Wednesday, 5 August 2026

بہار میں اساتذہ تقرری میں فارسی ، عربی ، میتھلی ، بنگلہ، پالی اور پراکرت کی نظر اندازی پر اظہار تشویش




 نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں فارسی، عربی، میتھلی، بنگلہ، پالی اور پراکرت جیسی کلاسیکل زبانوں سے دلچسپی رکھنے والے اساتذہ، ریسرچ اسکالرس اور طلبہ کی ایک مشترکہ علمی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ریاست بہار میں ٹی آر ای۔4، اسسٹنٹ پروفیسر اور ڈگری کالجوں میں اساتذہ کی تقرری کے عمل میں فارسی، عربی، میتھلی، بنگلہ، پالی اور پراکرت جیسی اہم زبانوں کو نمائندگی نہ ملنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

میٹنگ میں شرکائنے کہا کہ فارسی، عربی، میتھلی، بنگلہ، پالی اور پراکرت بہار کی تاریخی، تہذیبی، ادبی اور علمی شناخت کا اہم حصہ ہیں، لیکن حالیہ تقرریوں اور تدریسی عہدوں کی منظوری کے عمل میں ان زبانوں کو مناسب نمائندگی نہیں دی جا رہی ہے، جس سے ان زبانوں کی تدریس، تحقیق اور فروغ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔

شرکاءنے حکومت بہار اور متعلقہ تعلیمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ ٹی آر ای۔4، اسسٹنٹ پروفیسر اور ڈگری کالجوں میں اساتذہ کی تقرری کے دوران ان زبانوں کی تاریخی، ادبی اور تعلیمی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مناسب نمائندگی دی جائے اور ضروری تدریسی عہدوں کی منظوری کو یقینی بنایا جائے۔

میٹنگ کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بہار کی کلاسیکی، علاقائی اور تہذیبی زبانوں کے تحفظ، فروغ اور اعلیٰ تعلیم میں ان کی مو¿ثر نمائندگی کے لیے مشترکہ علمی و تعمیری کوششیں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔ اس میٹنگ میں پروفیسر اخلاق احمد آہن، صدر شعبہ سینٹر آف پرشین اینڈ سینٹرل ایشین اسٹڈیز، اسکول آف لینگویج، لٹریچر اینڈ کلچر اسٹڈیز، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ پروفیسر سید اختر حسین، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ ڈاکٹر محمد مظہر الحق، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ پروفیسر سید کلیم اصغر، صدر شعبہ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ؛ پروفیسر رضوان الرحمن، سابق چیئرپرسن، سینٹر آف عربک اینڈ افریقن اسٹڈیز، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ ڈاکٹر خورشید امام، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ ڈاکٹر اختر عالم، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ نیز مختلف دیپارٹمنٹ کے اسکالرس جناب غالب زیاد، جناب ڈاکٹر محمد کشمیری، جناب پرگتی شیل پانڈے، جناب پوشپ راج، جناب کمل کیشور، جناب امر شیکھر، جناب صفی الرحمن، جناب محمد ساجد اور دیگر اہل علم شریک ہوئے۔


No comments:

Post a Comment