پٹنہ:بہار ریاست راشٹریہ جنتا دل کے چیف ترجمان شکتی سنگھ یادو نے ریاستی ترجمان اعجاز احمد، ارون کمار یادو، پرمود کمار سنہا اور آرزو خان کی موجودگی میں آر جے ڈی کے ریاستی دفتر کے کرپوری آڈیٹوریم میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہینہیں ہے کہ بہار میں حکومت نام کی کوئی چیز ہے۔ ریٹائرڈ اہلکار، دو دہلی اور دو بہار والے اپنی مرضی کے مطابق حکومت چلا رہے ہیں۔ بہار ادارہ جاتی بدعنوانی کا مرکز بن چکا ہے، اور ہر طرف بدعنوانی نظر آتی ہے۔ سرکاری خزانے کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے۔ ۔شری شکتی سنگھ یادو نے مزید کہا کہ بہار میں پرگتی یاترا کے دوران وزیر اعلیٰ نتیش کمار کہیں بھی لوگوں سے نہیں مل رہے ہیں، اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایک بھی تصویر، فوٹیج یا ویڈیو نہیں دکھ رہا ہے کہ وہ عام لوگوں سے مل رہے ہیں۔ پرگتی یاترا درگتی یاترا میں بدل گئی ہے۔ جہاں 2 ارب 25 کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ کرنے کے باوجود بہار کے عوام کے مفاد میں کوئی کام نہیں ہو رہا ہے وہیں جمہوریت میں عوام کی منتخب کردہ حکومت عوام کے لیے کوئی کام نہیں کر رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکمراں طبقے نے ریٹائرڈ افسران کے ذریعے تبادلوں اور تعیناتیوں کو انڈسٹری کا درجہ دے رکھا ہے۔ اور یہ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس حوالے سے اتحادی جماعت کے ایک سینئر رہنما اور وزیر نے بھی سوالات اٹھائے ہیں کہ حکومت کیسے چلائی جا رہی ہے لیکن حکومتی لوگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہار کی حکومت "لوٹ سکو تو لوٹ لو" کے اصول پر چل رہی ہے اور چہرہ چمکانے کیلئے سرکاری خزانے کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔قائدین نے کہا کہ راشٹریہ جنتا دل پہلے دن سے ہی بی پی ایس سی امیدواروں کے تئیں سنجیدہ ہے اور جب تک امیدواروں کو انصاف نہیں ملتا تیجسوی جی سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔

No comments:
Post a Comment