Showing posts with label ملکی/بین الاقوامی خبریں. Show all posts
Showing posts with label ملکی/بین الاقوامی خبریں. Show all posts

Wednesday, 27 May 2026

17 لاکھ سے زائد حجاج کرام نے مناسکِ حج ادا کیے




مکہ مکرمہ 

سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے اسٹیٹسٹکس (محکمہ شماریات) نے اعلان کیا ہے کہ حج سنہ 1447ھ کے سیزن کے لیے حجاج کرام کی کل تعداد 17,07,301 رہی ہے، جن میں مختلف سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے سعودی عرب سے باہر سے آنے والے 15,46,655 حجاج کرام شامل ہیں۔


اسی تناظر میں، سعودی محکمہ شماریات کے ڈیٹا کے مطابق سعودی شہریوں اور مملکت میں مقیم غیر ملکیوں پر مشتمل داخلی حجاج کی تعداد 1,60,646 رہی۔


محکمے نے اپنے شماریاتی نتائج میں واضح کیا ہے کہ اندرون اور بیرون ملک کے مجموعی حجاج میں سے مرد حجاج کی تعداد آٹھ لاکھ، 93 ہزار396 تھی، جبکہ خواتین حجاج کی تعداد 813,905 رہی۔


فضائی راستے حجاج کی آمد میں سب سے آگے

محکمہ شماریات نے بتایا کہ مملکت سے باہر سے آنے والے بیشتر حجاج کرام فضائی گزرگاہوں کے ذریعے پہنچے، جن کی کل تعداد 1,485,729 رہی، جبکہ 54,429 حجاج زمینی راستوں سے اور 6,497 حجاج بحری گزرگاہوں کے ذریعے پہنچے۔


عمومی مقتدرہ برائے شماریات نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے حج سنہ 1447ھ کے ڈیٹا اور انڈیکیٹرز کے اجراء کے لیے وزارتِ داخلہ کے ایڈمنسٹریٹو ریکارڈز پر انحصار کیا ہے جو کہ ڈیٹا کا بنیادی ذریعہ ہے۔ یہ ایک ایسے متحد شماریاتی ماڈل کے تحت کیا گیا ہے جس کا مقصد انتہائی درست اور قابلِ اعتماد ڈیٹا فراہم کرنا ہے، جو کہ گذشتہ چھ برسوں کے دوران اپنائے گئے شماریاتی طریقہ کار کا ہی تسلسل ہے۔


سعودی عرب میں اعداد و شمار کا سرکاری ادارہ

واضح رہے کہ عمومی مقتدرہ برائے شماریات مملکتِ سعودی عرب میں شماریاتی ڈیٹا اور معلومات کے لیے واحد اور سرکاری حوالہ ہے، جو منظور شدہ طریقہ کار اور معیارات کے مطابق قومی اشاریے اور اعداد و شمار جاری کرنے کی ذمہ دار ہے۔


بیت اللہ میں روح پرور مناظر، حجاج طوافِ زیارت میں مصروف




سعودی عرب

مکۃ المکرمہ


عیدالاضحیٰ کی صبح سویرے ہی مسجد الحرام کے صحنوں اور راہداریوں میں حجاجِ بیت اللہ کی بڑی تعداد جمع ہوگئی، جہاں انہوں نے پُرامن، روحانی اور ایمان افروز ماحول میں طوافِ زیارت ادا کیا۔


ضیوفِ رحمن کی سہولت اور خدمت کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے مکمل اور جامع انتظامات کیے گئے، تاکہ حجاج کرام عبادات اطمینان اور سکون کے ساتھ ادا کر سکیں۔


حجاج کی مشاعر مقدسہ کے درمیان نقل و حرکت میں ہمواری

حجاج کرام کے قافلے گزشتہ رات آدھی رات کے بعد مزدلفہ سے منیٰ کی جانب روانہ ہوئے، جہاں انہوں نے جمرہ عقبہ کبریٰ کو سات کنکریاں مارنے کا مناسک ادا کیا۔


اس سے قبل اللہ کے فضل سے وہ میدانِ عرفات میں وقوف اور حج کا اہم ترین رکن ادا کر چکے تھے، جس کے بعد انہوں نے مزدلفہ میں رات قیام کیا۔


مشاعر مقدسہ کے درمیان حجاج کی نقل و حرکت انتہائی منظم اور ہموار انداز میں جاری رہی، جو پہلے سے تیار کردہ انتظامی اور تفویجی منصوبوں کے مطابق تھی، تاکہ بڑے مجمع کی سلامتی اور آسانی کے ساتھ مناسک کی ادائیگی کو یقینی بنایا جا سکے۔


مسجد الحرام میں مسلسل صفائی اور جراثیم کشی

مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ کے امور کی دیکھ بھال کرنے والی جنرل اتھارٹی نے آپریشنل تیاریوں کے تحت مسجد الحرام، صحنِ طواف، راہداریوں اور صحنوں میں صفائی اور جراثیم کشی کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔


یہ عمل جدید ترین مشینری اور آلات کے ذریعے حجاج کی آمد سے قبل اور ان کی روانگی کے بعد باقاعدگی سے انجام دیا جا رہا ہے۔


اتھارٹی نے ضیوفِ رحمن کے داخلے اور اخراج کے لیے مخصوص راستے بھی تیار کیے ہیں، جو منظم منصوبہ بندی اور ہجوم کے بہتر انتظام کے تحت فعال ہیں۔ یہ تمام اقدامات سیکیورٹی، انتظامی اور صحت کے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون سے نافذ کیے جا رہے ہیں۔


جدید ٹھنڈک اور ائیر کنڈیشننگ کا مربوط نظام

اتھارٹی نے ایک مربوط اور جدید ائیر کنڈیشننگ نظام کو فعال کیا ہے تاکہ مسجد الحرام کے تمام حصوں میں صاف اور ٹھنڈی ہوا فراہم کی جا سکے۔


اس کے ساتھ ساتھ بیرونی صحنوں اور حرم کی طرف جانے والے راستوں کو بھی ٹھنڈا رکھنے کے انتظامات کیے گئے ہیں، تاکہ زیادہ رش اور بلند درجہ حرارت کے باوجود حجاج کرام کو طوافِ افاضہ کی ادائیگی کے دوران بہتر اور آرام دہ ماحول میسر آ سکے۔


ضیوفِ رحمن کے لیے جامع خدمات

متعلقہ ادارے ضیوفِ رحمن کو سہولت فراہم کرنے کے لیے فیلڈ، انتظامی اور صحت سے متعلق خدمات 24 گھنٹے جاری رکھے ہوئے ہیں، تاکہ حجاج کرام اپنے مناسک امن اور سکون کے ساتھ ادا کر سکیں۔


یہ تمام اقدامات ایک مربوط آپریشنل نظام کے تحت کیے جا رہے ہیں، جو حجاج کی خدمت اور بڑے اجتماعات کے انتظام میں مملکت کی اعلیٰ تیاری اور تجربے کی عکاسی کرتا ہے۔


Tuesday, 14 April 2026

نوئیڈا کی سڑکوں پر جو ہوا، وہ اس ملک کے مزدوروں کی آخری چیخ ہے

 



لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نوئیڈا میں احتجاجی کارکنوں کی حمایت میں کھل کر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل نوئیڈا کی سڑکوں پر جو ہوا، وہ اس ملک کے مزدوروں کی آخری چیخ تھی، جس کی آواز کو نظر انداز کیا گیا، جو اپنا حق مانگتے مانگتے تھک گئے۔ نوئیڈا میں کام کرنے والے ایک مزدور کی 12000 ماہانہ تنخواہ اور 4000 سے 7000 تک کرایہ۔ جب تک 300 روپے کا سالانہ اضافہ ملتا ہے، مکان مالک 500 روپے سالانکہ کرایہ بڑھا دیتا ہے۔ تنخواہ بڑھنے تک یہ بے لگام مہنگائی زندگی کا گلا گھونٹ دیتی ہے، قرض کی گہرائی میں ڈوبا دیتی ہے۔ یہی ہے ترقی یافتہ ہندوستان کا سچ۔




راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پوسٹ میں ایک خاتون مزدور کے بیان کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ایک خاتون مزدور نے کہا کہ گیس کی قیمت بڑھتی ہے، لیکن ہماری تنخواہ نہیں۔ ان لوگوں نے شاید اس گیس بحران کے دوران اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے 5000 کا بھی سلنڈر خریدا ہوگا۔‘‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’’یہ صرف نوئیڈا کی بات نہیں ہے، اور یہ صرف ہندوستان کی بھی بات نہیں ہے۔ پوری دنیا میں ایندھن کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں، مغربی ایشیا میں جنگ کی وجہ سے سپلائی چین ٹوٹ گئی ہے۔ لیکن امریکہ کے ٹیرف وار، عالمی مہنگائی اور ٹوٹتی سپلائی چین کا بوجھ مودی کے دوست صنعتکاروں پر نہیں پڑا۔ اس کی سب سے بڑی مار پڑ رہی ہے اس مزدور پر جو یومیہ اجرت پر کام کرتا ہے تبھی روز کھاتا ہے۔‘‘



کانگریس لیڈر نے مزید لکھا کہ ’’وہ مزدور، جو کسی جنگ کا حصہ نہیں، جس نے کوئی پالیسی نہیں بنائی - وہ بس کام کرتا رہا۔ خاموشی سے، بغیر کسی شکایت کے۔ اور جب وہ اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہے، تو اسے کیا ملتا ہے؟ دباؤ اور جبر۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ایک اور نہایت اہم مسئلہ - مودی حکومت نے جلد بازی میں بغیر کسی مشاورت کے نومبر 2025 سے 4 لیبر کوڈ نافذ کر دیے، جن کے تحت کام کے اوقات کو بڑھا کر روزانہ 12 گھنٹے تک کر دیا گیا۔ وہ مزدور جو روزانہ 12–12 گھنٹے کھڑا ہو کر کام کرتا ہے، اور پھر بھی اپنے بچوں کی اسکول فیس ادا کرنے کے لیے قرض لیتا ہے - کیا اس کا مطالبہ غیر معقول ہے؟ اور جو ہر روز اس کے حقوق کو کچل رہا ہے - کیا اسے ترقی کہا جا سکتا ہے؟‘‘ ان کے مطابق نوئیڈا کا مزدور 20000 روپے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یہ لالچ نہیں بلکہ یہ اس کا حق ہے، اس کی زندگی کی واحد بنیاد ہے۔ میں ہر ایسے مزدور کے ساتھ کھڑا ہوں، جو اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر اس حکومت نے اسے بوجھ بنا دیا ہے۔


بہار میں غائب ہو گئے تقریباً 9 ہزار تالاب اور جھیلیں




ایک طرف ملک میں پانی کی کمی کا مسئلہ مسلسل بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف مسائل کو حل کرنے کے معاملے میں بھی خوب لاپرواہی برتی جا رہی ہے۔ دیگر ریاستوں کی طرح بہار میں بھی پانی کا مسئلہ برقرار ہے، لیکن آبی ذخائر سے متعلق سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لاپرواہی کی وجہ سے ریاست میں بڑی تعداد میں آبی ذخائر غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ تقریباً 9 ہزار آبی ذخائر کا اب کچھ پتہ نہیں ہے۔



آخر یہ آبی ذرائع کہاں غائب ہو گئے؟ یہ سوال مرکز کی آبی ذخائر سے متعلق دوسرے سروے 24-2023 کے سامنے آنے کے بعد اٹھ رہا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست میں تقریباً 8940 آبی ذخائر غائب ہو چکے ہیں۔ جل شکتی کی وزارت کی جانب سے گزشتہ سال بہار، دہلی، آسام، لداخ اور سکم کے لیے کیے گئے آبی ذخائر کے دوسرے سروے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ 19-2018 میں بہار میں درج 45793 آبی ذخائر میں سے صرف 36856 ہی موجود ہیں، جبکہ 9000 کے قریب آبی ذخائر غائب ہوتے چلے گئے۔



سروے کے مطابق ان آبی ذخائر میں سے 45 فیصد تو بہار حکومت کی ملکیت میں ہی ہے، حالانکہ ریاست کے محکمہ ریونیو اور اراضی اصلاحات کے پاس اس بات کی کوئی معلومات نہیں ہے کہ ان میں سے کتنے آبی ذخائر پر (جزوی یا مکمل طور پر) قبضہ کر لیا گیا ہے۔ ’انڈین ایکسپریس‘ نے ایک افسر کے حوالے سے بتایا کہ ’’ہم آبی ذخائر کے سروے کے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں اور تجاوزات سے پاک عوامی تالابوں پر ایک اپ ڈیٹڈ رپورٹ تیار کریں گے۔‘‘ اس سروے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ 85 فیصد آبی ذخائر دیہی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر یعنی تقریباً 91 فیصد تالاب ہیں، جبکہ باقی جھیلوں، ٹینکوں، آبی ذخائر، چیک ڈیم اور پرکولیشن ڈیم کی شکل میں ہیں۔


سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 19-2018 میں بہار میں موجود 35027 تالابوں میں سے اب صرف 33618 ہی بچے ہیں۔ ریاست میں 1409 تالاب مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ٹینکوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔ ٹینکوں کی تعداد 4221 سے گھٹ کر 859 تک آ گئی ہے، جبکہ جھیلوں کی تعداد 2693 سے کم ہو کر 258 اور آبی ذخائر کی تعداد 2156 سے گھٹ کر صرف 315 رہ گئی ہے۔ ریاست کے آبی ذخائر میں سے زیادہ تر (40.4 فیصد) پنچایتوں کی ملکیت میں ہیں، جس کے بعد ریاست کے محکمہ آبی وسائل (ڈبلیو آر ڈی) یا ریاستی محکمہ آبپاشی (22.3 فیصد) کا نمبر آتا ہے۔



واضح رہے کہ ریاست میں آبی ذخائر پر تیزی سے قبضے کیے جا رہے ہیں، اور یہ خاص طور پر لینڈ مافیا کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ ان مقامات پر مسلسل تجاوزات سے ایک نیا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ 2023 کے ایک حکم میں، پٹنہ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ریاست میں 1045 تالابوں پر ناجائز قبضہ کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح بہار اسمبلی کے حالیہ بجٹ سیشن کے دوران عوامی آبی ذخائر کے غائب ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں، ریاست کے ریونیو اور اراضی اصلاحات کے وزیر وجے سنہا نے بتایا تھا کہ صرف 5 تالابوں پر ہی قبضہ کیا گیا ہے، جبکہ انڈین انکلوسیو پارٹی (آئی آئی پی) کے رکن اسمبلی آئی پی گپتا نے اس دعوے کی مخالفت کی تھی۔ آئی پی گپتا نے کہا تھا کہ ’’اب جب کہ آبی ذخائر کے تازہ سروے نے حکومت کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیا ہے، تو ہم اس سوال کو دوبارہ اٹھائیں گے۔‘‘


ہو گیا پلٹی بازی کے دھرندھر چاچا جی کا استعفیٰ‘

 

روہنی آچاریہ نے نتیش کمار پر چلائے طنز کے تیر




نتیش کمار نے بہار کے وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے، اور سمراٹ چودھری کو بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر بھی منتخب کر لیا ہے۔ یعنی نتیش کمار کا دور ختم، اور بہار میں پہلی بار بی جے پی لیڈر کے وزیر اعلیٰ بننے کا راستہ ہموار۔ موجودہ صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے لالو پرساد کی بیٹی روہنی آچاریہ نے نتیش کمار پر طنز کے تیر چلائے ہیں، جو تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہے ہیں۔



سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر روہنی آچاریہ نے نتیش کمار کے استعفیٰ پر اپنا تلخ رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے نتیش کمار کو ’پلٹی بازی میں دھرندھر‘ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ آخر کار ان کا استعفیٰ ہو ہی گیا۔ انھوں نے پوسٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ جو لوگ ان کے ساتھ نظر آتے ہیں، حقیقت میں وہی ان کے خلاف سازش کر رہے تھے۔



سوشل میڈیا پوسٹ میں روہنی لکھتی ہیں کہ ’’آخر کار ہو ہی گیا پلٹی بازی کے دھرندھر ہمارے چاچا جی کا استعفیٰ۔ بننے چلے تھےس یاست کے خلیفہ، بے بسی میں خود ہی سپرد کر آئے گورنر محترم کو اپنی سیاسی پاری کے خاتمہ کا لفافہ۔‘‘ انھوں نے آگے لکھا ہے کہ ’’بڑے افسوس کی بات ہے، چاچا جی کے غم میں سچے دن سے نہیں کوئی ان کے ساتھ ہے، اوپر سے جو بھی نظر آتا ان کے ساتھ ہے، حقیقت میں وہی چاچا جی پر لگائے بیٹھا گھات ہے۔‘‘



پوسٹ کے آخر میں روہنی نے لکھا ہے کہ ’’زیادہ کیا کہوں، بس اتنا ہی کافی ہے... جھوٹی شیخی بگھارنے والے چاچا جی کی اونچی اڑان کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے، چاچا جی کے پر ان کے ہی اپنے کہے جانے والے سیاسی بہیلیے کتر گئے۔‘‘ روہنی کے ذریعہ کیے گئے اس طنزیہ پوسٹ کو صارفین نہ صرف پسند کر رہے ہیں، بلکہ اس پر تبصرہ کرنے کے ساتھ ساتھ ری-پوسٹ بھی کر رہے ہیں۔



روہنی آچاریہ نے مزید ایک پوسٹ میں بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ ’’وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے بی جے پی کو ایک گھمنتو ہی ملا!! اپنی تاسیس کے 46 سال گزر جانے کے بعد بھی بہار میں بی جے پی کے پاس لیڈرشپ کی ایسی خشک سالی ہے کہ بی جے پی نہ تو کبھی اپنے دم پر حکومت بنا سکی، نہ ہی کبھی کسی اسمبلی انتخاب میں اپنا کوئی وزیر اعلیٰ کا چہرہ سامنے رکھ سکی، اور نہ ہی وسیع عوامی مقبولیت و شناخت والا ایک لیڈر تیار کر سکی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’بہار میں بی جے پی کی سیاسی کنگالی کا عالم تو کچھ ایسا ہے کہ اب جب سالوں کی مشقت کے بعد بی جے پی نتیش کمار جی کو سازش کے سہارے وزیر اعلیٰ کی کرسی سے ہٹانے میں کامیاب ہوئی، تب بھی بی جے پی کسی ایسے کو وزیر اعلیٰ بنانے جا رہی ہے، جو بنیادی طور پر نہ تو ناگپوریا نرسری سے ہے اور نہ ہی بہار بی جے پی کی بنجر بگیا سے۔‘‘ اس پوسٹ کے آخر میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں کہ ’’بغیر قسم پوری کیے مریٹھا کھولنے، فرضی ڈگری، فرضی پیدائش سرٹیفکیٹ والا وزیر اعلیٰ مبارک ہو بی جے پی والوں...۔‘‘


سمراٹ چودھری ہوں گے بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ، گورنر کو حکومت سازی کا دعویٰ پیش کیا




بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری ہوں گے۔ اس بات پر اُس وقت مہر لگ گئی، جب بی جے پی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں انہیں لیڈر منتخب کر لیا گیا۔ اس میٹنگ میں وجے سنہا نے ان کے نام کا اعلان کیا۔ میٹنگ میں ریاستی صدر سنجے سراوگی اور بی جے پی کے مبصر شیوراج سنگھ چوہان موجود تھے۔ سمراٹ چودھری کے نام کی حمایت دلیپ جیسوال اور منگل پانڈے نے بھی کی۔ بعد ازاں سمراٹ چودھری نے بہار کے گورنر سید عطا حسنین سے ملاقات کر ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کا دعویٰ پیش کر دیا۔ گورنر نے ان کا یہ دعویٰ قبول کر لیا ہے اور 15 اپریل کی صبح 11 بجے حلف برداری تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تقریب میں سمراٹ چودھری بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ کی شکل میں حلف لیں گے اور ان کے ساتھ بہار کی نئی کابینہ کے کچھ اراکین کی بھی حلف برداری ہوگی۔




بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیے جانے کے بعد سمراٹ چودھری کا پہلا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’بی جے پی کی مرکزی قیادت کے ذریعہ مجھ پر بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے بہار بی جے پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر کی ذمہ داری سونپی گئی، اس کے لیے میں دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ میرے لیے صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ بہار کی عوام کی خدمت، ان کے اعتماد اور خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ میں پوری ایمانداری کے ساتھ عوام کی امیدوں پر کھرا اترنے کا عزم لیتا ہوں۔‘‘




واضح رہے کہ نتیش کمار نے منگل (14 اپریل) کو گورنر ہاؤس پہنچ کر اپنا استعفیٰ سونپ دیا تھا۔ وہ سمراٹ چودھری اور وجے چودھری کے ساتھ ایک ہی گاڑی سے راج بھون پہنچے تھے۔ نتیش کمار نے 20 نومبر 2025 کو وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لیا تھا۔ آج 14 اپریل کو استعفیٰ دینے کے بعد یہ مدت کار 145 دنوں کی ہوئی، یہ دوسری بار ہے جب نتیش کمار انتہائی کم مدت کے لیے وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس سے قبل 2000 میں انہوں نے 3 مارچ کو وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لیا تھا، لیکن 10 مارچ کو ہی انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔


آج صبح سے ہی بہار میں سیاسی ہلچل کافی تیز تھی۔ صبح صبح وزیر اعلیٰ کی رہائش پر سنجے جھا، وجے چودھری اور للن سنگھ پہنچے تھے۔ اس کے بعد سمراٹ چودھری بھی وہاں پہنچے۔ تقریباً نصف گھنٹے کی میٹنگ کے بعد وجے چودھری، سمراٹ چودھری اور نتیش کمار ایک ہی گاڑی سے وزیر اعلیٰ کی رہائش سے باہر نکلے۔ گاڑی کی اگلی سیٹ پر وجے چودھری بیٹھے تھے، جبکہ پیچھے کی سیٹ پر سمراٹ چودھری اور نتیش کمار موجود تھے۔



قابل ذکر ہے کہ آخری کابینہ میٹنگ میں نتیش کمار جذباتی نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ 2005 میں جب وہ حکومت میں آئے، تب سے جہاں تک ممکن ہوا انہوں نے کام کیا اور نئی حکومت کو ان کی رہنمائی ملتی رہے گی۔ اس میٹنگ کے بعد کئی وزراء نے نتیش کمار کی مدت کار کو تاریخی قرار دیا۔


اب لوک سبھا میں 543 کی جگہ ہوں گی 850 نشستیں

 




مرکزی حکومت نے ملک کے جمہوری ڈھانچے میں بڑی تبدیلی لانے والے 3 اہم بلوں کا مسودہ اراکین پارلیمنٹ کو دیا ہے۔ مرکزی حکومت آئین (131ویں ترمیم) بل، حد بندی بل اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ قانون (ترمیم) بل 2026 جلد پاس کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ تینوں بل آئندہ مردم شماری کی بنیاد پر لوک سبھا سیٹوں کی تعداد بڑھا کر 850 کرنے، انتخابی حلقوں کی نئے سرے سے حد بندی اور خواتین ریزرویشن کو موثر طریقے سے نافذ کرنے کی راہ ہموار کرتی ہیں۔ حکومت کے اس قدم کے ساتھ ہی کئی دہائیوں سے زیر التوا سیٹوں کی تنظیم نو اور لسانی و علاقائی نمائندگی کے نئے نظام کی باقاعدہ منظوری کا عمل شروع ہو گیا ہے۔


واضح رہے کہ یہ تینوں بل ہندوستان کے سیاسی ڈھانچے اور سیٹوں کی حد بندی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی تجویز پیش کرتے ہیں:


آئین (131ویں ترمیمی) بل 2026 (بل 107):

یہ بل لوک سبھا میں سیٹوں کی تعداد کو زیادہ سے زیادہ 815 (ریاستوں سے) اور 35 (مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے) تک بڑھانے کا التزام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ آبادی کی تعریف کو تبدیل کرتا ہے تاکہ انتخابی حلقوں کی از سر نو ترتیب پارلیمنٹ کے ذریعہ طے شدہ تازہ ترین مردم شماری کی بنیاد پر کی جا سکے۔


حد بندی بل 2026 (بل 108):

یہ تازہ ترین مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کی سیٹوں کی تقسیم اور انتخابی حلقوں کی تقسیم کے لیے ایک حد بندی کمیشن کی تشکیل کا التزام کرتا ہے۔ سپریم کورٹ کے موجودہ یا سابق جسٹس کمیشن کے صدر ہوں گے۔


مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے قوانین (ترمیم) بل 2026 (بل 109):

یہ بل پڈوچیری، دہلی اور جموں و کشمیر کے قوانین میں ترمیم کرتا ہے تاکہ انہیں نئے حد بندی قوانین اور خواتین کے ریزرویشن (آئین کی دفعہ 334اے) کے مطابق بنایا جا سکے۔ اس کے تحت پڈوچیری میں نامزد اراکین کی تعداد بڑھا کر 5 کرنے کی تجویز ہے، جن میں 2 خواتین ہوں گی۔



اراکین پارلیمنٹ کو سونپے گئے تینوں بل (آئین ترمیم، حد بندی اور مرکز کے زیر انتظام قانون) یہ واضح کرتے ہیں کہ ہندوستان کی انتخابی سیاست اب تک کی سب سے بڑی تبدیلی کی دہلیز پر ہے۔ آئین (131 ویں ترامیم) بل 2026 کے مطابق لوک سبھا کے اراکین کی تعداد بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 850 کرنے کی تجویز ہے۔ اس میں 815 اراکین ریاستوں سے اور 35 مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے ہوں گے۔ فی الحال لوک سبھا میں سیٹوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ 550 (543 موثر) ہیں۔ 300 سے زائد سیٹوں کا یہ اضافہ گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے بڑی جمہوری توسیع ہے۔ اب تک سیٹوں کی تقسیم 1971 کی مردم شماری کی بنیاد پر اٹکی ہوئی تھی۔ بل 107 کے ذریعہ دفعہ 82 اور 170 میں ترمیم کی تجویز ہے۔ اس کے تحت آبادی کا مطلب وہ نئی مردم شماری ہوگی جس کے اعداد و شمار پارلیمنٹ کے ذریعہ طے کیے جائیں گے۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ 2026 کے کے بعد ہونے والی پہلی مردم شماری ہی نئی سیٹوں کی تقسیم کی بنیاد بنے گی۔


حد بندی بل 2026 (بل 108) ایک طاقتور حد بندی کمیشن کی تشکیل کا راہ ہموار کرتا ہے۔ یہ کمیشن طے کرے گا کہ آبادی کے تناسب سے کس ریاست کو کتنی اضافی سیٹیں ملیں گی۔ اس میں عدالتی اور انتظامی شفافیت کو برقرار رکھنے لیے سپریم کورٹ کے ججوں اور الیکشن کمیشن کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ کمیشن شمالی اور جنوبی ہندوستان کی ریاستوں کے درمیان آبادی پر مبنی نمائندگی کے عدم توازن کو بھی ختم کرے گا۔ تیسرا بل (109) مرکز کے زیر انتظام علاقوں (دہلی، پڈوچیری، جموں و کشمیر) کے قوانین میں تبدیلی لاتا ہے۔ یہ یقینی بناتا ہے کہ 106ویں آئینی ترمیم (ناری شکتی وندن ادھینیم) کے تحت 33 فیصد خواتین ریزرویشن نئی حد بندی کے ساتھ نافذ ہو۔ اس میں پڈوچیری جیسے علاقوں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لیے خصوصی التزام کیے گئے ہیں۔


مزدوروں کا استحصال برداشت نہیں کیا جائے گا

 



نوئیڈا کی کئی کمپنیوں کے ملازمین اس وقت سراپا تحریک نظر آ رہے ہیں۔ اتر پردیش کی حکومت نے کم از کم تنخواہ میں 3 ہزار اضافہ کرنے کا اعلان ضرور کر دیا ہے، لیکن ملازمین کی ناراضگی ختم نہیں ہوئی ہے۔ اس معاملہ میں کانگریس لگاتار ملازمین کے مطالبات کی حمایت کر رہی ہے اور ان کی تحریک کو حق بہ جانب ٹھہرا رہی ہے۔ کانگریس کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارٹی مزدوروں کا استحصال برداشت نہیں کرے گی۔



اس معاملہ میں کانگریس لیڈر اور سابق رکن پارلیمنٹ ادت راج نے ایک پریس کانفرنس کی، جس میں کچھ اہم حقائق سامنے رکھے۔ انھوں نے کہا کہ ’’نوئیڈا میں کل ملازمین کی تحریک ہوئی۔ کچھ دن قبل ہی ہریانہ کے مانیسر میں بھی مظاہرہ ہوا تھا۔ کانگریس نے مزدوروں کے مفاد کے لیے لیبر لاء بنائے، لیکن بی جے پی کی حکومت ان قوانین کو ختم کرتے ہوئے 4 لیبر کوڈ لے آئی۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ایک دہائی قبل مزدور ٹریڈ یونینوں سے اپنی بات منوانے کے لیے ہڑتال کرتے تھے، جس سے ملک متاثر ہوتا تھا اور حکومتیں ان سے بات کرتی تھیں۔ لیکن اب ماحول بدل چکا ہے۔ آج ان 4 لیبر کوڈ کی آڑ میں مزدوروں کا استحصال ہو رہا ہے۔‘‘




مزدوروں کے موجودہ مشکل حالات کا ذکر کرتے ہوئے اُدت راج نے کہا کہ ’’نوئیڈا میں مزدوروں کو ہر ماہ تقریباً 12 ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے، جس میں 6-5 ہزار روپے کرایہ میں خرچ ہو جاتے ہیں۔ بچے ہوئے پیسوں میں بچوں کی پڑھائی، کھانا اور باقی خرچ پورے کرنے ہوتے ہیں۔‘‘ کانگریس لیڈر نے ایک خاتون مزدور کی حالت زار کا ذکر بھی پریس کانفرنس میں کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں نے سوشل میڈیا پر ایک خاتون کی ویڈیو دیکھی، جو کہہ رہی تھی کہ وہ اپنے بیمار بچے کو 2 دن کے وقفہ میں دوا دیتی ہے، تاکہ دوا بچی رہے۔‘‘ یہ ذکر کرنے کے بعد انھوں نے سوال کیا کہ کیا یہی امرت کال ہے؟ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’کل احتجاجی مظاہرہ کے بعد یوپی حکومت نے تنخواہ میں تھوڑا اضافہ کیا ہے، جس میں مہنگائی بھتہ شامل ہے، لیکن یہ ناکافی ہے۔‘‘



اُدت راج نے مزدوروں کو درپیش مسائل کے لیے مودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ منریگا کو کمزور بنائے جانے کے سبب مزدوروں کا انحصار ان ملازمتوں پر بڑھ گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’مزدوروں کا انحصار ان ملازمتوں پر کیوں بڑھا، کیونکہ منریگا نے دم توڑ دیا ہے۔ منریگا کے ہونے سے مزدور کی اتنی بے بسی نہیں ہوتی تھی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’بی جے پی حکومت نے وی بی-جی رام جی منصوبہ لانے سے قبل ہی منریگا کو کمزور کرنا شروع کر دیا تھا۔ منریگا کے ختم ہونے سے مزدوروں کا استحصال بڑھا ہے، ان کی تکلیف بڑھی ہے اور صنعت کاروں کا منافع بڑھا ہے۔‘‘




پریس کانفرنس میں اُدت راج نے مزدورں کے ساتھ مالکوں کے رویہ کی بھی تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’ملازمین کی تنخواہ سے پی ایف کے نام پر پیسہ کاٹ لیا جاتا ہے، لیکن کمپنی مالکان کے ذریعہ جمع نہیں کیا جاتا۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’نوئیڈا میں افسران جس طرح ملازمین سے بات کر رہے تھے، صاف نظر آ رہا ہے کہ استحصال کی پوری تیاری ہے۔‘‘ اپنی باتیں رکھنے کے بعد کانگریس لیڈر نے سوال کیا کہ ’’کیا یہی ہے ’وِکست بھارت‘ اور ’سب کا ساتھ، سب کا وِکاس‘؟ ی ایک اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔ آخر اتنی کم تنخواہ میں کسی مزدور کا گھر کیسے چل پائے گا؟‘‘


ایران نے 5 عرب ممالک سے ہرجانہ کا کیا مطالبہ



اسرائیل و امریکہ کے ذریعہ ایران پر کیے گئے حملوں نے تباہی کا ایک دردناک منظر سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ مذاکرات کی کوششیں جاری ضرور ہیں، لیکن یہ جنگ فی الحال ختم ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ اس درمیان ایران نے 5 عرب ممالک پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے اپنے علاقوں کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی۔ اسی اجازت کے سبب امریکہ و اسرائیل کو طاقت ملی، اور اس نے حملوں کا ایک دراز سلسلہ شروع کر دیا۔


’پریس ٹی وی‘ کے مطابق ایران کے سفیر امیر سعید ایراوانی نے بحرین، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور اردن کے ذریعہ معاوضہ سے متعلق کیے گئے مطالبات کو خارج کر دیا ہے۔ ایران نے اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری اینٹونیو گٹیریس اور سیکورٹل کونسل کے سربراہ جمال فاریس الرووائی کو اس سلسلے میں ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں کہا ہے کہ عرب ممالک نے اپنے علاقوں کو کھول کر امریکہ و اسرائیل کی مدد کی ہے۔ تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ حملہ کا شکار ہوا ہے، اور اپنی حفاظت کے لیے اپنے اختیارات کا استعمال کر رہا ہے۔



قابل ذکر ہے کہ امریکی بحریہ نے پیر سے سبھی ایرانی بندرگاہوں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر دی ہے۔ اس سے ایران سخت ناراض ہو گیا ہے۔ جواب میں ایران نے خلیج فارس اور خلیج عمان کے سبھی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے ڈالی ہے۔ اس سے دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی ناکام ہونے اور جنگ پھر سے شروع ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔


انتخاب ختم ہوتے ہی پٹرول 18 روپے اور ڈیزل 35 روپے تک ہو سکتا ہے مہنگا

 






غیر ملکی بروکریج فرم ’میکویری‘ کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں آئی بھاری تیزی کا بوجھ اب گھریلو تیل کمپنیوں (او ایم سی) کے لیے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ حالانکہ فی الحال پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مستحکم ہیں، لیکن اس سے کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں واراننگ دی گئی ہے کہ مغربی بنگال سمیت 5 ریاستوں میں جاری اسمبلی انتخاب ختم ہوتے ہی کمپنیاں قیمتوں میں بڑا اضافہ کر سکتی ہیں۔


گزشتہ 46 دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ 27 فروری کو جو خام تیل 73 ڈالر فی بیرل پر تھا وہ 19 مارچ کو 120 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا اور فی الحال 100 ڈالر فی بیرل کے آس پاس بنا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر کا اضافہ ہندوستانی کمپنیوں کے نقصان میں 6 روپے فی لیٹر کا اضافہ کرتا ہے۔



واضح رہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود قیمتیں نہ بڑھنے کی وجہ سے تیل کمپنیوں کو پٹرول پر 18 روپے اور ڈیزل پر 35 روپے فی لیٹر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ ماہ یہ نقصان 2400 کروڑ یومیہ تک پہنچ گیا تھا، جو ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے کی تخفیف کے بعد اب 1600 کروڑ روپے یومیہ پر ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ سرکاری ریونیو میں تیل پر لگنے والی ایکسائز ڈیوٹی کا حصہ جو 2017 میں 22 فیصد تھا، اب کم ہو کر صرف 8 فیصد رہ گیا ہے، جس کی وجہ سے حکومت کے پاس قیمتوں کو مزید کم کرنے کی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔


ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً 88 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے، جس میں سے 45 فیصد مشرق وسطیٰ اور 35 فیصد روس سے آتا ہے۔ تیل کی بڑھتی قیمتیں نہ صرف مہنگائی میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی) کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ اندازہ ہے کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں یہ خسارہ بڑھ کر 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جو معیشت کی مضبوطی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔



قابل ذکر ہے کہ یہ مسئلہ صرف ہندوستان تک محدود نہیں ہے۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں اگست 2022 کے بعد پہلی بار 4 ڈالر فی گیلن کے پار نکل گئی ہے۔ ہندوستان کے پڑوسی ممالک پاکستان، نیپال اور سری لنکا پہلے ہی اپنی گھریلو قیمتوں میں بھاری اضافہ کر چکے ہیں۔ ایسے میں ہندوستان میں انتخاب کے بعد قیمتوں میں اضافے کا امکان کافی قوی نظر آ رہا ہے۔


Monday, 16 March 2026

 ٹرمپ جزیرہ خرج میں ایرانی تیل پر قبضے پر غور کر رہے ہیں : رپورٹ

امریکی ویب سائٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لیے نہ کھولا گیا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جزیرہ خرج میں ایرانی تیل پر کنٹرول حاصل کرنے پر غور کر رہی ہے۔






حکام نے اشارہ دیا کہ اس اقدام پر عمل درآمد کے لیے زمین پر امریکی افواج کی موجودگی درکار ہوگی، جبکہ وائٹ ہاؤس کے ایک اہل کار نے تصدیق کی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ابھی تک اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق بعض حکام کا ماننا ہے کہ جزیرہ خرج کے تیل پر کنٹرول ایران کے لیے ایک سخت معاشی دھچکا ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یہ اس کے تیل کی برآمد کا اہم ترین مرکز ہے۔


یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانوی بحریہ کے ماتحت کام کرنے والے ادارے 'یو کے ایم ٹی او' (UKMTO) نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ حملوں، جہاز رانی میں مداخلت اور مسلسل عملیاتی رکاوٹوں کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں خطرہ اب بھی برقرار ہے، اگرچہ گذشتہ تین دنوں میں کسی واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ ادارے نے واضح کیا کہ تین ہفتے قبل جنگ شروع ہونے کے بعد سے خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان کے گرد و نواح میں کم از کم بیس بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔


آبنائے ہرمز کی لمبائی تقریباً 212 کلومیٹر اور چوڑائی 33 سے 55 کلومیٹر کے درمیان ہے، جبکہ اس کی گہرائی 60 سے 100 میٹر تک ہے۔ یہ خصوصیات بڑے بحری جہازوں کے گزرنے کے لیے محفوظ راستے کو انتہائی تنگ بنا دیتی ہیں۔ یہ آبنائے خلیج عرب کو بحیرہ عمان اور بحر ہند سے جوڑتی ہے، جس کے شمال میں ایران اور جنوب میں عمان کا جزیرہ نما مسندم اور متحدہ عرب امارات واقع ہیں۔


جہاز رانی کے اعتبار سے اس مقام سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے، ساتھ ہی مائع قدرتی گیس (LNG)، یوریا، ہیلیئم اور ایلومینیم کی بڑی مقدار بھی یہیں سے گزرتی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان اور خود ایران (جن کی بندرگاہیں آبنائے سے باہر بھی ہیں) کے علاوہ قطر، کویت، عراق اور بحرین جیسے ممالک اپنی بیرونی تجارت کے لیے مکمل طور پر اسی آبنائے پر منحصر ہیں۔


ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے جس نے مشرق وسطیٰ اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں اضطراب پیدا کر رکھا ہے۔ گذشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ جو ممالک خلیجی تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس آبنائے کی حفاظت کریں جہاں سے عالمی توانائی کا 20 فی صد حصہ گزرتا ہے۔


فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا "میں ان ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ مداخلت کریں اور اپنے علاقوں کی حفاظت کریں، کیونکہ یہ ان کا علاقہ ہے... یہ وہ جگہ ہے جہاں سے وہ اپنی توانائی حاصل کرتے ہیں۔"


ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی انتظامیہ نے اس سلسلے میں سات ممالک سے رابطہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ان کے نام نہیں بتائے۔ البتہ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک اس میں شریک ہوں گے۔