تحریر : قاسم علی شاہ
میتھیو ریکارڈایک فرانسیسی مصنف اورمصورہیں۔امریکا کی ویس کانسن یونیورسٹی کے سائنسی ماہرین نے 12گھنٹوں تک ان پر تحقیق کی۔ان کے سرپر 256سے زیادہ سینسرز لگائے گئے اور یہ جان کر حیران رہ گئے کہ میتھیو کے دماغ میں گاما لہروں(خوشی والی لہر) کی تعداد روئے زمین پر موجود کسی بھی انسان کے دماغ میں موجودگاما لہروں کی تعداد سے بہت زیادہ ہے۔ اسی تحقیق کی بنیاد پر سائنسی ماہرین نے یہ اعلان کیا کہ میتھیوریکارڈ اس وقت دنیا کا سب سے خوش ترین آدمی ہے۔
میتھیوریکارڈ نے مالیکیول جینیٹک میں پی ایچ ڈی کی ہے۔52سال پہلے وہ خوشی کی تلاش میں بھارت آیا جہاں اس کی ملاقات ایک گروسے ہوئی۔ گرو نے اسے خوش رہنے کے ایسے طریقے سکھائے جنھوں نے میتھیو کی دنیا بدل کررکھ دی میتھیوریکارڈ 1991ء میں پہلی بار دکھی ہوئے جب ان کے گرو کا انتقال ہوا تھا لیکن اس کے بعدوہ کبھی غمزدہ نہیں ہوئے۔وہ کہتے ہیں کہ ہر انسان خوشی چاہتاہے لیکن وہ اسے بیرونی دنیا میں تلاش کرتاہے جو کہ بنیادی غلطی ہے۔خوشی کا تعلق بیرونی دنیا سے نہیں بلکہ اندرونی دنیاسے ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم خوش رہنا چاہتے ہیں لیکن ہمارا دماغ ہمیں خوف زدہ کرتاہے۔اگر دماغ سے خوف کی یہ چابی نکال کر پھینک دی جائے تو ہم ہمیشہ خوش رہ سکتے ہیں۔
خوشی ایسی چیز ہے جس کے لیے انسان تمام عمرمحنت کرتاہے،مشقت اٹھاتاہے،یہاں تک کہ غم بھی اس لیے برداشت کرتاہے کہ اس کے بعدخوشی ملے گی۔میں خوشی کے لفظ پر تحقیق کرتارہتاہوں،میں نے نومبر2024 میں یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس وقت تک خوشی کے موضوع پر کتنی کتابیں لکھی جاچکی ہیں تو جواب آیابائیس ہزار۔ ایک ماہ بعد دوبارہ گوگل سے یہی سوال پوچھا توجواب ا?یا، تئیس ہزار۔یہ جان کر میں حیرت زدہ رہ گیا۔ایک مہینے میں ایک ہزارکتابوں کا اضافہ ہوچکا تھا۔آپ کے ذہن میں سوال ہوگا کہ اس اضافے کاسبب کیاہے۔اس کی کئی وجوہات ہیں:
(ا) ہم جوں جوں ترقی کررہے ہیں ویسے ویسے بے سکون ہوتے جارہے ہیں۔سوشل میڈیا، تیز رفتار زندگی، بڑھتا ہوا ذہنی دباﺅ اور بے یقینی کا ماحول،وہ عوامل ہیں جنھوں نے ا?ج کے انسان کوخوشی اور سکون کامتلاشی بنادیاہے۔
(ب)عمومی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں میں (خاص طور پر مغرب میں)ذہنی صحت کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے دباﺅ،بے چینی اور تناﺅجیسے عوارض میں مبتلا لوگ خوشی کی طرف رجوع کررہے ہیں تاکہ ذہنی اطمینان حاصل کرسکیں۔
(ج)خوشی کے موضوع پر ہونے والی تحقیقات میں بھی اضافہ ہواہے۔Positive Psychology خوشی حاصل کرنے کی ترغیب دیتی ہے جس کی بنیاد پر ماہرین نفسیات اورمحققین نے خوشی کے نت نئے طریقوں پر مزید لکھنا شروع کر دیا ہے۔
(د)مغربی دنیا میں بے پناہ معاشی ترقی کے باوجود لوگوں میں اکیلاپن اور مایوسی بڑھ رہی ہے۔دولت میں اضافے کے باوجود حقیقی اطمینان حاصل نہیں ہو رہا، اس لیے لوگ خوشی کے نئے طریقے اورراستے تلاش کر رہے ہیں۔
خوشی تلاش کرنے والے رجحان کے پیچھے ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ مغرب میں خوشی کے فلسفے کو مختلف زاویوں سے دیکھا جاتا ہے۔اس میں فلسفیانہ، سائنسی اور نفسیاتی نقطہ نظر شامل ہے۔
Hedonism( لذت پسندی):
یہ نظریہ کہتا ہے کہ خوشی کا مطلب زیادہ سے زیادہ لذت اور کم سے کم درد ہے۔ ایپی کیورس (Epicurus) جیسے فلسفیوں نے اس نظریے کو فروغ دیا کہ کھانا، پینا، ا?رام اور لذت حاصل کرناہی انسان کی اصل خواہش ہے۔ جدید مغربی معاشروں میں صارفانہ تہذیب (Consumer Culture) اسی تصور کو فروغ دیتی ہے، جس میں لوگوں کو خوشی حاصل کرنے کے لیے چیزیں خریدنے اور سیر و تفریح جیسی سرگرمیوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی جاتی ہے۔
Eudaimonia( معنوی خوشی):
یونانی فلسفی ارسطو نے خوشی کو صرف لذت یا عارضی مسرت تک محدود نہیں کیا بلکہ وہ بامقصد زندگی کوہی اصل خوشی قراردیتا ہے۔ارسطو کہتاہے کہ جب انسان اپنی صلاحیتوں کو نکھارتا ہے، عمدہ اخلاق اپناتا ہے اور معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا ہے تب اسے حقیقی خوشی حاصل ہوتی ہے۔
مائنڈفلنس اور اسٹوئکزم :
مغرب میں بدھ مت کے اصولوں اور اسٹوئک فلسفے نے بھی خاصی مقبولیت حاصل کی ہے۔ مائنڈفلنس سکھاتا ہے کہ لمحہ موجود میں جینا اور غیر ضروری فکروں سے نجات حاصل کرنا خوشی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ جب کہ اسٹوئک فلسفہ کہتا ہے کہ خوشی اندرونی سکون اور جذبات پر قابو پانے سے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ بیرونی دنیا سے۔
Positive Psychology(مثبت نفسیات):
یہ مغرب میں خوشی کا جدید فلسفہ ہے۔مارٹن سیلگمین اور دیگر ماہرین نے اس بات پر تحقیق کی کہ خوشی کیسے ماپی جاسکتی ہے اور اس کی مقدا ر کیسے بڑھائی جاسکتی ہے۔یہ فلسفہ پانچ عناصر”مثبت جذبات“،”مشغولیت“،” تعلقات“، ”مقصد“، ”کامیابی“ اور”اجتماعی خوشی“پر مشتمل ہے۔
برطانوی فلسفی جیریمی بینتھم اور جان اسٹوارٹ مِل نے یہ نظریہ پیش کیا کہ خوشی کوفقط اپنی ذات تک محدودنہ رکھاجائے بلکہ اس میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کوشامل کیاجائے۔اسی بنیاد پر کہاجاسکتاہے کہ ایک اچھا معاشرہ وہی ہوگا جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو خوشی دے۔
ہمیں یہ بات یادرکھنی چاہیے کہ انسان چارچیزوں کامجموعہ ہے۔دل ، دماغ، جسم اور روح۔ خوشی کے حصول کے لیے ان چاروں کا بہتر ہونابہت ضروری ہے، اگر ایسا نہ ہوتوپھر انسان جس قدر بھی کامیابیاں پالے ، کہیں نہ کہیں وہ بے چینی کا شکار رہے گا۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ ان چاروں کو بہتر اور صحت مند کیسے بنایاجاسکتاہے۔
دل:
دل صرف ایک جسمانی عضو ہی نہیں بلکہ جذبات اور احساسات کا مرکز بھی ہے۔ خوشی اور سکون کے لیے دل کی صحت کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے کیونکہ یہی وہ عضو ہے جو محبت، تعلقات، رحم دلی اور اطمینان سے جڑا ہے۔ اگرانسان جسمانی یا جذباتی طوربیمار ہو تو اس کی زندگی میں بے سکونی بڑھ جاتی ہے۔
جذباتی صحت کوبہتر بنانے کے لیے تجاویز:
مثبت تعلقات: خوش گوار اور سچے تعلقات جذباتی صحت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ہمیشہ منفی اور زہریلے رشتوں سے بچیں۔
معافی اور درگزر: غصہ اور کینہ دل کی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ دوسروں کو معاف کرنے کی عادت ڈالیں تاکہ ا?پ کو سکون حاصل ہو۔
محبت اور ہمدردی: دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ رکھیں۔ سخاوت اوراپنی نعمتوں کوبانٹنا دل کو خوشی اور سکون دیتا ہے۔
عبادت: ذکر، دعا اور عبادات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ دل جب اللہ سے جڑتاہے تو اسے حقیقی سکون ملتاہے۔
دماغ (ذہن):
دماغ انسانی سوچ، یادداشت، تخلیقی صلاحیتوں اور فیصلہ سازی کا مرکز ہے۔ اگر دماغ صحت مند ہو تو زندگی کے ہر پہلو میں بہتری آتی ہے اور اگر ذہنی صحت خراب ہو جائے تو زندگی الجھنوں اور پریشانیوں کا شکار ہو جاتی ہے۔
ذہنی صحت کوبہتر بنانے کے لیے تجاویز:
شکر گزاری:
خدا نے آپ کو جو کچھ دیا ہے اس پر شکرادا کریں۔شکرگزاری ذہن کو مثبت بناتی ہے جس کی بدولت انسان بہت سی غیر ضروری سوچوں سے محفوظ ہوجاتاہے۔
مثبت خیالات:
منفی حالات میں بھی مثبت پہلو ڈھونڈیں اورمنفی چیزوں سے بچنے کی کوشش کریں۔
تخلیقی سرگرمیاں:
مصوری، تحریر، موسیقی یا کوئی اور تخلیقی کام دماغی صحت کے لیے بہترین ہے اس کی بدولت صلاحیتیں بڑھ جاتی ہیں۔
جسم:
جسم صحت مند ہو توہم روزمرہ کے کام کرسکتے ہیں اور چیزوں کوموثرانداز میں پایہ تکمیل تک پہنچاسکتے ہیں۔ اگر جسمانی صحت خراب ہو جائے تویہ چیز ذہنی اور روحانی صحت پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔
جسمانی صحت بہتر بنانے کے لیے تجاویز:
خوراک:
پروٹین، فائبر، وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور غذا کھائیں۔ جنک فوڈ، سافٹ ڈرنکس اور فاسٹ فوڈ سے پرہیز کریں۔
ورزش:
روزانہ کم از کم آدھاگھنٹہ ورزش کریں۔یوگا، چہل قدمی اور کسرت جسم کو متحرک رکھتی ہے۔
پانی کا استعمال:
دن میں زیادہ پانی پینے اورحرکت کرنے کی کوشش کریں۔
نیند اور آرام:
مسلسل کام کرتے رہنے سے جسمانی تھکن بڑھتی ہے، اس لیے نیند اور آرام کو بھی اہمیت دیں۔
زہریلے مادوں سے پرہیز:
سگریٹ نوشی اور دیگر لت دلانے والی چیزیں جسمانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں،ان سے بچنے کی کوشش کریں۔
فطرت کی قربت:
تازہ ہوا اورقدرتی ماحول میں وقت گزارنااور دھوپ لینا جسمانی صحت کے لیے دواجیساکام کرتاہے۔
جسمانی حد کوپار نہ کریں:
بہت زیادہ محنت کرکے جسم پر بوجھ نہ ڈالیں۔ ہمیشہ توازن کے راستے پر چلیں۔
روح:
روح انسان کی اصل پہچان ہے۔جسم سے روح نکل جائے توانسان ایک لمحے میں زندہ سے مردہ بن جاتاہے۔پرسکون زندگی کے لیے روحانی صحت بہت ضروری ہے، روحانی کمزوری انسان کو بے چینی اور اضطراب میں مبتلاکردیتی ہے۔
روحانی صحت بہتر کرنے کے لیے تجاویز:
عبادات اور دعا:
نماز، روزہ، ذکر اور دعا مانگنا روح کو پاکیزہ رکھتا ہے اور اندرونی سکون دیتا ہے۔
سچائی اور دیانت داری:
جھوٹ، فریب اور دھوکا دہی سے بچیں، کیونکہ یہ چیزیں روح کو کمزور کر دیتی ہیں۔
سادگی:
کم چیزوں میں خوش رہنا اور غیر ضروری خواہشات کو کم کرنا روحانی طاقت کو بڑھاتا ہے۔
خدمتِ خلق:
دوسروں کی مدد کرنا، یتیموں، بیواﺅں اور محتاجوں کی مدد کرنا روح کو سکون دیتا ہے۔
تنہائی میں غور و فکر:
روزانہ کچھ وقت خاموشی میں گزاریں، اپنی زندگی کے مقصد پر غور کریں اور اپنے اعمال کا جائزہ لیں۔
معاف کرنا:
دوسروں کو معاف کرنا روح کو ہلکا کر دیتا ہے اور ذہنی بوجھ کم ہوتا ہے۔
آج کازمانہ تیز رفتار ہوچکا ہے، ہر شخص فوری نتائج چاہتاہے۔جب فرد بے چینی کاشکارہوتاہے تووہ فوری طورپر اسے ختم کرنے کی کوشش کرتاہے اور لذت کے لیے مختلف سرگرمیاں اپناتاہے لیکن یادرکھیں کہ لذت دائمی چیز نہیں بلکہ عارضی ہے۔بعض اوقات انسان لذت حاصل کرنے کے لیے ایسے طریقے اپناتاہے جوبعد میں پچھتاوا بن جاتے ہیں۔اصل چیز خوشی ہے جس کا اثرگہرا ہوتاہے، جب کہ دین نے ہمیں سکون اوراطمینان حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے جوخوشی سے بھی زیادہ مضبوط چیز ہے۔
جس شخص کو اطمینان مل جائے اس کا چہرہ کھلارہتاہے۔کیوں کہ وہ مخلوق کی خدمت کی بدولت خداکو راضی کرلیتاہے توخدا بھی اس کی آخرت بہتر بنادیتاہے۔یہ چیزاسے پرسکون بنادیتی ہے اور اس امید کی وجہ سے اس کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے۔اطمینان کی دوسری نشانی برداشت ہے۔ایسا شخص بدترین حالات میں بھی شکوہ نہیں کرتا،وہ صبر سے کام لیتاہے اور یہ چیز اس کے سکون میں مزید اضافہ کردیتی ہے۔
دلی طورپر مطمئن شخص کو ماضی پر پچھتاوا نہیں ہوتااور نہ ہی وہ مستقبل کے اندیشوں میں مبتلا ہوتاہے۔یہی اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
No comments:
Post a Comment