نالندہ، : جنسوراج کے بانی پرشانت
کشور نے بہار حکومت کے وزیر صحت اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر منگل پانڈے کے اس دعوے کو غلط قرار دیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ 2022 میں ایمبولینس کی خریداری میں ابھی تک کوئی ادائیگی نہیں کی گئی ہے۔
مسٹر کشور نے کہا کہ مسٹر پانڈے کا یہ دعویٰ کہ ایمبولینس فراہم کرنے والی کمپنی کو کوئی ادائیگی نہیں کی گئی ہے غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2022 میں ایمبولینس کی خریداری میں تقریباً 100 کروڑ کی ادائیگی کی گئی ہے اور معاملہ عدالت میں جانے کی وجہ سے باقی ادائیگی پر روک لگی ہوئی ہے۔
مسٹر کشور نے دہلی کے دوارکا میں مسٹر پانڈے کی اہلیہ کے نام 86 لاکھ روپے میں خریدے گئے فلیٹ کا معاملہ دوبارہ اٹھایا اور کہا کہ مسٹر پانڈے نے کم از کم یہ تسلیم کیا ہے کہ 25 لاکھ روپے کا لین دین ہوا ہے۔ اب وزیر کو بتانا چاہیے کہ انہوں نے یہ رقم خود کیوں نہیں لی بلکہ اپنے والد کے نام پر ٹرانسفر کروا کر دوبارہ اپنے والد سے اپنی اہلیہ کے نام کیوں بھیجی۔ انہوں نے کہا کہ اب تک تو صرف 25 لاکھ کی بات ہوئی ہے۔ وہ جلد ہی انکشاف کریں گے کہ باقی 61 لاکھ کہاں سے آئے۔
غور طلب ہے کہ مسٹر کشور کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے مسٹر پانڈے نے کہا تھا کہ انہوں نے 2019 میں بہار بی جے پی کے صدر دلیپ جیسوال سے رقم لی تھی، لیکن انہوں نے یہ رقم پونے پانچ سال پہلے چیک کے ذریعے واپس کر دی تھی۔
مسٹر پانڈے نے مسٹرکشور کے اس سوال کا بھی جواب دیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ مسٹر پانڈے نے مسٹر جیسوال کے کشن گنج میں واقع میڈیکل کالج کو’ڈیمڈ‘یونیورسٹی کا درجہ تحفہ لیکر دلوایا تھا۔ وزیر صحت نے کہا تھا کہ میڈیکل کالج کو ’ڈیمڈ یونیورسٹی‘کا درجہ دینے میں حکومت بہار کی وزارت صحت کا کوئی کردار نہیں ہے۔
جنسوراج کے لیڈر نے اس پر ایک بار پھر سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر محکمہ صحت نے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) نہ دیا ہوتا تو مسٹر جیسوال کے میڈیکل کالج کو ’ڈیمڈ‘ یونیورسٹی کا درجہ نہیں ملتا۔
No comments:
Post a Comment