Tuesday, 14 January 2025

کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس میں ایک ہفتے سے لگی بھیانک آگ تیز ہواوں کے باعث مزید شدت اختیار کرسکتی ہے

 




غیر ملکی خبررساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ لاس اینجلس اور وینٹورا کاو¿نٹی کے زیادہ تر علاقوں میں منگل سے بدھ کی صبح تک 50 سے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں۔

امریکی حکام نے ’ریڈ فلیگ وارننگ‘ کا اعلان کردیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ صورتحال انتہائی خطرناک ہے اور پہلے سے لگی آگے میں مزید شدت آسکتی ہے۔

لاس اینجلس کے فائر ڈیپارٹمنٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کل صبح تک چلنے والی تیز ہواو¿ں کے باعث آگ پر قابو پانے کی کوششیں متاثر ہوسکتی ہیں۔


وینٹورا میں نئی آگ بھڑک اٹھی

دوسری جانب، لاس اینجلس کے شمال مغرب میں واقع وینٹورا کاو¿نٹی میں سانتا کلارا دریا کے کنارے رات گئے ایک چھوٹی لیکن تیزی سے پھیلنے والی نئی آگ بھڑک اٹھی۔

زمینی عملہ اور متعدد ہیلی کاپٹر اس آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں، جو اب تک 56 ایکڑ سے زیادہ رقبے کو تباہ کر چکا ہے اور ایک گالف کورس بھی اس آگ کی زد میں آچکا ہے تاہم اب تک وہاں کے رہائشیوں کو خطرہ نہیں ہے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے تیز ہواو¿ں کی پیش گوئی کے پیش نظر 85 ہزار سے زائد فائر فائٹرز نے جنگلات میں لگی دو بدترین آگ پر زمین اور فضا سے قاپو پانے کی کوششیں تیز کیں جس کا مقصد آگ کو رات بھر مزید پھیلنے سے روکنا تھا۔


دیگر کاونٹیوں میں آگ بھجانے والا عملہ تعینات

ریاستی حکام نے گزشتہ روز لاس اینجلس اور جنوبی کیلیفورنیا کی دیگر کاو¿نٹیوں میں آگ بجھانے والے عملے کو پہلے سے ہی تعینات کر دیا تھا۔

لاس اینجلس کاو¿نٹی میڈیکل ایگزامنر کے مطابق آگ لگنے سے اب تک 24 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ریسکیو عملے کی جانب سے جلے ہوئے گھروں کی تلاشی کا عمل جاری ہے جس سے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق لاس اینجلس کے جنگلات میں لگی بدترین آگ نے 12 ہزار سے زائد عمارتوں کو تباہ کردیا ہے جب کہ ایک بڑے رقبے کو راکھ اور ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا ہے۔


آگ سے تباہی

پیر تک لاس اینجلس کاو¿نٹی میں 92 ہزار سے زائد افراد کو انخلا کے احکامات جاری کیے گئے تھے جب کہ مزید 89 ہزار افراد کو انخلا کی وارننگ جاری کی گئی۔

لاس اینجلس کے مغربی کنارے پر لگنے والی ’پیلیسیڈز فائر‘ نے 23 ہزار 713 ایکڑ (96 مربع کلومیٹر) کے رقبہ کو جلا دیا ہے جس پر 14 فیصد قابو پایا گیا ہے۔

کیلیفورنیا کے محکمہ جنگلات اور فائر پروٹیکشن (کیل فائر) کے مطابق شہر کے مشرق میں سان گیبریل پہاڑوں کے دامن میں لگنے والی ’ایٹن فائر‘ نے مزید 14 ہزار 117 ایکڑ (57 مربع کلومیٹر) کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور جس پر 33 فیصد قابو پالیا گیا ہے۔

تیسری آگ ’دی ہرسٹ‘ جو 799 ایکڑ (3.2 مربع کلومیٹر) پر پھیلی ہوئی تھی، اس پر 95 فیصد قابو پا لیا گیا تھا جب کہ حالیہ دنوں میں کاو¿نٹی میں لگنے والی دیگر 3 آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ جنوبی کیلیفورنیا میں 2 مقامات پر ہونے والی ان آتشزدگیوں کو ’پیلیسیڈز فائر‘ اور ’ایٹن فائر‘ کا نام دیا گیا ہے جب کہ اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی وقفہ وقفہ سے آگ کی لپیٹ میں آرہے ہیں جن پر خشک سالی اور تیز ہواو¿ں کی وجہ سے قابو پانا مشکل ہوگیا ہے بلکہ اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔


یہ بھی پڑھیں ۔کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میںلگی آگ کو بجھانے میں قیدی بھی مصروف



 


لاس اینجلس میں 4000 ارب ڈالر سے زائد کے اثاثوں کی نگرانی کرنے والی کمپنیوں خطے کی تباہ کن آگ کے باعث آپریشنز میں مشکلات کا سامنا ہے جن میں سے کچھ دفاتر کی جگہ منتقل کر رہے ہیں اور اپنے گھروں سے محروم ہونے والے عملے کے ارکان کی مدد کر رہے ہیں۔

لاس اینجلس کا علاقہ کیپٹل گروپ، ٹی سی ڈبلیو گروپ، ہیج فنڈز اوک ٹری کیپیٹل اور اریس مینجمنٹ جیسے بڑے صنعتکاروں کا گھر ہے جب کہ مجموعی طور پر لاس اینجلس میں کمپنیاں امریکا کے 132 ٹریلین ڈالر کے عالمی اثاثوں میں سے 4 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا کنٹرول رکھتی ہے، جس میں بانڈ مارکیٹ کے متعدد بڑے نام بھی شامل ہیں۔


No comments:

Post a Comment