*پٹنہ:* پٹنہ کے تاریخی _انجمن اسلامیہ ہال_ میں آج ایک بڑا سیاسی اجتماع دیکھنے کو ملا، جہاں پٹنہ سمیت پورے بہار سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ سابق میئر افضل امام کی حمایت میں جمع ہوئے۔
اجتماع میں موجود مقررین اور عوام نے ایک آواز میں کہا کہ پرشانت کشور نے افضل امام کے خلاف بول کر اچھا نہیں کیا۔ لوگوں نے نعرہ لگایا کہ _"افضل ہمارے لیڈر تھے، ہیں اور رہیں گے، افضل ایک تحریک کا نام ہے اور کسی کی تنقید سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔"_
اس موقع پر سابق میئر اور سینئر رہنما _افضل امام_ نے پرشانت کشور کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا:
> _"ہم لوگ نظریاتی لوگ ہیں، ہم پیسے کے پیچھے نہیں بھاگتے ہیں، پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے۔ یہ جس پروگرام میں جاتے ہیں تو ہمیشہ مسلم سیاست کی بات کرتے ہیں، حالانکہ مسلمانوں سے بڑا کوئی سیاستدان نہیں ہو سکتا، ہم نے سیکڑوں سال اس ملک پر حکمرانی کی ہے، ہمیں سیاست اچھی طرح معلوم ہے۔"_
افضل امام نے الزام لگایا کہ پرشانت کشور صرف مسلم ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہیں مسلم مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
> _"یہ کبھی بھی آر ایس ایس یا وزیر اعظم یا وزیر داخلہ کے خلاف نہیں بولتے، صرف چھوٹے سیاستدانوں پر الزام لگاتے رہتے ہیں۔ یہ اصل میں مسلم ووٹوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کبھی بھی مسلم مسائل پر بات نہیں کرتے، کبھی بھی بلڈوزر ایکشن پر بات نہیں کرتے، آج مسلمانوں کے بچے جیلوں میں سڑ رہے ہیں ان کے بارے میں ایک لفظ نہیں بولتے۔ جب ان سے آر ایس ایس کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو جھلا اٹھتے ہیں۔ انہیں صرف مسلمانوں کا ووٹ چاہیے۔"_
افضل امام نے دو ٹوک اعلان کیا کہ پرشانت کشور کو اپنے الزام کا جواب دینا پڑے گا۔
> "جب انہوں نے الزام لگایا ہے تو انہیں جواب دینا پڑے گا ورنہ ان کا تعاقب جاری رہے گا۔ آج انجمن میں ہوا ہے، آئندہ باپو سبھا گار اور پورے بہار میں اس طرح کا پروگرام ہوگا اور ان کی حقیقت کو لوگوں خاص کر مسلمانوں کے سامنے لایا جائے گا تاکہ مسلمان ان کے فریب میں نہ آئیں۔ لوگوں نے انہیں کام کے لیے ووٹ دیا تھا نہ کہ کسی پر الزام تراشی کے لیے۔"
اس اجتماع میں سینئر صحافی *ریحان غنی، آفتاب اقبال اور مبین الہدیٰ* نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ افضل امام کی سیاست ہمیشہ اصولوں اور نظریات پر مبنی رہی ہے، پیسے اور اقتدار کی سیاست سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ مقررین نے کہا کہ پرشانت کشور کی سیاست صرف سوشل میڈیا اور بیان بازی تک محدود ہے، جبکہ افضل امام زمین پر عوام کے درمیان رہنے والے لیڈر ہیں۔ صحافیوں نے کہا کہ مسلمانوں کو ایسے موقع پرست سیاست سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
اس اجتماع میں علماء، دانشوران، نوجوانوں اور عام شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جس سے یہ صاف ہو گیا کہ پٹنہ کی مسلم سیاست میں افضل امام آج بھی ایک مضبوط ستون ہیں۔








