Monday, 10 February 2025

ورلڈ یونانی ڈے کے تناظر میں بہار کا یونانی طب

 





حکیم محمد شفاعت کریم

جنرل سکریٹری، ایسو سی ایشن آف یونانی فزیشین، بہار

9852560980

طب یونانی زمانہ قدیم سے نہ صرف رائج ہے بلکہ صدیوں سے اسے فن کی حیثیت سے پڑھا اور پڑھایا جاتا رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے آیوش کے جھنڈے تلے مختلف طریقہ علاج کو یکجا کر دیا اور اس کے لئے علیحدہ محکمہ کی تشکیل کر دی جو کہ تاریخی عمل ہے اور اس کے لئے موجودہ حکومت مبارکباد کی مستحق ہیں۔ محکمہ آیوش کی تشکیل کے بعد سے ہی آیورویدا  روز بروز ترقی کر رہی ہے اس کے ساتھ ہی یونانی طریقہ علاج کی ترقی کا راہ بھی ہموار ہو رہا ہے۔ 

ہندوستان میں انگریزی حکومت کے مسلط ہونے تک عوام کے علاج و معالجہ کے لئے حکیم اور وید ہی پر منحصر تھے۔ انگریزی دور میں بھی حکیموں اور ویدوں نے اپنی خدمت جاری رکھی۔ انگریزوں نے ان طریقہ علاج کو فرسودہ قرار دینے لئے قانون بنانے کی کوششیں کی جس کے خلاف حکیم اجمل خاں نے ہندوستان میں گھوم گھوم کر ویدوں اور حکیموں کو یکجا کیا، مقدمہ لڑے اور انہیں اس قانون کو واپس لینے پر مجبور کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ طب یونانی یا آیوروید غیر سائنٹیفک نہیں ہے۔ اسی مہم کے تحت انہوں نے آیورویدک اینڈ یونانی طبیہ کالج قرولباغ کی داغ بیل ڈالی اور اسی کڑی میں بہار میں پٹنہ کا طبی کالج بھی وجود میں آیا۔ ہمیں اس بات سے قطعی انکار نہیں ہے کہ ہمارے پْرکھے حکیم اور ویدوں سے ہی خدمت لے کر خود کو صحتیاب کرتے رہے ہیں۔انہیں حکیم اجمل خاں کی یوم پیدائش کے موقع پر 2017 سے ہر سال 11 فروری کو  ورلڈ یونانی منایا جاتا ہے۔ 

انگریزوں نے 1947 میں ہندوستان چھوڑ دیا لیکن انگریزی طرز علاج نے ہندوستان میں اپنی مضبوط پیٹھ بنا لی۔ اس بات سے انکار نہیں کہ انگریزی علاج و معالجہ نہ صرف سائنٹیفک ہے  بلکہ عوام میں مقبول ہے۔ لیکن اس سے ایک بڑا نقصان جو ہوا ہے وہ یہ کہ انگریزی طب کی وجہ سے ہندوستانی طب کو خاطر خواہ فروغ نہ مل سکا۔ جس طرح سے انگریزی ادب کو ہندی اور اردو پر ترجیح دی جاتی رہی اور آج انگریزی ایک ضروری زبان بن چکی ہے  اور اردو ہندی میں لکھی گئی کتابیں اور رسالے کمتر درجے کی گردانی جانے لگی ہیں اسی طرح طب یونانی اور آیورویدا کو بھی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس سے انکاار نہیں کیا جا سکتا کہ طب یونانی اور اس کے فارغین نے پچھلے سو سالوں میں اپنے وقار کو کھویا ہے اور زوال کا شکار ہوئے ہیں۔ لیکن پچھلی دہائیوں کی بات کی جائے تو ہم آیوروید کے ساتھ ساتھ طب یونانی کے  روشن مستقبل کو دیکھ سکتے ہیں۔ 2005 میں این آر ایچ ایم آنے کے بعد طب یونانی کے فارغین کے لئے سرکاری نوکریوں میں بحال ہونے لگے۔ پھر آر بی ایس کے کے تحت بھی انکی بحالی ہوئی ۔ 2020 میں 3270 آیوش ڈاکٹروں کی بحالی کے لئے اشتہار نکالا گیا جس کی بحالی 2024 میں مکمل ہوئی۔فارغین میں سے زیادہ تر ایلوپیتھک پریکٹس کر لیتے ہیں، بہتیرے کو بڑے بڑے اسپتالوں میں جگہ مل جاتی ہے، الگ الگ صحت کی تنظیمیں بھی یونانی ڈاکٹروں کو بحال کرنے لگی ہے۔  ان سب وجوہات سے بھی ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھنے والے طلباء بی یو ایم ایس کورس میں داخلہ لینے کو  کوشاں رہتے ہیں۔ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ بہار کے کسی بھی پرائویٹ یونانی کالجوں میں داخلے کی فیس 10 لاکھ سے زیادہ ہے۔ ایسے میں غریب طالب علموں کے لئے صرف طبی کالج پٹنہ ہی ایک واحد ادارہ ہےجہاں این سی آئی ایس ایم کی قینچی ہر سال سیٹیں کم کر دیتی ہیں۔ 

بہار میں طب یونانی کی بات کریں تو اس کا محور ہمیشہ گورنمنٹ طبی کالج پٹنہ رہا کرتا ہے۔ کیونکہ یہی وہ ادارہ ہے جو آزادی سے پہلے سے طب کی روشنی بکھیر رہا ہےاور یہاں کے فارغین بہار ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں خدمت انجام دے رہے ہیں۔جس وقت طبی کالج پٹنہ کا قیام ہوا اس وقت بہار ، اوڈیسہ اور جھارکھنڈ ایک ساتھ ہوا کرتے تھے باوجود اس کی صوبے کی کل آبادی 3 کڑور کے آس پاس تھی۔ آج جب کہ اس کالج کے قیام کے سو سال ہونے کو ہیں اور بہار کی آبادی چار گنا بڑھ کر لگ بھگ 13 کڑور ہو چکی ہے ، کوئی دوسرا طبیہ کالج نہیں بن سکا۔ اس بابت ایسو سی ایشن آف یونانی فزیشین ، بہارکی جانب سے جدیو ،راجد حکومت  اور جد یو ، بی جے پی حکومت میں بھی مکتوب لکھے گئے اور اس کی مانگ کی گئی کہ موجودہ وقت میں آبادی کے تناسب سے کم از کم دو اور طبیہ کالج قائم کیا جانا چاہئے۔ اے یو پی کے کارکنان نے  امارت شرعیہ سے بھی اپنی مراعات رکھی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت میں ہمارے قائدین کو اس بابت اپنی بات اٹھانی ہوگی اور بار بار حکومت سے اپنی مانگ دہرانی ہوگی۔ موجودہ وقت میں گورنمنٹ  طبی کالج پٹنہ میں بی یو ایم ایس کی 125 سیٹیں ہیں جب کہ پانچ شعبے میں ماہر طب یعنی پی جی کورس چل رہا ہے جس میں 31 سیٹیں ہیں۔ اتنی کثیر آبادی کے لئے یہ سیٹیں ناکافی ہیں۔ 

یونانی ڈے منانے کا مقصد یہ ہونا چاہئیے کہ سال میں ایک بار اپنا احتساب کریں کہ اس ایک سال میں طب نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ طبی ادارے ایک سال کے لئے اپنا حدف متعین کریں اور اسے حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ نے یہ حدف حاصل کیا ہے تب تو یونانی ڈے منانے کا مقصد پورا ہوتا ہے ورنہ گفتن، شنیدن ،برخاستن۔

No comments:

Post a Comment