Showing posts with label ریاستی خبریں. Show all posts
Showing posts with label ریاستی خبریں. Show all posts

Wednesday, 5 August 2026

جے این یو کے سینئر ریسرچ اسکالر غالب زیاد نے ایم ایل سی خالد انور کو میمورنڈم پیش کیا، بہار میں کلاسیکی و علاقائی زبانوں کے تحفظ اور تدریسی عہدوں کی بحالی کا مطالبہ

 








 نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سینئر ریسرچ اسکالر غالب زیاد نے بہار قانون ساز کونسل کے معزز جے ڈی یو ایم ایل سی جناب خالد انور سے ملاقات کرکے ٹی آر ای ۔4 کے تحت اعلیٰ ثانوی (پی جی ٹی، جماعت 11–12) اساتذہ کی بھرتی، یونیورسٹی سطح پر اسسٹنٹ پروفیسر کی تقرری اور 211 نئے سرکاری ڈگری کالجوں میں عربی، فارسی، میتھلی، بنگلہ، بھوجپوری، مگہی، پالی اور پراکرت مضامین کے لیے تدریسی عہدے منظور کیے جانے کے مطالبے پر مشتمل ایک میمورنڈم پیش کیا۔

غالب زیاد نے کہا کہ فارسی، میتھلی، بنگلہ، پالی، عربی، پراکرت، بھوجپوری اور مگہی صرف زبانیں نہیں بلکہ بہار کی صدیوں پر محیط تاریخی، تہذیبی، ادبی اور علمی وراثت کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان زبانوں نے بہار کی مشترکہ ثقافت، علمی روایت اور فکری ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آج بھی پٹنہ یونیورسٹی، بی آر امبیڈکر بہار یونیورسٹی (مظفرپور)، تلکا مانجھی بھاگلپور یونیورسٹی، گیا یونیورسٹی، للت نارائن متھیلا یونیورسٹی، بی این منڈل یونیورسٹی سمیت بہار کی مختلف جامعات و یونیورسٹیز میں ان مضامین کی تعلیم دی جا رہی ہے اور طلبہ ایم اے، ایم فل (جہاں قابلِ اطلاق ہو) اور پی ایچ ڈی سطح تک تحقیق کر رہے ہیں۔ اسی طرح جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور بنارس ہندو یونیورسٹی جیسے ملک کے ممتاز تعلیمی اداروں میں بھی ان زبانوں کی تدریس اور تحقیق مسلسل جاری ہے۔

غالب زیاد نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ان زبانوں کا تعلق صرف کسی ایک مذہب یا ایک مخصوص طبقے سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان زبانوں کو ملک بھر میں مختلف مذاہب، ذاتوں اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ، اساتذہ اور محققین پڑھتے، پڑھاتے اور ان پر تحقیق کرتے ہیں۔ یہ زبانیں ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، ثقافت اور علمی وراثت کی نمائندہ ہیں، جن سے ہر طبقے کے لوگ وابستہ ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں حالیہ 211 نئے سرکاری ڈگری کالجوں کے لیے اساتذہ کی تقرری سے متعلق اطلاعات میں ان زبانوں کے لیے تدریسی عہدوں کی منظوری نہیں دی گئی۔ مزید برآں، یونیورسٹی سطح پر نہ صرف اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدوں پر طویل عرصے سے تقرریاں نہیں ہو رہی ہیں بلکہ نئی بھرتیوں میں بھی ان مضامین کو مناسب نمائندگی نہیں دی جا رہی۔ اس صورتحال کے باعث ان زبانوں کے ہزاروں طلبہ اور ریسرچ اسکالرز شدید بے چینی اور غیر یقینی کا شکار ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ان زبانوں کے لیے اساتذہ اور اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے ہی موجود نہیں ہوں گے تو ان مضامین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور محققین کا مستقبل کیا ہوگا؟ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کہاں جائیں گے؟ اگر تدریسی عہدے ہی ختم ہوتے گئے تو آنے والی نسلیں ان زبانوں کی تعلیم اور تحقیق سے کیسے مستفید ہوں گی؟

غالب زیاد نے کہا کہ ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 14 تمام شہریوں کو مساوات کا حق دیتا ہے، آرٹیکل 15 ہر قسم کے امتیاز کی ممانعت کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 29 زبانوں اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اسی جذبے کے تحت آئین کی آٹھویں جدول بھی ہندوستان کی لسانی و ثقافتی تنوع کے احترام اور تحفظ پر زور دیتی ہے۔

انہوں نے بہار حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹی آر ای -4، یونیورسٹی سطح پر اسسٹنٹ پروفیسر کی تقرری اور 211 نئے سرکاری ڈگری کالجوں میں عربی، فارسی، میتھلی، بنگلہ، بھوجپوری، مگہی، پالی اور پراکرت مضامین کے لیے اسسٹنٹ پروفیسر اور دیگر تدریسی عہدے فوری طور پر منظور کیے جائیں، تاکہ ان زبانوں کے طلبہ، محققین اور اساتذہ کا مستقبل محفوظ ہو سکے اور بہار کی مشترکہ تہذیبی و علمی وراثت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اس موقع پر معزز ایم ایل سی جناب خالد انور نے مطالبات پر ہمدردانہ غور کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وہ اس معاملے کو حکومتِ بہار اور معزز وزیرِ تعلیم کے سامنے مو¿ثر انداز میں اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

یہ مطالبہ کسی ایک زبان، مذہب یا برادری کا نہیں، بلکہ بہار کی مشترکہ تہذیبی وراثت، اعلیٰ تعلیم، آئینی مساوات اور آنے والی نسلوں کے علمی مستقبل کے تحفظ کا مطالبہ ہے۔

بہار میں اساتذہ تقرری میں فارسی ، عربی ، میتھلی ، بنگلہ، پالی اور پراکرت کی نظر اندازی پر اظہار تشویش




 نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں فارسی، عربی، میتھلی، بنگلہ، پالی اور پراکرت جیسی کلاسیکل زبانوں سے دلچسپی رکھنے والے اساتذہ، ریسرچ اسکالرس اور طلبہ کی ایک مشترکہ علمی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ریاست بہار میں ٹی آر ای۔4، اسسٹنٹ پروفیسر اور ڈگری کالجوں میں اساتذہ کی تقرری کے عمل میں فارسی، عربی، میتھلی، بنگلہ، پالی اور پراکرت جیسی اہم زبانوں کو نمائندگی نہ ملنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

میٹنگ میں شرکائنے کہا کہ فارسی، عربی، میتھلی، بنگلہ، پالی اور پراکرت بہار کی تاریخی، تہذیبی، ادبی اور علمی شناخت کا اہم حصہ ہیں، لیکن حالیہ تقرریوں اور تدریسی عہدوں کی منظوری کے عمل میں ان زبانوں کو مناسب نمائندگی نہیں دی جا رہی ہے، جس سے ان زبانوں کی تدریس، تحقیق اور فروغ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔

شرکاءنے حکومت بہار اور متعلقہ تعلیمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ ٹی آر ای۔4، اسسٹنٹ پروفیسر اور ڈگری کالجوں میں اساتذہ کی تقرری کے دوران ان زبانوں کی تاریخی، ادبی اور تعلیمی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مناسب نمائندگی دی جائے اور ضروری تدریسی عہدوں کی منظوری کو یقینی بنایا جائے۔

میٹنگ کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بہار کی کلاسیکی، علاقائی اور تہذیبی زبانوں کے تحفظ، فروغ اور اعلیٰ تعلیم میں ان کی مو¿ثر نمائندگی کے لیے مشترکہ علمی و تعمیری کوششیں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔ اس میٹنگ میں پروفیسر اخلاق احمد آہن، صدر شعبہ سینٹر آف پرشین اینڈ سینٹرل ایشین اسٹڈیز، اسکول آف لینگویج، لٹریچر اینڈ کلچر اسٹڈیز، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ پروفیسر سید اختر حسین، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ ڈاکٹر محمد مظہر الحق، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ پروفیسر سید کلیم اصغر، صدر شعبہ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ؛ پروفیسر رضوان الرحمن، سابق چیئرپرسن، سینٹر آف عربک اینڈ افریقن اسٹڈیز، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ ڈاکٹر خورشید امام، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ ڈاکٹر اختر عالم، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ نیز مختلف دیپارٹمنٹ کے اسکالرس جناب غالب زیاد، جناب ڈاکٹر محمد کشمیری، جناب پرگتی شیل پانڈے، جناب پوشپ راج، جناب کمل کیشور، جناب امر شیکھر، جناب صفی الرحمن، جناب محمد ساجد اور دیگر اہل علم شریک ہوئے۔


Tuesday, 4 August 2026

گریجویٹ ووٹر رجسٹریشن مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، تعلیم یافتہ مسلمانوں کی بیداری وقت کی اہم ضرورت ہے: ایڈووکیٹ شاہد اطہر






دربھنگہ: خادمِ ملت و تعلیمی خدمت گار ایڈووکیٹ شاہد اطہر ڈائریکٹر متھلا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس نے 05- دربھنگہ گریجویٹ انتخابی حلقہ کے تمام اہلِ گریجویٹ شہریوں، خصوصاً مسلم نوجوانوں، اساتذہ، علمائے کرام، وکلاء، ڈاکٹروں، انجینئروں، سرکاری و غیر سرکاری ملازمین، کاروباری حضرات اور دیگر تعلیم یافتہ افراد سے پ±رزور اپیل کی ہے کہ وہ گریجویٹ ووٹر کے طور پر اپنا اندراج لازماً کرائیں اور اس قومی و جمہوری ذمہ داری کو پوری سنجیدگی کے ساتھ ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور مضبوط معاشرہ صرف تعلیم سے نہیں بلکہ اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے صحیح استعمال سے بھی تشکیل پاتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہر انتخاب میں ہزاروں ایسے اہلِ گریجویٹ افراد صرف معلومات کی کمی یا لاپرواہی کی وجہ سے ووٹر فہرست میں شامل نہیں ہو پاتے، جس کے باعث وہ اپنے قانونی حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔

ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ سال 2022 یا اس سے پہلے گریجویشن مکمل کرنے والے تمام اہل افراد کے لیے یہ ایک قیمتی موقع ہے۔ وقت بہت محدود ہے، اس لیے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ آج ہی اپنے کاغذات مکمل کرے اور اپنے ضلع کے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کے دفتر میں جا کر درخواست جمع کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں تو معاشرہ ترقی کرتا ہے، ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور عوامی مسائل زیادہ مو¿ثر انداز میں سامنے آتے ہیں۔ اس لیے ہر گریجویٹ نوجوان کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی رجسٹریشن کرائے اور اپنے والدین، بھائیوں، بہنوں، رشتہ داروں، دوستوں اور محلے کے تمام اہلِ گریجویٹ افراد کو بھی اس مہم میں شامل ہونے کی ترغیب دے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اپیل کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کے حق یا مخالفت میں نہیں، بلکہ صرف اس مقصد کے لیے ہے کہ زیادہ سے زیادہ اہلِ گریجویٹ شہری اپنے جمہوری حق کا استعمال کر سکیں اور ووٹر فہرست میں اپنا نام شامل کرا سکیں۔ درخواست کے لیے ضروری دستاویزات

- گریجویشن کی مارک شیٹ (گزیٹیڈ آفیسر سے تصدیق شدہ)

- آدھار کارڈ یا ووٹر کارڈ کی نقل (گزیٹیڈ آفیسرسے تصدیق شدہ)

تمام اہل امیدوار اپنی درخواست خود اپنے متعلقہ ضلع کے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کے دفتر میں جمع کریں۔ آخر میں ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ آئیں ہم سب مل کر ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور ذمہ دار معاشرہ تشکیل دیں، اپنے حقوق سے واقف رہیں، اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور اس اہم اطلاع کو ہر گھر اور ہر اہلِ گریجویٹ فرد تک پہنچائیں تاکہ کوئی بھی شخص محض لاعلمی کی وجہ سے اس حق سے محروم نہ رہ جائے۔


Sunday, 26 July 2026

قومی تنظیم کے چیف ایڈیٹر اشرف فرید کی اردو خدمات قابلِ تحسین، انہیں گورنر کوٹے سے ایم ایل سی بنایا جائے: عطاءالرحمن





پٹنہ(پریس ریلیز )اردو زبان کی بقا اور اس کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے اردو ایکشن کمیٹی کے صدر اور روزنامہ ’قومی تنظیم‘ کے چیف ایڈیٹر اشرف فرید کی کاوشیں انتہائی قابل قدر اور لائق تحسین ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز سماجی کار کن اور کانگریسی لیڈر ایڈووکیٹ عطاءالرحمن نے ایک صحافتی بیان جاری کرتے ہوئے کیا۔

عطاءالرحمن نے کہا کہ اشرف فرید ان دنوں ریاست میں اردو کے مسائل، بالخصوص اردو اساتذہ کی بحالی، دفاتر میں اردو کے استعمال اور اردو آبادی کے حقوق کی بحالی کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ نہ صرف صحافت کے ذریعے بلکہ عوامی و سماجی سطح پر بھی اردو کے فروغ کیلئے پیش پیش نظر آتے ہیں۔ ان کی بے باک قیادت نے اردو حلقوں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔

انہوں نے حکومت بہار اور وزیراعلیٰ سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اشرف فرید کی عظیم دینی، ملی، اور صحافتی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں گورنر کوٹے سے ایم ایل سی (قانون ساز کونسل کا رکن) نامزد کیا جائے۔ عطاءالرحمن کا کہنا تھا کہ اشرف فرید جیسی باصلاحیت اور فعال شخصیت کا قانون ساز کونسل میں ہونا اردو کے مسائل کی نمائندگی اور اس کے حل کے لیے انتہائی موثر ثابت ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت اشرف فرید کو ایم ایل سی کے عہدے سے نوازتی ہے تو یہ نہ صرف ان کی علمی و صحافتی خدمات کا اعتراف ہوگا بلکہ ریاست کے تمام اردو داں طبقے کی حوصلہ افزائی کا سبب بنے گا۔

Sunday, 19 July 2026

ڈاکٹر محمد جاوید آزاد ایک نیک اور شریف سیاستداں

 



 بہار کے ضلع کشن گنج سے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر محمد جاوید آزاد ایک نیک اور نہایت شریف مزاج رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس کے سینئر رہنما ہونے کے ساتھ پیشے کے اعتبار سے ایک معالج بھی ہیں۔ڈاکٹر جاوید آزاد 2024 کے ہندوستانی عام انتخابات میں مسلسل دوسری بار بہار کے کشن گنج لوک سبھا حلقے سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔ وہ کانگریس پارٹی کے لوک سبھا میں چیف وِپ کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کانگریس پارٹی کی قومی انتخابی کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔سیمانچل کے عوام کے ساتھ ساتھ پوری ریاست بہار کے عام لوگ ڈاکٹر جاوید صاحب کی سادگی اور شفاف سیاست کی وجہ سے انہیں بے حد پسند کرتے ہیں۔

سیاسی سفر

رکن پارلیمنٹ بننے سے قبل ڈاکٹر جاوید صاحب سال 2000 سے مسلسل 4 مرتبہ بہار قانون ساز اسمبلی کے رکن یعنی ایم ایل اے رہے۔ 2000 سے 2004 تک وہ بہار حکومت میں مختلف محکموں کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ ایم ایل اے بننے سے پہلے انہوں نے کشن گنج کے عام عوام کی ایک معالج کی حیثیت سے مفت خدمت بھی کی۔

تعلیم اور پیشہ 

پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے سرینگر کے سرکاری میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔

پارلیمانی کام 

پارلیمنٹ میں وہ کشن گنج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا مرکز قائم کرنے، جلال گڑھ-کشن گنج ریل لائن منصوبے اور کشن گنج لوک سبھا حلقے کی ترقی و خوشحالی سے جڑے متعدد اہم مسائل کو مسلسل اور مضبوطی کے ساتھ اٹھاتے رہتے ہیں۔


ذات یا مذہب کی بنیاد پر ووٹ دینے کے بجائے ایک قابل اور ایماندار امیدوار کا انتخاب کریں : پرشانت کشور

 



پٹنہ: جن سوراج پارٹی کے روح رواں پرشانت کشور نے بانکی پور اسمبلی حلقے میں عوامی مکالمے کے دوران ریاست کی سیاست میں مثبت تبدیلی اور انتخابی عمل میں عوام کے کردار پر زور دیا۔

بانکی پور کے دانشوران سے خطاب کرتے ہوئے پرشانت کشور نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں سے بہار کی سیاست بنیادی طور پر ذات، مذہب اور ”جنگل راج“ کے خوف کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی موضوعات نے ریاست کی ترقی کے عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔


بانکی پور ضمنی انتخاب کی اہمیت

انہوں نے کہا کہ بانکی پور کا ضمنی انتخاب صرف ایک ایم ایل اے کے انتخاب کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ بی جے پی کے سیاسی تکبر کو چیلنج کرنے اور اقتدار میں بیٹھی قیادت کو جوابدہ بنانے کا سنہری موقع ہے۔

پرشانت کشور نے دعویٰ کیا کہ اگر بانکی پور میں بی جے پی کو شکست ہوتی ہے تو یہ پیغام سیدھا پارٹی کے مرکزی قیادت تک جائے گا۔ اس کے نتیجے میں ریاست کی قیادت جیسے سمراٹ چودھری کی سطح پر بھی تبدیلی کا امکان بڑھ جائے گا۔


عوام سے اپیل

مکالمے کے دوران انہوں نے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ جھنڈے کے رنگ، ذات یا مذہب کی بنیاد پر ووٹ دینے کے بجائے ایک قابل اور ایماندار امیدوار کا انتخاب کریں تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے بہتر مواقع پیدا ہو سکیں۔


پرشانت کشور نے موجودہ سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندے لاپرواہ ہو چکے ہیں۔ بانکی پور میں شکست کا خوف ہی انہیں عوام کے تئیں زیادہ جوابدہ اور حساس بننے پر مجبور کرے گا۔



مکالمے میں خطاب کرنے والے مقررین

اس عوامی مکالمے میں ابو اللیث صاحب، ایم ایل سی آفاق احمد، ابو عفان فاروقی، کمار سورو، سابق ایم ایل اے کشور منا، پروفیسر منور جہاں، ڈاکٹر آشا ٹھاکر گائنا کولوجسٹ، ڈاکٹر شگفتہ یاسمین، فزکس کے پروفیسر آفتاب عالم اور رامانشو سمیت شہر کے ممتاز دانشوروں اور سماجی کارکنوں نے خطاب کیا۔ 


پرشانت کشور نے عوام سے کہا کہ وہ اپنے ووٹ کی طاقت کو صحیح سمت میں استعمال کریں تاکہ بہار کی سیاست میں ایک نئے اور مثبت دور کا آغاز ہو سکے۔




Tuesday, 14 April 2026

بہار میں غائب ہو گئے تقریباً 9 ہزار تالاب اور جھیلیں




ایک طرف ملک میں پانی کی کمی کا مسئلہ مسلسل بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف مسائل کو حل کرنے کے معاملے میں بھی خوب لاپرواہی برتی جا رہی ہے۔ دیگر ریاستوں کی طرح بہار میں بھی پانی کا مسئلہ برقرار ہے، لیکن آبی ذخائر سے متعلق سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لاپرواہی کی وجہ سے ریاست میں بڑی تعداد میں آبی ذخائر غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ تقریباً 9 ہزار آبی ذخائر کا اب کچھ پتہ نہیں ہے۔



آخر یہ آبی ذرائع کہاں غائب ہو گئے؟ یہ سوال مرکز کی آبی ذخائر سے متعلق دوسرے سروے 24-2023 کے سامنے آنے کے بعد اٹھ رہا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست میں تقریباً 8940 آبی ذخائر غائب ہو چکے ہیں۔ جل شکتی کی وزارت کی جانب سے گزشتہ سال بہار، دہلی، آسام، لداخ اور سکم کے لیے کیے گئے آبی ذخائر کے دوسرے سروے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ 19-2018 میں بہار میں درج 45793 آبی ذخائر میں سے صرف 36856 ہی موجود ہیں، جبکہ 9000 کے قریب آبی ذخائر غائب ہوتے چلے گئے۔



سروے کے مطابق ان آبی ذخائر میں سے 45 فیصد تو بہار حکومت کی ملکیت میں ہی ہے، حالانکہ ریاست کے محکمہ ریونیو اور اراضی اصلاحات کے پاس اس بات کی کوئی معلومات نہیں ہے کہ ان میں سے کتنے آبی ذخائر پر (جزوی یا مکمل طور پر) قبضہ کر لیا گیا ہے۔ ’انڈین ایکسپریس‘ نے ایک افسر کے حوالے سے بتایا کہ ’’ہم آبی ذخائر کے سروے کے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں اور تجاوزات سے پاک عوامی تالابوں پر ایک اپ ڈیٹڈ رپورٹ تیار کریں گے۔‘‘ اس سروے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ 85 فیصد آبی ذخائر دیہی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر یعنی تقریباً 91 فیصد تالاب ہیں، جبکہ باقی جھیلوں، ٹینکوں، آبی ذخائر، چیک ڈیم اور پرکولیشن ڈیم کی شکل میں ہیں۔


سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 19-2018 میں بہار میں موجود 35027 تالابوں میں سے اب صرف 33618 ہی بچے ہیں۔ ریاست میں 1409 تالاب مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ٹینکوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔ ٹینکوں کی تعداد 4221 سے گھٹ کر 859 تک آ گئی ہے، جبکہ جھیلوں کی تعداد 2693 سے کم ہو کر 258 اور آبی ذخائر کی تعداد 2156 سے گھٹ کر صرف 315 رہ گئی ہے۔ ریاست کے آبی ذخائر میں سے زیادہ تر (40.4 فیصد) پنچایتوں کی ملکیت میں ہیں، جس کے بعد ریاست کے محکمہ آبی وسائل (ڈبلیو آر ڈی) یا ریاستی محکمہ آبپاشی (22.3 فیصد) کا نمبر آتا ہے۔



واضح رہے کہ ریاست میں آبی ذخائر پر تیزی سے قبضے کیے جا رہے ہیں، اور یہ خاص طور پر لینڈ مافیا کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ ان مقامات پر مسلسل تجاوزات سے ایک نیا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ 2023 کے ایک حکم میں، پٹنہ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ریاست میں 1045 تالابوں پر ناجائز قبضہ کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح بہار اسمبلی کے حالیہ بجٹ سیشن کے دوران عوامی آبی ذخائر کے غائب ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں، ریاست کے ریونیو اور اراضی اصلاحات کے وزیر وجے سنہا نے بتایا تھا کہ صرف 5 تالابوں پر ہی قبضہ کیا گیا ہے، جبکہ انڈین انکلوسیو پارٹی (آئی آئی پی) کے رکن اسمبلی آئی پی گپتا نے اس دعوے کی مخالفت کی تھی۔ آئی پی گپتا نے کہا تھا کہ ’’اب جب کہ آبی ذخائر کے تازہ سروے نے حکومت کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیا ہے، تو ہم اس سوال کو دوبارہ اٹھائیں گے۔‘‘


ہو گیا پلٹی بازی کے دھرندھر چاچا جی کا استعفیٰ‘

 

روہنی آچاریہ نے نتیش کمار پر چلائے طنز کے تیر




نتیش کمار نے بہار کے وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے، اور سمراٹ چودھری کو بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر بھی منتخب کر لیا ہے۔ یعنی نتیش کمار کا دور ختم، اور بہار میں پہلی بار بی جے پی لیڈر کے وزیر اعلیٰ بننے کا راستہ ہموار۔ موجودہ صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے لالو پرساد کی بیٹی روہنی آچاریہ نے نتیش کمار پر طنز کے تیر چلائے ہیں، جو تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہے ہیں۔



سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر روہنی آچاریہ نے نتیش کمار کے استعفیٰ پر اپنا تلخ رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے نتیش کمار کو ’پلٹی بازی میں دھرندھر‘ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ آخر کار ان کا استعفیٰ ہو ہی گیا۔ انھوں نے پوسٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ جو لوگ ان کے ساتھ نظر آتے ہیں، حقیقت میں وہی ان کے خلاف سازش کر رہے تھے۔



سوشل میڈیا پوسٹ میں روہنی لکھتی ہیں کہ ’’آخر کار ہو ہی گیا پلٹی بازی کے دھرندھر ہمارے چاچا جی کا استعفیٰ۔ بننے چلے تھےس یاست کے خلیفہ، بے بسی میں خود ہی سپرد کر آئے گورنر محترم کو اپنی سیاسی پاری کے خاتمہ کا لفافہ۔‘‘ انھوں نے آگے لکھا ہے کہ ’’بڑے افسوس کی بات ہے، چاچا جی کے غم میں سچے دن سے نہیں کوئی ان کے ساتھ ہے، اوپر سے جو بھی نظر آتا ان کے ساتھ ہے، حقیقت میں وہی چاچا جی پر لگائے بیٹھا گھات ہے۔‘‘



پوسٹ کے آخر میں روہنی نے لکھا ہے کہ ’’زیادہ کیا کہوں، بس اتنا ہی کافی ہے... جھوٹی شیخی بگھارنے والے چاچا جی کی اونچی اڑان کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے، چاچا جی کے پر ان کے ہی اپنے کہے جانے والے سیاسی بہیلیے کتر گئے۔‘‘ روہنی کے ذریعہ کیے گئے اس طنزیہ پوسٹ کو صارفین نہ صرف پسند کر رہے ہیں، بلکہ اس پر تبصرہ کرنے کے ساتھ ساتھ ری-پوسٹ بھی کر رہے ہیں۔



روہنی آچاریہ نے مزید ایک پوسٹ میں بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ ’’وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے بی جے پی کو ایک گھمنتو ہی ملا!! اپنی تاسیس کے 46 سال گزر جانے کے بعد بھی بہار میں بی جے پی کے پاس لیڈرشپ کی ایسی خشک سالی ہے کہ بی جے پی نہ تو کبھی اپنے دم پر حکومت بنا سکی، نہ ہی کبھی کسی اسمبلی انتخاب میں اپنا کوئی وزیر اعلیٰ کا چہرہ سامنے رکھ سکی، اور نہ ہی وسیع عوامی مقبولیت و شناخت والا ایک لیڈر تیار کر سکی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’بہار میں بی جے پی کی سیاسی کنگالی کا عالم تو کچھ ایسا ہے کہ اب جب سالوں کی مشقت کے بعد بی جے پی نتیش کمار جی کو سازش کے سہارے وزیر اعلیٰ کی کرسی سے ہٹانے میں کامیاب ہوئی، تب بھی بی جے پی کسی ایسے کو وزیر اعلیٰ بنانے جا رہی ہے، جو بنیادی طور پر نہ تو ناگپوریا نرسری سے ہے اور نہ ہی بہار بی جے پی کی بنجر بگیا سے۔‘‘ اس پوسٹ کے آخر میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں کہ ’’بغیر قسم پوری کیے مریٹھا کھولنے، فرضی ڈگری، فرضی پیدائش سرٹیفکیٹ والا وزیر اعلیٰ مبارک ہو بی جے پی والوں...۔‘‘


سمراٹ چودھری ہوں گے بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ، گورنر کو حکومت سازی کا دعویٰ پیش کیا




بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری ہوں گے۔ اس بات پر اُس وقت مہر لگ گئی، جب بی جے پی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں انہیں لیڈر منتخب کر لیا گیا۔ اس میٹنگ میں وجے سنہا نے ان کے نام کا اعلان کیا۔ میٹنگ میں ریاستی صدر سنجے سراوگی اور بی جے پی کے مبصر شیوراج سنگھ چوہان موجود تھے۔ سمراٹ چودھری کے نام کی حمایت دلیپ جیسوال اور منگل پانڈے نے بھی کی۔ بعد ازاں سمراٹ چودھری نے بہار کے گورنر سید عطا حسنین سے ملاقات کر ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کا دعویٰ پیش کر دیا۔ گورنر نے ان کا یہ دعویٰ قبول کر لیا ہے اور 15 اپریل کی صبح 11 بجے حلف برداری تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تقریب میں سمراٹ چودھری بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ کی شکل میں حلف لیں گے اور ان کے ساتھ بہار کی نئی کابینہ کے کچھ اراکین کی بھی حلف برداری ہوگی۔




بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیے جانے کے بعد سمراٹ چودھری کا پہلا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’بی جے پی کی مرکزی قیادت کے ذریعہ مجھ پر بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے بہار بی جے پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر کی ذمہ داری سونپی گئی، اس کے لیے میں دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ میرے لیے صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ بہار کی عوام کی خدمت، ان کے اعتماد اور خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ میں پوری ایمانداری کے ساتھ عوام کی امیدوں پر کھرا اترنے کا عزم لیتا ہوں۔‘‘




واضح رہے کہ نتیش کمار نے منگل (14 اپریل) کو گورنر ہاؤس پہنچ کر اپنا استعفیٰ سونپ دیا تھا۔ وہ سمراٹ چودھری اور وجے چودھری کے ساتھ ایک ہی گاڑی سے راج بھون پہنچے تھے۔ نتیش کمار نے 20 نومبر 2025 کو وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لیا تھا۔ آج 14 اپریل کو استعفیٰ دینے کے بعد یہ مدت کار 145 دنوں کی ہوئی، یہ دوسری بار ہے جب نتیش کمار انتہائی کم مدت کے لیے وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس سے قبل 2000 میں انہوں نے 3 مارچ کو وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لیا تھا، لیکن 10 مارچ کو ہی انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔


آج صبح سے ہی بہار میں سیاسی ہلچل کافی تیز تھی۔ صبح صبح وزیر اعلیٰ کی رہائش پر سنجے جھا، وجے چودھری اور للن سنگھ پہنچے تھے۔ اس کے بعد سمراٹ چودھری بھی وہاں پہنچے۔ تقریباً نصف گھنٹے کی میٹنگ کے بعد وجے چودھری، سمراٹ چودھری اور نتیش کمار ایک ہی گاڑی سے وزیر اعلیٰ کی رہائش سے باہر نکلے۔ گاڑی کی اگلی سیٹ پر وجے چودھری بیٹھے تھے، جبکہ پیچھے کی سیٹ پر سمراٹ چودھری اور نتیش کمار موجود تھے۔



قابل ذکر ہے کہ آخری کابینہ میٹنگ میں نتیش کمار جذباتی نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ 2005 میں جب وہ حکومت میں آئے، تب سے جہاں تک ممکن ہوا انہوں نے کام کیا اور نئی حکومت کو ان کی رہنمائی ملتی رہے گی۔ اس میٹنگ کے بعد کئی وزراء نے نتیش کمار کی مدت کار کو تاریخی قرار دیا۔