Wednesday, 5 March 2025

فلسطینی قوم کے نصب العین کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں:سعودی عرب

 




غزہ کی پٹی کی تعمیر نو پر تبادلہ خیال کے لیے قاہرہ میں ہنگامی عرب سربراہی اجلاس کے انعقاد کے ساتھ سعودی ذرائع نے کہا ہےکہ قاہرہ سمٹ میں مملکت کی شرکت عرب مسائل، خاص طور پر فلسطینی کاز کے دفاع کے لیے سعودی عرب کے پختہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔


ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب مقبوضہ علاقوں میں سیاسی یا آبادیاتی حقیقت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتا ہے جبکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔


سعودی عرب نے قاہرہ میں منعقدہ ہنگامی عرب سربراہی اجلاس میں شرکت کے دوران مسئلہ فلسطین پر اپنے ٹھوس مو¿قف کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ سنہ 1967 ءکی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے واضح عزم کے بغیر منصفانہ اور جامع امن کا حصول ممکن نہیں ہے۔ سعودی عرب مشسرقی یروشلم پر مشتمل ایک ایسی آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا مطالبہ کرتا رہے گا جس کی حمایت عالمی قراردادوں میں بھی دی گئی ہے۔


ریاض سربراہی اجلاس پر مبنی ایک متحدہ عرب پوزیشن

دریں اثناءحالیہ عرب موقف نومبر 2024 میں ریاض میں منعقدہ عرب اور اسلامی سربراہی اجلاس کے فیصلوں پر مبنی ہیں، جو فلسطین میں پیشرفت، خاص طور پر فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرنے کی بنیاد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ سعودی عرب کی طرف سے سفارتی میدان میں مختلف بین الاقوامی فورمز پر فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے مضبوط اور معاون موقف اختیار کیا گیا ہے۔


دو ریاستی حل کو نافذ کرنے کے لیے بین الاقوامی اتحاد

سعودی عرب نے مشترکہ عرب اور اسلامی وزارتی کمیٹی، کنگڈم آف ناروے اور یورپی یونین کے ساتھ شراکت داری میں دو ریاستی حل کو نافذ کرنے کے لیے بین الاقوامی اتحاد کا اعلان کیا تاکہ ایک منصفانہ سیاسی حل کے لیے آگے بڑھنے کا عزم کیا جا سکے۔ ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے وسیع بین الاقوامی حمایت کے واضح اشارے ہیں۔


فوری انسانی امداد اور مسلسل مدد

انسانی ہمدردی کی سطح پر سعودی عرب نے غزہ کی پٹی میں بحران کے آغاز سے ہی مدد اور ریلیف فراہم کرنے میں تیزی سے کام کیا ہے۔ مملکت نے 707 ملین سعودی ریال سے زیادہ کی ایک عوامی عطیہ مہم شروع کی ، جبکہ فضائی اور سمندری پلوں کے ذریعے امداد بھیجی ہے، اس کے علاوہ ماہانہ مالی امداد جو سعودی عرب فلسطینی بھائیوں کو بحران کے خاتمے کے لیے فراہم کرتا ہے اس کے علاوہ ہے۔

سعودی عرب نے غزہ کی پٹی اور اس کے گردونواح میں انسانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ماہانہ 5.3 بلین ڈالر سے زائد کی مالی امداد فراہم کی ہے۔


اسرائیلی خلاف ورزیوں کی مذمت اور عالمی برادری سے ایکشن لینے کا مطالبہ

سعودی عرب نے شام کے متعدد علاقوں پر اسرائیلی بمباری کو دوٹوک الفاظ میں رد کرنے اور ان کی مذمت کے ساتھ قابض ریاست کی طرف سے بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے پھیلاو¿ کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے خطے میں سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے والے اسرائیلی اقدامات کو روکنے کے لیے عالمی برادری کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔


قابل ذکر ہے کہ مصر نے اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ دو روز قبل مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے قاہرہ میں ایک پریس کانفرنس میں زو ر دیا کہ یہ منصوبہ تیار ہے اور اسے منظوری کے لیے عرب سربراہی اجلاس کے دوران عرب رہنماو¿ں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔


’اے ایف پی‘ کی طرف سے دیکھے گئے ایک مسودے کی دستاویز کے مطابق مصر نے پانچ سالہ منصوبہ تیار کیا ہے جس میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے 53 بلین ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس میں ہنگامی امداد، تعمیر نو اور طویل مدتی اقتصادی ترقی پر توجہ دی گئی ہے۔


منصوبہ تعمیر نو کے دو مراحل تجویز کرتا ہے اور بین الاقوامی نگرانی میں ایک ایسے فنڈ کے قیام کی تجویز پیش کرتا ہے جو "موثر فنانسنگ" کے ساتھ ساتھ "شفافیت اور نگرانی" کو یقینی بناتا ہے۔



No comments:

Post a Comment