Monday, 21 September 2026

ہم پیسے کے پیچھے بھاگنے والے نہیں، ہم نظریاتی لوگ ہیں" - افضل امام کا پرشانت کشور پر بڑا حملہ، انجمن اسلامیہ ہال میں ہزاروں کا ہجوم بولا، افضل ایک تحریک کا نام ہے_






*پٹنہ:* پٹنہ کے تاریخی _انجمن اسلامیہ ہال_ میں آج ایک بڑا سیاسی اجتماع دیکھنے کو ملا، جہاں پٹنہ سمیت پورے بہار سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ سابق میئر افضل امام کی حمایت میں جمع ہوئے۔


اجتماع میں موجود مقررین اور عوام نے ایک آواز میں کہا کہ پرشانت کشور نے افضل امام کے خلاف بول کر اچھا نہیں کیا۔ لوگوں نے نعرہ لگایا کہ _"افضل ہمارے لیڈر تھے، ہیں اور رہیں گے، افضل ایک تحریک کا نام ہے اور کسی کی تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔"_


اس موقع پر سابق میئر اور سینئر رہنما _افضل امام_ نے پرشانت کشور کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا:


> _"ہم لوگ نظریاتی لوگ ہیں، ہم پیسے کے پیچھے نہیں بھاگتے ہیں، پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے۔ یہ جس پروگرام میں جاتے ہیں تو ہمیشہ مسلم سیاست کی بات کرتے ہیں، حالانکہ مسلمانوں سے بڑا کوئی سیاستدان نہیں ہو سکتا، ہم نے سیکڑوں سال اس ملک پر حکمرانی کی ہے، ہمیں سیاست اچھی طرح معلوم ہے۔"_


افضل امام نے الزام لگایا کہ پرشانت کشور صرف مسلم ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہیں مسلم مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔


> _"یہ کبھی بھی آر ایس ایس یا وزیر اعظم یا وزیر داخلہ کے خلاف نہیں بولتے، صرف چھوٹے سیاستدانوں پر الزام لگاتے رہتے ہیں۔ یہ اصل میں مسلم ووٹوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کبھی بھی مسلم مسائل پر بات نہیں کرتے، کبھی بھی بلڈوزر ایکشن پر بات نہیں کرتے، آج مسلمانوں کے بچے جیلوں میں سڑ رہے ہیں ان کے بارے میں ایک لفظ نہیں بولتے۔ جب ان سے آر ایس ایس کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو جھلا اٹھتے ہیں۔ انہیں صرف مسلمانوں کا ووٹ چاہیے۔"_


افضل امام نے دو ٹوک اعلان کیا کہ پرشانت کشور کو اپنے الزام کا جواب دینا پڑے گا۔


> "جب انہوں نے الزام لگایا ہے تو انہیں جواب دینا پڑے گا ورنہ ان کا تعاقب جاری رہے گا۔ آج انجمن میں ہوا ہے، آئندہ باپو سبھا گار اور پورے بہار میں اس طرح کا پروگرام ہوگا اور ان کی حقیقت کو لوگوں خاص کر مسلمانوں کے سامنے لایا جائے گا تاکہ مسلمان ان کے فریب میں نہ آئیں۔ لوگوں نے انہیں کام کے لیے ووٹ دیا تھا نہ کہ کسی پر الزام تراشی کے لیے۔"

اس اجتماع میں سینئر صحافی *ریحان غنی، آفتاب اقبال اور مبین الہدیٰ* نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ افضل امام کی سیاست ہمیشہ اصولوں اور نظریات پر مبنی رہی ہے، پیسے اور اقتدار کی سیاست سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ مقررین نے کہا کہ پرشانت کشور کی سیاست صرف سوشل میڈیا اور بیان بازی تک محدود ہے، جبکہ افضل امام زمین پر عوام کے درمیان رہنے والے لیڈر ہیں۔ صحافیوں نے کہا کہ مسلمانوں کو ایسے موقع پرست سیاست سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔


اس اجتماع میں علماء، دانشوران، نوجوانوں اور عام شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جس سے یہ صاف ہو گیا کہ پٹنہ کی مسلم سیاست میں افضل امام آج بھی ایک مضبوط ستون ہیں۔

Friday, 18 September 2026

گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے طالب علم عبد المغنی کی شاندار کامیابی پر اساتذہ نے مبارکباد پیش کی





پٹنہ (پریس ریلیز): آل انڈیا آیوش پوسٹ گریجویٹ انٹرنس ٹیسٹ  یونانی میں گورنمنٹ طبی کالج و ہسپتال، پٹنہ کے ہونہار طالب علم *عبدالمغنی* نے 359 نمبرات اور 99.96 فیصد کے ساتھ آل انڈیا رینک 1 حاصل کر کے ادارہ کا نام روشن کیا ہے۔



ادارہ کے پرنسپل پروفیسر *محفوظ الرحمن صاحب*، *ڈاکٹر حکیم شفاعت کریم صاحب* اور تمام اساتذہ کرام نے اس موقع پر طالب علم عبدالمغنی کو دلی مبارکباد پیش کی۔ اساتذہ نے کہا کہ یہ کامیابی صرف طالب علم کی نہیں بلکہ پورے ادارہ کی محنت کا ثمرہ ہے اور ادارہ کے لیے فخر و اعزاز کا لمحہ ہے۔


 طالب علم عبدالمغنی اور دیگر طلبہ نے اپنے تمام اساتذہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی شب و روز محنت اور بہترین رہنمائی کی بدولت ہی یہ مقام حاصل ہوا ہے۔

معروف تاجر قاری علاء الدین کو ہمدرد بونانزا اسکیم میں ای-بائک کا انعام پورے دربھنگہ اور بہار کیلئے فخر کی بات


 معروف تاجر قاری علاء الدین کو ہمدرد بونانزا اسکیم میں ای-بائک کا انعام پورے دربھنگہ اور بہار کیلئے فخر کی بات




دربھنگہ، بہار: ضلع دربھنگہ کے معروف کتاب فروش اور یونانی ادویات کے تاجر *جناب قاری محمد علاء الدین صاحب* نے ملک کی معروف کمپنی *ہمدرد* کی جانب سے چلائی گئی *ہمدرد بونانزا اسکیم  میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔


ہمدرد کمپنی نے اپنے 120 سال مکمل ہونے کے موقع پر 9 کروڑ روپے کے انعامات کا اعلان کیا تھا، جس میں الیکٹرک کار، ای-بائک، دبئی اور کشمیر ٹور شامل تھے۔ اس اسکیم کے نتائج کا اعلان معروف اردو روزنامہ "انقلاب" پٹنہ ایڈیشن،  میں شائع کیا گیا ہے۔


اس فہرست میں *ای-بائک ونر (مالیت 1,00,000 روپے)* کے طور پر *محمد علاء الدین (قاری علاء الدین بک ڈپو اینڈ ہمدرد دواخانہ، دربھنگہ)* کا نام و تصویر نمایاں طور پر شائع ہوا ہے۔ یہ پورے دربھنگہ اور بہار کے لیے فخر کی بات ہے۔


قاری علاء الدین صاحب برسوں سے ہمدرد کی یونانی ادویات اور دینی کتب کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان کی دکان جالے دربھنگہ میں ہمدرد دواخانہ کے حوالے سے کافی مشہور ہے۔ ان کی ایمانداری اور خلوص کا یہ صلہ ہے کہ آج ان کا نام ملک بھر کے کامیاب تاجروں میں شامل ہوا ہے۔


اس موقع پر صحافی *محمد قمرالحسن،  اور پٹنہ کے صحافتی و ادبی حلقے کی جانب سے قاری صاحب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے کاروبار میں مزید برکت اور ترقی عطا فرمائے۔

Saturday, 12 September 2026

تین ہزار اساتذہ وزیر تعلیم کے ہاتھوں نوازے جائینگے

 



 وزیرِ تعلیم متھلیش تیواری 27 ستمبر کو 3000 سے زائد اساتذہ کو اعزاز سے نوازیں گے*


: پرائیویٹ اسکول اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر سید شمائل احمد نے وزیرِ تعلیم سے ملاقات کر کے نجی اسکولوں کے مسائل پر مطالباتی مکتوب پیش کیا*



وزیرِ تعلیم جناب متھلیش تیواری 27 ستمبر کو پٹنہ کے رویندر بھون میں منعقد ہونے والے چودہویں یومِ تکریمِ اساتذہ کا افتتاح کریں گے۔ اس تقریب میں ریاست بھر کے تین ہزار سے زائد 9اساتذہ کو اعزاز سے نوازا جائے گا۔ یہ اطلاع پرائیویٹ اسکول اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر سید شمائل احمد نے دی۔


سید شمائل احمد نے جمعہ کے روز وزیرِ تعلیم سے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس دوران بہار کے نجی اسکولوں کو درپیش مسائل، انتظامی مشکلات اور تعلیمی نظام کو مزید مستحکم بنانے کے حوالے سے تفصیلی اور مثبت گفتگو ہوئی۔


اس موقع پر انہوں نے وزیرِ تعلیم کو ایک تفصیلی مطالباتی مکتوب بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے چھوٹے اور درمیانے نجی اسکول محدود وسائل کے باوجود لاکھوں بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں اور روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ معاشی و سماجی طور پر پسماندہ بچوں کو تعلیم کے مرکزی دھارے سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔


*مطالباتی مکتوب کے اہم نکات درج ذیل ہیں:*


 آر ٹی ای کی واجب الادا رقم:* تعلیم کے حق کے قانون کے تحت نجی اسکولوں کی برسوں سے زیرِ التوا واجب الادا رقم کی فوری اور یکمشت ادائیگی کی جائے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اخراجات کے پیشِ نظر فی طالب علم معاوضے کی شرح میں مناسب اضافہ کیا جائے۔


 آر ٹی ای پورٹل:* تعلیمی سیشن 2019-20 سے زیرِ التوا داخلوں کے لیے پورٹل کو دوبارہ کھولا جائے اور داخلہ کے عمل کو شفاف، آسان اور اسکول دوست بنایا جائے۔


 ضلعی سطح پر شکایتوں کا ازالہ:* ضلعی سطح پر بلا جواز مداخلت اور اسکولوں کو ہراساں کرنے کی شکایات کے حل کے لیے واضح ہدایات اور مؤثر شکایت ازالہ نظام نافذ کیا جائے۔


 منظوری اور تجدید کا عمل:* اسکولوں کی منظوری اور تجدید کے پیچیدہ عمل کو مکمل طور پر آن لائن، شفاف اور وقت کا پابند بنایا جائے۔ مطلوبہ دستاویزات کی واضح فہرست جاری کی جائے اور ریاست و ضلع دونوں سطح پر مؤثر سنگل ونڈو سسٹم قائم کیا جائے۔


 پورٹلز کا انضمام:* یو-ڈائس پلس، اپار آئی ڈی، ای-شکشا کوش اور آدھار تصدیق سمیت دیگر آن لائن پورٹلز کو یکجا کیا جائے تاکہ ایک ہی معلومات بار بار درج نہ کرنی پڑے اور تکنیکی مسائل کے فوری حل کے لیے ضلعی سطح پر امدادی مراکز قائم کیے جائیں۔


 طلبہ کے مفاد کے مطالبات:* جماعت دوم سے ہشتم تک آن لائن داخلہ کے لیے مناسب وقت دیا جائے اور تاریخِ پیدائش، آدھار نمبر، والدین کے نام وغیرہ میں حقیقی غلطیوں کی درستگی کی سہولت دستاویزی ثبوت کی بنیاد پر فراہم کی جائے۔


 اسکول بس پالیسی:* اسکول بسوں کو عام تجارتی گاڑیوں سے الگ زمرے میں رکھا جائے اور فٹنس، پرمٹ اور ٹیکس سمیت دیگر امور کے لیے آسان، محفوظ اور عملی ٹرانسپورٹ پالیسی بنائی جائے۔


 مشترکہ مشاورتی کمیٹی:* نجی اسکولوں سے متعلق پالیسی سازی کے لیے محکمہ تعلیم اور اسکول تنظیموں پر مشتمل ایک مستقل مشترکہ مشاورتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔


وزیرِ تعلیم نے تمام مطالبات کو سنجیدگی سے سنا اور نجی اسکولوں کے جائز مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔


اس موقع پر سید شمائل احمد نے کہا کہ حکومت اور نجی اسکولوں کے درمیان بہتر رابطہ اور ہم آہنگی سے بہار کے تعلیمی نظام کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے وزیرِ تعلیم کی خلوص، کشادہ دلی اور تعلیم کے تئیں ان کے عزم کے لیے شکریہ ادا کیا۔

تعلیم معاشرےاور قوم کی تعمیر کا سب سےمؤثر ذریعہ ہے: محمد فیض




دربھنگہ۔ ما نو بی ایڈ کا لج کے پرنسپل محمد فیض نے متھلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس دربھنگہ کے کیمپس کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ادارے کی انتظامیہ اور ماہرینِ تعلیم کے ساتھ تعلیم کی موجودہ صورتحال، طلبہ کے مستقبل، معیاری تعلیم اور روزگار پر مبنی کورسز کے حوالے سے تفصیلی تعلیمی مکالمہ ہوا- محمد فیض نے ادارے کی تعلیمی سرگرمیوں اور طلبہ کے لیے دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا اور تعلیم کے شعبے میں ادارے کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ طلبہ کو ایسی تعلیم فراہم کرنا ضروری ہے جس سے ان میں علم، ہنر، خود اعتمادی، نظم و ضبط اور سماجی ذمہ داری کا احساس پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ "تعلیم وہ طاقت ہے جو انسان کو نہ صرف علم سے مالا مال کرتی ہے بلکہ اسے اپنا مستقبل خود سنوارنے کی صلاحیت بھی عطا کرتی ہے۔" تعلیمی مکالمے کے دوران اس بات پر خصوصی گفتگو ہوئی کہ بدلتے ہوئے وقت کے تقاضوں کے مطابق طلبہ کو معیاری اور عملی تعلیم فراہم کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی تعلیمی اداروں کے درمیان باہمی تعاون، تجربات کے تبادلے اور طلبہ کے بہتر مستقبل کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا- ایم آئ ٹی ایم ایس  کی انتظامیہ کی جانب سے چیئرمین ڈاکٹر احمد نسیم آرزو، ایڈووکیٹ شاہد اطہر، ڈائریکٹر (مارکیٹنگ اینڈ پروموشن)، گوپی کشن پرنسپل اور سماجی کارکن و مانو کے ملازم محمد چاند بابو نے محمد فیض کا استقبال کیا اور تعلیم کے شعبے میں ان کے تجربات اور مفید خیالات کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر انتظامیہ نے کہا کہ تعلیم کی ترقی کے لیے ماہرینِ تعلیم اور تعلیمی اداروں کے درمیان مسلسل مکالمہ انتہائی ضروری ہے۔ ایسے تعلیمی مکالموں کے ذریعے نئی سوچ، نئے مواقع اور طلبہ کے لیے بہتر تعلیمی ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔ محمد فیض نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ تعلیم کو صرف امتحان اور ملازمت تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے اپنی شخصیت اور معاشرے کی ترقی کا ذریعہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور باکردار نوجوان ہی مضبوط معاشرے اور ترقی یافتہ قوم کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔