Wednesday, 5 March 2025

امریکہ کا ردعمل اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ غزہ مذاکرات مشکل ہوں گے:ابو الغیط




غزہ کی پٹی کے مستقبل کے بارے میں جاری مذاکرات کے درمیان عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط نے کہا ہے کہ غزہ کی تباہی 7 اکتوبر کی وجہ سے ہوئی۔ یہ تباہی سات اکتوبر 2023 ئ میں غزہ کے اطراف میں حماس کی طرف سے شروع کیے گئے حملے کےنتیجے میں شروع ہوئی تھی۔


"سات اکتوبر غلط راستے پر چلا گیا"

انہوں نے العربیہ/الحدث سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ مزاحمت کی کئی شکلیں ہیں مگر 7 اکتوبر کا آپریشن غلط سمت میں چلا گیا۔


انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک قابض اسرائیل تنازعے کے حل کو مسترد کرنے اور قبضے کو ختم کرنے پر م±صر کوئی بھی مزاحمت کے حق سے انکار نہیں کرسکتا۔


انہوں نے انکشاف کیا کہ غزہ کی تعمیر نو کے فنڈ کی نگرانی عالمی بینک کرے گا، لیکن امریکی ردعمل اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ مذاکرات مشکل ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاوس نے مصر کے منصوبے کو مسترد کرکے یہ تاثر دیا ہے کہ مذاکرات مشکل ہوں گے۔


ان کا خیال تھا کہ امریکہ فلسطینی سرزمین پر مزید قتل و غارت نہیں دیکھنا چاہتا اور اس کی توجہ فلسطینی اتھارٹی پر نہیں بلکہ حماس پر ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ پٹی میں غیر ملکی افواج کی موجودگی کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں ہیں۔ غزہ میں اقوام متحدہ کی افواج برسوں تک رہ سکتی ہیں۔


عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے انکشاف کیا کہ جب تک مکمل جنگ بندی نہیں ہو جاتی غزہ کی تعمیر نو شروع نہیں ہو گی۔ عرب منصوبہ نقل مکانی اور تعمیر نو کے خیال کو ایک ساتھ ختم کرنے پر مرکوز ہے۔


انہوں نے جنگ کے بعد برلن اور ٹوکیو کے تجربات سے استفادہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ انہوں نے اپنی سرزمین کیسے نہیں چھوڑی۔


خیال رہے کہ ان کا یہ بیان گذشتہ روز قاہرہ میں منعقدہ غیر معمولی عرب سربراہ اجلاس میں غزہ کے لیے مصر کے منصوبے کو منظور کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔


دوسری جانب اسرائیل نے مصری تجویز کو مسترد کردیا ہے۔ اس نے تباہ شدہ فلسطینی علاقے پر کی صورت حال کی حقیقت پر توجہ نہیں دی۔اسرائیل نے زور دیا کہ حماس غزہ میں باقی نہیں رہ سکتی۔


دوسری جانب وائٹ ہاو¿س نے مصری منصوبے کو مسترد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ پٹی میں بگڑتے ہوئے انسانی بحران کو حل نہیں کرتا۔


قابل ذکر ہے کہ گذشتہ روز عرب سربراہی اجلاس میں پیش کیے جانے والے مصری منصوبے میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے 53 ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ مصری منصوبہ پانچ سال میں مکمل ہوگا۔



No comments:

Post a Comment