Wednesday, 19 March 2025

"نیتن یاھو تم مجرم ہو"

 



غزہ میں جنگ دوبارہ شروع کرنے اور قیدیوں کے انجام کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے اسرائیلی عوامی حلقوں میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔


یروشلم میں ہزاروں اسرائیلیوں نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ان پر غیر جمہوری طرز عمل اور غزہ میں جنگ جاری رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاھو اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے غزہ میں قید ان کے پیاروں کو نظرانداز کررہے ہیں۔


بدھ کو پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب ہونے والے مظاہرے میں غزہ میں قید اسرائیلیوں کے اہل خانہ سمیت ہزاروں شہریوں نے شرکت کی۔



یہ احتجاج حزب اختلاف کے گروپوں کی کال پر اس وقت سامنے آیا جب نیتن یاہو نے انٹرنل سکیورٹی سروس (شین بیت) کے سربراہ رونن بار کو برطرف کرنے کا اعلان کیا ہے۔


"نیتن یاھو تم مجرم ہو"

سرخ دستانے پہنے مظاہرین نے وزیر اعظم نیتن یاھو کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے کہا کہ’’آپ کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں‘‘ اور آپ ہی مجرم اور قصوروار ہیں‘‘۔


خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق دیگر مظاہرین نے قیدیوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ "فوجی دباؤ قیدیوں کو مار ڈالے گا۔ اسرائیل کو نیتن یاہو سے بچاؤ"۔



دریں اثناء اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی پر آج پھر سے شدید فضائی حملے شروع کر دیے جس میں کل صبح سے اب تک سینکڑوں افراد مارے گئے۔


دریں اثنا قیدیوں کے خاندانوں کے فورم نے کل منگل کو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی قیدیوں کی قربان کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئےجنگ دوبارہ شروع کرنے پر تنقید کی۔


ان کا کہنا ہےکہ نیتن یاہو اندرونی تنقید سے بچنے اور اقتدار کو انتظامی حکام کے ہاتھوں میں مرکوز کرنے کے لیے جنگ کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔



یہ بات قابل غور ہے کہ نیتن یاہو نے گذشتہ اتوار کو شین بیت کے سربراہ رونن بار کو برطرف کرنے کے اپنے ارادے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی کے بعد وہ مزید ان پر اعتماد نہیں کرتے۔


دوسری جانب نیتن یاہو کی حکومت نے اپنے ہی اٹارنی جنرل کو ہٹانے کے لیے کارروائی شروع کی، جو وزیر اعظم کی پالیسیوں کی مخالفت کے لیے مشہور ہیں۔


No comments:

Post a Comment