Tuesday, 11 February 2025

فوجی آپشن میز پر ہے: حماس کا ٹرمپ کو جواب

 













لبنان میں حماس کے میڈیا آفس کے انچارج، محمود طحہ نے تحریک حماس کی طرف سے ٹرمپ کے منصوبے کو دوٹوک طور پر مسترد کرنے کی تصدیق کی او ر اس کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجی آپشن کی طرف اشارہ کیا۔


انہوں نے روسی "سپوتنک" ایجنسی کو بتایا کہ اس منصوبے کو فلسطینی عوام، یا عرب ممالک اور یورپی ممالک کی طرف سے کوئی قبولیت حاصل نہیں ہے جنہوں نے اسے مسترد کر دیا ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ حماس ان منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے فوجی آپشن کا اعلان کرتی ہے اور "اس سلسلے میں تمام آپشن کھلے ہیں۔"


انہوں نے اسرائیلی حکومت پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے کام کر رہی ہے کیونکہ یہ خیموں اور پہلے سے تیار شدہ مکانات کے داخلے کو روک رہی ہے حالانکہ ان چیزوں کو لانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ منصوبہ حماس اور فلسطینی عوام پر دباو¿ کے تناظر میں آیا ہے کہ وہ ا±ن اسرائیلی منصوبوں کے آگے سر تسلیم خم کر دیں جن کا مقصد انہیں اپنی سرزمین سے بے
گھر کرنا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ٹرمپ کے منصوبے سے ملتا جلتا کوئی بھی منصوبہ اپنے سے پہلے کے منصوبوں کی طرح ناکامی سے دوچار ہو گا۔


قبل ازیں حماس کے سیاسی بیورو کے ایک رکن عزت الرشق نے کہا تھا کہ فلسطینی ان تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیں گے جن کا مقصد انہیں بے گھر کرنا ہے۔ انہوں نے جاری کردہ ایک بیان میں مزید کہا کہ غزہ کوئی ایسی جائیداد نہیں ہے جسے خریدا اور بیچا جا سکے، بلکہ یہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے غزہ کی خریداری اور ملکیت کے بارے میں ٹرمپ کے بیانات کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ ٹرمپ کے بیانات فلسطین اور خطے کے بارے میں ان کی گہری جہالت کی عکاسی کرتے ہیں۔


یاد رہے 20 جنوری کو عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ٹرمپ نے غزہ کا کنٹرول سنبھالنے اور بڑے پیمانے پر تعمیر نو کی کوششوں میں شامل ہونے کا خیال پیش کیا تھا۔ پھر اس نے اسی خیال کو کئی بار دہرایا۔ مصر اور اردن کی قیادت میں غزہ کے باشندوں کی بار بار کی مخالفت کے باوجود ٹرمپ غزہ کے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے پر اصرار کر رہے ہیں۔





No comments:

Post a Comment