Tuesday, 11 March 2025

سر زمین شام پر ایک نئی صبح کا آغاز

 






حمزہ اجمل جونپوری



گزشتہ رات ایک صد آفرین رات تھی جس میں کرد باغیوں نے شام میں سنیوں کی حمایت کا اعلان کیا تھا جس کے بعد پورے شام میں ایک جشن کا سماں بندھ گیا اور ایسا کیوں نا ہوتا کہ پورا شام اب ایک ریاست کے طور پر قائم ہوگیا ہے ۔

خارجی طاقتیں اسرائیل ایران حزب اللہ اور اسدی باقیات کے ارادے ناکام ہو گئے جنہوں نے یہ عزم کیا تھا کہ شام کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا جائے اور اسکی عظمت و رفعت کو خاک آلود کر دیا جائے تاکہ وہ ملک ہمیشہ خانہ جنگی کا شکار رہے ۔

جس کے لئے اسرائیل نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ہم کرد ملیشیا کو ایک ملین ڈالر کے ذریعہ سے جنگ میں مدد کریں گے جو شام میں اسلام پسند حکومت کو تخت سے دستبردار کر دے اسی اثنا میں شام میں اسدی باقیات کی جانب سے لاذقیہ طرطوس اور بانیاس میں بغاوت کا علم بلند کر دیا اور تقریبا ایک لمحہ میں سو سے زائد شام کی امن فوج کو منظم طریقے سے شہید کر دیا بعضوں کے جسد کو جلا دیا تو کسی کو زیر زمین دفن کر دیا اور عوام پر بے تحاشا گولیاں برسائیں ۔

جس کے بعد دمشق و حلب اور ادلب میں عوام نے نفیر عام کا اعلان کیا اور مجاہدین کے شانہ بشانہ تقریبا تیس ہزار کا لشکر اس بغاوت کو کچلنے کے لئے چل پڑا ایک رپورٹ کے مطابق عوام الناس کی تعداد تقریبا پچاس ہزار تھی جنہوں نے باغیوں کو تہہ و تیغ کرنے کے لئے اپنے ہتھیار اٹھا لئے ۔

لاذقیہ میں بغاوت کو 6 گھنٹے کے اندر اندر پسپا کر دیا گیا اسی طرح طرطوس اور بانیاس میں بھی بغیر کسی رعایت کے نصیری شیعوں اور اسدی باقیات کو تباہ کر دیا گیا اس بغاوت کا سربراہ مقداد فتحہ ہے جس نے اسدی دور حکومت میں اہل سنت پر بے انتہا ظلم ڈھائے تھے کہ تاریخ کے اوراق اگر لکھنے پر آ جائیں تو قلم سے سیاہی کی جگہ لہو ٹپکے ۔

یہ بغاوت کوئی معمولی بغاوت نہیں تھی اور اس بغاوت کا اندیشہ بھی تھا کہ شام میں بغاوت ضرور ابھرے گی کیوں کہ جس طرح فتح کے دوران  اسدی باقیات اپنے ہتھیار ڈال کر بھاگ رہے تھے اندازہ یہی تھا کہ وہ ضرور ابھریں گے اور انہوں نے شامی سربراہ کی معافی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر بغاوت کی تیاری کرنے لگے ۔

بغاوت کی تیاری لبنان میں کی گئی تھی حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی موت پر تمام شیعہ ایک جگہ جمع ہوئے تھے ایران اور حزب اللہ نے اس میں بھرپور شرکت کی اور ہتھیاروں کا ایک بڑا ذخیرہ شام ساحلی علاقوں میں پہنچا دیا گیا حسن نصر اللہ کے جنازے کے کچھ دن بعد ہی ساحلی علاقوں میں بغاوت پھوٹ پڑی اور شام کے کئی مجاہدین یک لمحہ شہادت کے رتبہ پر فائز ہو گئے ۔

جس کے بعد شام کے سربراہ احمد الشرع نے بغاوت کو کچلنے کا فرمان جاری کیا اور عوام الناس کی کثیر تعداد نے اس بغاوت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کیوں کہ احمد الشرع نے اعلان کر دیا تھا آج کے بعد کوئی معافی نہیں ہوگی ہر ایک مجرم کا احتساب ہوگا ہر ایک خون کے قطرے کا بدلہ لیا جائے گا اور ایسا ہی ہوا علوی اور نصیری باغی ہر جگہ مارے گئے کچھ گرفتار ہوئے کچھ بھاگ گئے اور روپوش ہو گئے اسی پر بس نہیں ہوا احمد الشرع نے دوبارہ کہا کہ جو ہتھیار ڈالے گا اسکا بھی احتساب ہوگا اور اپنے جرم کی سزا پائے گا وہ وقت ختم ہو گیا جب معاف کر دیا جاتا ہے ہم شام کو بنانے آئے ہیں جس کو تم نے تباہ کر دیا تھا اور اس کو دوبارہ کھڑا کریں گے اور ہم کسی مجرم کو نہیں بخشیں گے ۔

جب بغاوت کا سر کچلا جا چکا اور پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا تو دوسرے مرحلے کی جانب شامی مجاہدین نے قدم بڑھایا اور شام کے چپے چپے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا آبادی سے لیکر پہاڑوں تک سمندر سے لیکر جنگلات تک ہر طرف مجاہدین پھیلے ہوئے ہیں جو باغیوں کو ان کے کئے کی سزا دے رہے ہیں ۔

اسی اثنا میں شامی حکومت کو کئی مرتبہ بھڑکانے کی کوشش کی گئی اور اسرائیل کے خلاف خروج کے لئے اکسایا گیا لیکن ابھی تو شام انہی لوگوں سے الجھ رہا تھا جو اکسانے کی کوشش کر رہے تھے وہ بھول گئے تھے کہ احمد الشرع صرف ایک آدمی نہیں بلکہ ایک عظیم دماغ کا کمانڈر بھی ہے جسے داعش نے بھی ختم کرنے کی کوشش کی بشار الاسد نے بھی پنجہ آزمائی کیا اور ادلب کو تباہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ سب سے بچتا رہا اللہ اسکی حفاظت کرتا رہا آج وہ تخت دمشق پر خدا کی مدد سے بیٹھا ہوا ہے ۔

بغاوت کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کرد ملیشیا جو کبھی حیات تحریر الشام کی مخالف تھی گزشتہ رات اس نے شامی حکومت سے معاہدہ کر لیا کل تلک جو دشمن تھے وہ آج شامی حکومت میں ضم ہو گئے اور یہ فیصلہ ہوا کرد کے علاقوں میں جو ذخائر ہیں اس پر شامی حکومت کا مکمل کنٹرول ہوگا اور کرد لوگوں کو شامی حکومت میں شامل کیا جائے گا کیوں کہ کرد قوم شام کا ایک اٹوٹ حصہ ہیں ۔

جب یہ معاہدہ ہوا شام کے ہر شہر میں جشن منایا گیا کیوں کہ جو شام کبھی ٹکڑے ہونے کے دہانے پر تھا اور اس میں ایک سرخ لکیر تھی سب مٹ گئی اور پورا شام سبز ہو گیا باطل کے ارادے ناکام ہو گیے فسطائی قوتیں منھ کے بل گر گئیں ایرانی عزائم خاک میں مل گئے اسرائیلی تدبیر الٹی ہو گئی ۔

اس علان کے بعد اسرائیل حواس باختگی کا شکار ہو گیا اس نے شام کے جنوبی علاقوں میں تقریبا اٹھائیس حملے کئے اور یہ وقت اسرائیل کے لئے خطرناک بتایا ہے کیوں کہ اسے امید دی کہ وہ کردوں کو پیسوں کا لالچ دیکر شام میں خانہ جنگی کو برقرار رکھے گا اور یوں وہ اپنے آس پاس ایک اسلامی ریاست کو قائم نہیں ہونے دے گا ۔

ان سب میں سب سے اہم کردار ترکی نے ادا کیا ہے جس نے شام کے لئے اپنے ہتھیاروں کے خزانے کو کھول دیا اور اس کو مزید تقویت بخشی جنگی امداد کی اور مالی تعاون کیا الغرض جو کچھ ہو سکتا تھا ترکی نے شام کے لئے کیا اور احمد الشرع کی سیاسی تدبیر نے اس ملک کو خانہ جنگی سے بچا لیا باغیوں کو کچلے میں ایک عظیم کمانڈر کی طرح نظر آئے اور کردوں سے معاہدہ کرتے ہوئے ایک بہتریں سیاست دان نظر آئے ۔

کردوں کا شامی حکومت کے ساتھ ضم ہونا ایک خوش کن خبر ہے کیوں کہ صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کا تعلق اسی قوم سے تھا جس کو امریکہ نے پیسوں کا لالچ دیکر ترکی کے خلاف کھڑا کیا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ صلاح الدین ایوبی کی قوم اپنے گھر کو واپس آ ہی گئی اور ایسا کیوں نا ہوتا کہ یہ تو ایک عظیم کمانڈر کی قوم ہے گھر ہر کسی کو آنا ہے سو وہ آ گئے اور معافی برقرار رہا تو ان شاءاللہ اسرائیل اپنا انجام بھی دیکھے گا کیوں کہ بیت المقدس کی آزادی کا راستہ شام سے ہو کر ہی جاتا ہے ۔

شام ایک عظیم ملک کی طرف گامزن ہے دعا کریں اللہ اسکو سلامت رکھے اور شیطانوں کے شر سے اسکی حفاظت فرمائے ان شاءاللہ بیت جلد شام کے افق سے ایک نئی جماعت بیدار ہوگی جو اقصی کی آزادی کے لئے اپنی تمام تر مہارت کو صرف کرے گی کیوں کہ یہ شام ہی ہے جس سے اسرائیل خوف کھا رہا ہے جس کی وجہ سے اس نے شام کو ایک ہونے پر نشانہ بنایا تھا اس کی ناکامی کا منھ بولتا ثبوت ہے بہت جلد تمام تر برے خیالات باطل ہوں گے اسرائیلی عزائم خاک آلود ہوں گے ایرانی تدبیریں تباہ ہوں گی اور باغیوں کا صفایا مکمل ہوگا پھر ایک مسکراتا ہوا شام ہمارے درمیان ہوگا ۔


No comments:

Post a Comment