پٹنہ، 12 جنوری:بہار کے غریب پس منظر سے آنے والے طلباء کی تعلیم اور روزگار کے لیے وقف کہے جانے والے گرو رحمٰن نے بہار پبلک سروس کمیشن (بی پی ایس سی) کے 70ویں سول سروس امتحان میں 'نارملائزیشن' کے خلاف احتجاج کے دوران کیے گئے تبصروں کو لے کر بی پی ایس سی کی نوٹس کے بارے میں آج واضح کیا کہ اگر انہیں امیدواروں کے مفاد میں جیل جانا پڑا تو وہ جائیں گے لیکن کمیشن سے معافی نہیں مانگیں گے۔
بی پی ایس سی کی لیگل نوٹس پر جب ان کا موقف جاننے کے لئے اتوار کو خبر رساں ایجنسی یو این آئی نے گرو رحمان سے فون پر رابطہ کیا تو انہوں نے واضح کیا، ’’میں کسی بھی حالت میں معافی نہیں مانگوں گا۔ طلبہ کے مفاد کے لیے جیل جانے کو تیار ہوں۔ کمیشن کے سیکرٹری اور چیئرمین جھوٹے ہیں۔ میں نے نارملائزیشن کی مخالفت کی تھی اور اب بھی کر رہا ہوں اور کرتا رہوں گا۔ تاہم، انہوں نے بی پی ایس سی سے 70ویں مشترکہ ابتدائی امتحان (پی ٹی) کو مکمل طور پر منسوخ کرنے اور دوبارہ امتحان منعقد کرنے کا مطالبہ کیا۔
مسٹر رحمان نے کہا کہ بی پی ایس سی کے چیئرمین مُن بھائی پرمار اور سکریٹری ستیہ پرکاش شرما نے 30 اکتوبر 2024 کو پٹنہ کے متعدد کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کے اساتذہ کے ساتھ میٹنگ کی اور 70 ویں سول سروسز امتحان کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ کمیشن کے چیئرمین اور سکریٹری نے نارملائزیشن سے متعلق طلباء سے بات چیت کے لئے 15 نومبر 2024 کو پٹنہ کے باپو آڈیٹوریم میں ایک میٹنگ بلانے کی یقین دہانی کرائی، لیکن یہ میٹنگ نہیں بلائی گئی۔ بالآخر ہم نے مجبوری میں 6 دسمبر سے نارملائزیشن کی مخالفت شروع کردی۔
گرو رحمان نے کہا، "بی پی ایس سی اور اس کے عہدیدار ہمیشہ اپنے وعدوں اور یقین دہانیوں سے پیچھے ہٹتے رہے۔ اس کے باوجود میں نے کبھی بھی کمیشن کے عہدیداروں کے خلاف کوئی تضحیک آمیز تبصرہ نہیں کیا ہے۔ نیزبی پی ایس سی کے 70ویں سول سروسز امتحان کے نوٹیفکیشن میں، پوائنٹ دو سے ٹھیک پہلے 'نوٹ' کے تین نمبر پوائنٹ میں واضح طورپر نارملائزیشن نافذ کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اب اگر ہم نے اس کی مخالفت کی تو ہم نے کیا غلط کیا، پھربھی کمیشن نے قانونی نوٹس بھیجا ہے تو میں اس کا جواب ضرور دوں گا۔ تاہم، انہوں نے ایک بار پھر دہرایا، "طلباء کے مفاد میں مجھے جیل بھی جانا پڑے، تو میں جانے کے لئے تیار ہوں لیکن کمیشن سے معافی نہیں مانگوں گا۔"
قابل ذکر ہے کہ بی پی ایس سی نے گرو رحمان کو قانونی نوٹس بھیجا ہے۔ یہ نوٹس بی پی ایس سی کی جانب سے پٹنہ ہائی کورٹ کے وکیل وویک آنند امرتیش نے بھیجا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا، "آپ ان چند لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے ابتدا میں نارملائزیشن کے بارے میں افواہ پھیلائی تھی، جس میں کہا گیاتھا کہ آپ کو ڈر ہے کہ بی پی ایس سی نارملائزیشن کو نافذ کرنے جا رہا ہے۔ نارملائزیشن کی آڑ میں مندرجہ بالا توہین آمیز تبصرے کرکے اور نیوز بائٹ دے کر آپ نے امیدواروں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرکے اور کمیشن و اس کے عہدیداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاکر سستی مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ مندرجہ بالا توہین آمیز بیانات کے پیچھے آپ کے بدنیتی پر مبنی ارادے کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ آپ کا امیدواروں کی فلاح و بہبود سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، بلکہ آپ کمیشن کے حوالے سے افواہیں پھیلا کر امیدواروں اور عام لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔
کمیشن نے کہا کہ حقائق اور حالات کی بنیاد پر یہ واضح ہے کہ گرو رحمان بے بنیاد اور ہتک آمیز ریمارکس کرکے بی پی ایس سی اور اس کے افسران کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار ہیں۔ اس لیے گرو رحمان سے درخواست ہے کہ وہ پندرہ دنوں کے اندر کمیشن اور اس کے افسران سے غیر مشروط عوامی معافی مانگیں اور مستقبل میں کوئی قابل اعتراض تبصرہ کرنے سے گریز کریں۔

No comments:
Post a Comment