پٹنہ 31 اگست : آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے میڈیا چیف اور سینئر لیڈر پون کھیڑا نے اتوار کو کہا کہ بہار میں انڈیا اتحادکی ووٹرادھیکاریاترا ریاست کے شہریوں اور رائے دہندوں کی حمایت سے بہت کامیاب رہی ہے اور یکم ستمبر کو اس کی اختتامی تقریب میں تمام اتحادی جماعتوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ یاترا کے آخری دن اختتامی تقریب میں شیو سینا سے سنجے راوت اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے ایم پی یوسف پٹھان کے آنے سے اتحاد کی زیادہ تر پارٹیوں کی نمائندگی مکمل ہو جائے گی۔
پریس کانفرنس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کانگریس کے میڈیا سربراہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا یہ بیان کہ ووٹر لسٹ خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے بعد بہت کم شکایات آئی ہیں غلط ہے اور اعداد و شمار کے مطابق 89 لاکھ تحریری شکایات درج کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا اتحاد اس معاملے میں الیکشن کمیشن کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ اس قدرافراتفری ہے کہ 65 لاکھ ووٹروں نے 89 لاکھ تحریری شکایات درج کرادیں ہیں۔ الیکشن کمیشن اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے شکایات سے بچنے کی پوری کوشش کی، لیکن پھر بھی لوگوں نے اپنی شکایات کا پولندہ بوتھ لیول آفیسر (بی ایل او) کوسونپ دیا۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن نے لوگوں سے ذاتی طور پر شکایات درج کرانے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی ایک منصوبہ بند حکمت عملی تھی، تاکہ شکایات کو کم کیا جاسکے۔
کانگریس کے میڈیا سربراہ نے کہا کہ ایس آئی آر کے وقت آدھار کارڈ کو قبول نہیں کرنے کی وجہ سے ووٹروں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سے شناخت کے طور پر زمین کے کاغذات، رہائشی اور ذات کے سرٹیفکیٹ مانگے گئے۔ جن ووٹرز کے پاس یہ کاغذات نہیں تھے وہ اپنے بلاک میں ڈویلپمنٹ آفیسر کے دفتر کے چکر لگاتے رہے لیکن وہاں بھی انہیں بتایا گیا کہ نئے سرٹیفکیٹ اور کاغذات انتخابات کے بعد بنائے جائیں گے۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ جب ووٹر ریویژن شروع ہوا تو کہا گیا کہ بہار میں بہت سے درانداز آئے ہیں اور یہاں تک کہ مرے ہوئے لوگوں کو بھی فہرست سے نکالنا ہے، لیکن سچائی یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کی فہرست میں کوئی درانداز نہیں ملا اور بہت سے مردہ ووٹروں کو ووٹرادھیکار یاترا کے دوران لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ چائے پیتے دیکھا گیا۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر سے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ بہار میں 20 فیصد ووٹروں کے نام حذف کیے جائیں گے۔ یہ ایک مقررہ نمبر تھا جسے بی جے پی اور الیکشن کمیشن حذف کرنے کا کام کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کل 90540 بوتھوں پر 65 لاکھ ووٹروں کے نام حذف کئے گئے ہیں۔ اس فہرست میں وہ ووٹرز شامل ہیں جو نقل مکانی کر گئے، فوت ہو گئے، اپنے پتے سے غائب تھے اور دو جگہوں پر رجسٹرڈ تھے۔ اس فہرست کے باوجود، بہت سے ووٹروں کے پاس اب بھی دو ای پی آئی سی موجود ہیں، بہت سے مردہ لوگ اب بھی زندہ ہیں اور کئی کو دستاویزات کے نام پر ووٹر لسٹ سے نکال دیا گیا ہے۔
کانگریس کے میڈیا سربراہ نے کہا کہ اگر بہار میں درانداز آئے ہیں تو وزیر داخلہ امت شاہ کو ووٹروں کو ہراساں کرنے سے پہلے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تمام کاغذات الیکشن کمیشن کو بھیجے جا رہے ہیں اور اگر تصحیح کی آخری تاریخ یکم ستمبر کے بعد بھی حالات نہیں بدلتے ہیں تو کانگریس اور اس کا اتحاد نئے سرے سے یہ لڑائی شروع کرے گا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ اگلا قدم کیا ہوگا، مسٹر کھیڑا نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا نیا رویہ سامنے آنے کے بعد نئی حکمت عملی کا خلاصہ کریںگے۔
کانگریس کے میڈیا سربراہ نے کہا کہ بہار میں بی جے پی خوفزدہ ہے اور اسی خوف کی وجہ سے ان کے کارکنوں نے کچھ دن پہلے صداقت آشرم پر دو وزراءکی قیادت میں حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ کانگریس پر نہیں بلکہ بہار کی صدیوں پرانی وراثت پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صداقت آشرم مولانا مظہر الحق نے بنایا تھا اور ملک کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد اپنے آخری دنوں میں یہاں مقیم تھے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے درمیان لڑائی سو سال پرانی ہے اور مزید سو سال تک جاری رہے گی۔
کانگریس کے میڈیا ہیڈ نے کہا کہ نئی تحقیق میں کچھ اور انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ایس آئی آر کے دوران غریبوں اور محروموں کے نام حذف کئے گئے لیکن اس کے ساتھ 7613 ایسے بوتھ ہیں جہاں سے 70 فیصد خواتین کے نام بھی حذف کر دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل نئے انکشافات نے بی جے پی کی راتوں کی نیندیں اڑا دی ہیں اور اس کا اثر نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک میں محسوس ہوگا۔
مسٹرکھیڑا نے آخر میں طنز کیا کہ وزیر اعظم مودی کی امریکہ کے ساتھ جگل بندی ختم ہو گئی ہے اور وزیر اعظم دوبارہ چین کے سب سے بڑے لیڈر کے ساتھ ہاتھی پر گھومتے نظر آئیں گے۔
No comments:
Post a Comment