Showing posts with label bihar. Show all posts
Showing posts with label bihar. Show all posts

Wednesday, 5 August 2026

جے این یو کے سینئر ریسرچ اسکالر غالب زیاد نے ایم ایل سی خالد انور کو میمورنڈم پیش کیا، بہار میں کلاسیکی و علاقائی زبانوں کے تحفظ اور تدریسی عہدوں کی بحالی کا مطالبہ

 








 نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سینئر ریسرچ اسکالر غالب زیاد نے بہار قانون ساز کونسل کے معزز جے ڈی یو ایم ایل سی جناب خالد انور سے ملاقات کرکے ٹی آر ای ۔4 کے تحت اعلیٰ ثانوی (پی جی ٹی، جماعت 11–12) اساتذہ کی بھرتی، یونیورسٹی سطح پر اسسٹنٹ پروفیسر کی تقرری اور 211 نئے سرکاری ڈگری کالجوں میں عربی، فارسی، میتھلی، بنگلہ، بھوجپوری، مگہی، پالی اور پراکرت مضامین کے لیے تدریسی عہدے منظور کیے جانے کے مطالبے پر مشتمل ایک میمورنڈم پیش کیا۔

غالب زیاد نے کہا کہ فارسی، میتھلی، بنگلہ، پالی، عربی، پراکرت، بھوجپوری اور مگہی صرف زبانیں نہیں بلکہ بہار کی صدیوں پر محیط تاریخی، تہذیبی، ادبی اور علمی وراثت کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان زبانوں نے بہار کی مشترکہ ثقافت، علمی روایت اور فکری ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آج بھی پٹنہ یونیورسٹی، بی آر امبیڈکر بہار یونیورسٹی (مظفرپور)، تلکا مانجھی بھاگلپور یونیورسٹی، گیا یونیورسٹی، للت نارائن متھیلا یونیورسٹی، بی این منڈل یونیورسٹی سمیت بہار کی مختلف جامعات و یونیورسٹیز میں ان مضامین کی تعلیم دی جا رہی ہے اور طلبہ ایم اے، ایم فل (جہاں قابلِ اطلاق ہو) اور پی ایچ ڈی سطح تک تحقیق کر رہے ہیں۔ اسی طرح جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو)، دہلی یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور بنارس ہندو یونیورسٹی جیسے ملک کے ممتاز تعلیمی اداروں میں بھی ان زبانوں کی تدریس اور تحقیق مسلسل جاری ہے۔

غالب زیاد نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ان زبانوں کا تعلق صرف کسی ایک مذہب یا ایک مخصوص طبقے سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان زبانوں کو ملک بھر میں مختلف مذاہب، ذاتوں اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ، اساتذہ اور محققین پڑھتے، پڑھاتے اور ان پر تحقیق کرتے ہیں۔ یہ زبانیں ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، ثقافت اور علمی وراثت کی نمائندہ ہیں، جن سے ہر طبقے کے لوگ وابستہ ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں حالیہ 211 نئے سرکاری ڈگری کالجوں کے لیے اساتذہ کی تقرری سے متعلق اطلاعات میں ان زبانوں کے لیے تدریسی عہدوں کی منظوری نہیں دی گئی۔ مزید برآں، یونیورسٹی سطح پر نہ صرف اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدوں پر طویل عرصے سے تقرریاں نہیں ہو رہی ہیں بلکہ نئی بھرتیوں میں بھی ان مضامین کو مناسب نمائندگی نہیں دی جا رہی۔ اس صورتحال کے باعث ان زبانوں کے ہزاروں طلبہ اور ریسرچ اسکالرز شدید بے چینی اور غیر یقینی کا شکار ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ان زبانوں کے لیے اساتذہ اور اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے ہی موجود نہیں ہوں گے تو ان مضامین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اور محققین کا مستقبل کیا ہوگا؟ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کہاں جائیں گے؟ اگر تدریسی عہدے ہی ختم ہوتے گئے تو آنے والی نسلیں ان زبانوں کی تعلیم اور تحقیق سے کیسے مستفید ہوں گی؟

غالب زیاد نے کہا کہ ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 14 تمام شہریوں کو مساوات کا حق دیتا ہے، آرٹیکل 15 ہر قسم کے امتیاز کی ممانعت کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 29 زبانوں اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اسی جذبے کے تحت آئین کی آٹھویں جدول بھی ہندوستان کی لسانی و ثقافتی تنوع کے احترام اور تحفظ پر زور دیتی ہے۔

انہوں نے بہار حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹی آر ای -4، یونیورسٹی سطح پر اسسٹنٹ پروفیسر کی تقرری اور 211 نئے سرکاری ڈگری کالجوں میں عربی، فارسی، میتھلی، بنگلہ، بھوجپوری، مگہی، پالی اور پراکرت مضامین کے لیے اسسٹنٹ پروفیسر اور دیگر تدریسی عہدے فوری طور پر منظور کیے جائیں، تاکہ ان زبانوں کے طلبہ، محققین اور اساتذہ کا مستقبل محفوظ ہو سکے اور بہار کی مشترکہ تہذیبی و علمی وراثت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اس موقع پر معزز ایم ایل سی جناب خالد انور نے مطالبات پر ہمدردانہ غور کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وہ اس معاملے کو حکومتِ بہار اور معزز وزیرِ تعلیم کے سامنے مو¿ثر انداز میں اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

یہ مطالبہ کسی ایک زبان، مذہب یا برادری کا نہیں، بلکہ بہار کی مشترکہ تہذیبی وراثت، اعلیٰ تعلیم، آئینی مساوات اور آنے والی نسلوں کے علمی مستقبل کے تحفظ کا مطالبہ ہے۔

بہار میں اساتذہ تقرری میں فارسی ، عربی ، میتھلی ، بنگلہ، پالی اور پراکرت کی نظر اندازی پر اظہار تشویش




 نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں فارسی، عربی، میتھلی، بنگلہ، پالی اور پراکرت جیسی کلاسیکل زبانوں سے دلچسپی رکھنے والے اساتذہ، ریسرچ اسکالرس اور طلبہ کی ایک مشترکہ علمی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں ریاست بہار میں ٹی آر ای۔4، اسسٹنٹ پروفیسر اور ڈگری کالجوں میں اساتذہ کی تقرری کے عمل میں فارسی، عربی، میتھلی، بنگلہ، پالی اور پراکرت جیسی اہم زبانوں کو نمائندگی نہ ملنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

میٹنگ میں شرکائنے کہا کہ فارسی، عربی، میتھلی، بنگلہ، پالی اور پراکرت بہار کی تاریخی، تہذیبی، ادبی اور علمی شناخت کا اہم حصہ ہیں، لیکن حالیہ تقرریوں اور تدریسی عہدوں کی منظوری کے عمل میں ان زبانوں کو مناسب نمائندگی نہیں دی جا رہی ہے، جس سے ان زبانوں کی تدریس، تحقیق اور فروغ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔

شرکاءنے حکومت بہار اور متعلقہ تعلیمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ ٹی آر ای۔4، اسسٹنٹ پروفیسر اور ڈگری کالجوں میں اساتذہ کی تقرری کے دوران ان زبانوں کی تاریخی، ادبی اور تعلیمی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں مناسب نمائندگی دی جائے اور ضروری تدریسی عہدوں کی منظوری کو یقینی بنایا جائے۔

میٹنگ کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بہار کی کلاسیکی، علاقائی اور تہذیبی زبانوں کے تحفظ، فروغ اور اعلیٰ تعلیم میں ان کی مو¿ثر نمائندگی کے لیے مشترکہ علمی و تعمیری کوششیں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی۔ اس میٹنگ میں پروفیسر اخلاق احمد آہن، صدر شعبہ سینٹر آف پرشین اینڈ سینٹرل ایشین اسٹڈیز، اسکول آف لینگویج، لٹریچر اینڈ کلچر اسٹڈیز، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ پروفیسر سید اختر حسین، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ ڈاکٹر محمد مظہر الحق، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ پروفیسر سید کلیم اصغر، صدر شعبہ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ؛ پروفیسر رضوان الرحمن، سابق چیئرپرسن، سینٹر آف عربک اینڈ افریقن اسٹڈیز، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ ڈاکٹر خورشید امام، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ ڈاکٹر اختر عالم، جواہر لال نہرو یونیورسٹی؛ نیز مختلف دیپارٹمنٹ کے اسکالرس جناب غالب زیاد، جناب ڈاکٹر محمد کشمیری، جناب پرگتی شیل پانڈے، جناب پوشپ راج، جناب کمل کیشور، جناب امر شیکھر، جناب صفی الرحمن، جناب محمد ساجد اور دیگر اہل علم شریک ہوئے۔


Sunday, 19 July 2026

اوور سیز میڈیکل اسٹڈی ڈاٹ کام کی جانب سے مبارکباد


 

ڈاکٹر محمد جاوید آزاد ایک نیک اور شریف سیاستداں

 



 بہار کے ضلع کشن گنج سے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر محمد جاوید آزاد ایک نیک اور نہایت شریف مزاج رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس کے سینئر رہنما ہونے کے ساتھ پیشے کے اعتبار سے ایک معالج بھی ہیں۔ڈاکٹر جاوید آزاد 2024 کے ہندوستانی عام انتخابات میں مسلسل دوسری بار بہار کے کشن گنج لوک سبھا حلقے سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔ وہ کانگریس پارٹی کے لوک سبھا میں چیف وِپ کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کانگریس پارٹی کی قومی انتخابی کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔سیمانچل کے عوام کے ساتھ ساتھ پوری ریاست بہار کے عام لوگ ڈاکٹر جاوید صاحب کی سادگی اور شفاف سیاست کی وجہ سے انہیں بے حد پسند کرتے ہیں۔

سیاسی سفر

رکن پارلیمنٹ بننے سے قبل ڈاکٹر جاوید صاحب سال 2000 سے مسلسل 4 مرتبہ بہار قانون ساز اسمبلی کے رکن یعنی ایم ایل اے رہے۔ 2000 سے 2004 تک وہ بہار حکومت میں مختلف محکموں کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ ایم ایل اے بننے سے پہلے انہوں نے کشن گنج کے عام عوام کی ایک معالج کی حیثیت سے مفت خدمت بھی کی۔

تعلیم اور پیشہ 

پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے سرینگر کے سرکاری میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔

پارلیمانی کام 

پارلیمنٹ میں وہ کشن گنج میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا مرکز قائم کرنے، جلال گڑھ-کشن گنج ریل لائن منصوبے اور کشن گنج لوک سبھا حلقے کی ترقی و خوشحالی سے جڑے متعدد اہم مسائل کو مسلسل اور مضبوطی کے ساتھ اٹھاتے رہتے ہیں۔


Wednesday, 27 May 2026

پروفیسر محفوظ الرحمن کی جانب سے ملک وریاست کے باشندوں کو عید الاضحی مبارک


 

عید الاضحیٰ قربانی، بھائی چارہ اور انسانیت کا پیغام ہے - ایڈووکیٹ شاہد اطہر





دربھنگہ: متھلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس کے ڈائریکٹر ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے عید الاضحیٰ کے پُرمسرت موقع پر تمام اہلِ وطن خصوصاً دربھنگہ اور متھلانچل کے عوام کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ عید الاضحیٰ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم قربانی، صبر، ایثار اور اللہ کی رضا کے لیے مکمل سپردگی کی یاد دلاتی ہے۔ یہ مبارک تہوار محبت، بھائی چارہ، اخوت اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔

ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ آج کے دور میں سماج کو باہمی اتحاد، امن و امان اور بھائی چارے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ عید کا اصل پیغام یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوں، غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کریں اور معاشرے میں محبت و ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ تعلیم، اخلاقیات اور سماجی ذمہ داریوں کے تئیں بیدار رہیں کیونکہ ترقی کا راستہ اچھی تعلیم اور مثبت سوچ سے ہو کر گزرتا ہے۔ آخر میں انہوں نے دعا کی کہ یہ مبارک تہوار سبھی کی زندگیوں میں خوشحالی، امن، ترقی اور برکت لے کر آئے۔

Saturday, 23 May 2026

٭اسحاق اثر ایک ہمہ جہت اور ہرفن مولا شخصیت تھے، ان کی کمی مجھے ہمیشہ محسوس ہوگی:ڈاکٹر اظہار احمد




٭ اسحاق اثر نے اپنی پوری زندگی قلم کے ذریعے حق و انصاف کی آواز بلند کی اور اردو صحافت کو ایک نیا وقار عطا کیا: رضوان اصلاحی

٭ تعلیمی اور صحافتی میدان میں ان کی خدمات ہمیشہ میں یاد رکھی جائیں گی:سابق وزیر اخلاق احمد

محبان اردو کے زیر اہتمام معروف صحافی اسحاق اثر کی یاد میں تعزیتی نشست


 پٹنہ : محبان اردو کے زیر اہتمام روزنامہ پیاری اردو پٹنہ کے دفتر میں اردو صحافت کے کہنہ مشق اور بے لوث خادم، جناب اسحاق اثر کی رحلت پر منعقد ایک پروقار تعزیتی نشست میں شہر کی ممتاز علمی، ادبی، سیاسی اور سماجی شخصیات نے انہیں پرخلوص خراج عقیدت پیش کیا۔ اس نشست میں مرحوم کی گراں قدر خدمات کو یاد کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ اسحاق اثر کا خلا مدتوں تک محسوس کیا جائے گا۔

اس موقع پر مولانا رضوان عالم اصلاحی امیر جماعت اسلامی حلقہ بہار نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”موت ایک اٹل حقیقت ہے اور دنیا کی زندگی محض ایک امتحان گاہ ہے۔“انہوں نے قرآن و حدیث کی روشنی میں موت کی حقیقت پر مفصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی رضا میں راضی رہنا اور مصیبت کی گھڑی میں صبر کا دامن تھامنا ہی مومن کی اصل پہچان ہے۔ انہوں نے اسحاق اثر کی صحافتی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے اپنی پوری زندگی قلم کے ذریعے حق و انصاف کی آواز بلند کی اور اردو صحافت کو ایک نیا وقار عطا کیا۔ ان کا انتقال علمی و صحافتی حلقوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

پروگرام کے روح رواں اور سابق رکن اسمبلی و تخمینہ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر اظہار احمد نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”جناب اسحاق اثر ایک ہمہ جہت اور ہرفن مولا شخصیت کے مالک تھے۔“ان کی رپورٹنگ میں جہاں سچائی اور گہرائی ہوتی تھی، وہیں اردو زبان پر ان کی گرفت بھی بے حد مضبوط تھی۔ وہ اردو کے ایسے بے لوث خادم تھے جنہوں نے کبھی کسی صلے کی پروا کیے بغیر اپنا سفر جاری رکھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے اب تین ممتاز شخصیات؛ مرحوم اجمل فرید صاحب، فاروقی تنظیم کے مالک مرحوم ظفرصاحب اور اسحاق اثر کے نام سے اردو کے خادموں اور صحافیوں کے لیے خصوصی ایوارڈز کا سلسلہ شروع کیا جائے گا تاکہ نئی نسل ان کے نقش قدم پر چل سکے۔

سابق وزیر اخلاق احمد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق اثر کی رحلت سے صحافت کا ایک باب بند ہو گیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کی تدریسی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ جس طرح قلم کے دھنی تھے، اسی طرح تدریس کے میدان میں بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق اثر صرف ایک صحافی نہیں تھے بلکہ وہ اردو زبان کے ایک سچے محافظ اور ہمدرد تھے، جن کی خدمات کو آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھیں گی۔

ارشد فیروز (سابق چیئرمین، بہار گورنمنٹ اردو لائبریری پٹنہ) نے کہا کہ اسحاق اثر نے صحافت کے میدان اور تحریک اردو میں جو کردار ادا کیا، وہ ناقابل فراموش ہے۔ ان کا جانا اردو صحافت کیلئے ایک بڑا خسارہ ہے۔

اسلم جاویداں نے کہا کہ اسحاق صاحب انتہائی خوش اخلاق اور ملنسار انسان تھے، جو ہر کسی سے خندہ پیشانی سے ملتے تھے۔ وہ اردو کے سچے خادم تھے اور ان کی وفات سے اردو دنیا ایک مخلص دوست سے محروم ہو گئی ہے۔

محمد شریف (ڈین، لاءکالج) اور رضا عالم دانش (جے ڈی یو لیڈر) نے اپنے مختصر تعزیتی پیغامات میں مرحوم کی علمی دیانت داری اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی مغفرت کی دعا کی۔

کرنل عظیم، سراج انور، قمر الحسن اور افروز فانی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق اثر جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اردو اور صحافت کے نام کر دی۔

ان کے علاوہ نواب عتیق الزماں ، مبین الہدی ، فاطمہ ڈگری کالج کے پرنسپل انور امام ، سب انسپکٹر شہنواز عالم ، ڈاکٹر فیض احمد قادری ، مالے لیڈر مسز صبا ، محمد رفیع ، عظمت اللہ ابو سعید ، سبودھ برنوال ، اسحاق اثر کے صاحبزادے انجینئر ذیشان ، محمد شاہد اختر ڈائریکٹر عوامی کوآپریٹیو بینک نے بھی اپنے تاثرات پیش کئے اور مرحوم کی مغفرت اور بلندی ¿ درجات کی دعا کی ۔ 

مشہور شاعر جمال کاکوی نے اپنے اشعار کے ذریعہ اسحاق اثر کو پرخلوص خراج عقیدت پیش کیا۔

اس موقع پر فصیح صاحب، روزنامہ تاثیر کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر گوہر کے بھی سانحہ ارتحال پر مذکورہ تمام لوگوں نے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور انہیں اپنی دعاﺅں میں یاد کیا ۔

نشست کا اختتام مرحوم اسحاق اثر ، فصیح صاحب اوررکن پارلیمنٹ طارق انور کی خوش دامن اور مرحوم شمائل نبی کی اہلیہ سمیت دیگر مرحومین کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ ہوا۔

پروگرام کا آغاز حافظ غلام سرور ندوی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، پروگرام کی نظامت پرویز عالم نے کی ۔ مرحوم نسیم انصاری کے صاحبزادے محمد عمران ، مشتاق خان ،خورشید عالم، محمد حسنین، محمد نوشاد عالم نے پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کر دار ادا کیا ۔ 


Tuesday, 14 April 2026

بہار میں غائب ہو گئے تقریباً 9 ہزار تالاب اور جھیلیں




ایک طرف ملک میں پانی کی کمی کا مسئلہ مسلسل بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف مسائل کو حل کرنے کے معاملے میں بھی خوب لاپرواہی برتی جا رہی ہے۔ دیگر ریاستوں کی طرح بہار میں بھی پانی کا مسئلہ برقرار ہے، لیکن آبی ذخائر سے متعلق سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لاپرواہی کی وجہ سے ریاست میں بڑی تعداد میں آبی ذخائر غائب ہوتے جا رہے ہیں۔ تقریباً 9 ہزار آبی ذخائر کا اب کچھ پتہ نہیں ہے۔



آخر یہ آبی ذرائع کہاں غائب ہو گئے؟ یہ سوال مرکز کی آبی ذخائر سے متعلق دوسرے سروے 24-2023 کے سامنے آنے کے بعد اٹھ رہا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست میں تقریباً 8940 آبی ذخائر غائب ہو چکے ہیں۔ جل شکتی کی وزارت کی جانب سے گزشتہ سال بہار، دہلی، آسام، لداخ اور سکم کے لیے کیے گئے آبی ذخائر کے دوسرے سروے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ 19-2018 میں بہار میں درج 45793 آبی ذخائر میں سے صرف 36856 ہی موجود ہیں، جبکہ 9000 کے قریب آبی ذخائر غائب ہوتے چلے گئے۔



سروے کے مطابق ان آبی ذخائر میں سے 45 فیصد تو بہار حکومت کی ملکیت میں ہی ہے، حالانکہ ریاست کے محکمہ ریونیو اور اراضی اصلاحات کے پاس اس بات کی کوئی معلومات نہیں ہے کہ ان میں سے کتنے آبی ذخائر پر (جزوی یا مکمل طور پر) قبضہ کر لیا گیا ہے۔ ’انڈین ایکسپریس‘ نے ایک افسر کے حوالے سے بتایا کہ ’’ہم آبی ذخائر کے سروے کے نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں اور تجاوزات سے پاک عوامی تالابوں پر ایک اپ ڈیٹڈ رپورٹ تیار کریں گے۔‘‘ اس سروے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ 85 فیصد آبی ذخائر دیہی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر یعنی تقریباً 91 فیصد تالاب ہیں، جبکہ باقی جھیلوں، ٹینکوں، آبی ذخائر، چیک ڈیم اور پرکولیشن ڈیم کی شکل میں ہیں۔


سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 19-2018 میں بہار میں موجود 35027 تالابوں میں سے اب صرف 33618 ہی بچے ہیں۔ ریاست میں 1409 تالاب مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ٹینکوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔ ٹینکوں کی تعداد 4221 سے گھٹ کر 859 تک آ گئی ہے، جبکہ جھیلوں کی تعداد 2693 سے کم ہو کر 258 اور آبی ذخائر کی تعداد 2156 سے گھٹ کر صرف 315 رہ گئی ہے۔ ریاست کے آبی ذخائر میں سے زیادہ تر (40.4 فیصد) پنچایتوں کی ملکیت میں ہیں، جس کے بعد ریاست کے محکمہ آبی وسائل (ڈبلیو آر ڈی) یا ریاستی محکمہ آبپاشی (22.3 فیصد) کا نمبر آتا ہے۔



واضح رہے کہ ریاست میں آبی ذخائر پر تیزی سے قبضے کیے جا رہے ہیں، اور یہ خاص طور پر لینڈ مافیا کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ ان مقامات پر مسلسل تجاوزات سے ایک نیا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ 2023 کے ایک حکم میں، پٹنہ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ریاست میں 1045 تالابوں پر ناجائز قبضہ کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح بہار اسمبلی کے حالیہ بجٹ سیشن کے دوران عوامی آبی ذخائر کے غائب ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں، ریاست کے ریونیو اور اراضی اصلاحات کے وزیر وجے سنہا نے بتایا تھا کہ صرف 5 تالابوں پر ہی قبضہ کیا گیا ہے، جبکہ انڈین انکلوسیو پارٹی (آئی آئی پی) کے رکن اسمبلی آئی پی گپتا نے اس دعوے کی مخالفت کی تھی۔ آئی پی گپتا نے کہا تھا کہ ’’اب جب کہ آبی ذخائر کے تازہ سروے نے حکومت کے جھوٹ کو بے نقاب کر دیا ہے، تو ہم اس سوال کو دوبارہ اٹھائیں گے۔‘‘


ہو گیا پلٹی بازی کے دھرندھر چاچا جی کا استعفیٰ‘

 

روہنی آچاریہ نے نتیش کمار پر چلائے طنز کے تیر




نتیش کمار نے بہار کے وزیر اعلیٰ عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ہے، اور سمراٹ چودھری کو بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر بھی منتخب کر لیا ہے۔ یعنی نتیش کمار کا دور ختم، اور بہار میں پہلی بار بی جے پی لیڈر کے وزیر اعلیٰ بننے کا راستہ ہموار۔ موجودہ صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے لالو پرساد کی بیٹی روہنی آچاریہ نے نتیش کمار پر طنز کے تیر چلائے ہیں، جو تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہے ہیں۔



سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر روہنی آچاریہ نے نتیش کمار کے استعفیٰ پر اپنا تلخ رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے نتیش کمار کو ’پلٹی بازی میں دھرندھر‘ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ آخر کار ان کا استعفیٰ ہو ہی گیا۔ انھوں نے پوسٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ جو لوگ ان کے ساتھ نظر آتے ہیں، حقیقت میں وہی ان کے خلاف سازش کر رہے تھے۔



سوشل میڈیا پوسٹ میں روہنی لکھتی ہیں کہ ’’آخر کار ہو ہی گیا پلٹی بازی کے دھرندھر ہمارے چاچا جی کا استعفیٰ۔ بننے چلے تھےس یاست کے خلیفہ، بے بسی میں خود ہی سپرد کر آئے گورنر محترم کو اپنی سیاسی پاری کے خاتمہ کا لفافہ۔‘‘ انھوں نے آگے لکھا ہے کہ ’’بڑے افسوس کی بات ہے، چاچا جی کے غم میں سچے دن سے نہیں کوئی ان کے ساتھ ہے، اوپر سے جو بھی نظر آتا ان کے ساتھ ہے، حقیقت میں وہی چاچا جی پر لگائے بیٹھا گھات ہے۔‘‘



پوسٹ کے آخر میں روہنی نے لکھا ہے کہ ’’زیادہ کیا کہوں، بس اتنا ہی کافی ہے... جھوٹی شیخی بگھارنے والے چاچا جی کی اونچی اڑان کے ارمان آنسوؤں میں بہہ گئے، چاچا جی کے پر ان کے ہی اپنے کہے جانے والے سیاسی بہیلیے کتر گئے۔‘‘ روہنی کے ذریعہ کیے گئے اس طنزیہ پوسٹ کو صارفین نہ صرف پسند کر رہے ہیں، بلکہ اس پر تبصرہ کرنے کے ساتھ ساتھ ری-پوسٹ بھی کر رہے ہیں۔



روہنی آچاریہ نے مزید ایک پوسٹ میں بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ ’’وزیر اعلیٰ بنانے کے لیے بی جے پی کو ایک گھمنتو ہی ملا!! اپنی تاسیس کے 46 سال گزر جانے کے بعد بھی بہار میں بی جے پی کے پاس لیڈرشپ کی ایسی خشک سالی ہے کہ بی جے پی نہ تو کبھی اپنے دم پر حکومت بنا سکی، نہ ہی کبھی کسی اسمبلی انتخاب میں اپنا کوئی وزیر اعلیٰ کا چہرہ سامنے رکھ سکی، اور نہ ہی وسیع عوامی مقبولیت و شناخت والا ایک لیڈر تیار کر سکی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’بہار میں بی جے پی کی سیاسی کنگالی کا عالم تو کچھ ایسا ہے کہ اب جب سالوں کی مشقت کے بعد بی جے پی نتیش کمار جی کو سازش کے سہارے وزیر اعلیٰ کی کرسی سے ہٹانے میں کامیاب ہوئی، تب بھی بی جے پی کسی ایسے کو وزیر اعلیٰ بنانے جا رہی ہے، جو بنیادی طور پر نہ تو ناگپوریا نرسری سے ہے اور نہ ہی بہار بی جے پی کی بنجر بگیا سے۔‘‘ اس پوسٹ کے آخر میں طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں کہ ’’بغیر قسم پوری کیے مریٹھا کھولنے، فرضی ڈگری، فرضی پیدائش سرٹیفکیٹ والا وزیر اعلیٰ مبارک ہو بی جے پی والوں...۔‘‘


سمراٹ چودھری ہوں گے بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ، گورنر کو حکومت سازی کا دعویٰ پیش کیا




بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری ہوں گے۔ اس بات پر اُس وقت مہر لگ گئی، جب بی جے پی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں انہیں لیڈر منتخب کر لیا گیا۔ اس میٹنگ میں وجے سنہا نے ان کے نام کا اعلان کیا۔ میٹنگ میں ریاستی صدر سنجے سراوگی اور بی جے پی کے مبصر شیوراج سنگھ چوہان موجود تھے۔ سمراٹ چودھری کے نام کی حمایت دلیپ جیسوال اور منگل پانڈے نے بھی کی۔ بعد ازاں سمراٹ چودھری نے بہار کے گورنر سید عطا حسنین سے ملاقات کر ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل کا دعویٰ پیش کر دیا۔ گورنر نے ان کا یہ دعویٰ قبول کر لیا ہے اور 15 اپریل کی صبح 11 بجے حلف برداری تقریب منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تقریب میں سمراٹ چودھری بہار کے اگلے وزیر اعلیٰ کی شکل میں حلف لیں گے اور ان کے ساتھ بہار کی نئی کابینہ کے کچھ اراکین کی بھی حلف برداری ہوگی۔




بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیے جانے کے بعد سمراٹ چودھری کا پہلا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’بی جے پی کی مرکزی قیادت کے ذریعہ مجھ پر بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے بہار بی جے پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر کی ذمہ داری سونپی گئی، اس کے لیے میں دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ میرے لیے صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ بہار کی عوام کی خدمت، ان کے اعتماد اور خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ میں پوری ایمانداری کے ساتھ عوام کی امیدوں پر کھرا اترنے کا عزم لیتا ہوں۔‘‘




واضح رہے کہ نتیش کمار نے منگل (14 اپریل) کو گورنر ہاؤس پہنچ کر اپنا استعفیٰ سونپ دیا تھا۔ وہ سمراٹ چودھری اور وجے چودھری کے ساتھ ایک ہی گاڑی سے راج بھون پہنچے تھے۔ نتیش کمار نے 20 نومبر 2025 کو وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لیا تھا۔ آج 14 اپریل کو استعفیٰ دینے کے بعد یہ مدت کار 145 دنوں کی ہوئی، یہ دوسری بار ہے جب نتیش کمار انتہائی کم مدت کے لیے وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر فائز رہے۔ اس سے قبل 2000 میں انہوں نے 3 مارچ کو وزیر اعلیٰ کے عہدہ کا حلف لیا تھا، لیکن 10 مارچ کو ہی انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔


آج صبح سے ہی بہار میں سیاسی ہلچل کافی تیز تھی۔ صبح صبح وزیر اعلیٰ کی رہائش پر سنجے جھا، وجے چودھری اور للن سنگھ پہنچے تھے۔ اس کے بعد سمراٹ چودھری بھی وہاں پہنچے۔ تقریباً نصف گھنٹے کی میٹنگ کے بعد وجے چودھری، سمراٹ چودھری اور نتیش کمار ایک ہی گاڑی سے وزیر اعلیٰ کی رہائش سے باہر نکلے۔ گاڑی کی اگلی سیٹ پر وجے چودھری بیٹھے تھے، جبکہ پیچھے کی سیٹ پر سمراٹ چودھری اور نتیش کمار موجود تھے۔



قابل ذکر ہے کہ آخری کابینہ میٹنگ میں نتیش کمار جذباتی نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ 2005 میں جب وہ حکومت میں آئے، تب سے جہاں تک ممکن ہوا انہوں نے کام کیا اور نئی حکومت کو ان کی رہنمائی ملتی رہے گی۔ اس میٹنگ کے بعد کئی وزراء نے نتیش کمار کی مدت کار کو تاریخی قرار دیا۔


Monday, 8 September 2025

بانکی پور اسمبلی سیٹ سے کانگریس کے مضبوط دعویدار ہیں ہیمنت چترویدی



پٹنہ/08 ستمبر : بہار اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی سیاسی سرگرمیاں زوروں پر ہیں۔ تمام بڑی پارٹیاں اپنے اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کی تیاری میں مصروف ہیں۔ ایسے میں بانکی پور اسمبلی حلقے میں کانگریس کے بلاک صدر اور ممکنہ امیدوار ہیمنت چترویدی کو سب سے مضبوط دعویدار مانا جا رہا ہے۔

ہیمنت چترویدی کی سب سے بڑی طاقت ان کی عوامی مقبولیت اور زمینی سطح پر مضبوط گرفت ہے۔ علاقے کے عوامی مسائل کے حل کے لیے وہ ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں اور عوامی خدمت کو اپنی ترجیح مانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگ انہیں اپنے درمیان ایک سچے خادم کی صورت میں دیکھتے ہیں۔

کانگریس کی پالیسیوں اور عوامی فلاحی اسکیموں کو گھر گھر پہنچانے میں بھی وہ مسلسل سرگرم ہیں۔ پارٹی کے اندر بھی ان کی لیڈرشپ اور تنظیمی صلاحیت کی کھلے دل سے تعریف کی جا رہی ہے۔

اگرچہ اس سیٹ پر کانگریس کی جانب سے کئی اور چہرے اپنی دعویداری پیش کر رہے ہیںمگر عوامی حمایت اور طویل سماجی خدمت کے سبب ہیمنت چترویدی کو سب سے آگے تصور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق کانگریس ہائی کمان بھی ان پر نگاہ رکھے ہوئے ہے اور امکان ہے کہ آنے والے بہار اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی بڑی امیدیں انہی سے وابستہ ہوں گی۔

Monday, 4 August 2025

بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ماں کا دودھ انتہائی ضروری : ڈاکٹر امان اللہ جمالی






گورنمنٹ طبی کالج اسپتال پٹنہ میں”ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک 2025“آگاہی مہم کا دوسرا دن کامیابی سے اختتام پذیر


پٹنہ، پی جی اسکالر ڈاکٹر عبدللہ انصاری نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک ہر سال اگست کے پہلے ہفتے میں منایا جاتا ہے جس میں عالمی ادارہ صحت، یونیسیف، وزارت صحت اور دنیا بھر کی سول سوسائٹی کی حمایت حاصل ہے۔

آج بروز پیر 4 اگست کو ”ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک 2025“ کے موقع پر 2 اگست سے 7 اگست تک آگاہی مہم کے لیے چلائے جانے والے پروگرام کے دوسرے دن کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ گورنمنٹ طبی کالج اینڈ ہاسپٹل، پٹنہ اپنا 99 واں تاسیسی سال منا رہا ہے جس کا افتتاح ریاست کے وزیر صحت جناب منگل پانڈے نے 30 جولائی 2025 کو کیا تھا۔ 99 ویں تاسیسی سال کے موقع پر سال بھر میں مختلف پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔

پرنسپل پروفیسر محمد محفوظ الرحمن کی شرکت نے نہ صرف پروگرام کو وقار بخشا بلکہ ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی نے تقریب کو مزید موثر اور نتیجہ خیز بنا دیا۔

شعبہ پیتھالوجی کے سربراہ ڈاکٹر محمد شمیم اختر کی محنت اور قیادت قابل ستائش تھی۔ ان کی رہنمائی اور نگرانی میں آج کی آگاہی مہم کامیابی سے مکمل ہوئی۔ انہوں نے پوری ٹیم کے ساتھ پوری لگن اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے اس پروگرام کو تعلیم اور معاشرے کے نقطہ نظر سے ایک کامیاب اور یادگار تقریب بنا۔

پروگرام میں ڈاکٹر امان اللہ جمالی نے ماں کے دودھ کے فوائد اور طبی اہمیت پر تفصیلی لیکچر دیا اور کہا کہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ماں کا دودھ بہت ضروری ہے۔ ماں کا دودھ پیدائش کے فوراً بعد شروع کر دینا چاہیے اور پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ماں کا دودھ نہ صرف قوت مدافعت بڑھاتا ہے بلکہ بیماریوں سے بچاو¿ کا موثر ذریعہ بھی ہے۔ انہوں نے لوگوں کو ماں کے دودھ کی کمی کے مسئلے کا حل بھی بتایا۔

تقریب میں میڈیکل آفیسرڈاکٹر محمد راغب حسین ، ڈاکٹر عبدالسلام فلاحی، ڈاکٹر شیلیش کمار پنکج، ڈاکٹر خصال احمد،اسسٹنٹ پروفیسر نجیب الرحمٰن ، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد تنویر عالم، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شفاعت کریم، پروفیسر توحید کبریا اور دیگر اساتذہ نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے تنظیم سازی اور پروگرام کی کامیابی میں بھرپور تعاون کیا۔ اس موقع پر گورنمنٹ ٹبی کالج اینڈ ہسپتال پٹنہ کے طلباء اور دور دراز علاقوں کے مریضوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

Sunday, 3 August 2025

ایسوسی ایشن آف یونانی فیزیشین (اے یو پی) کے چمپارن چیپٹر کے قیام کے ساتھ تنظیم کی توسیع




 ڈاکٹر میٹ کے عنوان سے جیون جیوتی اسپتال، موتیہاری میں پروگرام کا انعقاد

موتیہاری:آج مورخہ 3 اگست 2025 بروز اتوار، ”ڈاکٹر میٹ“کے عنوان سے ایک پروگرام کا انعقاد جیون جیوتی اسپتال، موتیہاری میں کیا گیا، جس میں تنظیم کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شفاعت کریم کے ساتھ تنظیم کے خازن ڈاکٹر عبداللہ انصاری، سیکریٹری (ایڈمن) ڈاکٹر خالد اقبال، اور سیکریٹری (لیگل) ڈاکٹر محمد مسرور حسن قاسمی نے شرکت کی۔اس پروگرام کی صدارت ڈاکٹر ایم یو اختر نے کی۔پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر شاکر صبا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی میٹنگ کا مقصد چمپارن میں ایسوسی ایشن آف یونانی فزیشین بہار کی ضلعی شاخ کا قیام ہے۔

ڈاکٹر فیصل پرواز خان نے پروگرام کی سرپرستی کی۔تنظیم کی توسیع کرتے ہوئے ڈاکٹر ایم یو اختر کو ضلعی صدر بنایا گیا۔ڈاکٹر امام الدین کو نائب صدر، ڈاکٹر شاکر صبا کو ضلعی سیکریٹری مقرر کیا گیا۔اس کے علاوہ ڈاکٹر امام کو خازن، ڈاکٹر مظفر حسین کو
مشترکہ سیکریٹری، اور ڈاکٹر امتیاز الحق، ڈاکٹر منظر الحق، ڈاکٹر گلریز قمر اور طارق ظفر کو ترجمان نامزد کیا گیا۔ڈاکٹر سعید الرحمٰن اور ڈاکٹر ریاض الدین نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔

ڈاکٹر عبداللہ ،ڈاکٹر ابوعبیدہ ،اس کے علاوہ مشرقی چمپارن کے بہت سے ڈاکٹر موجود تھے۔


Saturday, 2 August 2025

گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ میں بریسٹ فیڈنگ آگاہی ہفتہ کا انعقاد

 



پٹنہ،پی جی اسکالر ڈاکٹرمحمد ظفر اقبال نے پریس ریلیز کرتے ہوئے کہا کہ 29 جولائی 2026 کوگورنمنٹ طبی کالج پٹنہ اپنا سو سال مکمل کرنے جا رہا ہے۔اسی ضمن میں آج بروز سنیچر2اگست2025”بریسٹ فیڈنگ سے آگاہی پر بیداری مہم منعقد ہوا،جو اسی سو سالہ جشن کی ایک کڑی ہے۔

بریسٹ فیڈنگ آگاہی ہفتہ کے موقع پر گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ میں شعبہ ماہیت الامراض کے زیر اہتمام 2 اگست سے 7 اگست تک ”بریسٹ فیڈنگ سے آگاہی بیداری مہم “ منعقد ہوا۔ اس موقع پر پرنسپل پروفیسرمحمد محفوظ الرحمٰن بنفسِ نفیس موجود رہے۔ ان کی شرکت نے نہ صرف پروگرام کو وقار بخشا بلکہ ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی نے اس تقریب کو مزید موثر اور نتیجہ خیز بنایا۔ 

اس بیداری مہم کے تعلق سے شعبہ ماہیت الامراض کے صدر ڈاکٹر محمد شمیم اختر کی محنت اور قیادت قابلِ ستائش رہی۔ ان کے زیر نگرانی اور رہنمائی میں یہ بیداری مہم نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ انہوں نے پوری ٹیم کے ساتھ بھرپور لگن اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، جس سے اس پروگرام کو تعلیمی و سماجی اعتبار سے ایک کامیاب اور یادگار تقریب بنایا گیا۔

پروگرام میں ڈاکٹر سکینہ بانونے ماں کے دودھ کی افادیت اور طبی اہمیت پر سیر حاصل لیکچر دیا اور بتایا کہ بریسٹ فیڈنگ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ناگزیر ہے، پیدائش کے فوراً بعد دودھ پلانا چاہیے اور پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماں کا دودھ نہ صرف قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے بلکہ بیماریوں سے بچاو¿ کا بھی مو¿ثر ذریعہ ہے۔مزید انہوں نے بتایا کہ ایڈس، ٹی بی جیسے امراض میں میں بچوں کو دودھ نہیں پلانا ہے، یا ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ہے۔

اس بیداری مہم میں میڈیکل آفیسرڈاکٹر شیلش کمار پنکج، ڈاکٹر خصال احمد، ڈاکٹر جمال اختر، پروفیسرتوحید کبریا ،ڈاکٹر عبدالسلام فلاحی،ڈاکٹر طلعت ناہیداور دیگر اساتذہ بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے پروگرام کے انعقاد اور کامیابی میں بھرپور تعاون کیا۔ اس موقع پر گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال پٹنہ کے طلبہ و طالبات اور دور دراز سے آئے مریضوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

بریسٹ فیڈنگ آگاہی گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کی ایک کامیاب علمی و سماجی کاوش ثابت ہوگا، جس نے ماں کے دودھ کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور طلبہ و عوام میں شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کریگا۔




Wednesday, 30 July 2025

طب یونانی اور دیگر روایتی طریقہ علاج کے فروغ کیلئے بہار حکومت پرعزم: منگل پانڈے







گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کا 99واں یومِ تاسیس جوش خروش کے ساتھ منایا گیا

پٹنہ، 30جولائی:بہار کے وزیر صحت منگل پانڈے نے کہا ہے کہ ”آیوش کے تحت طب یونانی، آیوروید، ہومیوپیتھی اور دیگر روایتی طریقہ علاج کے فروغ کیلئے بہار حکومت پرعزم ہے۔ 

وہ آج گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کے 99ویں یومِ تاسیس کے موقع پر ایک شاندار تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ، ”کالج کی نئی عمارت کی تعمیر نالندہ میڈیکل کالج اسپتال کیمپس میں 64 2کروڑ روپے کی لاگت سے جاری ہے، اور اگلے دو سال میں مکمل ہو جائے گی۔ ہم پی جی اور یو جی کی نشستوں میں اضافہ کے لیے بھی کام کر رہے ہیں تاکہ یہ ادارہ ملک کا بہترین طبی ادارہ بنے۔“

 وزیر صحت مسٹر منگل پانڈے نے کہا ہے کہ ”وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طب یونانی سمیت تمام روایتی طریقہ علاج کو قومی سطح پر عزت دلانے کی سمت مضبوط قدم اٹھائے ہیں۔ ایلوپیتھی کے ساتھ یونانی، آیوروید، سدھی، ہومیوپیتھی اور یوگا کو مساوی اہمیت دی جا رہی ہے۔

انہوں نے اس موقع پر کالج کے لیے نئی ایمبولینس بھی فراہم کی، جو تقریب کے دوران ہی کالج انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی۔

اس موقع پر صد سالہ جشن کے لیے ایک سالہ تقریباتی خاکہ بھی وزیر صحت کے ہاتھوں جاری کیا گیا، جس کے تحت ہر ماہ الگ الگ پروگرام منعقد ہوں گے۔

تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محفوظ الرحمٰن نے کہا،”یہ کالج ایک تاریخی وراثت ہے، جس کی بنیاد ڈاکٹر احمد عبدالحی کے نانا جان اور دیگر بزرگوں نے حکیم اجمل خاں اور سر گنیش دت جیسے عظیم شخصیات کی سرپرستی میں رکھی تھی۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ان کی نسل آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے۔

اس موقع پر کالج کے پرنسپل ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے کہاکہ 15 عہدے پروفیسر ، 19 عہدے ریڈر اور پری طب کے8 عہدے خالی ہیں جسے طلباءکے بہتر مستقبل کیلئے پر کیاجانا ضروری ہے ۔وہیں غیر تدریسی عملے کے قریب 39 عہدے منظور ہیں جن میں ابھی صرف چار افراد ہی کام کر رہے ہیں اور ہمیں قریب پچاس لوگوں کی اشد ضرورت ہے ۔ اس پر وزیر نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ان عہدوں پر جلد ہی بحالی کی جائے گی ۔ 

 وزیر نے کہاکہ 15 لیکچرر کے عہدوں کا اشتہار پی ایس سی کے ذریعہ شائع کر دیا گیا ہے اس پر بحالی جلد ہوگی اوردیگرتدریسی عہدوںکو فی الحال معاہدے کی بنیاد پر پر کرنے کی بات کہی ۔ اور غیر تدریسی عملوں کو آﺅٹ سورسسنگ کے ذریعہ بحال کرنے کی بات کہی ۔ 

ڈاکٹر محفوظ الرحمن نے مزید کہا، ”آج ہم صرف یوم تاسیس نہیں منا رہے بلکہ صدی تقریبات کی شروعات بھی کر رہے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ میڈیا اور عوام کالج کی کمیوں اور ضروریات کو حکومت تک دیانتداری سے پہنچائیں گے تاکہ ہم ترقی کے اگلے مرحلے میں داخل ہو سکیں۔

اس موقع پر پارس اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد عبدالحی، بی پی ایس سی کے سابق چیئر مین امتیاز کریمی، مولانا شبلی القاسمی ناظم امارت شرعیہ، کالج سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شاہنواز سمیت کئی دیگر معزز شخصیات نے بھی خطاب کیا اور ادارے کی خدمات کو سراہا۔

تقریب میں آیوروید کالج کے پرنسپل، آیوش ڈائریکٹر، میڈیا نمائندگان، کالج کے اساتذہ، سابقہ طلبہ اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر شفاعت کریم نے سال بھر کے پروگرام کا تفصیلی منصوبہ پیش کیا، اور تقریب کا آغاز مصباح الدین کریم کی تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا، جب کہ نظامت کے فرائض امین عبداللہ نے انجام دیے۔




Friday, 2 May 2025

ذات پرمبنی مردم شماری صرف ایک شروعات ہے، پکچر ابھی باقی ہے: تیجسوی




پٹنہ، 02 مئی:بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سینئر لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے ذات پر مبنی مردم شماری کو لے کر مرکز کی نریندر مودی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ توصرف ایک شروعات ہے، پکچر ابھی باقی ہے۔

ذات پر مبنی مردم شماری کا کریڈٹ خود لیتے ہوئے مسٹر یادو نے ایکس پر پوسٹ کیا، ”ذات پر مبنی مردم شماری صرف ایک شروعات ہے، پکچر ابھی باقی ہے۔“ انہوں نے کہا کہ پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقات کے لیے مخصوص انتخابی حلقے بنائے جائیں گے۔ پرائیویٹ سیکٹر میں ریزرویشن کا انتظام کیا جائے گا۔ٹھیکداری میں ریزرویشن دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ عدلیہ میں بھی ریزرویشن کا انتظام کیا جائے گا۔ منڈل کمیشن کی بقیہ سفارشات کو نافذ کیا جائے گا۔ ذات پر مبنی مردم شماری کی رپورٹ کی بنیاد پر آبادی کے تناسب سے ریزرویشن کا انتظام ہوگا۔ بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دلایاجائے گا اور ریاست کو خصوصی پیکیج دلایا جائے گا۔

بی جے پی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر حملہ کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے لکھا کہ ” اعلیٰ ذہنیت کے مساوات مخالف تنگ نظر سنگھی بی جے پی والے اس پر بھی ہمیں گالی دیںگے لیکن بعد میں ہمارے ہی ایجنڈے کو اپنا ماسٹر اسٹروک کہیںگے ، کتنے کھوکھلے لوگ ہیں یہ ۔“

Tuesday, 29 April 2025

ایس ایم اشرف فرید و ایس ایم جاوید اقبال کو میری دلی مبارک باد ایڈووکٹ شاہد اطہر




 دربھنگہ :- قابل ہونہار تعلیمی لیاقت و سماجی ملی مسائل کو حل کرنے کی فکر رکھنے والے بڑے بھائی محترم جناب ایس ایم اشرف فرید صاحب قومی تنظیم مدیر آعلی و اردو ایکشن کمیٹی کو شفیع مسلم ہائی اسکول بورڈ اف ٹرسٹی کے ممبر اور میرے استاد محترم جناب ایس ایم جاوید اقبال صاحب کو بورڈ اف ٹرسٹی کا کارگزار چیئرمین بنائے جانے پہ میری طرف سے بہت بہت مبارک باد ہےـ اپنی دلی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے متھیلانچل کے مشہور سماجی و تعلیمی خدمت گار ایڈوکیٹ شاہد اطہر ڈائریکٹر متھلا انسٹیوٹ اف ٹیکنالوجی اینڈ میڈیکل سائنس نے جاری پریس ریلیز میں کہیں-  معلوم ہو کہ دونوں حضرات ضلع و صوبائی سطح پہ کئی تنظیم میں عہدے پہ فائض ہو کر سماج و قوم کی خدمت کرتے آ رہے ہیں- ایڈوکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ چونکہ گارجین جناب ڈاکٹر اجیرالحق صاحب کافی عرصہ سے علیل ہیں- جس کی وجہ کر کار گزار چیئرمین کی سخت ضرورت تھی جس کو استاد محترم کے کارگزار چیئرمین بنائے جانے سے اس کمی کو پوری کر دی گئی ہے- ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے آگے کہا کہ ان دونوں حضرات کا تجربے سے ادارہ اور ٹرسٹ کو چلانے میں مستحکم طاقت ملے گی وکافی ترقی بھی ملے گی

Tuesday, 1 April 2025

عید ملن اور پٹنہ ریلی کے حوالے سے گفتگو: شاہد اطہر

 




دربھنگہ: عید ملن کے موقع پر نگر جن سوراج کے جنرل سکریٹری شوکت صاحب کے ساتھ پارٹی کے لیڈروں علی اکبر اور اسلم صاحب کی رہائش گاہ پر لوگوں سے گلے مل کر مبارکباد دیتے ہوئے دربھنگہ شہری اسمبلی کے لیے پارٹی اور ممکنہ امیدوار ایڈوکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ 11 اپریل 2025 کو پٹنہ گاندھی میدان کی ریلی کو کس طرح کامیاب بنایا جائے اور ہر بار کی طرح اس بار بھی دربھنگہ ضلع کے لوگوں کا ہجوم کیسے جائے گا اس پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ شاہد اطہر نے کہا کہ بسوں اور فور وہیلر کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی آمدو رفت پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ نگر کے جنرل سکریٹری شوکت جی نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے تمام 48 وارڈ اور 18 بلاکس کی تمام پنچایتوں میں گھر گھر جا کر لوگوں کو اس ریلی کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔ اسلم بھائی نے کہا کہ ان سہولتوں کے علاوہ لوگوں کے لیے ٹرین سے بھی سفر کرنا زیادہ آسان ہوگا، جہاں سے پٹنہ جنکشن سے گاندھی میدان تک تمام اضلاع سے آنے والے جن سوراج ساتھیوں کا ایک گروپ بنا کر گاندھی میدان کو بھرنے کا کام کیا جائے گا۔ علی اکبر نے کہا کہ اس بار پورے بہار میں رمضان کے دوران پارٹی کے سپریمو محترم پرشانت کشور جی کی قیادت میں کامیاب افطار کا پروگرام انعقاد کیا گیا جس سے جن سوراج کے تمام ساتھیوں کے حوصلے بہت بلند ہوئے ہیں۔ خاص طور پر ہمارے لیڈر نے جس طرح اقلیتی برادری کے درمیان گئے، پریس کانفرنسیں کیں اور لوگوں سے براہ راست رابطہ کیا اور پارٹی کی پالیسیوں کی وضاحت کی، انہوں نے ہمیشہ کہا کہ پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد اس کی آبادی کے مطابق اسے بھرپور شرکت ملے گی۔ اس لیے ہم سب کا بہت حوصلہ ہوا ہے اور ہم لوگ پوری تیاری کے ساتھ بہار اسمبلی الیکشن لڑیں گے اور اس ڈبل انجن والی حکومت کو گرانے کے لیے کام کریں گے۔




Monday, 24 March 2025

قومی صدر لالو پرساد کی دعوتِ افطار میں گورنر عارف محمد خان سمیت ہزاروں روزہ داروںنے کی شرکت

 



پٹنہ، 24 مارچ :راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی صدر لالو پرساد یادو کی جانب سے دعوتِ افطار کا اہتمام آر جے ڈی کے قومی پرنسپل جنرل سکریٹری عبدالباری صدیقی کی سرکاری رہائش گاہ پر کیا گیا۔ اس موقع پر ہزاروں کی تعداد میں روزہ داروں کے ساتھ ساتھ بہار کے گورنر عارف محمد خان، معزز شخصیات اور مہاگٹھ بندھن کے تمام اتحادی جماعتوں کے رہنماو¿ں نے شرکت کی۔

میزبان کے طور پر لالو پرساد یادو، سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی، اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو اور عبدالباری صدیقی آنے والے تمام مہمانوں کا پرتپاک استقبال کر رہے تھے۔

افطار کے لیے روزہ داروں کے لیے علیحدہ خصوصی انتظامات کیے گئے تھے، جہاں نماز ادا کرنے کی سہولت بھی موجود تھی۔ معروف عالم مولانا حسیب اکرام الحق نے نمازِ مغرب کی امامت کی۔

نمازِ مغرب سے قبل روزے اور رمضان المبارک کی فضیلت و اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی اور اجتماعی دعا کی گئی۔ لالو پرساد یادو اور تیجسوی یادو نے کہا کہ اس طرح کے مذہبی و ثقافتی پروگرام مشترکہ وراثت کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔ اس موقع پر ملک کی ترقی، یکجہتی، بھائی چارے اور محبت کے فروغ کے لیے دعا کی گئی اور کہا گیا کہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو مزید استحکام ملے گا۔

اس موقع پر جن معزز شخصیات نے شرکت کی، ان میں گورنر عارف محمد خان، غلام غوث، پشوپتی کمار پارس، پرنس راج، سورج بھان سنگھ، پرتیماداس، کے ڈی یادو، رام بابو، متھیلیش جھا، علی اشرف فاطمی، ا±دے نارائن چودھری، شیوانند تیواری، اسرائیل منصوری، ڈاکٹر تنویر حسن، سید فیصل علی، قاری شعیب، ڈاکٹر کانتی سنگھ، جے پرکاش نارائن یادو، اخترالاسلام شاہین، ابو دجانہ، اشوک سنگھ، آلوک کمار مہتا، جاوید اقبال انصاری، وجے پرکاش، شکتی سنگھ یادو، اعجاز احمد، ڈاکٹر انور عالم، چترنجن گگن، مہتاب عالم، خورشید عالم صدیقی، آرزو خان، اخلاق احمد، ساریکا پاسوان، بنٹو سنگھ، اشرف صدیقی، شاہنواز عالم، ارون یادو، بھائی ارون کمار، بلی یادو، غلام ربانی، مولانا نقیب، انعام الحق، اروند سہنی، نندو یادو، پروفیسر چندردیپ، انیل سادھو، کمار رائے سمیت ہزاروں کی تعداد میں روزہ دار اور دیگر افراد شامل تھے۔ اس کے علاوہ مختلف مسلم تنظیموں کے نمائندے بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔