Wednesday, 6 August 2025

ماں کا دودھ قدرتی غذا اور بیماریوں سے بچاﺅ کا موثر ذریعہ: ڈاکٹر شگفتہ پروین حسین




پٹنہ :پی جی اسکالر ڈاکٹر ظفر اقبال نے پریس ریلیز کرتے ہوئے کہا کہ 29 جولائی 2026 کو گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ اپنا سو سال مکمل کرنے جا رہا ہے۔اسی ضمن میں آج بروز بدھ6اگست 2025”بریسٹ فیڈنگ سے آگاہی پر بیداری مہم منعقد ہوا،جو اسی سو سالہ جشن کی ایک کڑی ہے۔بریسٹ فیڈنگ ویک کے موقع پر گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ میں شعبہ ماہیت الامراض کے زیر اہتمام 2 اگست سے 7 اگست تک ”بریسٹ فیڈنگ سے آگاہی پر بیداری مہم “ کا سلسلہ جاری ہے۔ اس پروگرام میں پرنسپل پروفیسر محمد محفوظ الرحمٰن کی شمولیت اور ان کی رہنمائی نے نہ صرف محفل کو وقار بخشا بلکہ تقریب کو مزید موثر اور کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔


بریسٹ فیڈنگ آگاہی مہم میں شعبہ ماہیت الامراض کے صدر ڈاکٹر محمد شمیم اختر کی محنت اور قیادت قابلِ ستائش ہے۔ ان کی نگرانی اور رہنمائی میں یہ بیداری مہم کامیابی سے جاری ہے۔ وہ پوری ٹیم کے ساتھ بھرپور لگن اور ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جس سے یہ پروگرام تعلیمی و سماجی اعتبار سے ایک کامیاب اور یادگار تقریب بن رہا ہے۔


پروگرام میں ڈاکٹر شگفتہ پروین حسین نے ماں کے دودھ کی افادیت اور طبی فوائد پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ بریسٹ فیڈنگ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہے۔ پیدائش کے فوراً بعد دودھ پلانا اور پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ دینا لازمی ہے۔


انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ماں کا دودھ نہ صرف بہترین اور سستی غذا ہے بلکہ یہ قوتِ مدافعت کو بڑھا کر بچوں کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایڈز یا ٹی بی جیسے امراض کی صورت میں بچوں کو دودھ پلانے سے قبل ڈاکٹر سے ضرور مشورہ لینا چاہیے۔


اس بیداری مہم میں ڈاکٹر خصال احمد، ڈاکٹر جمال اختر، پروفیسر توحید کبریا، ڈاکٹر عبدالسلام فلاحی، ڈاکٹر طلعت ناہید، ڈاکٹر ادیب احمد، ڈاکٹر نجیب احمد سمیت دیگر اساتذہ کرام نے بھی شرکت فرمائی اور پروگرام کے کامیاب انعقاد میں نمایاں کردار ادا کیا۔


اس موقع پر گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال پٹنہ کے طلبہ و طالبات کے ساتھ ساتھ دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے مریضوں کی بڑی تعداد بھی شریک رہی، جس سے پروگرام کی افادیت اور اثر انگیزی مزید بڑھ گئی۔


یہ بریسٹ فیڈنگ آگاہی مہم گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ کی ایک کامیاب علمی و سماجی پیش رفت ثابت ہوئی، جو نہ صرف ماں کے دودھ کی افادیت کو اجاگر کرنے کا ذریعہ بنی بلکہ طلبہ اور عوام میں بیداری و شعور پیدا کرنے میں بھی سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے


No comments:

Post a Comment