پٹنہ: جن سوراج پارٹی کے روح رواں پرشانت کشور نے بانکی پور اسمبلی حلقے میں عوامی مکالمے کے دوران ریاست کی سیاست میں مثبت تبدیلی اور انتخابی عمل میں عوام کے کردار پر زور دیا۔
بانکی پور کے دانشوران سے خطاب کرتے ہوئے پرشانت کشور نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں سے بہار کی سیاست بنیادی طور پر ذات، مذہب اور ”جنگل راج“ کے خوف کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی موضوعات نے ریاست کی ترقی کے عمل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
بانکی پور ضمنی انتخاب کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ بانکی پور کا ضمنی انتخاب صرف ایک ایم ایل اے کے انتخاب کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ بی جے پی کے سیاسی تکبر کو چیلنج کرنے اور اقتدار میں بیٹھی قیادت کو جوابدہ بنانے کا سنہری موقع ہے۔
پرشانت کشور نے دعویٰ کیا کہ اگر بانکی پور میں بی جے پی کو شکست ہوتی ہے تو یہ پیغام سیدھا پارٹی کے مرکزی قیادت تک جائے گا۔ اس کے نتیجے میں ریاست کی قیادت جیسے سمراٹ چودھری کی سطح پر بھی تبدیلی کا امکان بڑھ جائے گا۔
عوام سے اپیل
مکالمے کے دوران انہوں نے ووٹروں سے اپیل کی کہ وہ جھنڈے کے رنگ، ذات یا مذہب کی بنیاد پر ووٹ دینے کے بجائے ایک قابل اور ایماندار امیدوار کا انتخاب کریں تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے بہتر مواقع پیدا ہو سکیں۔
پرشانت کشور نے موجودہ سیاسی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندے لاپرواہ ہو چکے ہیں۔ بانکی پور میں شکست کا خوف ہی انہیں عوام کے تئیں زیادہ جوابدہ اور حساس بننے پر مجبور کرے گا۔
مکالمے میں خطاب کرنے والے مقررین
اس عوامی مکالمے میں ابو اللیث صاحب، ایم ایل سی آفاق احمد، ابو عفان فاروقی، کمار سورو، سابق ایم ایل اے کشور منا، پروفیسر منور جہاں، ڈاکٹر آشا ٹھاکر گائنا کولوجسٹ، ڈاکٹر شگفتہ یاسمین، فزکس کے پروفیسر آفتاب عالم اور رامانشو سمیت شہر کے ممتاز دانشوروں اور سماجی کارکنوں نے خطاب کیا۔
پرشانت کشور نے عوام سے کہا کہ وہ اپنے ووٹ کی طاقت کو صحیح سمت میں استعمال کریں تاکہ بہار کی سیاست میں ایک نئے اور مثبت دور کا آغاز ہو سکے۔

No comments:
Post a Comment