گورنمنٹ طبی کالج اسپتال پٹنہ میں”ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک 2025“آگاہی مہم کا دوسرا دن کامیابی سے اختتام پذیر
پٹنہ، پی جی اسکالر ڈاکٹر عبدللہ انصاری نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک ہر سال اگست کے پہلے ہفتے میں منایا جاتا ہے جس میں عالمی ادارہ صحت، یونیسیف، وزارت صحت اور دنیا بھر کی سول سوسائٹی کی حمایت حاصل ہے۔
آج بروز پیر 4 اگست کو ”ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک 2025“ کے موقع پر 2 اگست سے 7 اگست تک آگاہی مہم کے لیے چلائے جانے والے پروگرام کے دوسرے دن کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ گورنمنٹ طبی کالج اینڈ ہاسپٹل، پٹنہ اپنا 99 واں تاسیسی سال منا رہا ہے جس کا افتتاح ریاست کے وزیر صحت جناب منگل پانڈے نے 30 جولائی 2025 کو کیا تھا۔ 99 ویں تاسیسی سال کے موقع پر سال بھر میں مختلف پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
پرنسپل پروفیسر محمد محفوظ الرحمن کی شرکت نے نہ صرف پروگرام کو وقار بخشا بلکہ ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی نے تقریب کو مزید موثر اور نتیجہ خیز بنا دیا۔
شعبہ پیتھالوجی کے سربراہ ڈاکٹر محمد شمیم اختر کی محنت اور قیادت قابل ستائش تھی۔ ان کی رہنمائی اور نگرانی میں آج کی آگاہی مہم کامیابی سے مکمل ہوئی۔ انہوں نے پوری ٹیم کے ساتھ پوری لگن اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے اس پروگرام کو تعلیم اور معاشرے کے نقطہ نظر سے ایک کامیاب اور یادگار تقریب بنا۔
پروگرام میں ڈاکٹر امان اللہ جمالی نے ماں کے دودھ کے فوائد اور طبی اہمیت پر تفصیلی لیکچر دیا اور کہا کہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ماں کا دودھ بہت ضروری ہے۔ ماں کا دودھ پیدائش کے فوراً بعد شروع کر دینا چاہیے اور پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ماں کا دودھ نہ صرف قوت مدافعت بڑھاتا ہے بلکہ بیماریوں سے بچاو¿ کا موثر ذریعہ بھی ہے۔ انہوں نے لوگوں کو ماں کے دودھ کی کمی کے مسئلے کا حل بھی بتایا۔
تقریب میں میڈیکل آفیسرڈاکٹر محمد راغب حسین ، ڈاکٹر عبدالسلام فلاحی، ڈاکٹر شیلیش کمار پنکج، ڈاکٹر خصال احمد،اسسٹنٹ پروفیسر نجیب الرحمٰن ، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد تنویر عالم، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شفاعت کریم، پروفیسر توحید کبریا اور دیگر اساتذہ نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے تنظیم سازی اور پروگرام کی کامیابی میں بھرپور تعاون کیا۔ اس موقع پر گورنمنٹ ٹبی کالج اینڈ ہسپتال پٹنہ کے طلباء اور دور دراز علاقوں کے مریضوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

No comments:
Post a Comment