ڈاکٹر عبد الوہاب ایک عظیم سرجن، بے مثال استاد، بلند پایہ مفکر اور بے لوث سماجی کارکن تھے، جن کی زندگی خدمتِ خلق، تعلیم اور طبی میدان میں نمایاں کارناموں سے بھرپور رہی۔ وہ نہ صرف جراحی (سرجری) کے فن میں مہارت رکھتے تھے بلکہ اپنی انسان دوستی، شفقت اور علم دوستی کی بدولت ایک مکمل ادارہ کی حیثیت اختیار کر گئے تھے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیمی سفر
ڈاکٹر عبد الوہاب 1931 میں پیدا ہوئے اور اپنی ابتدائی تعلیم جے آر ڈی ٹاٹا ہائی اسکول، جمشید پور سے 1949 میں مکمل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے انہوں نے 1951 میں پٹنہ سائنس کالج میں داخلہ لیا اور طب (میڈیکل سائنس) کی طرف رجحان رکھتے ہوئے 1957 میں دربھنگہ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل (DMCH) سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔
اپنی قابلیت، محنت اور علم کے شوق کی بدولت انہوں نے مزید مہارت کے لیے انگلینڈ کا سفر کیا، جہاں انہوں نے 1965-66 میں FRCS (فیلو آف دی رائل کالج آف سرجنز) کی سند حاصل کی—جو کسی بھی سرجن کے لیے اعلیٰ ترین اعزاز میں شمار ہوتی ہے۔
طبّی دنیا میں خدمات اور تربیت کا سفر
انگلینڈ سے واپسی کے بعد 1968 میں انہوں نے DMCH میں اسسٹنٹ پروفیسر آف سرجری کے طور پر شمولیت اختیار کی اور 1981 تک درس و تدریس اور جراحی کے شعبے میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دیتے رہے۔ وہ نہ صرف بہترین معالج تھے بلکہ نوجوان ڈاکٹروں کے لیے ایک عظیم استاد اور رہنما بھی ثابت ہوئے۔
ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں سعودی عرب میں کنگ فہد اسپیشلسٹ ہسپتال، جیزان میں بطور کنسلٹنٹ سرجن مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے بین الاقوامی سطح پر طبی خدمات انجام دیں اور مزید تجربہ حاصل کیا۔
علاج کو عام کرنے کا مشن – اسپتالوں کا قیام
اپنی غیر ملکی خدمات کے باوجود، ڈاکٹر عبد الوہاب ہمیشہ اپنے وطن اور اپنے لوگوں کی خدمت کے جذبے سے سرشار رہے۔ اسی لیے انہوں نے 1989 میں "الحلال نرسنگ ہوم" قائم کیا، جو آج ان کے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر احمد نسیم ارزو کی سربراہی میں "الحلال اسپتال" کے نام سے ایک جدید طبی ادارہ بن چکا ہے۔
انہوں نے صرف کاروباری سطح پر ہسپتال قائم نہیں کیا بلکہ ان کا مقصد غریب اور نادار مریضوں کو سستی اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا تھا۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے "ملت شفا خانہ" قائم کیا، جہاں مستحق مریضوں کا علاج بالکل مفت کیا جاتا ہے۔ یہ شفا خانہ آج بھی ان کے مشن اور خدمت کے جذبے کی جیتی جاگتی مثال ہے۔
تعلیم اور خواتین کی خودمختاری کے لیے انقلابی قدم
ڈاکٹر عبد الوہاب کا ماننا تھا کہ ایک صحت مند اور کامیاب معاشرہ صرف تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ وہ خاص طور پر مسلم لڑکیوں کی تعلیم کے زبردست حامی تھے۔ اسی وژن کے تحت انہوں نے "حاجن بیگم صغریٰ حسن میموریل گرلز ہائی اسکول" قائم کیا، تاکہ لڑکیوں کو جدید تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جا سکے اور وہ معاشی و سماجی طور پر خودمختار بن سکیں۔
ان کی یہ کوشش محض تعلیمی ادارہ قائم کرنے تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ایسی سماجی تحریک کا آغاز کر رہے تھے، جس کا مقصد مسلم خواتین کو علم اور شعور کی روشنی فراہم کرنا تھا۔
ایک لازوال ورثہ – خدمت، تعلیم اور انسان دوستی
ڈاکٹر عبد الوہاب کی زندگی خدمت، ایثار اور علم کی روشنی سے عبارت تھی۔ انہوں نے ہزاروں مریضوں کا علاج کیا، بے شمار شاگردوں کی رہنمائی کی، طبی سہولیات کو عام کیا اور تعلیم کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔
6
مارچ 2019 کو وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کے چھوڑے ہوئے نقوش آج بھی زندہ ہیں۔ الحلال اسپتال، ملت شفا خانہ، اور حاجن بیگم صغریٰ حسن میموریل اسکول جیسے ادارے ان کے انسانی ہمدردی کے سفر کو ہمیشہ جاری رکھیں گے۔
وہ محض ایک طبیب یا استاد نہیں تھے، بلکہ ایک عہد ساز شخصیت تھے، جنہوں نے نہ صرف زندگیوں کو بچایا بلکہ انہیں بہتر بنانے کا عزم بھی کیا۔ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ان کا مشن ہزاروں لوگوں کی رہنمائی کرتا رہے گا۔
اللّٰہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین!
No comments:
Post a Comment