اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل و امریکہ ایرانی جوہری پروگرام کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ اتوار کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ملاقات کے بعد انہوں نے کہا 'ایرانی جوہری پروگرام اور مشرق وسطیٰ میں ایرانی جارحیت کو ناکام بنانے کے لیے امریکہ و اسرائیل پرعزم ہیں۔'
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی یہ ملاقات یروشلم میں ہوئی۔ نیتن یاہو نے کہا 'ملاقات میں نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے۔ ایران سے زیادہ کوئی اہم نہیں ہے۔'
نیتن یاہو نے مزید کہا 'ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے اسرائیل و امریکہ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ ہم نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونا چاہیے۔ نیز اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ خطے میں ایرانی جارحیت کو روکا جانا چاہیے۔'
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا 'دہشت گرد گروپ، تشدد کی کارروائیاں اور خطے میں عدم استحکام خطے کے رہنے والے لاکھوں لوگوں کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔'
نیتن یاہو نے مزید کہا 'صدر ٹرمپ کی حمایت سے ہم اس کام کو ختم کر سکتے ہیں اور کریں گے۔'
انہوں نے کہا اسرائیل نے جنوبی لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو کمزور کر دیا ہے اور شام میں بھی سینکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
نیتن یاہو نے کہا اگر کوئی دوسرا گروہ یہ سمجھتا ہے کہ شام کو اسرائیل کے خلاف استعمال کر سکے گا تو وہ سخت غلطی پر ہے۔
اس موقع پر نیتن یاہو نے غزہ کے لیے اسرائیلی پالیسی پر امریکی حمایت کے لیے وزیر خارجہ مارکو روبیو کا شکریہ ادا کیا اور کہا 'ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں اسرائیل نے حکمت عملی بنائی ہے۔'
انہوں نے مزید کہا 'میں ہر اس شخص کو جو ہمیں سن رہا ہے یقین دلانا چاہتا ہوں کہ صدر ٹرمپ اور ہمارے درمیان مکمل تعاون و ہم آہنگی ہے اور ہم مل کر کام کر رہے ہیں۔'
امریکی وزیر خارجہ نے کہا 'حماس حکومتی یا فوجی طاقت کے طور پر نہیں رہ سکتی۔ ایسی کوئی بھی طاقت جو حکومتی نظم و نسق کے ذریعے یا طاقت کے استعمال کے ساتھ ہو اس کے ہوتے ہوئے امن ممکن نہیں ہوتا۔'
No comments:
Post a Comment