پٹنہ، 11 فروری :پٹنہ ہائی کورٹ نے ریاست میں بڑھتی ہوئی صوتی آلودگی پر سخت رویہ اپناتے ہوئے بہار حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جسٹس راجیو رائے نے سورندر پرساد کی دائر کردہ درخواست پر سماعت کے دوران کہا کہ ریاست کے باشندے مسلسل مختلف قسم کی آلودگیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
عدالت نے دارالحکومت پٹنہ میں صوتی آلودگی پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اسی سلسلے میں عدالت نے سینئر وکیل اجے کو امیکس کیوری (عدالتی معاون) مقرر کیا تاکہ وہ عدالت کی بہتر معاونت کر سکیں۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ آرکسٹرا، ڈی جے ٹرالی اور ثقافتی پروگرام کرنے والے افراد اس بات کو مکمل طور پر بھول چکے ہیں کہ وہ کس حد تک صوتی آلودگی پھیلا رہے ہیں۔
سینئر وکیل اجے نے عدالت کو مزید بتایا کہ صوتی آلودگی کو قابو میں رکھنے کے لیے جو قوانین بنائے گئے ہیں، ان میں اس کے خلاف پابندیوں کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، لاوڈ اسپیکر استعمال کرنے کے لیے باقاعدہ اجازت لینا ضروری ہے، اور خلاف ورزی کی صورت میں لاوڈ اسپیکر ضبط بھی کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن اب لاوڈ اسپیکر کی جگہ ڈی جے سسٹمز نے لے لی ہے، جس سے صوتی آلودگی مزید خطرناک ہوگئی ہے۔
اجے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اب ایک ٹرالی میں کئی اسپیکر نصب کیے جاتے ہیں، جو شہر کے مختلف راستوں، اسپتالوں اور دیگر حساس علاقوں سے گزرتے ہیں۔ ان اسپیکرز سے نکلنے والی آواز کی شدت مقررہ حد سے ہزار گنا زیادہ ہوتی ہے، جس سے نہ صرف دل کے مریض اور بزرگ شہری متاثر ہو رہے ہیں بلکہ کچھ معاملات میں حاملہ خواتین کے اسقاطِ حمل کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
عدالت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کہا کہ بہار میں پولوشن کنٹرول بورڈ کی تشکیل کی گئی ہے، اور صوتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اس سے باقاعدہ اجازت لینا لازمی ہے۔
No comments:
Post a Comment