امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والی آگ کو بجھانے کی کوششوں میں صرف امریکی سرکاری ادارے ہی نہیں بلکہ غیر ملکی فائر فائٹرز اور ہزاروں مرد اور خواتین قیدی بھی حصہ لے رہے ہیں۔
اس کے علاوہ پینٹاگون کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ آگ بجھانے کی کوششوں میں خصوصی طیارے اور ہیلی کاپٹرز بھی حصہ لے رہے ہیں جن میں فائر فائٹنگ کے لیے خصوصی نظام نصب کیے گئے ہیں۔
لاس اینجلس میں آگ بجھانے کی کوشش میں حصہ لینے والے قیدیوں کی تعداد 939 اور وہ کیلیفورنیا کے ڈپارٹمنٹ آف کریکشنز اینڈ ریہیبلیٹیشن کے رضاکار پروگرام کا حصہ ہیں۔
رضاکار پروگرام میں قیدیوں کی تعداد منگل کو اس وقت بڑھنا شروع ہوئی جب لاس اینجلس میں لگی آگ قابو سے باہر ہوئی۔
اب تک یہ آگ ہزاروں مکانات کو تباہ اور 37 ہزار ایکڑ زمین کو جلا کر راکھ کر چکی ہے۔ اس آگ کو بجھانے کی کوشش کرنے میں ہزاروں ایمرجنسی کارکنان مصروف ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس آگ کے سبب گیارہ افراد بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکی ریاست میں 35 ایسے فائر کیمپس ہیں جہاں قیدی اپنی قید بھی کاٹتے ہیں اور تربیت بھی حاصل کرتے ہیں۔ ان میں دو کیمپس ایسے ہیں جو کہ صرف خواتین کے لیے مختص ہیں۔
اس رضاکار پروگرام میں رجسٹرڈ قیدیوں کی تعداد ایک ہزار 870 ہے جس میں سے 900 سے زیادہ قیدی سرکاری فائر فائٹرز کے ساتھ مل کر جنوبی کیلیفورنیا میں لگی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پینٹاگون کی ترجمان سبرینا سنگھ نے رپورٹرز کو بتایا تھا کہ اس آپریشن میں نیوی کے 10 ہیلی کاپٹرز بھی حصہ لے رہے ہیں جن میں پانی پھینکنے والے نظام بھی نصب ہیں جبکہ دیگر سی 130 طیارے بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
مقامی میڈیا کے مطابق پینٹاگون حکام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کیونکہ یہ آگ عام طور فائر فائٹنگ سیزن کے دوران نہیں لگی، اس لیے کچھ سی 130 طیاروں میں دوبارہ موڈیلر ایئر بورن فائر فائٹنگ سسٹم کے یونٹس فٹ کیے گئے ہیں تاکہ ان کارگو طیاروں کو فائر فائٹنگ کے قابل بنایا جا سکے۔
دوسری جانب ہمسایہ ملک میکسیکو کی جانب سے امریکہ میں اس آگ سے نمٹنے کے لیے 70 فائر فائٹرز اور ریلیف ورکرز بھیجے گئے ہیں۔ اسی طرح ہمسایہ ملک کینیڈا کی جانب سے فائر فائٹرز بھیجے گئے ہیں جبکہ امریکہ کی دیگر ریاستوں کے فائر فائٹنگ محکموں سے بھی اہلکاروں کو لاس اینجلس بھیجا گیا ہے۔
گورنر نیوسم کی جانب سے سنیچر کو کہا گیا ہے کہ انھوں نے لاس اینجلس میں کیلی فورنیا نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کی تعداد بڑھا کر 1700 کر دی ہے۔
انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ 'ہم اس آگ کے خلاف ردِ عمل دینے کے لیے وسائل جمع کر رہے ہیں۔ کیلی فورنیا نیشنل گارڈ کے مرد و خواتین دن رات کام کر کے لاس اینجلس کے رہائشیوں کی اس ضرورت کے وقت میں مدد کر رہے ہیں۔'
ادھر قیدی بھی آگ کو بجھانے میں لگے ہوئے ہیں۔کیلیفورنیا کی حکومت ان قیدیوں کو روزانہ پانچ سے 10 ڈالر ا±جرت دیتی ہے اور انھیں کسی بھی ہنگامی حالت میں کام کرنے کے لیے اضافی ایک ڈالر دیا جاتا ہے لیکن انھیں ملنے والے ا±جرت حکومتی فائر فائٹرز کو ملنے والی تنخواہ سے بہت کم ہے جو کہ سالانہ لاکھوں ڈالرز کماتے ہیں۔
رائل رامی نامی ایک سابق قیدی کہتے ہیں کہ ’آپ لوگوں (قیدیوں) کو اپنے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کے مقابلے میں چند کوڑیاں ملتی ہیں۔‘
'اگر آپ آگ بجھانے کی کوشش کے دوران ہلاک ہو جاتے ہیں تو آپ کو کوئی فوائد نہیں ملتے۔ آپ کو کوئی انعام نہیں ملے گا اور نہ ہی آپ کو ایک فائر فائٹر تسلیم کیا جائے گا۔'
تاہم رامی کہتے ہیں کہ یہ کم ا±جرت بھی باقی ریاستی جیلوں میں مشقت کے ذریعے ملنے والی رقم سے زیادہ ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان فائر کیمپس میں 'پِکنک جیسا ماحول' ہوتا ہے اور یہاں کیلیفورنیا میں دیگر جیلوں کے مقابلے میں کھانا بھی بہتر ملتا ہے۔
سی ڈی آر سی کا کہنا ہے کہ ان کیمپس میں شرکت کرنے والے قیدی کچھ خدمات کے ذریعے اپنی قید کا دورانیہ بھی کم کروا سکتے ہیں۔
تاہم سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں کو اس پروگرام کا حصہ نہیں بنایا جاتا۔
رامی کہتے ہیں کہ جیل سے رہائی کے بعد ریاستی کیمپس میں تربیت حاصل کرنے والے قیدی اکثر فائر فائٹنگ کی ملازمت کے لیے اپلائی کرتے ہیں لیکن انھیں ملازمت پر نہیں رکھا جاتا۔
ان کا کہنا ہے کہ 'یہاں توہین یا ہتک کا عنصر موجود ہے۔ جب لوگ فائر فائٹر کے بارے میں سوچتے ہیں تو ان کے دماغ میں ایک ہیرو کی تصویر آتی ہے نہ کہ کسی ایسی شخص کی جو جیل میں بند رہا ہو۔'
رامی نے اسی سب کو مدِنظر رکھتے ہوئے ایک ادارے کی بنیاد رکھی تھی جس کا مقصد قیدی فائر فائٹرز کے مسائل کو حل کرنا اور کیلیفورنیا میں فائر فائٹرز کی کمی کو پورا کرنا تھا۔
اس وقت لاس اینجلس میں پانچ مقامات پر آگ لگی ہوئی ہے جس کے نتیجے مِیں اربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔
ریاستی حکام نے وسائل کی کمی کے سبب سات ہزار 500 ایمرجنسی ورکرز کو دور دراز علاقوں سے بھی ب±لوا لیا ہے، جن میں نیشنل گارڈ اور کینیڈا سے بلوائے گئے فائر فائٹرز بھی شامل ہیں۔
وہاں لگی آگ پر قابو پانا اس وقت بھی مشکل ہو رہا ہے اور پیلیسیڈز اور ایٹون نامی آگ نے 35 ہزار ایکڑ زمین کو جلا کر راکھ کر دیا ہے۔
No comments:
Post a Comment