بڑے مجمع کی سلامتی اور آسانی کے ساتھ مناسک کی ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
مسجد الحرام میں مسلسل صفائی اور جراثیم کشی
مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ کے امور کی دیکھ بھال کرنے والی جنرل اتھارٹی نے آپریشنل تیاریوں کے تحت مسجد الحرام، صحنِ طواف، راہداریوں اور صحنوں میں صفائی اور جراثیم کشی کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔
یہ عمل جدید ترین مشینری اور آلات کے ذریعے حجاج کی آمد سے قبل اور ان کی روانگی کے بعد باقاعدگی سے انجام دیا جا رہا ہے۔
اتھارٹی نے ضیوفِ رحمن کے داخلے اور اخراج کے لیے مخصوص راستے بھی تیار کیے ہیں، جو منظم منصوبہ بندی اور ہجوم کے بہتر انتظام کے تحت فعال ہیں۔ یہ تمام اقدامات سیکیورٹی، انتظامی اور صحت کے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون سے نافذ کیے جا رہے ہیں۔
جدید ٹھنڈک اور ائیر کنڈیشننگ کا مربوط نظام
اتھارٹی نے ایک مربوط اور جدید ائیر کنڈیشننگ نظام کو فعال کیا ہے تاکہ مسجد الحرام کے تمام حصوں میں صاف اور ٹھنڈی ہوا فراہم کی جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ بیرونی صحنوں اور حرم کی طرف جانے والے راستوں کو بھی ٹھنڈا رکھنے کے انتظامات کیے گئے ہیں، تاکہ زیادہ رش اور بلند درجہ حرارت کے باوجود حجاج کرام کو طوافِ افاضہ کی ادائیگی کے دوران بہتر اور آرام دہ ماحول میسر آ سکے۔
ضیوفِ رحمن کے لیے جامع خدمات
متعلقہ ادارے ضیوفِ رحمن کو سہولت فراہم کرنے کے لیے فیلڈ، انتظامی اور صحت سے متعلق خدمات 24 گھنٹے جاری رکھے ہوئے ہیں، تاکہ حجاج کرام اپنے مناسک امن اور سکون کے ساتھ ادا کر سکیں۔
یہ تمام اقدامات ایک مربوط آپریشنل نظام کے تحت کیے جا رہے ہیں، جو حجاج کی خدمت اور بڑے اجتماعات کے انتظام میں مملکت کی اعلیٰ تیاری اور تجربے کی عکاسی کرتا ہے۔
عید الاضحیٰ قربانی، بھائی چارہ اور انسانیت کا پیغام ہے - ایڈووکیٹ شاہد اطہر
دربھنگہ: متھلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس کے ڈائریکٹر ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے عید الاضحیٰ کے پُرمسرت موقع پر تمام اہلِ وطن خصوصاً دربھنگہ اور متھلانچل کے عوام کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ عید الاضحیٰ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی، صبر، ایثار اور اللہ کی رضا کے لیے مکمل سپردگی کی یاد دلاتی ہے۔ یہ مبارک تہوار محبت، بھائی چارہ، اخوت اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔
ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ آج کے دور میں سماج کو باہمی اتحاد، امن و امان اور بھائی چارے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ عید کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوں، غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں اور معاشرے میں محبت و ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ تعلیم، اخلاقیات اور سماجی ذمہ داریوں کے تئیں بیدار رہیں کیونکہ ترقی کا راستہ اچھی تعلیم اور مثبت سوچ سے ہو کر گزرتا ہے۔ آخر میں انہوں نے دعا کی کہ یہ مبارک تہوار سبھی کی زندگیوں میں خوشحالی، امن، ترقی اور برکت لے کر آئے۔
Saturday, 23 May 2026
٭اسحاق اثر ایک ہمہ جہت اور ہرفن مولا شخصیت تھے، ان کی کمی مجھے ہمیشہ محسوس ہوگی:ڈاکٹر اظہار احمد
٭ اسحاق اثر نے اپنی پوری زندگی قلم کے ذریعے حق و انصاف کی آواز بلند کی اور اردو صحافت کو ایک نیا وقار عطا کیا: رضوان اصلاحی
محبان اردو کے زیر اہتمام معروف صحافی اسحاق اثر کی یاد میں تعزیتی نشست
پٹنہ : محبان اردو کے زیر اہتمام روزنامہ پیاری اردو پٹنہ کے دفتر میں اردو صحافت کے کہنہ مشق اور بے لوث خادم، جناب اسحاق اثر کی رحلت پر منعقد ایک پروقار تعزیتی نشست میں شہر کی ممتاز علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے انہیں پرخلوص خراج عقیدت پیش کیا۔ اس نشست میں مرحوم کی گراں قدر خدمات کو یاد کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اسحاق اثر کا خلا مدتوں تک محسوس کیا جائے گا۔
اس موقع پر مولانا رضوان عالم اصلاحی امیر جماعت اسلامی حلقہ بہار نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”موت ایک اٹل حقیقت ہے اور دنیا کی زندگی محض ایک امتحان گاہ ہے۔“انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں موت کی حقیقت پر مفصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی رضا میں راضی رہنا اور مصیبت کی گھڑی میں صبر کا دامن تھامنا ہی مومن کی اصل پہچان ہے۔ انہوں نے اسحاق اثر کی صحافتی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی قلم کے ذریعے حق و انصاف کی آواز بلند کی اور اردو صحافت کو ایک نیا وقار عطا کیا۔ ان کا انتقال علمی و صحافتی حلقوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔
پروگرام کے روح رواں اور سابق رکن اسمبلی و تخمینہ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر اظہار احمد نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”جناب اسحاق اثر ایک ہمہ جہت اور ہرفن مولا شخصیت کے مالک تھے۔“ان کی رپورٹنگ میں جہاں سچائی اور گہرائی ہوتی تھی، وہیں اردو زبان پر ان کی گرفت بھی بے حد مضبوط تھی۔ وہ اردو کے ایسے بے لوث خادم تھے جنہوں نے کبھی کسی صلے کی پروا کیے بغیر اپنا سفر جاری رکھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے اب تین ممتاز شخصیات؛ مرحوم اجمل فرید صاحب، فاروقی تنظیم کے مالک مرحوم ظفرصاحب اور اسحاق اثر کے نام سے اردو کے خادموں اور صحافیوں کے لیے خصوصی ایوارڈز کا سلسلہ شروع کیا جائے گا تاکہ نئی نسل ان کے نقش قدم پر چل سکے۔
سابق وزیر اخلاق احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق اثر کی رحلت سے صحافت کا ایک باب بند ہو گیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کی تدریسی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ جس طرح قلم کے دھنی تھے، اسی طرح تدریس کے میدان میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق اثر صرف ایک صحافی نہیں تھے بلکہ وہ اردو زبان کے ایک سچے محافظ اور ہمدرد تھے، جن کی خدمات کو آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھیں گی۔
ارشد فیروز (سابق چیئرمین، بہار گورنمنٹ اردو لائبریری پٹنہ) نے کہا کہ اسحاق اثر نے صحافت کے میدان اور تحریک اردو میں جو کردار ادا کیا، وہ ناقابل فراموش ہے۔ ان کا جانا اردو صحافت کیلئے ایک بڑا خسارہ ہے۔
اسلم جاویداں نے کہا کہ اسحاق صاحب انتہائی خوش اخلاق اور ملنسار انسان تھے، جو ہر کسی سے خندہ پیشانی سے ملتے تھے۔ وہ اردو کے سچے خادم تھے اور ان کی وفات سے اردو دنیا ایک مخلص دوست سے محروم ہو گئی ہے۔
محمد شریف (ڈین، لاءکالج) اور رضا عالم دانش (جے ڈی یو لیڈر) نے اپنے مختصر تعزیتی پیغامات میں مرحوم کی علمی دیانت داری اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی مغفرت کی دعا کی۔
کرنل عظیم، سراج انور، قمر الحسن اور افروز فانی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق اثر جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اردو اور صحافت کے نام کر دی۔
ان کے علاوہ نواب عتیق الزماں ، مبین الہدی ، فاطمہ ڈگری کالج کے پرنسپل انور امام ، سب انسپکٹر شہنواز عالم ، ڈاکٹر فیض احمد قادری ، مالے لیڈر مسز صبا ، محمد رفیع ، عظمت اللہ ابو سعید ، سبودھ برنوال ، اسحاق اثر کے صاحبزادے انجینئر ذیشان ، محمد شاہد اختر ڈائریکٹر عوامی کوآپریٹیو بینک نے بھی اپنے تاثرات پیش کئے اور مرحوم کی مغفرت اور بلندی ¿ درجات کی دعا کی ۔
مشہور شاعر جمال کاکوی نے اپنے اشعار کے ذریعہ اسحاق اثر کو پرخلوص خراج عقیدت پیش کیا۔
اس موقع پر فصیح صاحب، روزنامہ تاثیر کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر گوہر کے بھی سانحہ ارتحال پر مذکورہ تمام لوگوں نے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور انہیں اپنی دعاﺅں میں یاد کیا ۔
نشست کا اختتام مرحوم اسحاق اثر ، فصیح صاحب اوررکن پارلیمنٹ طارق انور کی خوش دامن اور مرحوم شمائل نبی کی اہلیہ سمیت دیگر مرحومین کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ ہوا۔
پروگرام کا آغاز حافظ غلام سرور ندوی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، پروگرام کی نظامت پرویز عالم نے کی ۔ مرحوم نسیم انصاری کے صاحبزادے محمد عمران ، مشتاق خان ،خورشید عالم، محمد حسنین، محمد نوشاد عالم نے پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کر دار ادا کیا ۔
