Showing posts with label patna. Show all posts
Showing posts with label patna. Show all posts

Monday, 21 September 2026

ہم پیسے کے پیچھے بھاگنے والے نہیں، ہم نظریاتی لوگ ہیں" - افضل امام کا پرشانت کشور پر بڑا حملہ، انجمن اسلامیہ ہال میں ہزاروں کا ہجوم بولا، افضل ایک تحریک کا نام ہے_






*پٹنہ:* پٹنہ کے تاریخی _انجمن اسلامیہ ہال_ میں آج ایک بڑا سیاسی اجتماع دیکھنے کو ملا، جہاں پٹنہ سمیت پورے بہار سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ سابق میئر افضل امام کی حمایت میں جمع ہوئے۔


اجتماع میں موجود مقررین اور عوام نے ایک آواز میں کہا کہ پرشانت کشور نے افضل امام کے خلاف بول کر اچھا نہیں کیا۔ لوگوں نے نعرہ لگایا کہ _"افضل ہمارے لیڈر تھے، ہیں اور رہیں گے، افضل ایک تحریک کا نام ہے اور کسی کی تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔"_


اس موقع پر سابق میئر اور سینئر رہنما _افضل امام_ نے پرشانت کشور کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا:


> _"ہم لوگ نظریاتی لوگ ہیں، ہم پیسے کے پیچھے نہیں بھاگتے ہیں، پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے۔ یہ جس پروگرام میں جاتے ہیں تو ہمیشہ مسلم سیاست کی بات کرتے ہیں، حالانکہ مسلمانوں سے بڑا کوئی سیاستدان نہیں ہو سکتا، ہم نے سیکڑوں سال اس ملک پر حکمرانی کی ہے، ہمیں سیاست اچھی طرح معلوم ہے۔"_


افضل امام نے الزام لگایا کہ پرشانت کشور صرف مسلم ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہیں مسلم مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔


> _"یہ کبھی بھی آر ایس ایس یا وزیر اعظم یا وزیر داخلہ کے خلاف نہیں بولتے، صرف چھوٹے سیاستدانوں پر الزام لگاتے رہتے ہیں۔ یہ اصل میں مسلم ووٹوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کبھی بھی مسلم مسائل پر بات نہیں کرتے، کبھی بھی بلڈوزر ایکشن پر بات نہیں کرتے، آج مسلمانوں کے بچے جیلوں میں سڑ رہے ہیں ان کے بارے میں ایک لفظ نہیں بولتے۔ جب ان سے آر ایس ایس کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو جھلا اٹھتے ہیں۔ انہیں صرف مسلمانوں کا ووٹ چاہیے۔"_


افضل امام نے دو ٹوک اعلان کیا کہ پرشانت کشور کو اپنے الزام کا جواب دینا پڑے گا۔


> "جب انہوں نے الزام لگایا ہے تو انہیں جواب دینا پڑے گا ورنہ ان کا تعاقب جاری رہے گا۔ آج انجمن میں ہوا ہے، آئندہ باپو سبھا گار اور پورے بہار میں اس طرح کا پروگرام ہوگا اور ان کی حقیقت کو لوگوں خاص کر مسلمانوں کے سامنے لایا جائے گا تاکہ مسلمان ان کے فریب میں نہ آئیں۔ لوگوں نے انہیں کام کے لیے ووٹ دیا تھا نہ کہ کسی پر الزام تراشی کے لیے۔"

اس اجتماع میں سینئر صحافی *ریحان غنی، آفتاب اقبال اور مبین الہدیٰ* نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ افضل امام کی سیاست ہمیشہ اصولوں اور نظریات پر مبنی رہی ہے، پیسے اور اقتدار کی سیاست سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ مقررین نے کہا کہ پرشانت کشور کی سیاست صرف سوشل میڈیا اور بیان بازی تک محدود ہے، جبکہ افضل امام زمین پر عوام کے درمیان رہنے والے لیڈر ہیں۔ صحافیوں نے کہا کہ مسلمانوں کو ایسے موقع پرست سیاست سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔


اس اجتماع میں علماء، دانشوران، نوجوانوں اور عام شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جس سے یہ صاف ہو گیا کہ پٹنہ کی مسلم سیاست میں افضل امام آج بھی ایک مضبوط ستون ہیں۔

Friday, 18 September 2026

گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے طالب علم عبد المغنی کی شاندار کامیابی پر اساتذہ نے مبارکباد پیش کی





پٹنہ (پریس ریلیز): آل انڈیا آیوش پوسٹ گریجویٹ انٹرنس ٹیسٹ  یونانی میں گورنمنٹ طبی کالج و ہسپتال، پٹنہ کے ہونہار طالب علم *عبدالمغنی* نے 359 نمبرات اور 99.96 فیصد کے ساتھ آل انڈیا رینک 1 حاصل کر کے ادارہ کا نام روشن کیا ہے۔



ادارہ کے پرنسپل پروفیسر *محفوظ الرحمن صاحب*، *ڈاکٹر حکیم شفاعت کریم صاحب* اور تمام اساتذہ کرام نے اس موقع پر طالب علم عبدالمغنی کو دلی مبارکباد پیش کی۔ اساتذہ نے کہا کہ یہ کامیابی صرف طالب علم کی نہیں بلکہ پورے ادارہ کی محنت کا ثمرہ ہے اور ادارہ کے لیے فخر و اعزاز کا لمحہ ہے۔


 طالب علم عبدالمغنی اور دیگر طلبہ نے اپنے تمام اساتذہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ طلبہ کا کہنا تھا کہ اساتذہ کی شب و روز محنت اور بہترین رہنمائی کی بدولت ہی یہ مقام حاصل ہوا ہے۔

معروف تاجر قاری علاء الدین کو ہمدرد بونانزا اسکیم میں ای-بائک کا انعام پورے دربھنگہ اور بہار کیلئے فخر کی بات


 معروف تاجر قاری علاء الدین کو ہمدرد بونانزا اسکیم میں ای-بائک کا انعام پورے دربھنگہ اور بہار کیلئے فخر کی بات




دربھنگہ، بہار: ضلع دربھنگہ کے معروف کتاب فروش اور یونانی ادویات کے تاجر *جناب قاری محمد علاء الدین صاحب* نے ملک کی معروف کمپنی *ہمدرد* کی جانب سے چلائی گئی *ہمدرد بونانزا اسکیم  میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔


ہمدرد کمپنی نے اپنے 120 سال مکمل ہونے کے موقع پر 9 کروڑ روپے کے انعامات کا اعلان کیا تھا، جس میں الیکٹرک کار، ای-بائک، دبئی اور کشمیر ٹور شامل تھے۔ اس اسکیم کے نتائج کا اعلان معروف اردو روزنامہ "انقلاب" پٹنہ ایڈیشن،  میں شائع کیا گیا ہے۔


اس فہرست میں *ای-بائک ونر (مالیت 1,00,000 روپے)* کے طور پر *محمد علاء الدین (قاری علاء الدین بک ڈپو اینڈ ہمدرد دواخانہ، دربھنگہ)* کا نام و تصویر نمایاں طور پر شائع ہوا ہے۔ یہ پورے دربھنگہ اور بہار کے لیے فخر کی بات ہے۔


قاری علاء الدین صاحب برسوں سے ہمدرد کی یونانی ادویات اور دینی کتب کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ان کی دکان جالے دربھنگہ میں ہمدرد دواخانہ کے حوالے سے کافی مشہور ہے۔ ان کی ایمانداری اور خلوص کا یہ صلہ ہے کہ آج ان کا نام ملک بھر کے کامیاب تاجروں میں شامل ہوا ہے۔


اس موقع پر صحافی *محمد قمرالحسن،  اور پٹنہ کے صحافتی و ادبی حلقے کی جانب سے قاری صاحب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے کاروبار میں مزید برکت اور ترقی عطا فرمائے۔

Saturday, 12 September 2026

تین ہزار اساتذہ وزیر تعلیم کے ہاتھوں نوازے جائینگے

 



 وزیرِ تعلیم متھلیش تیواری 27 ستمبر کو 3000 سے زائد اساتذہ کو اعزاز سے نوازیں گے*


: پرائیویٹ اسکول اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر سید شمائل احمد نے وزیرِ تعلیم سے ملاقات کر کے نجی اسکولوں کے مسائل پر مطالباتی مکتوب پیش کیا*



وزیرِ تعلیم جناب متھلیش تیواری 27 ستمبر کو پٹنہ کے رویندر بھون میں منعقد ہونے والے چودہویں یومِ تکریمِ اساتذہ کا افتتاح کریں گے۔ اس تقریب میں ریاست بھر کے تین ہزار سے زائد 9اساتذہ کو اعزاز سے نوازا جائے گا۔ یہ اطلاع پرائیویٹ اسکول اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر سید شمائل احمد نے دی۔


سید شمائل احمد نے جمعہ کے روز وزیرِ تعلیم سے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس دوران بہار کے نجی اسکولوں کو درپیش مسائل، انتظامی مشکلات اور تعلیمی نظام کو مزید مستحکم بنانے کے حوالے سے تفصیلی اور مثبت گفتگو ہوئی۔


اس موقع پر انہوں نے وزیرِ تعلیم کو ایک تفصیلی مطالباتی مکتوب بھی پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے چھوٹے اور درمیانے نجی اسکول محدود وسائل کے باوجود لاکھوں بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں اور روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ معاشی و سماجی طور پر پسماندہ بچوں کو تعلیم کے مرکزی دھارے سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔


*مطالباتی مکتوب کے اہم نکات درج ذیل ہیں:*


 آر ٹی ای کی واجب الادا رقم:* تعلیم کے حق کے قانون کے تحت نجی اسکولوں کی برسوں سے زیرِ التوا واجب الادا رقم کی فوری اور یکمشت ادائیگی کی جائے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اخراجات کے پیشِ نظر فی طالب علم معاوضے کی شرح میں مناسب اضافہ کیا جائے۔


 آر ٹی ای پورٹل:* تعلیمی سیشن 2019-20 سے زیرِ التوا داخلوں کے لیے پورٹل کو دوبارہ کھولا جائے اور داخلہ کے عمل کو شفاف، آسان اور اسکول دوست بنایا جائے۔


 ضلعی سطح پر شکایتوں کا ازالہ:* ضلعی سطح پر بلا جواز مداخلت اور اسکولوں کو ہراساں کرنے کی شکایات کے حل کے لیے واضح ہدایات اور مؤثر شکایت ازالہ نظام نافذ کیا جائے۔


 منظوری اور تجدید کا عمل:* اسکولوں کی منظوری اور تجدید کے پیچیدہ عمل کو مکمل طور پر آن لائن، شفاف اور وقت کا پابند بنایا جائے۔ مطلوبہ دستاویزات کی واضح فہرست جاری کی جائے اور ریاست و ضلع دونوں سطح پر مؤثر سنگل ونڈو سسٹم قائم کیا جائے۔


 پورٹلز کا انضمام:* یو-ڈائس پلس، اپار آئی ڈی، ای-شکشا کوش اور آدھار تصدیق سمیت دیگر آن لائن پورٹلز کو یکجا کیا جائے تاکہ ایک ہی معلومات بار بار درج نہ کرنی پڑے اور تکنیکی مسائل کے فوری حل کے لیے ضلعی سطح پر امدادی مراکز قائم کیے جائیں۔


 طلبہ کے مفاد کے مطالبات:* جماعت دوم سے ہشتم تک آن لائن داخلہ کے لیے مناسب وقت دیا جائے اور تاریخِ پیدائش، آدھار نمبر، والدین کے نام وغیرہ میں حقیقی غلطیوں کی درستگی کی سہولت دستاویزی ثبوت کی بنیاد پر فراہم کی جائے۔


 اسکول بس پالیسی:* اسکول بسوں کو عام تجارتی گاڑیوں سے الگ زمرے میں رکھا جائے اور فٹنس، پرمٹ اور ٹیکس سمیت دیگر امور کے لیے آسان، محفوظ اور عملی ٹرانسپورٹ پالیسی بنائی جائے۔


 مشترکہ مشاورتی کمیٹی:* نجی اسکولوں سے متعلق پالیسی سازی کے لیے محکمہ تعلیم اور اسکول تنظیموں پر مشتمل ایک مستقل مشترکہ مشاورتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔


وزیرِ تعلیم نے تمام مطالبات کو سنجیدگی سے سنا اور نجی اسکولوں کے جائز مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔


اس موقع پر سید شمائل احمد نے کہا کہ حکومت اور نجی اسکولوں کے درمیان بہتر رابطہ اور ہم آہنگی سے بہار کے تعلیمی نظام کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے وزیرِ تعلیم کی خلوص، کشادہ دلی اور تعلیم کے تئیں ان کے عزم کے لیے شکریہ ادا کیا۔

تعلیم معاشرےاور قوم کی تعمیر کا سب سےمؤثر ذریعہ ہے: محمد فیض




دربھنگہ۔ ما نو بی ایڈ کا لج کے پرنسپل محمد فیض نے متھلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس دربھنگہ کے کیمپس کا دورہ کیا۔ اس موقع پر ادارے کی انتظامیہ اور ماہرینِ تعلیم کے ساتھ تعلیم کی موجودہ صورتحال، طلبہ کے مستقبل، معیاری تعلیم اور روزگار پر مبنی کورسز کے حوالے سے تفصیلی تعلیمی مکالمہ ہوا- محمد فیض نے ادارے کی تعلیمی سرگرمیوں اور طلبہ کے لیے دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا اور تعلیم کے شعبے میں ادارے کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ طلبہ کو ایسی تعلیم فراہم کرنا ضروری ہے جس سے ان میں علم، ہنر، خود اعتمادی، نظم و ضبط اور سماجی ذمہ داری کا احساس پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ "تعلیم وہ طاقت ہے جو انسان کو نہ صرف علم سے مالا مال کرتی ہے بلکہ اسے اپنا مستقبل خود سنوارنے کی صلاحیت بھی عطا کرتی ہے۔" تعلیمی مکالمے کے دوران اس بات پر خصوصی گفتگو ہوئی کہ بدلتے ہوئے وقت کے تقاضوں کے مطابق طلبہ کو معیاری اور عملی تعلیم فراہم کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی تعلیمی اداروں کے درمیان باہمی تعاون، تجربات کے تبادلے اور طلبہ کے بہتر مستقبل کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا- ایم آئ ٹی ایم ایس  کی انتظامیہ کی جانب سے چیئرمین ڈاکٹر احمد نسیم آرزو، ایڈووکیٹ شاہد اطہر، ڈائریکٹر (مارکیٹنگ اینڈ پروموشن)، گوپی کشن پرنسپل اور سماجی کارکن و مانو کے ملازم محمد چاند بابو نے محمد فیض کا استقبال کیا اور تعلیم کے شعبے میں ان کے تجربات اور مفید خیالات کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر انتظامیہ نے کہا کہ تعلیم کی ترقی کے لیے ماہرینِ تعلیم اور تعلیمی اداروں کے درمیان مسلسل مکالمہ انتہائی ضروری ہے۔ ایسے تعلیمی مکالموں کے ذریعے نئی سوچ، نئے مواقع اور طلبہ کے لیے بہتر تعلیمی ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔ محمد فیض نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ تعلیم کو صرف امتحان اور ملازمت تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے اپنی شخصیت اور معاشرے کی ترقی کا ذریعہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور باکردار نوجوان ہی مضبوط معاشرے اور ترقی یافتہ قوم کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔

Sunday, 30 August 2026

پٹنہ گاندھی میدان میں تین روزہ پرنٹ ایکسپو

 



*اگر آپ پرنٹنگ کا کاروبار کرتے ہیں تو یہ تیس سیکنڈ آپ کے لیے لاکھوں کا فائدہ کرا سکتا ہے۔*


*گاندھی میدان میں تین روزہ پرنٹ، پیک اینڈ سائن ایکسپو چل رہا ہے۔ آج اس کا دوسرا دن ہے اور کل آخری دن ہے۔*


*یہاں ارچنا پرنٹ سلوشن اپنے اسٹال پر کینن کے جدید ترین پرنٹر اور لارج فارمیٹ پلاٹر مشینیں لے کر آیا ہے۔*


*جو مشینیں بازار میں لاکھوں میں ملتی ہیں، وہ یہاں ایکسپو آفر میں بہت کم قیمت پر مل رہی ہیں۔*




*تو دیر مت کیجئے، کل آخری دن ہے۔ کل گاندھی میدان ضرور جائیے۔*

Thursday, 27 August 2026

بہارکے وزیر تعلیم سے سید شمائل احمد نے ملاقات کی




 بہار کے وزیر تعلیم سے سید شمائل احمد کی ملاقات، اساتذہ کے اعزازی تقریب 




*پٹنہ، 27 اگست 2026*


*بہار کے وزیر تعلیم سے قومی صدر سید شمائل احمد کی اہم ملاقات*


پرائیویٹ اسکولس اینڈ چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر *جناب سید شمائل احمد* نے آج بہار سرکار کے وزیر تعلیم *جناب متھلیش تیواری* سے ان کی سرکاری رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ یہ ملاقات بہت ہی مثبت اور نتیجہ خیز رہی۔


اس موقع پر قومی صدر نے وزیر تعلیم کو ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقد ہونے والے *اساتذہ تہنیتی تقریب (Shikshak Samman Samaroh)* میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی دعوت دی۔ وزیر تعلیم نے دعوت کو خوشی خوشی قبول کر لیا۔


ملاقات کے دوران بہار کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے اور پرائیویٹ اسکولوں کو درپیش مسائل، انتظامی مشکلات اور دیگر چیلنجز پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ وزیر موصوف نے تمام مسائل کو سنجیدگی سے سنا اور *ستمبر کے پہلے ہفتے میں خصوصی میٹنگ* کا یقین دلایا۔ انہوں نے مسائل کی فہرست بھی طلب کی ہے۔


سید شمائل احمد نے کہا، "وزیر تعلیم کا مثبت رویہ پرائیویٹ اسکولوں کے لیے بہت امید افزا ہے۔ میں ان کا دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔"



Wednesday, 5 August 2026

جے این یو کے سینئر ریسرچ اسکالر غالب زیاد نے ایم ایل سی خالد انور کو میمورنڈم پیش کیا، بہار میں کلاسیکی و علاقائی زبانوں کے تحفظ اور تدریسی عہدوں کی بحالی کا مطالبہ

 








 نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سینئر ریسرچ اسکالر غالب زیاد نے بہار قانون ساز کونسل کے معزز جے ڈی یو ایم ایل سی جناب خالد انور سے ملاقات کرکے ٹی آر ای ۔4 کے تحت اعلیٰ ثانوی (پی جی ٹی، جماعت 11–12) اساتذہ کی بھرتی، یونیورسٹی سطح پر اسسٹنٹ پروفیسر کی تقرری اور 211 نئے سرکاری ڈگری کالجوں میں عربی، فارسی، میتھلی، بنگلہ، بھوجپوری، مگہی، پالی اور پراکرت مضامین کے لیے تدریسی عہدے منظور کیے جانے کے مطالبے پر مشتمل ایک میمورنڈم پیش کیا۔

غالب زیاد نے کہا کہ فارسی، میتھلی، بنگلہ، پالی، عربی، پراکرت، بھوجپوری اور مگہی صرف زبانیں نہیں بلکہ بہار کی صدیوں پر محیط تاریخی، تہذیبی، ادبی اور علمی وراثت کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان زبانوں نے بہار کی مشترکہ ثقافت، علمی روایت اور فکری ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آج بھی پٹنہ یونیورسٹی، بی آر امبیڈکر بہار یونیورسٹی (مظفرپور)، تلکا مانجھی بھاگلپور یونیورسٹی، گیا یونیورسٹی، للت نارائن متھیلا یونیورسٹی، بی این منڈل یونیورسٹی سمیت بہار کی مختلف جامعات و یونیورسٹیز میں ان مضامین کی تعلیم دی جا رہی ہے اور طلبہ ایم اے، ایم فل (جہاں قابلِ اطلاق ہو) اور پی ایچ ڈی سطح تک تحقیق کر رہے ہیں۔ اسی طرح جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور بنارس ہندو یونیورسٹی جیسے ملک کے ممتاز تعلیمی اداروں میں بھی ان زبانوں کی تدریس اور تحقیق مسلسل جاری ہے۔

غالب زیاد نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ان زبانوں کا تعلق صرف کسی ایک مذہب یا ایک مخصوص طبقے سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان زبانوں کو ملک بھر میں مختلف مذاہب، ذاتوں اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ، اساتذہ اور محققین پڑھتے، پڑھاتے اور ان پر تحقیق کرتے ہیں۔ یہ زبانیں ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، ثقافت اور علمی وراثت کی نمائندہ ہیں، جن سے ہر طبقے کے لوگ وابستہ ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں حالیہ 211 نئے سرکاری ڈگری کالجوں کے لیے اساتذہ کی تقرری سے متعلق اطلاعات میں ان زبانوں کے لیے تدریسی عہدوں کی منظوری نہیں دی گئی۔ مزید برآں، یونیورسٹی سطح پر نہ صرف اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدوں پر طویل عرصے سے تقرریاں نہیں ہو رہی ہیں بلکہ نئی بھرتیوں میں بھی ان مضامین کو مناسب نمائندگی نہیں دی جا رہی۔ اس صورتحال کے باعث ان زبانوں کے ہزاروں طلبہ اور ریسرچ اسکالرز شدید بے چینی اور غیر یقینی کا شکار ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ان زبانوں کے لیے اساتذہ اور اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے ہی موجود نہیں ہوں گے تو ان مضامین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور محققین کا مستقبل کیا ہوگا؟ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کہاں جائیں گے؟ اگر تدریسی عہدے ہی ختم ہوتے گئے تو آنے والی نسلیں ان زبانوں کی تعلیم اور تحقیق سے کیسے مستفید ہوں گی؟

غالب زیاد نے کہا کہ ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 14 تمام شہریوں کو مساوات کا حق دیتا ہے، آرٹیکل 15 ہر قسم کے امتیاز کی ممانعت کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 29 زبانوں اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اسی جذبے کے تحت آئین کی آٹھویں جدول بھی ہندوستان کی لسانی و ثقافتی تنوع کے احترام اور تحفظ پر زور دیتی ہے۔

انہوں نے بہار حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹی آر ای -4، یونیورسٹی سطح پر اسسٹنٹ پروفیسر کی تقرری اور 211 نئے سرکاری ڈگری کالجوں میں عربی، فارسی، میتھلی، بنگلہ، بھوجپوری، مگہی، پالی اور پراکرت مضامین کے لیے اسسٹنٹ پروفیسر اور دیگر تدریسی عہدے فوری طور پر منظور کیے جائیں، تاکہ ان زبانوں کے طلبہ، محققین اور اساتذہ کا مستقبل محفوظ ہو سکے اور بہار کی مشترکہ تہذیبی و علمی وراثت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اس موقع پر معزز ایم ایل سی جناب خالد انور نے مطالبات پر ہمدردانہ غور کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وہ اس معاملے کو حکومتِ بہار اور معزز وزیرِ تعلیم کے سامنے مو¿ثر انداز میں اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

یہ مطالبہ کسی ایک زبان، مذہب یا برادری کا نہیں، بلکہ بہار کی مشترکہ تہذیبی وراثت، اعلیٰ تعلیم، آئینی مساوات اور آنے والی نسلوں کے علمی مستقبل کے تحفظ کا مطالبہ ہے۔

بہار میں اساتذہ تقرری میں فارسی ، عربی ، میتھلی ، بنگلہ، پالی اور پراکرت کی نظر اندازی پر اظہار تشویش




 نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں فارسی، عربی، میتھلی، بنگلہ، پالی اور پراکرت جیسی کلاسیکل زبانوں سے دلچسپی رکھنے والے اساتذہ، ریسرچ اسکالرس اور طلبہ کی ایک مشترکہ علمی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ریاست بہار میں ٹی آر ای۔4، اسسٹنٹ پروفیسر اور ڈگری کالجوں میں اساتذہ کی تقرری کے عمل میں فارسی، عربی، میتھلی، بنگلہ، پالی اور پراکرت جیسی اہم زبانوں کو نمائندگی نہ ملنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

میٹنگ میں شرکائنے کہا کہ فارسی، عربی، میتھلی، بنگلہ، پالی اور پراکرت بہار کی تاریخی، تہذیبی، ادبی اور علمی شناخت کا اہم حصہ ہیں، لیکن حالیہ تقرریوں اور تدریسی عہدوں کی منظوری کے عمل میں ان زبانوں کو مناسب نمائندگی نہیں دی جا رہی ہے، جس سے ان زبانوں کی تدریس، تحقیق اور فروغ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔

شرکاءنے حکومت بہار اور متعلقہ تعلیمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ ٹی آر ای۔4، اسسٹنٹ پروفیسر اور ڈگری کالجوں میں اساتذہ کی تقرری کے دوران ان زبانوں کی تاریخی، ادبی اور تعلیمی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مناسب نمائندگی دی جائے اور ضروری تدریسی عہدوں کی منظوری کو یقینی بنایا جائے۔

میٹنگ کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بہار کی کلاسیکی، علاقائی اور تہذیبی زبانوں کے تحفظ، فروغ اور اعلیٰ تعلیم میں ان کی مو¿ثر نمائندگی کے لیے مشترکہ علمی و تعمیری کوششیں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔ اس میٹنگ میں پروفیسر اخلاق احمد آہن، صدر شعبہ سینٹر آف پرشین اینڈ سینٹرل ایشین اسٹڈیز، اسکول آف لینگویج، لٹریچر اینڈ کلچر اسٹڈیز، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ پروفیسر سید اختر حسین، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ ڈاکٹر محمد مظہر الحق، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ پروفیسر سید کلیم اصغر، صدر شعبہ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ؛ پروفیسر رضوان الرحمن، سابق چیئرپرسن، سینٹر آف عربک اینڈ افریقن اسٹڈیز، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ ڈاکٹر خورشید امام، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ ڈاکٹر اختر عالم، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ نیز مختلف دیپارٹمنٹ کے اسکالرس جناب غالب زیاد، جناب ڈاکٹر محمد کشمیری، جناب پرگتی شیل پانڈے، جناب پوشپ راج، جناب کمل کیشور، جناب امر شیکھر، جناب صفی الرحمن، جناب محمد ساجد اور دیگر اہل علم شریک ہوئے۔


Tuesday, 4 August 2026

گریجویٹ ووٹر رجسٹریشن مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، تعلیم یافتہ مسلمانوں کی بیداری وقت کی اہم ضرورت ہے: ایڈووکیٹ شاہد اطہر






دربھنگہ: خادمِ ملت و تعلیمی خدمت گار ایڈووکیٹ شاہد اطہر ڈائریکٹر متھلا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس نے 05- دربھنگہ گریجویٹ انتخابی حلقہ کے تمام اہلِ گریجویٹ شہریوں، خصوصاً مسلم نوجوانوں، اساتذہ، علمائے کرام، وکلاء، ڈاکٹروں، انجینئروں، سرکاری و غیر سرکاری ملازمین، کاروباری حضرات اور دیگر تعلیم یافتہ افراد سے پ±رزور اپیل کی ہے کہ وہ گریجویٹ ووٹر کے طور پر اپنا اندراج لازماً کرائیں اور اس قومی و جمہوری ذمہ داری کو پوری سنجیدگی کے ساتھ ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور مضبوط معاشرہ صرف تعلیم سے نہیں بلکہ اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے صحیح استعمال سے بھی تشکیل پاتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہر انتخاب میں ہزاروں ایسے اہلِ گریجویٹ افراد صرف معلومات کی کمی یا لاپرواہی کی وجہ سے ووٹر فہرست میں شامل نہیں ہو پاتے، جس کے باعث وہ اپنے قانونی حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔

ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ سال 2022 یا اس سے پہلے گریجویشن مکمل کرنے والے تمام اہل افراد کے لیے یہ ایک قیمتی موقع ہے۔ وقت بہت محدود ہے، اس لیے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ آج ہی اپنے کاغذات مکمل کرے اور اپنے ضلع کے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کے دفتر میں جا کر درخواست جمع کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں تو معاشرہ ترقی کرتا ہے، ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور عوامی مسائل زیادہ مو¿ثر انداز میں سامنے آتے ہیں۔ اس لیے ہر گریجویٹ نوجوان کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی رجسٹریشن کرائے اور اپنے والدین، بھائیوں، بہنوں، رشتہ داروں، دوستوں اور محلے کے تمام اہلِ گریجویٹ افراد کو بھی اس مہم میں شامل ہونے کی ترغیب دے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اپیل کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کے حق یا مخالفت میں نہیں، بلکہ صرف اس مقصد کے لیے ہے کہ زیادہ سے زیادہ اہلِ گریجویٹ شہری اپنے جمہوری حق کا استعمال کر سکیں اور ووٹر فہرست میں اپنا نام شامل کرا سکیں۔ درخواست کے لیے ضروری دستاویزات

- گریجویشن کی مارک شیٹ (گزیٹیڈ آفیسر سے تصدیق شدہ)

- آدھار کارڈ یا ووٹر کارڈ کی نقل (گزیٹیڈ آفیسرسے تصدیق شدہ)

تمام اہل امیدوار اپنی درخواست خود اپنے متعلقہ ضلع کے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کے دفتر میں جمع کریں۔ آخر میں ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ آئیں ہم سب مل کر ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور ذمہ دار معاشرہ تشکیل دیں، اپنے حقوق سے واقف رہیں، اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور اس اہم اطلاع کو ہر گھر اور ہر اہلِ گریجویٹ فرد تک پہنچائیں تاکہ کوئی بھی شخص محض لاعلمی کی وجہ سے اس حق سے محروم نہ رہ جائے۔


Sunday, 26 July 2026

قومی تنظیم کے چیف ایڈیٹر اشرف فرید کی اردو خدمات قابلِ تحسین، انہیں گورنر کوٹے سے ایم ایل سی بنایا جائے: عطاءالرحمن





پٹنہ(پریس ریلیز )اردو زبان کی بقا اور اس کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے اردو ایکشن کمیٹی کے صدر اور روزنامہ ’قومی تنظیم‘ کے چیف ایڈیٹر اشرف فرید کی کاوشیں انتہائی قابل قدر اور لائق تحسین ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز سماجی کار کن اور کانگریسی لیڈر ایڈووکیٹ عطاءالرحمن نے ایک صحافتی بیان جاری کرتے ہوئے کیا۔

عطاءالرحمن نے کہا کہ اشرف فرید ان دنوں ریاست میں اردو کے مسائل، بالخصوص اردو اساتذہ کی بحالی، دفاتر میں اردو کے استعمال اور اردو آبادی کے حقوق کی بحالی کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ نہ صرف صحافت کے ذریعے بلکہ عوامی و سماجی سطح پر بھی اردو کے فروغ کیلئے پیش پیش نظر آتے ہیں۔ ان کی بے باک قیادت نے اردو حلقوں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔

انہوں نے حکومت بہار اور وزیراعلیٰ سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اشرف فرید کی عظیم دینی، ملی، اور صحافتی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں گورنر کوٹے سے ایم ایل سی (قانون ساز کونسل کا رکن) نامزد کیا جائے۔ عطاءالرحمن کا کہنا تھا کہ اشرف فرید جیسی باصلاحیت اور فعال شخصیت کا قانون ساز کونسل میں ہونا اردو کے مسائل کی نمائندگی اور اس کے حل کے لیے انتہائی موثر ثابت ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت اشرف فرید کو ایم ایل سی کے عہدے سے نوازتی ہے تو یہ نہ صرف ان کی علمی و صحافتی خدمات کا اعتراف ہوگا بلکہ ریاست کے تمام اردو داں طبقے کی حوصلہ افزائی کا سبب بنے گا۔

Sunday, 19 July 2026

ڈاکٹر محمد جاوید آزاد ایک نیک اور شریف سیاستداں

 



 بہار کے ضلع کشن گنج سے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر محمد جاوید آزاد ایک نیک اور نہایت شریف مزاج رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس کے سینئر رہنما ہونے کے ساتھ پیشے کے اعتبار سے ایک معالج بھی ہیں۔ڈاکٹر جاوید آزاد 2024 کے ہندوستانی عام انتخابات میں مسلسل دوسری بار بہار کے کشن گنج لوک سبھا حلقے سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔ وہ کانگریس پارٹی کے لوک سبھا میں چیف وِپ کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کانگریس پارٹی کی قومی انتخابی کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔سیمانچل کے عوام کے ساتھ ساتھ پوری ریاست بہار کے عام لوگ ڈاکٹر جاوید صاحب کی سادگی اور شفاف سیاست کی وجہ سے انہیں بے حد پسند کرتے ہیں۔

سیاسی سفر

رکن پارلیمنٹ بننے سے قبل ڈاکٹر جاوید صاحب سال 2000 سے مسلسل 4 مرتبہ بہار قانون ساز اسمبلی کے رکن یعنی ایم ایل اے رہے۔ 2000 سے 2004 تک وہ بہار حکومت میں مختلف محکموں کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ ایم ایل اے بننے سے پہلے انہوں نے کشن گنج کے عام عوام کی ایک معالج کی حیثیت سے مفت خدمت بھی کی۔

تعلیم اور پیشہ 

پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے سرینگر کے سرکاری میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔

پارلیمانی کام 

پارلیمنٹ میں وہ کشن گنج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا مرکز قائم کرنے، جلال گڑھ-کشن گنج ریل لائن منصوبے اور کشن گنج لوک سبھا حلقے کی ترقی و خوشحالی سے جڑے متعدد اہم مسائل کو مسلسل اور مضبوطی کے ساتھ اٹھاتے رہتے ہیں۔


ذات یا مذہب کی بنیاد پر ووٹ دینے کے بجائے ایک قابل اور ایماندار امیدوار کا انتخاب کریں : پرشانت کشور

 



پٹنہ: جن سوراج پارٹی کے روح رواں پرشانت کشور نے بانکی پور اسمبلی حلقے میں عوامی مکالمے کے دوران ریاست کی سیاست میں مثبت تبدیلی اور انتخابی عمل میں عوام کے کردار پر زور دیا۔

بانکی پور کے دانشوران سے خطاب کرتے ہوئے پرشانت کشور نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں سے بہار کی سیاست بنیادی طور پر ذات، مذہب اور ”جنگل راج“ کے خوف کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی موضوعات نے ریاست کی ترقی کے عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔


بانکی پور ضمنی انتخاب کی اہمیت

انہوں نے کہا کہ بانکی پور کا ضمنی انتخاب صرف ایک ایم ایل اے کے انتخاب کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ بی جے پی کے سیاسی تکبر کو چیلنج کرنے اور اقتدار میں بیٹھی قیادت کو جوابدہ بنانے کا سنہری موقع ہے۔

پرشانت کشور نے دعویٰ کیا کہ اگر بانکی پور میں بی جے پی کو شکست ہوتی ہے تو یہ پیغام سیدھا پارٹی کے مرکزی قیادت تک جائے گا۔ اس کے نتیجے میں ریاست کی قیادت جیسے سمراٹ چودھری کی سطح پر بھی تبدیلی کا امکان بڑھ جائے گا۔


عوام سے اپیل

مکالمے کے دوران انہوں نے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ جھنڈے کے رنگ، ذات یا مذہب کی بنیاد پر ووٹ دینے کے بجائے ایک قابل اور ایماندار امیدوار کا انتخاب کریں تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے بہتر مواقع پیدا ہو سکیں۔


پرشانت کشور نے موجودہ سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندے لاپرواہ ہو چکے ہیں۔ بانکی پور میں شکست کا خوف ہی انہیں عوام کے تئیں زیادہ جوابدہ اور حساس بننے پر مجبور کرے گا۔



مکالمے میں خطاب کرنے والے مقررین

اس عوامی مکالمے میں ابو اللیث صاحب، ایم ایل سی آفاق احمد، ابو عفان فاروقی، کمار سورو، سابق ایم ایل اے کشور منا، پروفیسر منور جہاں، ڈاکٹر آشا ٹھاکر گائنا کولوجسٹ، ڈاکٹر شگفتہ یاسمین، فزکس کے پروفیسر آفتاب عالم اور رامانشو سمیت شہر کے ممتاز دانشوروں اور سماجی کارکنوں نے خطاب کیا۔ 


پرشانت کشور نے عوام سے کہا کہ وہ اپنے ووٹ کی طاقت کو صحیح سمت میں استعمال کریں تاکہ بہار کی سیاست میں ایک نئے اور مثبت دور کا آغاز ہو سکے۔




Wednesday, 27 May 2026

پروفیسر محفوظ الرحمن کی جانب سے ملک وریاست کے باشندوں کو عید الاضحی مبارک


 

عید الاضحیٰ قربانی، بھائی چارہ اور انسانیت کا پیغام ہے - ایڈووکیٹ شاہد اطہر





دربھنگہ: متھلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس کے ڈائریکٹر ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے عید الاضحیٰ کے پُرمسرت موقع پر تمام اہلِ وطن خصوصاً دربھنگہ اور متھلانچل کے عوام کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ عید الاضحیٰ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی، صبر، ایثار اور اللہ کی رضا کے لیے مکمل سپردگی کی یاد دلاتی ہے۔ یہ مبارک تہوار محبت، بھائی چارہ، اخوت اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔

ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ آج کے دور میں سماج کو باہمی اتحاد، امن و امان اور بھائی چارے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ عید کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوں، غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں اور معاشرے میں محبت و ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ تعلیم، اخلاقیات اور سماجی ذمہ داریوں کے تئیں بیدار رہیں کیونکہ ترقی کا راستہ اچھی تعلیم اور مثبت سوچ سے ہو کر گزرتا ہے۔ آخر میں انہوں نے دعا کی کہ یہ مبارک تہوار سبھی کی زندگیوں میں خوشحالی، امن، ترقی اور برکت لے کر آئے۔

محمد اعظم صاحب کی جانب سے ملک وریاست کے باشندوں کو عید الاضحیٰ مبارک


 

Saturday, 23 May 2026

٭اسحاق اثر ایک ہمہ جہت اور ہرفن مولا شخصیت تھے، ان کی کمی مجھے ہمیشہ محسوس ہوگی:ڈاکٹر اظہار احمد




٭ اسحاق اثر نے اپنی پوری زندگی قلم کے ذریعے حق و انصاف کی آواز بلند کی اور اردو صحافت کو ایک نیا وقار عطا کیا: رضوان اصلاحی

٭ تعلیمی اور صحافتی میدان میں ان کی خدمات ہمیشہ میں یاد رکھی جائیں گی:سابق وزیر اخلاق احمد

محبان اردو کے زیر اہتمام معروف صحافی اسحاق اثر کی یاد میں تعزیتی نشست


 پٹنہ : محبان اردو کے زیر اہتمام روزنامہ پیاری اردو پٹنہ کے دفتر میں اردو صحافت کے کہنہ مشق اور بے لوث خادم، جناب اسحاق اثر کی رحلت پر منعقد ایک پروقار تعزیتی نشست میں شہر کی ممتاز علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے انہیں پرخلوص خراج عقیدت پیش کیا۔ اس نشست میں مرحوم کی گراں قدر خدمات کو یاد کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اسحاق اثر کا خلا مدتوں تک محسوس کیا جائے گا۔

اس موقع پر مولانا رضوان عالم اصلاحی امیر جماعت اسلامی حلقہ بہار نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”موت ایک اٹل حقیقت ہے اور دنیا کی زندگی محض ایک امتحان گاہ ہے۔“انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں موت کی حقیقت پر مفصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی رضا میں راضی رہنا اور مصیبت کی گھڑی میں صبر کا دامن تھامنا ہی مومن کی اصل پہچان ہے۔ انہوں نے اسحاق اثر کی صحافتی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی قلم کے ذریعے حق و انصاف کی آواز بلند کی اور اردو صحافت کو ایک نیا وقار عطا کیا۔ ان کا انتقال علمی و صحافتی حلقوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

پروگرام کے روح رواں اور سابق رکن اسمبلی و تخمینہ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر اظہار احمد نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”جناب اسحاق اثر ایک ہمہ جہت اور ہرفن مولا شخصیت کے مالک تھے۔“ان کی رپورٹنگ میں جہاں سچائی اور گہرائی ہوتی تھی، وہیں اردو زبان پر ان کی گرفت بھی بے حد مضبوط تھی۔ وہ اردو کے ایسے بے لوث خادم تھے جنہوں نے کبھی کسی صلے کی پروا کیے بغیر اپنا سفر جاری رکھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے اب تین ممتاز شخصیات؛ مرحوم اجمل فرید صاحب، فاروقی تنظیم کے مالک مرحوم ظفرصاحب اور اسحاق اثر کے نام سے اردو کے خادموں اور صحافیوں کے لیے خصوصی ایوارڈز کا سلسلہ شروع کیا جائے گا تاکہ نئی نسل ان کے نقش قدم پر چل سکے۔

سابق وزیر اخلاق احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق اثر کی رحلت سے صحافت کا ایک باب بند ہو گیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کی تدریسی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ جس طرح قلم کے دھنی تھے، اسی طرح تدریس کے میدان میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق اثر صرف ایک صحافی نہیں تھے بلکہ وہ اردو زبان کے ایک سچے محافظ اور ہمدرد تھے، جن کی خدمات کو آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھیں گی۔

ارشد فیروز (سابق چیئرمین، بہار گورنمنٹ اردو لائبریری پٹنہ) نے کہا کہ اسحاق اثر نے صحافت کے میدان اور تحریک اردو میں جو کردار ادا کیا، وہ ناقابل فراموش ہے۔ ان کا جانا اردو صحافت کیلئے ایک بڑا خسارہ ہے۔

اسلم جاویداں نے کہا کہ اسحاق صاحب انتہائی خوش اخلاق اور ملنسار انسان تھے، جو ہر کسی سے خندہ پیشانی سے ملتے تھے۔ وہ اردو کے سچے خادم تھے اور ان کی وفات سے اردو دنیا ایک مخلص دوست سے محروم ہو گئی ہے۔

محمد شریف (ڈین، لاءکالج) اور رضا عالم دانش (جے ڈی یو لیڈر) نے اپنے مختصر تعزیتی پیغامات میں مرحوم کی علمی دیانت داری اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی مغفرت کی دعا کی۔

کرنل عظیم، سراج انور، قمر الحسن اور افروز فانی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق اثر جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اردو اور صحافت کے نام کر دی۔

ان کے علاوہ نواب عتیق الزماں ، مبین الہدی ، فاطمہ ڈگری کالج کے پرنسپل انور امام ، سب انسپکٹر شہنواز عالم ، ڈاکٹر فیض احمد قادری ، مالے لیڈر مسز صبا ، محمد رفیع ، عظمت اللہ ابو سعید ، سبودھ برنوال ، اسحاق اثر کے صاحبزادے انجینئر ذیشان ، محمد شاہد اختر ڈائریکٹر عوامی کوآپریٹیو بینک نے بھی اپنے تاثرات پیش کئے اور مرحوم کی مغفرت اور بلندی ¿ درجات کی دعا کی ۔ 

مشہور شاعر جمال کاکوی نے اپنے اشعار کے ذریعہ اسحاق اثر کو پرخلوص خراج عقیدت پیش کیا۔

اس موقع پر فصیح صاحب، روزنامہ تاثیر کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر گوہر کے بھی سانحہ ارتحال پر مذکورہ تمام لوگوں نے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور انہیں اپنی دعاﺅں میں یاد کیا ۔

نشست کا اختتام مرحوم اسحاق اثر ، فصیح صاحب اوررکن پارلیمنٹ طارق انور کی خوش دامن اور مرحوم شمائل نبی کی اہلیہ سمیت دیگر مرحومین کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ ہوا۔

پروگرام کا آغاز حافظ غلام سرور ندوی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، پروگرام کی نظامت پرویز عالم نے کی ۔ مرحوم نسیم انصاری کے صاحبزادے محمد عمران ، مشتاق خان ،خورشید عالم، محمد حسنین، محمد نوشاد عالم نے پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کر دار ادا کیا ۔ 


Tuesday, 14 April 2026

ہو گیا پلٹی بازی کے دھرندھر چاچا جی کا استعفیٰ‘

 

روہنی آچاریہ نے نتیش کمار پر چلائے طنز کے تیر




نتیش کمار نے بہار کے وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے، اور سمراٹ چودھری کو بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر بھی منتخب کر لیا ہے۔ یعنی نتیش کمار کا دور ختم، اور بہار میں پہلی بار بی جے پی لیڈر کے وزیر اعلیٰ بننے کا راستہ ہموار۔ موجودہ صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے لالو پرساد کی بیٹی روہنی آچاریہ نے نتیش کمار پر طنز کے تیر چلائے ہیں، جو تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہے ہیں۔



سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر روہنی آچاریہ نے نتیش کمار کے استعفیٰ پر اپنا تلخ رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے نتیش کمار کو ’پلٹی بازی میں دھرندھر‘ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ آخر کار ان کا استعفیٰ ہو ہی گیا۔ انھوں نے پوسٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ جو لوگ ان کے ساتھ نظر آتے ہیں، حقیقت میں وہی ان کے خلاف سازش کر رہے تھے۔



سوشل میڈیا پوسٹ میں روہنی لکھتی ہیں کہ ’’آخر کار ہو ہی گیا پلٹی بازی کے دھرندھر ہمارے چاچا جی کا استعفیٰ۔ بننے چلے تھےس یاست کے خلیفہ، بے بسی میں خود ہی سپرد کر آئے گورنر محترم کو اپنی سیاسی پاری کے خاتمہ کا لفافہ۔‘‘ انھوں نے آگے لکھا ہے کہ ’’بڑے افسوس کی بات ہے، چاچا جی کے غم میں سچے دن سے نہیں کوئی ان کے ساتھ ہے، اوپر سے جو بھی نظر آتا ان کے ساتھ ہے، حقیقت میں وہی چاچا جی پر لگائے بیٹھا گھات ہے۔‘‘



پوسٹ کے آخر میں روہنی نے لکھا ہے کہ ’’زیادہ کیا کہوں، بس اتنا ہی کافی ہے... جھوٹی شیخی بگھارنے والے چاچا جی کی اونچی اڑان کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے، چاچا جی کے پر ان کے ہی اپنے کہے جانے والے سیاسی بہیلیے کتر گئے۔‘‘ روہنی کے ذریعہ کیے گئے اس طنزیہ پوسٹ کو صارفین نہ صرف پسند کر رہے ہیں، بلکہ اس پر تبصرہ کرنے کے ساتھ ساتھ ری-پوسٹ بھی کر رہے ہیں۔



روہنی آچاریہ نے مزید ایک پوسٹ میں بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ ’’وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے بی جے پی کو ایک گھمنتو ہی ملا!! اپنی تاسیس کے 46 سال گزر جانے کے بعد بھی بہار میں بی جے پی کے پاس لیڈرشپ کی ایسی خشک سالی ہے کہ بی جے پی نہ تو کبھی اپنے دم پر حکومت بنا سکی، نہ ہی کبھی کسی اسمبلی انتخاب میں اپنا کوئی وزیر اعلیٰ کا چہرہ سامنے رکھ سکی، اور نہ ہی وسیع عوامی مقبولیت و شناخت والا ایک لیڈر تیار کر سکی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’بہار میں بی جے پی کی سیاسی کنگالی کا عالم تو کچھ ایسا ہے کہ اب جب سالوں کی مشقت کے بعد بی جے پی نتیش کمار جی کو سازش کے سہارے وزیر اعلیٰ کی کرسی سے ہٹانے میں کامیاب ہوئی، تب بھی بی جے پی کسی ایسے کو وزیر اعلیٰ بنانے جا رہی ہے، جو بنیادی طور پر نہ تو ناگپوریا نرسری سے ہے اور نہ ہی بہار بی جے پی کی بنجر بگیا سے۔‘‘ اس پوسٹ کے آخر میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں کہ ’’بغیر قسم پوری کیے مریٹھا کھولنے، فرضی ڈگری، فرضی پیدائش سرٹیفکیٹ والا وزیر اعلیٰ مبارک ہو بی جے پی والوں...۔‘‘


سمراٹ چودھری ہوں گے بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ، گورنر کو حکومت سازی کا دعویٰ پیش کیا




بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری ہوں گے۔ اس بات پر اُس وقت مہر لگ گئی، جب بی جے پی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں انہیں لیڈر منتخب کر لیا گیا۔ اس میٹنگ میں وجے سنہا نے ان کے نام کا اعلان کیا۔ میٹنگ میں ریاستی صدر سنجے سراوگی اور بی جے پی کے مبصر شیوراج سنگھ چوہان موجود تھے۔ سمراٹ چودھری کے نام کی حمایت دلیپ جیسوال اور منگل پانڈے نے بھی کی۔ بعد ازاں سمراٹ چودھری نے بہار کے گورنر سید عطا حسنین سے ملاقات کر ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کا دعویٰ پیش کر دیا۔ گورنر نے ان کا یہ دعویٰ قبول کر لیا ہے اور 15 اپریل کی صبح 11 بجے حلف برداری تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تقریب میں سمراٹ چودھری بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ کی شکل میں حلف لیں گے اور ان کے ساتھ بہار کی نئی کابینہ کے کچھ اراکین کی بھی حلف برداری ہوگی۔




بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیے جانے کے بعد سمراٹ چودھری کا پہلا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’بی جے پی کی مرکزی قیادت کے ذریعہ مجھ پر بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے بہار بی جے پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر کی ذمہ داری سونپی گئی، اس کے لیے میں دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ میرے لیے صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ بہار کی عوام کی خدمت، ان کے اعتماد اور خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ میں پوری ایمانداری کے ساتھ عوام کی امیدوں پر کھرا اترنے کا عزم لیتا ہوں۔‘‘




واضح رہے کہ نتیش کمار نے منگل (14 اپریل) کو گورنر ہاؤس پہنچ کر اپنا استعفیٰ سونپ دیا تھا۔ وہ سمراٹ چودھری اور وجے چودھری کے ساتھ ایک ہی گاڑی سے راج بھون پہنچے تھے۔ نتیش کمار نے 20 نومبر 2025 کو وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لیا تھا۔ آج 14 اپریل کو استعفیٰ دینے کے بعد یہ مدت کار 145 دنوں کی ہوئی، یہ دوسری بار ہے جب نتیش کمار انتہائی کم مدت کے لیے وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس سے قبل 2000 میں انہوں نے 3 مارچ کو وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لیا تھا، لیکن 10 مارچ کو ہی انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔


آج صبح سے ہی بہار میں سیاسی ہلچل کافی تیز تھی۔ صبح صبح وزیر اعلیٰ کی رہائش پر سنجے جھا، وجے چودھری اور للن سنگھ پہنچے تھے۔ اس کے بعد سمراٹ چودھری بھی وہاں پہنچے۔ تقریباً نصف گھنٹے کی میٹنگ کے بعد وجے چودھری، سمراٹ چودھری اور نتیش کمار ایک ہی گاڑی سے وزیر اعلیٰ کی رہائش سے باہر نکلے۔ گاڑی کی اگلی سیٹ پر وجے چودھری بیٹھے تھے، جبکہ پیچھے کی سیٹ پر سمراٹ چودھری اور نتیش کمار موجود تھے۔



قابل ذکر ہے کہ آخری کابینہ میٹنگ میں نتیش کمار جذباتی نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ 2005 میں جب وہ حکومت میں آئے، تب سے جہاں تک ممکن ہوا انہوں نے کام کیا اور نئی حکومت کو ان کی رہنمائی ملتی رہے گی۔ اس میٹنگ کے بعد کئی وزراء نے نتیش کمار کی مدت کار کو تاریخی قرار دیا۔


انتخاب ختم ہوتے ہی پٹرول 18 روپے اور ڈیزل 35 روپے تک ہو سکتا ہے مہنگا

 






غیر ملکی بروکریج فرم ’میکویری‘ کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں آئی بھاری تیزی کا بوجھ اب گھریلو تیل کمپنیوں (او ایم سی) کے لیے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ حالانکہ فی الحال پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مستحکم ہیں، لیکن اس سے کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں واراننگ دی گئی ہے کہ مغربی بنگال سمیت 5 ریاستوں میں جاری اسمبلی انتخاب ختم ہوتے ہی کمپنیاں قیمتوں میں بڑا اضافہ کر سکتی ہیں۔


گزشتہ 46 دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ 27 فروری کو جو خام تیل 73 ڈالر فی بیرل پر تھا وہ 19 مارچ کو 120 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا اور فی الحال 100 ڈالر فی بیرل کے آس پاس بنا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر کا اضافہ ہندوستانی کمپنیوں کے نقصان میں 6 روپے فی لیٹر کا اضافہ کرتا ہے۔



واضح رہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود قیمتیں نہ بڑھنے کی وجہ سے تیل کمپنیوں کو پٹرول پر 18 روپے اور ڈیزل پر 35 روپے فی لیٹر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ ماہ یہ نقصان 2400 کروڑ یومیہ تک پہنچ گیا تھا، جو ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے کی تخفیف کے بعد اب 1600 کروڑ روپے یومیہ پر ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ سرکاری ریونیو میں تیل پر لگنے والی ایکسائز ڈیوٹی کا حصہ جو 2017 میں 22 فیصد تھا، اب کم ہو کر صرف 8 فیصد رہ گیا ہے، جس کی وجہ سے حکومت کے پاس قیمتوں کو مزید کم کرنے کی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔


ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً 88 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے، جس میں سے 45 فیصد مشرق وسطیٰ اور 35 فیصد روس سے آتا ہے۔ تیل کی بڑھتی قیمتیں نہ صرف مہنگائی میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی) کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ اندازہ ہے کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں یہ خسارہ بڑھ کر 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جو معیشت کی مضبوطی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔



قابل ذکر ہے کہ یہ مسئلہ صرف ہندوستان تک محدود نہیں ہے۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں اگست 2022 کے بعد پہلی بار 4 ڈالر فی گیلن کے پار نکل گئی ہے۔ ہندوستان کے پڑوسی ممالک پاکستان، نیپال اور سری لنکا پہلے ہی اپنی گھریلو قیمتوں میں بھاری اضافہ کر چکے ہیں۔ ایسے میں ہندوستان میں انتخاب کے بعد قیمتوں میں اضافے کا امکان کافی قوی نظر آ رہا ہے۔