Thursday, 3 April 2025

ملی صفوں میں اتحاد ،اور مفاد پرست سیاسی لیڈران کے مستقل بائیکاٹ کی اپیل:شکیل اشرف

 





سنگھوارہ دربھنگہ (ایس ایم ضیاء)یہ اپیل ایک انتہائی 

سنجیدہ اور نازک مسئلے پر مسلم کمیونٹی کو متحد و متحرک کرنے کی کوشش ہے۔ وقف بل کی حمایت کرنے والے رہنماؤں کے بائیکاٹ کا مطالبہ دراصل ایک بڑے اصولی مؤقف کی نمائندگی کرتا ہے، جو درج ذیل نکات پر مبنی ہے: مذکورہ باتیں شکیل اشرفی ابو ظہبی نے پریس بیان بھیج کر کہی انھوں نے کہا کہ مسلم رہنماؤں کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنی کمیونٹی کے مفادات، حقوق، اور وقار کا دفاع کریں۔ وقف املاک کا مسئلہ نہ صرف ایک مالیاتی یا قانونی معاملہ ہے بلکہ یہ مسلم وراثت، مذہبی خودمختاری، اور سماجی فلاح و بہبود سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جو رہنما اس بل کی حمایت کرتے ہیں، وہ دراصل ان حقوق کی کمزوری کا سبب بن رہے ہیں، اور اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اجتماعی اثاثے اور ان کی خودمختاری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اسی لئے ایسے سیاسی لیڈران و سیاسی پارٹیوں کا بیکاٹ ہونا چاہیے 

 شکیل اشرفی نے مزید کہا کہ یہ بائیکاٹ کسی ذاتی عناد یا سیاسی رقابت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک اصولی موقف پر ہے۔ اس کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ مسلم کمیونٹی کو سیاسی طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور ان کی حمایت کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔ سیاسی رہنماؤں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے فیصلے عوام کی نظروں میں ہیں اور وہ ان کے ہر اقدام پر جوابدہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ وقت ایسا وقت ہے کہ مسلم کمیونٹی اپنی قیادت پر دوبارہ غور کرے۔ قیادت وہی مستحق ہے جو واقعی کمیونٹی کے مفادات کی نمائندگی کرے، نا کہ وہ جو صرف اپنی پارٹی کے احکامات پر عمل کرے یا وقتی سیاسی فوائد کے لئے فیصلے کرے۔ یہ بائیکاٹ ایک تحریک کا آغاز ہے تاکہ مسلم عوام ایسی قیادت کو مسترد کریں جو ان کے بنیادی حقوق کا دفاع کرنے میں ناکام ر ہے۔ انھوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 

یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنی سیاسی بصیرت کو مزید مضبوط کرنا ہوگا اور ایک اجتماعی شعور پیدا کرنا ہوگا تاکہ وہ اپنی بقا، اپنی جائیدادوں، اور اپنے مذہبی و سماجی تشخص کے دفاع کے لئے صحیح راستہ اختیار کرسکیں۔ یہ وقت مسلمانوں کو متحد ہو کر صرف ان افراد اور جماعتوں کی حمایت کرنے کا ہے جو عملی طور پر مسلمانوں کے مفادات کے لئے کام کر رہے ہیں۔

بائیکاٹ محض ایک علامتی قدم نہیں بلکہ ایک عملی حکمت عملی ہے۔ کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ نہ صرف غفلت برتنے والے رہنماؤں کو مسترد کرے بلکہ ایسے متبادل نمائندے سامنے لائے جو واقعتاً وقف املاک، مسلمانوں کے سیاسی حقوق اور سماجی استحکام کے لئے کام کرنے کے عزم کا مظاہرہ کریں۔ یہ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ اگر آج مسلم کمیونٹی اپنی قیادت کو جوابدہ نہیں بنائے گی، تو مستقبل میں اس سے بھی زیادہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا، یہ بائیکاٹ صرف ایک وقتی ردعمل نہیں بلکہ ایک طویل مدتی حکمت عملی ہونی چاہیے جو مسلمانوں کی اجتماعی طاقت اور سیاسی بصیرت کو مضبوط کرے

No comments:

Post a Comment