گاندھی میدان آج ایک تاریخی منظر کا شاہد بنا، جب “جن سوراج” کی بہار بدلاؤ ریلی میں لاکھوں افراد کا سمندر امڈ آیا۔ پرشانت کشور کی قیادت میں منعقد اس عظیم اجتماع کو بہار کی سیاست میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ جمِ غفیر اس بات کی دلیل ہے کہ بہار کی عوام اب بیروزگاری، ہجرت، اور ذات پر مبنی سیاست سے تنگ آ کر حقیقی تبدیلی کی تلاش میں ہے۔ پرشانت کشور نے جوش و جذبے سے لبریز عوام سے خطاب کرتے ہوئے تعلیم، روزگار، اور شمولیتی طرزِ حکمرانی پر مبنی نئے بہار کے قیام کا عزم ظاہر کیا۔ میدان میں ہر طرف ولولہ انگیز نعرے گونج رہے تھے، اور بینروں کے سائے میں ایک نئے دور کے آغاز کی بازگشت سنائی دے رہی تھی۔ یہ صرف ایک ریلی نہیں، یہ بہار کی بیداری ہے،” کشور نے اعلان کیا، اور نوجوانوں و مایوس ووٹرز سے اپیل کی کہ وہ اس تحریک کا حصہ بنیں۔ تاہم، یہ ریلی تنازعات سے خالی نہیں رہی۔ اطلاعات کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے ریلی میں لوگوں کی شرکت کو روکنے کی کوششیں کی گئیں — کئی سڑکیں بند کر دی گئیں اور لاکھوں افراد کو پٹنہ پہنچنے سے روکا گیا۔ مگر ان رکاوٹوں کے باوجود، ریلی میں شریک عوام نے یہ پیغام دے دیا کہ اب انہیں نہ دبایا جا سکتا ہے، نہ روکا جا سکتا ہے۔ اگر تم ہمیں روکنے کی کوشش کرو گے، تو ہم اور مضبوط ہو کر لوٹیں گے،” یہ جذبہ ہر چہرے پر نمایاں تھا — ایک ایسی للکار جو اقتدار کے ایوانوں میں خطرے کی گھنٹی بن سکتی ہے۔ یہ ریلی بہار کی سیاست میں زلزلہ لے آئی ہے۔ “جن سوراج” اب نومبر 2025 کے اسمبلی انتخابات میں ایک سنجیدہ اور مضبوط متبادل کے طور پر ابھرتا دکھ رہا ہے۔ آر جے ڈی اور جے ڈی (یو) جیسی بڑی جماعتیں اس عوامی لہر کے بعد ششدر ہیں، اور پوری توجہ کے ساتھ حالات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ پٹنہ کی فضا میں اب تبدیلی کی خوشبو ہے، اور ایک بات طے ہے - 11 اپریل 2025 کا دن بہار کی تاریخ میں اس دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، جب اس ریاست نے بڑے خواب دیکھنے کی ہمت کی۔ یہ انقلاب کی ابتدا ہے یا ایک لمحاتی اُمید اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔

No comments:
Post a Comment