Showing posts with label patna. Show all posts
Showing posts with label patna. Show all posts

Wednesday, 5 August 2026

جے این یو کے سینئر ریسرچ اسکالر غالب زیاد نے ایم ایل سی خالد انور کو میمورنڈم پیش کیا، بہار میں کلاسیکی و علاقائی زبانوں کے تحفظ اور تدریسی عہدوں کی بحالی کا مطالبہ

 








 نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سینئر ریسرچ اسکالر غالب زیاد نے بہار قانون ساز کونسل کے معزز جے ڈی یو ایم ایل سی جناب خالد انور سے ملاقات کرکے ٹی آر ای ۔4 کے تحت اعلیٰ ثانوی (پی جی ٹی، جماعت 11–12) اساتذہ کی بھرتی، یونیورسٹی سطح پر اسسٹنٹ پروفیسر کی تقرری اور 211 نئے سرکاری ڈگری کالجوں میں عربی، فارسی، میتھلی، بنگلہ، بھوجپوری، مگہی، پالی اور پراکرت مضامین کے لیے تدریسی عہدے منظور کیے جانے کے مطالبے پر مشتمل ایک میمورنڈم پیش کیا۔

غالب زیاد نے کہا کہ فارسی، میتھلی، بنگلہ، پالی، عربی، پراکرت، بھوجپوری اور مگہی صرف زبانیں نہیں بلکہ بہار کی صدیوں پر محیط تاریخی، تہذیبی، ادبی اور علمی وراثت کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان زبانوں نے بہار کی مشترکہ ثقافت، علمی روایت اور فکری ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آج بھی پٹنہ یونیورسٹی، بی آر امبیڈکر بہار یونیورسٹی (مظفرپور)، تلکا مانجھی بھاگلپور یونیورسٹی، گیا یونیورسٹی، للت نارائن متھیلا یونیورسٹی، بی این منڈل یونیورسٹی سمیت بہار کی مختلف جامعات و یونیورسٹیز میں ان مضامین کی تعلیم دی جا رہی ہے اور طلبہ ایم اے، ایم فل (جہاں قابلِ اطلاق ہو) اور پی ایچ ڈی سطح تک تحقیق کر رہے ہیں۔ اسی طرح جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور بنارس ہندو یونیورسٹی جیسے ملک کے ممتاز تعلیمی اداروں میں بھی ان زبانوں کی تدریس اور تحقیق مسلسل جاری ہے۔

غالب زیاد نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ان زبانوں کا تعلق صرف کسی ایک مذہب یا ایک مخصوص طبقے سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان زبانوں کو ملک بھر میں مختلف مذاہب، ذاتوں اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ، اساتذہ اور محققین پڑھتے، پڑھاتے اور ان پر تحقیق کرتے ہیں۔ یہ زبانیں ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، ثقافت اور علمی وراثت کی نمائندہ ہیں، جن سے ہر طبقے کے لوگ وابستہ ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں حالیہ 211 نئے سرکاری ڈگری کالجوں کے لیے اساتذہ کی تقرری سے متعلق اطلاعات میں ان زبانوں کے لیے تدریسی عہدوں کی منظوری نہیں دی گئی۔ مزید برآں، یونیورسٹی سطح پر نہ صرف اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدوں پر طویل عرصے سے تقرریاں نہیں ہو رہی ہیں بلکہ نئی بھرتیوں میں بھی ان مضامین کو مناسب نمائندگی نہیں دی جا رہی۔ اس صورتحال کے باعث ان زبانوں کے ہزاروں طلبہ اور ریسرچ اسکالرز شدید بے چینی اور غیر یقینی کا شکار ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ان زبانوں کے لیے اساتذہ اور اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے ہی موجود نہیں ہوں گے تو ان مضامین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور محققین کا مستقبل کیا ہوگا؟ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کہاں جائیں گے؟ اگر تدریسی عہدے ہی ختم ہوتے گئے تو آنے والی نسلیں ان زبانوں کی تعلیم اور تحقیق سے کیسے مستفید ہوں گی؟

غالب زیاد نے کہا کہ ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 14 تمام شہریوں کو مساوات کا حق دیتا ہے، آرٹیکل 15 ہر قسم کے امتیاز کی ممانعت کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 29 زبانوں اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اسی جذبے کے تحت آئین کی آٹھویں جدول بھی ہندوستان کی لسانی و ثقافتی تنوع کے احترام اور تحفظ پر زور دیتی ہے۔

انہوں نے بہار حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹی آر ای -4، یونیورسٹی سطح پر اسسٹنٹ پروفیسر کی تقرری اور 211 نئے سرکاری ڈگری کالجوں میں عربی، فارسی، میتھلی، بنگلہ، بھوجپوری، مگہی، پالی اور پراکرت مضامین کے لیے اسسٹنٹ پروفیسر اور دیگر تدریسی عہدے فوری طور پر منظور کیے جائیں، تاکہ ان زبانوں کے طلبہ، محققین اور اساتذہ کا مستقبل محفوظ ہو سکے اور بہار کی مشترکہ تہذیبی و علمی وراثت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اس موقع پر معزز ایم ایل سی جناب خالد انور نے مطالبات پر ہمدردانہ غور کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وہ اس معاملے کو حکومتِ بہار اور معزز وزیرِ تعلیم کے سامنے مو¿ثر انداز میں اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

یہ مطالبہ کسی ایک زبان، مذہب یا برادری کا نہیں، بلکہ بہار کی مشترکہ تہذیبی وراثت، اعلیٰ تعلیم، آئینی مساوات اور آنے والی نسلوں کے علمی مستقبل کے تحفظ کا مطالبہ ہے۔

بہار میں اساتذہ تقرری میں فارسی ، عربی ، میتھلی ، بنگلہ، پالی اور پراکرت کی نظر اندازی پر اظہار تشویش




 نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں فارسی، عربی، میتھلی، بنگلہ، پالی اور پراکرت جیسی کلاسیکل زبانوں سے دلچسپی رکھنے والے اساتذہ، ریسرچ اسکالرس اور طلبہ کی ایک مشترکہ علمی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ریاست بہار میں ٹی آر ای۔4، اسسٹنٹ پروفیسر اور ڈگری کالجوں میں اساتذہ کی تقرری کے عمل میں فارسی، عربی، میتھلی، بنگلہ، پالی اور پراکرت جیسی اہم زبانوں کو نمائندگی نہ ملنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

میٹنگ میں شرکائنے کہا کہ فارسی، عربی، میتھلی، بنگلہ، پالی اور پراکرت بہار کی تاریخی، تہذیبی، ادبی اور علمی شناخت کا اہم حصہ ہیں، لیکن حالیہ تقرریوں اور تدریسی عہدوں کی منظوری کے عمل میں ان زبانوں کو مناسب نمائندگی نہیں دی جا رہی ہے، جس سے ان زبانوں کی تدریس، تحقیق اور فروغ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔

شرکاءنے حکومت بہار اور متعلقہ تعلیمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ ٹی آر ای۔4، اسسٹنٹ پروفیسر اور ڈگری کالجوں میں اساتذہ کی تقرری کے دوران ان زبانوں کی تاریخی، ادبی اور تعلیمی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مناسب نمائندگی دی جائے اور ضروری تدریسی عہدوں کی منظوری کو یقینی بنایا جائے۔

میٹنگ کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بہار کی کلاسیکی، علاقائی اور تہذیبی زبانوں کے تحفظ، فروغ اور اعلیٰ تعلیم میں ان کی مو¿ثر نمائندگی کے لیے مشترکہ علمی و تعمیری کوششیں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔ اس میٹنگ میں پروفیسر اخلاق احمد آہن، صدر شعبہ سینٹر آف پرشین اینڈ سینٹرل ایشین اسٹڈیز، اسکول آف لینگویج، لٹریچر اینڈ کلچر اسٹڈیز، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ پروفیسر سید اختر حسین، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ ڈاکٹر محمد مظہر الحق، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ پروفیسر سید کلیم اصغر، صدر شعبہ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ؛ پروفیسر رضوان الرحمن، سابق چیئرپرسن، سینٹر آف عربک اینڈ افریقن اسٹڈیز، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ ڈاکٹر خورشید امام، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ ڈاکٹر اختر عالم، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ نیز مختلف دیپارٹمنٹ کے اسکالرس جناب غالب زیاد، جناب ڈاکٹر محمد کشمیری، جناب پرگتی شیل پانڈے، جناب پوشپ راج، جناب کمل کیشور، جناب امر شیکھر، جناب صفی الرحمن، جناب محمد ساجد اور دیگر اہل علم شریک ہوئے۔


Tuesday, 4 August 2026

گریجویٹ ووٹر رجسٹریشن مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں، تعلیم یافتہ مسلمانوں کی بیداری وقت کی اہم ضرورت ہے: ایڈووکیٹ شاہد اطہر






دربھنگہ: خادمِ ملت و تعلیمی خدمت گار ایڈووکیٹ شاہد اطہر ڈائریکٹر متھلا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس نے 05- دربھنگہ گریجویٹ انتخابی حلقہ کے تمام اہلِ گریجویٹ شہریوں، خصوصاً مسلم نوجوانوں، اساتذہ، علمائے کرام، وکلاء، ڈاکٹروں، انجینئروں، سرکاری و غیر سرکاری ملازمین، کاروباری حضرات اور دیگر تعلیم یافتہ افراد سے پ±رزور اپیل کی ہے کہ وہ گریجویٹ ووٹر کے طور پر اپنا اندراج لازماً کرائیں اور اس قومی و جمہوری ذمہ داری کو پوری سنجیدگی کے ساتھ ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور مضبوط معاشرہ صرف تعلیم سے نہیں بلکہ اپنے آئینی اور جمہوری حقوق کے صحیح استعمال سے بھی تشکیل پاتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ ہر انتخاب میں ہزاروں ایسے اہلِ گریجویٹ افراد صرف معلومات کی کمی یا لاپرواہی کی وجہ سے ووٹر فہرست میں شامل نہیں ہو پاتے، جس کے باعث وہ اپنے قانونی حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔

ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ سال 2022 یا اس سے پہلے گریجویشن مکمل کرنے والے تمام اہل افراد کے لیے یہ ایک قیمتی موقع ہے۔ وقت بہت محدود ہے، اس لیے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ آج ہی اپنے کاغذات مکمل کرے اور اپنے ضلع کے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کے دفتر میں جا کر درخواست جمع کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں تو معاشرہ ترقی کرتا ہے، ادارے مضبوط ہوتے ہیں اور عوامی مسائل زیادہ مو¿ثر انداز میں سامنے آتے ہیں۔ اس لیے ہر گریجویٹ نوجوان کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی رجسٹریشن کرائے اور اپنے والدین، بھائیوں، بہنوں، رشتہ داروں، دوستوں اور محلے کے تمام اہلِ گریجویٹ افراد کو بھی اس مہم میں شامل ہونے کی ترغیب دے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اپیل کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کے حق یا مخالفت میں نہیں، بلکہ صرف اس مقصد کے لیے ہے کہ زیادہ سے زیادہ اہلِ گریجویٹ شہری اپنے جمہوری حق کا استعمال کر سکیں اور ووٹر فہرست میں اپنا نام شامل کرا سکیں۔ درخواست کے لیے ضروری دستاویزات

- گریجویشن کی مارک شیٹ (گزیٹیڈ آفیسر سے تصدیق شدہ)

- آدھار کارڈ یا ووٹر کارڈ کی نقل (گزیٹیڈ آفیسرسے تصدیق شدہ)

تمام اہل امیدوار اپنی درخواست خود اپنے متعلقہ ضلع کے ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر کے دفتر میں جمع کریں۔ آخر میں ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ آئیں ہم سب مل کر ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور ذمہ دار معاشرہ تشکیل دیں، اپنے حقوق سے واقف رہیں، اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور اس اہم اطلاع کو ہر گھر اور ہر اہلِ گریجویٹ فرد تک پہنچائیں تاکہ کوئی بھی شخص محض لاعلمی کی وجہ سے اس حق سے محروم نہ رہ جائے۔


Sunday, 26 July 2026

قومی تنظیم کے چیف ایڈیٹر اشرف فرید کی اردو خدمات قابلِ تحسین، انہیں گورنر کوٹے سے ایم ایل سی بنایا جائے: عطاءالرحمن





پٹنہ(پریس ریلیز )اردو زبان کی بقا اور اس کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے اردو ایکشن کمیٹی کے صدر اور روزنامہ ’قومی تنظیم‘ کے چیف ایڈیٹر اشرف فرید کی کاوشیں انتہائی قابل قدر اور لائق تحسین ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز سماجی کار کن اور کانگریسی لیڈر ایڈووکیٹ عطاءالرحمن نے ایک صحافتی بیان جاری کرتے ہوئے کیا۔

عطاءالرحمن نے کہا کہ اشرف فرید ان دنوں ریاست میں اردو کے مسائل، بالخصوص اردو اساتذہ کی بحالی، دفاتر میں اردو کے استعمال اور اردو آبادی کے حقوق کی بحالی کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ نہ صرف صحافت کے ذریعے بلکہ عوامی و سماجی سطح پر بھی اردو کے فروغ کیلئے پیش پیش نظر آتے ہیں۔ ان کی بے باک قیادت نے اردو حلقوں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔

انہوں نے حکومت بہار اور وزیراعلیٰ سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اشرف فرید کی عظیم دینی، ملی، اور صحافتی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں گورنر کوٹے سے ایم ایل سی (قانون ساز کونسل کا رکن) نامزد کیا جائے۔ عطاءالرحمن کا کہنا تھا کہ اشرف فرید جیسی باصلاحیت اور فعال شخصیت کا قانون ساز کونسل میں ہونا اردو کے مسائل کی نمائندگی اور اس کے حل کے لیے انتہائی موثر ثابت ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت اشرف فرید کو ایم ایل سی کے عہدے سے نوازتی ہے تو یہ نہ صرف ان کی علمی و صحافتی خدمات کا اعتراف ہوگا بلکہ ریاست کے تمام اردو داں طبقے کی حوصلہ افزائی کا سبب بنے گا۔

Sunday, 19 July 2026

ڈاکٹر محمد جاوید آزاد ایک نیک اور شریف سیاستداں

 



 بہار کے ضلع کشن گنج سے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر محمد جاوید آزاد ایک نیک اور نہایت شریف مزاج رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس کے سینئر رہنما ہونے کے ساتھ پیشے کے اعتبار سے ایک معالج بھی ہیں۔ڈاکٹر جاوید آزاد 2024 کے ہندوستانی عام انتخابات میں مسلسل دوسری بار بہار کے کشن گنج لوک سبھا حلقے سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔ وہ کانگریس پارٹی کے لوک سبھا میں چیف وِپ کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کانگریس پارٹی کی قومی انتخابی کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔سیمانچل کے عوام کے ساتھ ساتھ پوری ریاست بہار کے عام لوگ ڈاکٹر جاوید صاحب کی سادگی اور شفاف سیاست کی وجہ سے انہیں بے حد پسند کرتے ہیں۔

سیاسی سفر

رکن پارلیمنٹ بننے سے قبل ڈاکٹر جاوید صاحب سال 2000 سے مسلسل 4 مرتبہ بہار قانون ساز اسمبلی کے رکن یعنی ایم ایل اے رہے۔ 2000 سے 2004 تک وہ بہار حکومت میں مختلف محکموں کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ ایم ایل اے بننے سے پہلے انہوں نے کشن گنج کے عام عوام کی ایک معالج کی حیثیت سے مفت خدمت بھی کی۔

تعلیم اور پیشہ 

پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے سرینگر کے سرکاری میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔

پارلیمانی کام 

پارلیمنٹ میں وہ کشن گنج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا مرکز قائم کرنے، جلال گڑھ-کشن گنج ریل لائن منصوبے اور کشن گنج لوک سبھا حلقے کی ترقی و خوشحالی سے جڑے متعدد اہم مسائل کو مسلسل اور مضبوطی کے ساتھ اٹھاتے رہتے ہیں۔


ذات یا مذہب کی بنیاد پر ووٹ دینے کے بجائے ایک قابل اور ایماندار امیدوار کا انتخاب کریں : پرشانت کشور

 



پٹنہ: جن سوراج پارٹی کے روح رواں پرشانت کشور نے بانکی پور اسمبلی حلقے میں عوامی مکالمے کے دوران ریاست کی سیاست میں مثبت تبدیلی اور انتخابی عمل میں عوام کے کردار پر زور دیا۔

بانکی پور کے دانشوران سے خطاب کرتے ہوئے پرشانت کشور نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں سے بہار کی سیاست بنیادی طور پر ذات، مذہب اور ”جنگل راج“ کے خوف کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی موضوعات نے ریاست کی ترقی کے عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔


بانکی پور ضمنی انتخاب کی اہمیت

انہوں نے کہا کہ بانکی پور کا ضمنی انتخاب صرف ایک ایم ایل اے کے انتخاب کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ بی جے پی کے سیاسی تکبر کو چیلنج کرنے اور اقتدار میں بیٹھی قیادت کو جوابدہ بنانے کا سنہری موقع ہے۔

پرشانت کشور نے دعویٰ کیا کہ اگر بانکی پور میں بی جے پی کو شکست ہوتی ہے تو یہ پیغام سیدھا پارٹی کے مرکزی قیادت تک جائے گا۔ اس کے نتیجے میں ریاست کی قیادت جیسے سمراٹ چودھری کی سطح پر بھی تبدیلی کا امکان بڑھ جائے گا۔


عوام سے اپیل

مکالمے کے دوران انہوں نے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ جھنڈے کے رنگ، ذات یا مذہب کی بنیاد پر ووٹ دینے کے بجائے ایک قابل اور ایماندار امیدوار کا انتخاب کریں تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے بہتر مواقع پیدا ہو سکیں۔


پرشانت کشور نے موجودہ سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندے لاپرواہ ہو چکے ہیں۔ بانکی پور میں شکست کا خوف ہی انہیں عوام کے تئیں زیادہ جوابدہ اور حساس بننے پر مجبور کرے گا۔



مکالمے میں خطاب کرنے والے مقررین

اس عوامی مکالمے میں ابو اللیث صاحب، ایم ایل سی آفاق احمد، ابو عفان فاروقی، کمار سورو، سابق ایم ایل اے کشور منا، پروفیسر منور جہاں، ڈاکٹر آشا ٹھاکر گائنا کولوجسٹ، ڈاکٹر شگفتہ یاسمین، فزکس کے پروفیسر آفتاب عالم اور رامانشو سمیت شہر کے ممتاز دانشوروں اور سماجی کارکنوں نے خطاب کیا۔ 


پرشانت کشور نے عوام سے کہا کہ وہ اپنے ووٹ کی طاقت کو صحیح سمت میں استعمال کریں تاکہ بہار کی سیاست میں ایک نئے اور مثبت دور کا آغاز ہو سکے۔




Wednesday, 27 May 2026

پروفیسر محفوظ الرحمن کی جانب سے ملک وریاست کے باشندوں کو عید الاضحی مبارک


 

عید الاضحیٰ قربانی، بھائی چارہ اور انسانیت کا پیغام ہے - ایڈووکیٹ شاہد اطہر





دربھنگہ: متھلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس کے ڈائریکٹر ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے عید الاضحیٰ کے پُرمسرت موقع پر تمام اہلِ وطن خصوصاً دربھنگہ اور متھلانچل کے عوام کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ عید الاضحیٰ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی، صبر، ایثار اور اللہ کی رضا کے لیے مکمل سپردگی کی یاد دلاتی ہے۔ یہ مبارک تہوار محبت، بھائی چارہ، اخوت اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔

ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ آج کے دور میں سماج کو باہمی اتحاد، امن و امان اور بھائی چارے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ عید کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوں، غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں اور معاشرے میں محبت و ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ تعلیم، اخلاقیات اور سماجی ذمہ داریوں کے تئیں بیدار رہیں کیونکہ ترقی کا راستہ اچھی تعلیم اور مثبت سوچ سے ہو کر گزرتا ہے۔ آخر میں انہوں نے دعا کی کہ یہ مبارک تہوار سبھی کی زندگیوں میں خوشحالی، امن، ترقی اور برکت لے کر آئے۔

محمد اعظم صاحب کی جانب سے ملک وریاست کے باشندوں کو عید الاضحیٰ مبارک


 

Saturday, 23 May 2026

٭اسحاق اثر ایک ہمہ جہت اور ہرفن مولا شخصیت تھے، ان کی کمی مجھے ہمیشہ محسوس ہوگی:ڈاکٹر اظہار احمد




٭ اسحاق اثر نے اپنی پوری زندگی قلم کے ذریعے حق و انصاف کی آواز بلند کی اور اردو صحافت کو ایک نیا وقار عطا کیا: رضوان اصلاحی

٭ تعلیمی اور صحافتی میدان میں ان کی خدمات ہمیشہ میں یاد رکھی جائیں گی:سابق وزیر اخلاق احمد

محبان اردو کے زیر اہتمام معروف صحافی اسحاق اثر کی یاد میں تعزیتی نشست


 پٹنہ : محبان اردو کے زیر اہتمام روزنامہ پیاری اردو پٹنہ کے دفتر میں اردو صحافت کے کہنہ مشق اور بے لوث خادم، جناب اسحاق اثر کی رحلت پر منعقد ایک پروقار تعزیتی نشست میں شہر کی ممتاز علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے انہیں پرخلوص خراج عقیدت پیش کیا۔ اس نشست میں مرحوم کی گراں قدر خدمات کو یاد کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اسحاق اثر کا خلا مدتوں تک محسوس کیا جائے گا۔

اس موقع پر مولانا رضوان عالم اصلاحی امیر جماعت اسلامی حلقہ بہار نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”موت ایک اٹل حقیقت ہے اور دنیا کی زندگی محض ایک امتحان گاہ ہے۔“انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں موت کی حقیقت پر مفصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی رضا میں راضی رہنا اور مصیبت کی گھڑی میں صبر کا دامن تھامنا ہی مومن کی اصل پہچان ہے۔ انہوں نے اسحاق اثر کی صحافتی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی قلم کے ذریعے حق و انصاف کی آواز بلند کی اور اردو صحافت کو ایک نیا وقار عطا کیا۔ ان کا انتقال علمی و صحافتی حلقوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

پروگرام کے روح رواں اور سابق رکن اسمبلی و تخمینہ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر اظہار احمد نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”جناب اسحاق اثر ایک ہمہ جہت اور ہرفن مولا شخصیت کے مالک تھے۔“ان کی رپورٹنگ میں جہاں سچائی اور گہرائی ہوتی تھی، وہیں اردو زبان پر ان کی گرفت بھی بے حد مضبوط تھی۔ وہ اردو کے ایسے بے لوث خادم تھے جنہوں نے کبھی کسی صلے کی پروا کیے بغیر اپنا سفر جاری رکھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے اب تین ممتاز شخصیات؛ مرحوم اجمل فرید صاحب، فاروقی تنظیم کے مالک مرحوم ظفرصاحب اور اسحاق اثر کے نام سے اردو کے خادموں اور صحافیوں کے لیے خصوصی ایوارڈز کا سلسلہ شروع کیا جائے گا تاکہ نئی نسل ان کے نقش قدم پر چل سکے۔

سابق وزیر اخلاق احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق اثر کی رحلت سے صحافت کا ایک باب بند ہو گیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کی تدریسی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ جس طرح قلم کے دھنی تھے، اسی طرح تدریس کے میدان میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق اثر صرف ایک صحافی نہیں تھے بلکہ وہ اردو زبان کے ایک سچے محافظ اور ہمدرد تھے، جن کی خدمات کو آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھیں گی۔

ارشد فیروز (سابق چیئرمین، بہار گورنمنٹ اردو لائبریری پٹنہ) نے کہا کہ اسحاق اثر نے صحافت کے میدان اور تحریک اردو میں جو کردار ادا کیا، وہ ناقابل فراموش ہے۔ ان کا جانا اردو صحافت کیلئے ایک بڑا خسارہ ہے۔

اسلم جاویداں نے کہا کہ اسحاق صاحب انتہائی خوش اخلاق اور ملنسار انسان تھے، جو ہر کسی سے خندہ پیشانی سے ملتے تھے۔ وہ اردو کے سچے خادم تھے اور ان کی وفات سے اردو دنیا ایک مخلص دوست سے محروم ہو گئی ہے۔

محمد شریف (ڈین، لاءکالج) اور رضا عالم دانش (جے ڈی یو لیڈر) نے اپنے مختصر تعزیتی پیغامات میں مرحوم کی علمی دیانت داری اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی مغفرت کی دعا کی۔

کرنل عظیم، سراج انور، قمر الحسن اور افروز فانی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق اثر جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اردو اور صحافت کے نام کر دی۔

ان کے علاوہ نواب عتیق الزماں ، مبین الہدی ، فاطمہ ڈگری کالج کے پرنسپل انور امام ، سب انسپکٹر شہنواز عالم ، ڈاکٹر فیض احمد قادری ، مالے لیڈر مسز صبا ، محمد رفیع ، عظمت اللہ ابو سعید ، سبودھ برنوال ، اسحاق اثر کے صاحبزادے انجینئر ذیشان ، محمد شاہد اختر ڈائریکٹر عوامی کوآپریٹیو بینک نے بھی اپنے تاثرات پیش کئے اور مرحوم کی مغفرت اور بلندی ¿ درجات کی دعا کی ۔ 

مشہور شاعر جمال کاکوی نے اپنے اشعار کے ذریعہ اسحاق اثر کو پرخلوص خراج عقیدت پیش کیا۔

اس موقع پر فصیح صاحب، روزنامہ تاثیر کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر گوہر کے بھی سانحہ ارتحال پر مذکورہ تمام لوگوں نے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور انہیں اپنی دعاﺅں میں یاد کیا ۔

نشست کا اختتام مرحوم اسحاق اثر ، فصیح صاحب اوررکن پارلیمنٹ طارق انور کی خوش دامن اور مرحوم شمائل نبی کی اہلیہ سمیت دیگر مرحومین کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ ہوا۔

پروگرام کا آغاز حافظ غلام سرور ندوی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، پروگرام کی نظامت پرویز عالم نے کی ۔ مرحوم نسیم انصاری کے صاحبزادے محمد عمران ، مشتاق خان ،خورشید عالم، محمد حسنین، محمد نوشاد عالم نے پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کر دار ادا کیا ۔ 


Tuesday, 14 April 2026

ہو گیا پلٹی بازی کے دھرندھر چاچا جی کا استعفیٰ‘

 

روہنی آچاریہ نے نتیش کمار پر چلائے طنز کے تیر




نتیش کمار نے بہار کے وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے، اور سمراٹ چودھری کو بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر بھی منتخب کر لیا ہے۔ یعنی نتیش کمار کا دور ختم، اور بہار میں پہلی بار بی جے پی لیڈر کے وزیر اعلیٰ بننے کا راستہ ہموار۔ موجودہ صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے لالو پرساد کی بیٹی روہنی آچاریہ نے نتیش کمار پر طنز کے تیر چلائے ہیں، جو تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہے ہیں۔



سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر روہنی آچاریہ نے نتیش کمار کے استعفیٰ پر اپنا تلخ رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے نتیش کمار کو ’پلٹی بازی میں دھرندھر‘ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ آخر کار ان کا استعفیٰ ہو ہی گیا۔ انھوں نے پوسٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ جو لوگ ان کے ساتھ نظر آتے ہیں، حقیقت میں وہی ان کے خلاف سازش کر رہے تھے۔



سوشل میڈیا پوسٹ میں روہنی لکھتی ہیں کہ ’’آخر کار ہو ہی گیا پلٹی بازی کے دھرندھر ہمارے چاچا جی کا استعفیٰ۔ بننے چلے تھےس یاست کے خلیفہ، بے بسی میں خود ہی سپرد کر آئے گورنر محترم کو اپنی سیاسی پاری کے خاتمہ کا لفافہ۔‘‘ انھوں نے آگے لکھا ہے کہ ’’بڑے افسوس کی بات ہے، چاچا جی کے غم میں سچے دن سے نہیں کوئی ان کے ساتھ ہے، اوپر سے جو بھی نظر آتا ان کے ساتھ ہے، حقیقت میں وہی چاچا جی پر لگائے بیٹھا گھات ہے۔‘‘



پوسٹ کے آخر میں روہنی نے لکھا ہے کہ ’’زیادہ کیا کہوں، بس اتنا ہی کافی ہے... جھوٹی شیخی بگھارنے والے چاچا جی کی اونچی اڑان کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے، چاچا جی کے پر ان کے ہی اپنے کہے جانے والے سیاسی بہیلیے کتر گئے۔‘‘ روہنی کے ذریعہ کیے گئے اس طنزیہ پوسٹ کو صارفین نہ صرف پسند کر رہے ہیں، بلکہ اس پر تبصرہ کرنے کے ساتھ ساتھ ری-پوسٹ بھی کر رہے ہیں۔



روہنی آچاریہ نے مزید ایک پوسٹ میں بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ ’’وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے بی جے پی کو ایک گھمنتو ہی ملا!! اپنی تاسیس کے 46 سال گزر جانے کے بعد بھی بہار میں بی جے پی کے پاس لیڈرشپ کی ایسی خشک سالی ہے کہ بی جے پی نہ تو کبھی اپنے دم پر حکومت بنا سکی، نہ ہی کبھی کسی اسمبلی انتخاب میں اپنا کوئی وزیر اعلیٰ کا چہرہ سامنے رکھ سکی، اور نہ ہی وسیع عوامی مقبولیت و شناخت والا ایک لیڈر تیار کر سکی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’بہار میں بی جے پی کی سیاسی کنگالی کا عالم تو کچھ ایسا ہے کہ اب جب سالوں کی مشقت کے بعد بی جے پی نتیش کمار جی کو سازش کے سہارے وزیر اعلیٰ کی کرسی سے ہٹانے میں کامیاب ہوئی، تب بھی بی جے پی کسی ایسے کو وزیر اعلیٰ بنانے جا رہی ہے، جو بنیادی طور پر نہ تو ناگپوریا نرسری سے ہے اور نہ ہی بہار بی جے پی کی بنجر بگیا سے۔‘‘ اس پوسٹ کے آخر میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں کہ ’’بغیر قسم پوری کیے مریٹھا کھولنے، فرضی ڈگری، فرضی پیدائش سرٹیفکیٹ والا وزیر اعلیٰ مبارک ہو بی جے پی والوں...۔‘‘


سمراٹ چودھری ہوں گے بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ، گورنر کو حکومت سازی کا دعویٰ پیش کیا




بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری ہوں گے۔ اس بات پر اُس وقت مہر لگ گئی، جب بی جے پی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں انہیں لیڈر منتخب کر لیا گیا۔ اس میٹنگ میں وجے سنہا نے ان کے نام کا اعلان کیا۔ میٹنگ میں ریاستی صدر سنجے سراوگی اور بی جے پی کے مبصر شیوراج سنگھ چوہان موجود تھے۔ سمراٹ چودھری کے نام کی حمایت دلیپ جیسوال اور منگل پانڈے نے بھی کی۔ بعد ازاں سمراٹ چودھری نے بہار کے گورنر سید عطا حسنین سے ملاقات کر ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کا دعویٰ پیش کر دیا۔ گورنر نے ان کا یہ دعویٰ قبول کر لیا ہے اور 15 اپریل کی صبح 11 بجے حلف برداری تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تقریب میں سمراٹ چودھری بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ کی شکل میں حلف لیں گے اور ان کے ساتھ بہار کی نئی کابینہ کے کچھ اراکین کی بھی حلف برداری ہوگی۔




بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیے جانے کے بعد سمراٹ چودھری کا پہلا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’بی جے پی کی مرکزی قیادت کے ذریعہ مجھ پر بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے بہار بی جے پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر کی ذمہ داری سونپی گئی، اس کے لیے میں دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ میرے لیے صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ بہار کی عوام کی خدمت، ان کے اعتماد اور خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ میں پوری ایمانداری کے ساتھ عوام کی امیدوں پر کھرا اترنے کا عزم لیتا ہوں۔‘‘




واضح رہے کہ نتیش کمار نے منگل (14 اپریل) کو گورنر ہاؤس پہنچ کر اپنا استعفیٰ سونپ دیا تھا۔ وہ سمراٹ چودھری اور وجے چودھری کے ساتھ ایک ہی گاڑی سے راج بھون پہنچے تھے۔ نتیش کمار نے 20 نومبر 2025 کو وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لیا تھا۔ آج 14 اپریل کو استعفیٰ دینے کے بعد یہ مدت کار 145 دنوں کی ہوئی، یہ دوسری بار ہے جب نتیش کمار انتہائی کم مدت کے لیے وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس سے قبل 2000 میں انہوں نے 3 مارچ کو وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لیا تھا، لیکن 10 مارچ کو ہی انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔


آج صبح سے ہی بہار میں سیاسی ہلچل کافی تیز تھی۔ صبح صبح وزیر اعلیٰ کی رہائش پر سنجے جھا، وجے چودھری اور للن سنگھ پہنچے تھے۔ اس کے بعد سمراٹ چودھری بھی وہاں پہنچے۔ تقریباً نصف گھنٹے کی میٹنگ کے بعد وجے چودھری، سمراٹ چودھری اور نتیش کمار ایک ہی گاڑی سے وزیر اعلیٰ کی رہائش سے باہر نکلے۔ گاڑی کی اگلی سیٹ پر وجے چودھری بیٹھے تھے، جبکہ پیچھے کی سیٹ پر سمراٹ چودھری اور نتیش کمار موجود تھے۔



قابل ذکر ہے کہ آخری کابینہ میٹنگ میں نتیش کمار جذباتی نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ 2005 میں جب وہ حکومت میں آئے، تب سے جہاں تک ممکن ہوا انہوں نے کام کیا اور نئی حکومت کو ان کی رہنمائی ملتی رہے گی۔ اس میٹنگ کے بعد کئی وزراء نے نتیش کمار کی مدت کار کو تاریخی قرار دیا۔


انتخاب ختم ہوتے ہی پٹرول 18 روپے اور ڈیزل 35 روپے تک ہو سکتا ہے مہنگا

 






غیر ملکی بروکریج فرم ’میکویری‘ کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں آئی بھاری تیزی کا بوجھ اب گھریلو تیل کمپنیوں (او ایم سی) کے لیے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ حالانکہ فی الحال پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مستحکم ہیں، لیکن اس سے کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں واراننگ دی گئی ہے کہ مغربی بنگال سمیت 5 ریاستوں میں جاری اسمبلی انتخاب ختم ہوتے ہی کمپنیاں قیمتوں میں بڑا اضافہ کر سکتی ہیں۔


گزشتہ 46 دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ 27 فروری کو جو خام تیل 73 ڈالر فی بیرل پر تھا وہ 19 مارچ کو 120 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا اور فی الحال 100 ڈالر فی بیرل کے آس پاس بنا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر کا اضافہ ہندوستانی کمپنیوں کے نقصان میں 6 روپے فی لیٹر کا اضافہ کرتا ہے۔



واضح رہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود قیمتیں نہ بڑھنے کی وجہ سے تیل کمپنیوں کو پٹرول پر 18 روپے اور ڈیزل پر 35 روپے فی لیٹر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ ماہ یہ نقصان 2400 کروڑ یومیہ تک پہنچ گیا تھا، جو ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے کی تخفیف کے بعد اب 1600 کروڑ روپے یومیہ پر ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ سرکاری ریونیو میں تیل پر لگنے والی ایکسائز ڈیوٹی کا حصہ جو 2017 میں 22 فیصد تھا، اب کم ہو کر صرف 8 فیصد رہ گیا ہے، جس کی وجہ سے حکومت کے پاس قیمتوں کو مزید کم کرنے کی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔


ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً 88 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے، جس میں سے 45 فیصد مشرق وسطیٰ اور 35 فیصد روس سے آتا ہے۔ تیل کی بڑھتی قیمتیں نہ صرف مہنگائی میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی) کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ اندازہ ہے کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں یہ خسارہ بڑھ کر 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جو معیشت کی مضبوطی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔



قابل ذکر ہے کہ یہ مسئلہ صرف ہندوستان تک محدود نہیں ہے۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں اگست 2022 کے بعد پہلی بار 4 ڈالر فی گیلن کے پار نکل گئی ہے۔ ہندوستان کے پڑوسی ممالک پاکستان، نیپال اور سری لنکا پہلے ہی اپنی گھریلو قیمتوں میں بھاری اضافہ کر چکے ہیں۔ ایسے میں ہندوستان میں انتخاب کے بعد قیمتوں میں اضافے کا امکان کافی قوی نظر آ رہا ہے۔


Wednesday, 24 September 2025

تاریخی صداقت آشرم میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے: عطاءالرحمن




 پٹنہ،( پریس ریلیز ) کانگریس کے سنیئر لیڈر ایڈووکیٹ عطاءالرحمن نے کہاکہ کانگریس پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ پہلی بار بہار کی سرزمین پر تاریخی صداقت آشرم میں منعقد ہو رہی ہے، جو ہندوستانی آزادی کی جدوجہد کا اہم مرکز رہا ہے۔ یہ میٹنگ نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک کی سیاست میں ایک نئے دور کی شروعات ثابت ہوگی۔

انہوںنے کہاکہ یہ اجلاس کانگریس پارٹی کی جمہوری قدروں، عوامی مسائل پر توجہ اور ملک کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے اجتماعی عزم کا مظہر ہے۔ ورکنگ کمیٹی کے اس اجلاس میں کانگریس کے اعلیٰ رہنما راہل گاندھی، سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور صدر ملکا ارجن کھڑگے سمیت دیگر معزز قائدین شریک ہوئے، جن کی کوششوں نے پارٹی کو ایک بار پھر عوامی تحریک کی شکل دے دی ہے۔

 مسٹر رحمن نے کہاکہ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا اور حال ہی میں ووٹر ادھیکار یاترا سے لے کر پرینکا گاندھی کی زمینی جدوجہد اور سونیا گاندھی کے تجربے تک، سبھی رہنماو¿ں کی قربانیاں اور محنت کانگریس کے کارکنوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ صدر ملکا ارجن کھڑگے کی مضبوط قیادت پارٹی کو نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔

 انہوں نے کہاکہ اس میٹنگ سے یہ پیغام جائے گا کہ کانگریس پارٹی آج بھی عوامی مسائل کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں، خواتین اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے کانگریس کی پالیسیوں اور عزم کو مزید تقویت ملے گی۔

ہمیں یقین ہے کہ صداقت آشرم کی اس تاریخی میٹنگ کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے اور بہار سمیت پورے ملک میں کانگریس کارکنوں کو نئی توانائی، جوش اور اعتماد کے ساتھ عوامی جدوجہد میں آگے بڑھنے کا حوصلہ ملے گا۔

صداقت آشرم میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک میں کانگریس کو نئی توانائی، اعتماد اور جدوجہد کا حوصلہ دے گی: ہیمنت چترودی

 



پٹنہ(پریس ریلیز) بانکی پور اسمبلی حلقہ کے ممکنہ امیدوار اور بلاک صدر ہیمنت چترویدی نے کہاکہ تاریخی صداقت آشرم میں آزادی کے بعد پہلی بار کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہونا نہ صرف بہار کے لیے فخر کی بات ہے بلکہ پورے ملک کی جمہوریت کے لیے ایک سنگ میل ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں سے آزادی کی تحریک کو نئی توانائی ملی تھی، اور آج ایک بار پھر یہی سرزمین کانگریس کو نئی جہت دینے جا رہی ہے۔

اس اجلاس میں شرکت کرنے والے پارٹی کے قد آور رہنماراہل گاندھی، سونیا گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور صدر ملکا ارجن کھڑگے نے پارٹی کی مضبوطی، اتحاد اور عوامی مسائل پر جدوجہد کو نیا رخ دیا ہے۔ ان سب کی مشترکہ کوششوں سے کانگریس ایک بار پھر عوام کی امیدوں کا مرکز بن رہی ہے۔

راہل گاندھی کی عوامی یاترا، پرینکا گاندھی کی بھرپور مہمات، سونیا گاندھی کی بصیرت اور ملکا ارجن کھڑگے کی قیادت، پارٹی کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ اجلاس عوام کو یہ یقین دلاتا ہے کہ کانگریس ہر طبقے کسانوں، مزدوروں، طلبہ، خواتین اور پچھڑے طبقات کے ساتھ کھڑی ہے۔

ہم کارکنان پ±ر اعتماد ہیں کہ صداقت آشرم کی یہ میٹنگ نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک میں کانگریس کو نئی توانائی، اعتماد اور جدوجہد کا حوصلہ دے گی۔ آنے والے وقت میں اس کے اثرات سیاست اور عوامی تحریکوں پر نمایاں طور پر دیکھے جائیں گے۔

Monday, 8 September 2025

بانکی پور اسمبلی سیٹ سے کانگریس کے مضبوط دعویدار ہیں ہیمنت چترویدی



پٹنہ/08 ستمبر : بہار اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی سیاسی سرگرمیاں زوروں پر ہیں۔ تمام بڑی پارٹیاں اپنے اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کی تیاری میں مصروف ہیں۔ ایسے میں بانکی پور اسمبلی حلقے میں کانگریس کے بلاک صدر اور ممکنہ امیدوار ہیمنت چترویدی کو سب سے مضبوط دعویدار مانا جا رہا ہے۔

ہیمنت چترویدی کی سب سے بڑی طاقت ان کی عوامی مقبولیت اور زمینی سطح پر مضبوط گرفت ہے۔ علاقے کے عوامی مسائل کے حل کے لیے وہ ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں اور عوامی خدمت کو اپنی ترجیح مانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگ انہیں اپنے درمیان ایک سچے خادم کی صورت میں دیکھتے ہیں۔

کانگریس کی پالیسیوں اور عوامی فلاحی اسکیموں کو گھر گھر پہنچانے میں بھی وہ مسلسل سرگرم ہیں۔ پارٹی کے اندر بھی ان کی لیڈرشپ اور تنظیمی صلاحیت کی کھلے دل سے تعریف کی جا رہی ہے۔

اگرچہ اس سیٹ پر کانگریس کی جانب سے کئی اور چہرے اپنی دعویداری پیش کر رہے ہیںمگر عوامی حمایت اور طویل سماجی خدمت کے سبب ہیمنت چترویدی کو سب سے آگے تصور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق کانگریس ہائی کمان بھی ان پر نگاہ رکھے ہوئے ہے اور امکان ہے کہ آنے والے بہار اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی بڑی امیدیں انہی سے وابستہ ہوں گی۔

Sunday, 7 September 2025

گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کی جانب سے صحت بیداری ہفتہ کا انعقاد کیا گیا۔

 








پٹنہ : ڈاکٹر محمد شفاعت کریم، اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ طبی کالج  و اسپتال پٹنہ نے آج مورخہ 07 ستمبر بروز اتوارایک پریس اعلانیہ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ کالج میں ستمبر کے پہلے ہفتے میں طبی کالج کے اسپتال کے احاطہ میں او پی ڈی میں پہنچنے والے مریضوں کے درمیان عمومی صحت بیداری مہم چلائی گئی۔اس کے ذریعہ لوگوں کو ایک صحت مند طرز زندگی، امراض سے تحفظ کے تدابیر اور ایک صحت مند سماج کی تعمیر کے تعلق سے جانکاری فراہم کی گئی، پرچے بانٹے گئے اور پوسٹر کے ذریعہ سمجھایا گیا۔ یہ پروگرام ایک ستمبر سے 07 ستمبر تک چلنا تھا  البتہ 07 ستمبر کو اتوار ہونے کی وجہ سے اس صحت بیدار مہم کا اختتام 06 ستمبر بروز سنیچر ہی کر دیا گیا۔ 

بتاتا چلوں کہ اس صحت بیداری ہفتہ کا انعقاد گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال پٹنہ کے صد سالہ جشن کے ضمن میں کیا گیا تھا۔ اس مہم کے  چیرمین ڈاکٹر محمد نجیب الرحمن تھے جب کہ پورے پروگرام کی سرپرستی کالج ہذا کے پرنسپل پروفیسر (ڈاکٹر) محمد محفوظ الرحمن کر رہے تھے۔ اس پوری مہم میں مختلف موضوعات کا احاطہ کیا گیا جس میں 01 ستمبر کو شعبہ معالجات کے پی جی اسکالر ڈاکٹر  راحت پروین اور نہال اشرف نے ٹیکہ کاری (ویکسینیشن )  کے بارے میں لوگوں بیدار کیا۔ 02 ستمبر کو ڈاکٹر زاہد اور ڈاکٹر مظفر سلیمان نے ذیابیطس شکری  اور اس سے تحفظ کے اپائے سے لوگوں کو آگاہ کیا۔ 03 ستمبر کو ڈاکٹر ہلال انور اور ڈاکٹر شاہد امام نے ضغط الدم قوی (ہائپرٹنشن) سے عوام کو روبرو کرایا۔ اسی طرح سے 04 ستمبر کو ڈاکٹر مظفر سلیمان اور ڈاکٹر نہال اشرف نے سمن مفرط (موٹاپا)  اور اس کے انجام سے عوام کو بیدار کیا۔ آخر دن بروز سنیچر فقر الدم (انیمیا)  اور اس کے علامت سے اس کی فوری پہچان کرنے اور اور اس کے بچائو سےلوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے ڈاکٹر کے ایم سوچیتا اور داکٹر نہال  اشرف نے اپنے تاثرات پیش کئے۔ 

گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے صد سالہ جشن میں ہر ماہ مختلف اقسام کے پروگرام منعقد کئے جانے ہیں جس کا مقصد عوام تک یونانی طریقہ علاج کو پہنچانا، یونانی ڈاکٹروں کو اس طریقہ علاج میں باکمال بنانا ، اور طلباء کو بھی اپنی پیتھی میں اعتماد کے ساتھ علاج و معاالجہ کرنے کی تلقین دلانا شامل ہے۔اسی صد سالہ جشن کے تحت اس ماہ مزید تین پروگرام ہونے ہیں جس میں گرین انیشیٹیو کے طور پر پیڑ پودھے لگائیں جائیں گے اور صاف صفائی کا اہتمام کیا جائےگا۔ 21 ستمبر کو ورلڈ الزائیمر ڈے منایا جانا ہے اور اسی ماہ کالج ہذا کے فارغین کے ساتھ آن لائن میٹینگ کا اہتمام کیا جانا ہے جس سے کہ 2026 میں صد سالہ میں ان کا کیا رول ہوگا اس پر لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

راجد کو صرف مسلمانوں کے ووٹوں سے محبت ہے مسلمانوں سے نہیں : شاہد اطہر











 دربھنگہ:- آر جے ڈی کے بانی ر
کن اور شہری اسمبلی حلقہ کے سابق ایم ایل اے جناب سلطان احمد کے انتقال پر پارٹی کے ہائی کمان یا لالو خاندان کے کسی رکن کی غیر موجودگی، جب کہ حیاگھاٹ اسمبلی کے سابق ایم ایل اے جناب ہری نندن یادو کی آخری رسومات میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو، سابق نائب وزیر اعلیٰ کی شرکت یہ ثابت کر رہا ہے کہ راجد کو صرف مسلمانوں کے ووٹوں سے محبت ہے مسلمانوں سے نہیں ۔ یہ باتیں دربھنگہ شہری اسمبلی حلقہ کے ممکنہ امیدوار اور جن سوراج پارٹی بہار کے ایگزیکٹو ممبر ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے آج ایک پریس ریلیز میں کہیں۔ ایڈوکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ یہ آر جے ڈی کا پہلا معاملہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر محمد شہاب الدین صاحب کی موت پر بھی ایسا ہی کیا گیا تھا، جو لالو خاندان کے لیے باعث فخر تھے اور جنہوں نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر پارٹی کو متحد رکھا تھا۔ آخر کب تک ریاست میں مسلمانوں کے ساتھ ایسا ہوتا رہے گا؟ ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ آفت و غم  کے اس موقع پر ہم سب جناب ہری نندن یادو جی کے اہل خانہ کے ساتھ گہرے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے راجد کے ضلع صوبہ و قومی اقلیتی لیڈر سے پوچھا ہے کہ آج جو ہوا ہے وہ کیا کل آپ کے لوگوں کے ساتھ ایسا نہیں ہو سکتا ہے کیا؟ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے مزید کہا کہ کیا آر جے ڈی کو صرف یادو کی پارٹی سمجھا جائے؟ بہار اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور آر جے ڈی والے مسلمانوں کے پاس آئیں گے اور ان سے ہمدردی کی بات کریں گے لیکن حقیقت میں کچھ اور ہی نظر آرہا ہے۔ آر جے ڈی مسلم ووٹ چاہتی ہے لیکن ان کے دکھ درد میں شریک نہیں بن سکتی۔ شہری اسمبلی کے ممکنہ امیدوار ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ دربھنگہ شہری اسمبلی کا ایک ایک مسلمان آر جے ڈی کے خلاف اور جن سوراج کے امیدوار کو ووٹ دے کر سابق ایم ایل اے جناب سلطان احمد صاحب کے گھر نہ آنے کا بدلہ لے گا۔

Tuesday, 2 September 2025

پٹنہ میں یونانی طب کے فروغ کیلئے تاریخی معاہدہ


سی سی آر یو ایم دہلی اور گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے درمیان مفاہمت نامہ پر دستخط



پٹنہ:ریجنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن ( آر آر آئی یوایم )، پٹنہ میں آج ایک تاریخی مفاہمت نامہ (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ یہ معاہدہ سینٹرل کونسل فار ریسرچ اِن یونانی میڈیسن (سی سی آر یوایم)، نئی دہلی، وزارت آیوش، حکومت ہند اور گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال، پٹنہ کے درمیان طے پایا۔

یہ ایم او یو یونانی طب کے شعبے میں تحقیقی تعاون، علمی ترقی اور اختراعات کو فروغ دینے کی سمت ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

تقریب کی رونق میں اضافہ کرنے والے معززین میں ڈاکٹر این۔ظہیر احمد، ڈائریکٹر جنرل، سی سی آر یوایم، وزارت آیوش پروفیسر ڈاکٹر محفوظ الرحمٰن، پرنسپل، گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال، پٹنہ ،پروفیسر شہنواز اختر، سینئر فیکلٹی ممبر ،ڈاکٹر ممتاز احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر، آر آر آئی یو ایم پٹنہ ، ڈاکٹر وہاب علی، سائنٹسٹ ایف ، آر ایم آئی آر ایم ایس پٹنہ، ڈاکٹر محمد منظر عالم، ریسرچ آفیسر (یونانی)، ڈاکٹر عبدالرشید، ریسرچ آفیسر (یونانی)، اس کے علاوہ سی سی آر یو ایم ہیڈکوارٹر کے نوڈل افسران اور مختلف ذیلی اداروں کے انچارج بھی آن لائن ج±ڑے، جس سے اس تقریب کو مزید وسعت اور اہمیت حاصل ہوئی۔

یہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ دونوں اداروں کو درج ذیل مقاصد میں مضبوطی فراہم کرے گی: ثبوت پر مبنی طریقہ علاج کے ذریعے صحت خدمات کو مو¿ثر بنانا۔تعلیمی و تحقیقی میدان میں اعلیٰ معیار کو فروغ دینا۔ یونانی طب میں اختراعات اور جدید تحقیقی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنا۔ مشترکہ تحقیقی پروجیکٹس اور تعاون پر مبنی اقدامات۔* صلاحیت سازی اور ہنر مندی کے نئے مواقع پیدا کرنا۔ روایتی علم اور جدید سائنس پر مبنی مربوط ہیلتھ ماڈل تیار کرنا۔

یہ معاہدہ یونانی طب کے میدان میں قومی سطح پر تعاون، سائنسی فکر اور علمی خوشحالی کی جانب ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔