پٹنہ، 10 اگست: بہار اسمبلی میںاپوزیشن لیڈر اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سینئر لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے آج الزام لگایا کہ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر وجے کمار سنہا کا نام بہارمیں خصوصی گہری نظرثانی( ایس آئی آر ) کے بعد جاری کردہ مسودہ فہرست میں دو جگہوں پر درج ہے۔ اس سلسلے میںانہوںنے الیکشن کمیشن سے کاروائی کامطالبہ کیا ہے ۔
مسٹر یادو نے آج نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے ایس آئی آر کے بعد اس ماہ کے شروع میں جاری کردہ مسودہ فہرست میں مسٹر سنہا کا نام دو جگہوں، لکھی سرائے اور بانکی پور اسمبلی حلقہ میں درج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر سے پہلے اور بعد کے دونوں حالات میں مسٹر سنہا دو اضلاع میں ووٹر ہیں اور ان کے نام پر دو ای پی آئی سی جاری کئے گئے ہیں۔ یہی نہیں دونوں جگہ ان کی عمر بھی مختلف لکھی گئی ہے۔ لکھی سرائے اسمبلی میں ان کی عمر 57 سال اور پٹنہ کی بانکی پور اسمبلی میں 60 سال درج ہے۔ مسٹر یادو نے سوال کیا کہ کیا بہار کے نائب وزیر اعلی نے بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) سے ملاقات کی اور دو جگہوں پر دو ووٹر فارم پر دستخط کئے۔ اگر یہ سچ ہے تو الیکشن کمیشن انہیں نوٹس بھیج کر قانونی کارروائی کرے اور اگر مسٹر سنہا نے دستخط نہیں کیے تو ان کی طرف سے فارم پر کس نے دستخط کیے ہیں۔ اگر دستخط جعلی ہے، تو ایس آئی آر کا پورا عمل شک کے دائرے میں آتا ہے اور اسے منسوخ کر دینا چاہیے۔
بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق مسٹر سنہا کا نام ایس آئی آر کا عمل شروع ہونے سے پہلے ہی دو اضلاع لکھی سرائے اور پٹنہ کی ووٹر لسٹ میں شامل ہے، اس لیے اس بات کی جانچ ہونی چاہیے کہ کیا نائب وزیر اعلیٰ نے دو جگہوں پر ووٹ کا استعمال کیا تھا۔
مسٹر یادو نے 2 اگست کو منعقدہ اپنی پریس کانفرنس کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ جیسے ہی میرا نام دو جگہوں پر آیا، میرے جواب دینے سے پہلے ہی میرے خلاف پروپیگنڈہ شروع ہوگیا اور مجھے جیل بھیجنے کی بات بھی ہوئی۔ مجھے الیکشن کمیشن کا نوٹس اسپیڈ پوسٹ کے ذریعے 8 اگست کو موصول ہوا اور میں نے اسی دن اپنا جواب بھیج دیا۔ اب میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا الیکشن کمیشن مسٹر سنہا کو بھی ایسا ہی نوٹس بھیجے گا اور قصوروار پائے جانے پر قانونی کارروائی کرے گا۔ دوسری طرف، اگر مسٹر سنگھ نے فارم پر دستخط نہیں کیے ہیں، تو الیکشن کمیشن اپنی غلطی تسلیم کر کے اس عمل کو منسوخ کرے گا۔
آر جے ڈی لیڈر نے کہا کہ بہار کا ایک بڑا حصہ سیلاب کی زد میں ہے اور لوگ پریشان حال ہیں۔ ایسے وقت میں اس ووٹر نظرثانی کا وقت ہی سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے نام حذف کیے گئے ہیں وہ یا تو اپنی جان بچائیں یا الیکشن کمیشن سے ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کیلئے گہار لگائیں۔
مسٹر یادو نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ قواعد کے مطابق 2003 سے پہلے ووٹر لسٹ میں رجسٹرڈ شہریوں سے کوئی دستاویز نہیںطلب کرنا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے ووٹروں سے بھی دستاویزات اور خاندانی معلومات کا مطالبہ کرکے بھی پریشان کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا کہ یہ بی جے پی کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بن گئی ہے۔ کمیشن اپوزیشن کے اعتراضات پر کسی قسم کی سماعت کے لیے تیار نہیں۔ بار بار کی درخواستوں کے باوجود کمیشن ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے 65 لاکھ ناموں کے بوتھ اور ای پی آئی سی نمبر جاری نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی سائٹ پر ڈیٹا پہلے ورڈ فائلز میں اپ لوڈ ہوتا تھا اور اب اسے امیج فائلز میں اپ لوڈ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے تاریخ نکالنا پہلے سے زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔
مسٹر یادو نے کہا کہ ان کی پارٹی بہار اور ملک میں بی جے پی کی جمہوریت مخالف کوششوں کے خلاف لڑتی رہے گی اور جلد ہی الیکشن کمیشن کی طرف سے کی گئی مزید بے قاعدگیوں کو بڑے پیمانے پر بے نقاب کیا جائے گا۔
No comments:
Post a Comment