دربھنگہ:- عبید الرحمن صاحب کو جن سوراج پارٹی اوورسیز کے کوآرڈینیٹر کے طور پر نامزد کرکے ڈائریکٹر پرشانت کشور سر اور ریاستی صدر منوج بھارتی جی نے ریاست ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ملک میں رہنے والے ہندوستانیوں کو یہ پیغام دینے کا کام کیا ہے کہ اگر آپ تعلیم کے لیے جدوجہد کرتے رہیں تو سماج سے اندھیرے کو ہٹا کر روشنی پھیلا سکتے ہیں۔
عبید الرحمن جس طرح سپر 30 کے سروے سروا آنند کمار کے ساتھ مل کر رحمان 30 کے تحت لڑکوں اور لڑکیوں کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں، یہ کام بہار کی پسماندہ ریاست کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ جہاں عبید الرحمان بہار میں تعلیم کے لیے جانے جاتے ہیں، وہیں وہ بہار فاو¿نڈیشن ریاض چیپٹر (سعودی عرب) میں بیرون ملک بھی کافی مقبول ہیں۔ اسی لیے ان سے متاثر ہو کر انہیں جن سوراج پارٹی اوورسیز کا کوآرڈینیٹر بنایا گیا ہے۔ میں انہیں نامزد کرنے پر پرشانت سر اور منوج سر کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور عبید الرحمن صاحب کو مبارکباد دیتا ہوں اور ان سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ پارٹی کو وسعت دینے اور تنظیم کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ وہ بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کی ضروریات اور مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی کام کریں گے۔ ایڈووکیٹ شاہد اطہر نے کہا کہ عبیدالرحمن صاحب کا نام بہار اور ہندوستان کے تعلیمی میدان میں ایک خاص شناخت رکھتا ہے۔ انہوں نے معاشرے کے معاشی طور پر کمزور اور پسماندہ طبقات کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دینے کے لیے بہت سے نمایاں کام کیے ہیں۔ ان کا مقصد پسماندہ بچوں کو ممتاز ( آئی آئی ٹی) اداروں اور دیگر مسابقتی امتحانات کے لیے تربیت دینا ہے۔
پرشانت کشور نے بہار کو بہتر سمت اور قیادت دینے کے مقصد سے جن سوراج پارٹی کی بنیاد رکھی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 32 سالوں میں بہار کی ترقی کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ آج بھی تعلیم، صحت، روزگار جیسے مسائل جوں کے توں ہیں۔ ریاستی مہم کمیٹی کے رکن شمشاد نور نے کہا کہ عبید الرحمن صاحب کو جن سوراج اوورسیز کا کوآرڈینیٹر بنانے سے پارٹی کو ایک نئی توانائی اور سمت ملے گی۔ بیرون ملک میں ان کا 20 سال کا تجربہ اور وہاں بہار فاو¿نڈیشن کے چیئرمین کے طور پر ان کی ساکھ پارٹی کے لیے ایک مضبوط ستون ثابت ہوگی۔ ریاستی ورکنگ کمیٹی کے رکن شمشاد ناجمی عرف شمسی نے کہا کہ ان کے تجربے سے جن سوراج پارٹی کے مشن کو تقویت ملے گی اور عالمی سطح پر پارٹی کی حمایت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ عبیدالرحمن صاحب نہ صرف ایک بااثر سماجی کارکن ہیں بلکہ ایک ترقی پسند مفکر بھی ہیں۔ اس کا مقصد معاشرے میں تعلیم کے بارے میں بیداری پھیلا کر مثبت تبدیلی لانا ہے۔
عبید صاحب کو مبارکباد دیتے ہوئے خاتون رہنما آمنہ شفیع نے کہا کہ بہار کے عوام ایک طویل عرصے سے ایک نئی قیادت اور نئی سمت کی تلاش میں تھے۔ پرشانت کشور کی قیادت میں پارٹی مضبوط ہوئی اور عبیدالرحمن صاحب، شکیل اشرفی صاحب، ڈاکٹر نیلوفر میڈم اور دیگر شخصیات کی شمولیت سے لوگوں میں نئی امیدیں جگائی ہیں- عبیدالرحمن صاحب کو جن سوراج اوورسیز کا کوآرڈینیٹر بننے پر ان کے حامیوں اور پارٹی کارکنوں نے تہہ دل سے مبارکباد پیش کی۔ آمنہ شفیع نے کہی کے امید ہے کہ ان کا تجربہ اور قیادت بہار کی ترقی کے لیے سنگ میل ثابت ہوگی۔ عبیدالرحمن صاحب کو مبارکباد دینے والوں میں عامر حیدر، بلٹو ساہنی، شعیب خان، عاقب نذر، ڈاکٹر اقبال حسن ریشو، نرمل مشرا، ارونیش چندر، شوکت علی، علی اکبر، ذاکر علی، پرتیبھا جھا، سریندر سنگھ، فیض احمد ، کریم خان کے علاوہ بڑی تعداد میں جن سوراج پارٹی سے تعلق رکھنے والے سماج کے تمام طبقوں سے شامل ہیں۔

No comments:
Post a Comment