لندن - ایجنسیاں
برطانیہ میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن بندر نے ریاض کے اس مو¿قف کی تصدیق کی ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے دو ریاستی حل ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔
ایم ای این اے (شرقِ اوسط و شمالی افریقہ) میں قائم تھنک ٹینک ایس آر ایم جی تھنک کی میزبانی میں عرب نیوز کے ایڈیٹر انچیف فیصل عباس کے ساتھ جمعہ کو ایک پینل ڈسکشن منقعد ہوئی جس میں بات کرتے ہوئے سفیر نے واضح کیا کہ مملکت یک ریاستی حل کے کسی بھی تصور کو مسترد کرتی ہے۔
انہوں نے کہا، "ابھی گفتگو ہو رہی ہے اور عرب سربراہی اجلاس میں معاہدہ ہو جائے گا۔ میرے لئے اس کے بارے میں بات کرنا تھوڑا قبل از وقت ہے لیکن میں آپ کو یہ بتا دوں کہ یقیناً ہمارے سامنے کچھ بھی قابلِ پیش گوئی نہیں۔ فوری طور پر کوئی ایک ریاستی حل نہیں ہے۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہم غزہ کے لوگوں کی نقلِ مکانی کو خوشحالی کے حصول کے لیے ایک قابلِ عمل طریقہ نہیں سمجھتے۔"
ان کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب خلیج تعاون کونسل (جی سی سی)، اردن اور مصر کے رہنماو¿ں نے چار مارچ کو قاہرہ میں ہونے والی ہنگامی عرب سربراہی کانفرنس سے قبل ریاض میں ملاقات کی۔ یہ اجلاس فلسطین کی حمایت میں مربوط کوششوں، غزہ کے معاملے میں پیشرفت اور وسیع تر علاقائی مسائل پر مرکوز ہیں۔
عرب لیگ کا اجلاس بڑی حد تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واشنگٹن کے غزہ پر "قبضے"، اس کے رہائشیوں کو بے گھر اور انکلیو کو "شرقِ اوسط کی ساحلی تفریح گاہ" میں تبدیل کرنے کی تجویز کے جواب میں ہے - جس کی عرب رہنماو¿ں نے وسیع پیمانے پر مذمت کی ہے۔ توقع ہے کہ وہ قاہرہ میں باضابطہ ردِ عمل پیش کریں گے۔
شہزادہ خالد نے کہا، "مجھے ایک حل تلاش کرنے کے لیے امید کی کرن نظر آتی ہے کیونکہ بہت حد تک دنیا کا تقریباً ہر ملک اسی نکتے پر پہنچ گیا ہے جس کی امن کے لیے ضرورت ہے۔" تاہم انہوں نے ایک اہم رکاوٹ کی طرف اشارہ کیا: اسرائیل کی مشغولیت کا فقدان۔
سفیر نے کہا، "پہلی بار بہت واضح طور پر ہمارا سب سے بڑا مسئلہ اسرائیل سے نمٹنا ہے۔ تل ابیب کی حکومت کے پاس لگتا ہے کوئی حل نہیں ہے اور جو حل اس اسرائیلی حکومت کے سب سے زیادہ صاف گو اراکین پیش کرتے ہیں وہ حل نہیں ہیں۔"
انہوں نے بات جاری رکھی: "ایک دو دن دیں اور مزید باتیں سامنے آ جائیں گی۔ میں آپ کو اس بات کی ضمانت دے سکتا ہوں کہ مجموعی طور پر ہم دو ریاستی حل یعنی فلسطین کی حکومت پر متفق ہیں اور پھر ہم ہر چیز پر بات کر سکتے ہیں لیکن باقی سب کچھ اس کے بغیر نہیں ہو گا۔"
عرب ریاستیں غزہ میں ہونے والی تباہی کی مذمت کرنے اور فوری امن مذاکرات کا مطالبہ کرنے کے لیے متحد ہو گئی ہیں۔ تاہم شہزادہ خالد نے کہا کہ انہوں نے گذشتہ ماہ کے دوران نکت? نظر میں ایک قابلِ ذکر تبدیلی دیکھی ہے۔
سفیر نے کہا، "(امریکی) انتظامیہ کے آخری 30 دنوں سے ایسا لگتا ہے جیسے 10 سال ہو گئے ہیں۔ بہت کم وقت میں بہت کچھ ہوا ہے۔ ٹرمپ کی دفتر میں واپسی کے بعد سے خطے اور اس سے آگے کی مصروفیات "ناقابلِ یقین رہی ہیں۔ چیزیں بدل گئی ہیں۔ لوگوں نے ایکشن لینا اور بیٹھ کر انتظار کرنے کے بجائے خود کو مشغول کرنا شروع کر دیا ہے۔"
انہوں نے کہا، "(ریاض میں جمعہ کا اجلاس) اور قاہرہ میں سربراہی اجلاس بہت اچھی مثالیں ہیں۔ دنیا کے ہمارے والے حصے میں جو کچھ ہو رہا ہے، ہم نے اس کی ذمہ داری خود لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم اپنا حل تلاش کرنے جا رہے ہیں اور ہم اسے دنیا تک لے جائیں گے۔ اور میرا گمان یہ ہے کہ دنیا کے ہمارا ساتھ دینے کی امید ہے۔ اس نے یقیناً عرب ممالک کو اس طرح مجتمع کیا ہے جس کا میں نے ا±س وقت اندازہ نہیں لگایا تھا۔"
گفتگو کے دوران شہزادہ خالد نے علاقائی طاقتوں بشمول شام، ایران اور ترکی کے ساتھ سعودی عرب کے بدلتے ہوئے تعلقات پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دمشق اور اس کی نئی حکومت کے ساتھ تعلقات بہتر ہو رہے ہیں لیکن ریاض بدستور "محتاط" ہے۔
شہزادہ خالد نے کہا، "نئی حکومت کے ساتھ ہماری مشغولیت ناقابلِ یقین حد تک مثبت رہی ہے۔ تو کیا ہم محتاط ہیں؟ یقیناً، ہم محتاط رہیں گے۔ محتاط رہنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا، دونوں ممالک کے درمیان اعتماد ایک اہم چیلنج ہے خاص طور پر جب شام ایک "تکلیف آمیز" دور سے نکل رہا ہے۔
شہزادہ خالد نے کہا، "ہمیں دونوں طرف سے اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت ہے لیکن شام کے ساتھ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت نے ہم سے بات چیت کرنے کی کوشش کی ہے اور ہم اس سے انکار نہیں کریں گے۔" انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شام کو "بہت زیادہ مدد کی ضرورت ہے۔"
شہزادہ خالد نے شام کی سفارتی رسائی کو سعودی عرب اور ترکی کے درمیان "واقعی مثبت" پیش رفت قرار دیا۔
شہزادہ خالد نے امریکہ اور روس کے حالیہ مذاکرات سے بھی خطاب کیا جو اس ہفتے ریاض میں منعقد ہوئے تھے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب کا کردار مذاکرات کے لیے ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا، "ہمارے روس کے ساتھ مکمل اچھے تعلقات ہیں اور امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ ہماری پالیسی ہمیشہ ہر کسی سے بات کرنے کی ہے۔ یہ ہمیشہ ممکن نہیں ہے لیکن ہم مسلسل کوشش کرتے ہیں۔ اور مجھے لگتا ہے کہ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ دونوں ممالک نے بات کرنے میں آسانی محسوس کی۔"
مذاکرات میں کئیف کی نمائندگی کیوں نہیں کی گئی، اس سوال پر شہزادہ خالد نے کہا: "یہ ایک عمل کا آغاز ہے۔ یہ ایک ایسا عنصر ہے جس کے لیے کئی اجلاسوں اور کئی معاہدوں بشمول یوکرین کی ضرورت ہو گی۔ میز پر ایک شخص کے بغیر آپ دو لوگوں کے درمیان صلح نہیں کروا سکتے۔"
No comments:
Post a Comment