Tuesday, 11 February 2025

شام سے فرار اور حکومت کے سقوط پر بشارالاسد کے بیٹے کے چشم کشا انکشافات

 





شام میں برسوں تک سیاہ وسفید کے مالک رہنے والے اسد خاندان کے پچھلے سال آٹھ دسمبر کو سقوط کے بعد بشارالاسد اور ان کے خاندان کے روس فرار کی تفصیلات گاہے گئے میڈیا پر آتی رہتی ہیں۔


اس حوالے سے مختلف زاویوں سے تفصیلات سامنے آتی رہیں، جن کی تازہ کڑی بشارالاسد کے بیٹے حافظ الاسد کے نام سے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر بنے اکاو¿نٹ سےآنے والے تفصیلات ہیں۔


شام کے سابق مفرور صدر بشار الاسد کے بیٹے "حافظ الاسد" کے نام سے ایک تصدیق شدہ اکاو¿نٹ نے سوشل میڈیا پر اس وقت ایک ہنگامہ برپا کردیا جب اس نے شامی حکومت کے خاتمے اور ان کے ماسکو فرار ہونے سے پہلے کے آخری لمحات کی تفصیلات شائع کیں۔


"خزاں کی رات کی تفصیلات" کے عنوان سے شائع پوسٹ ایک گھنٹہ سے بھی کم وقت کے بعد X پلیٹ فارم سے حذف کردی گئی۔کسی سرکاری رد عمل کے بغیر ہی اکاو¿نٹ بند کر دیا لیکن ایوا کیرن بارٹلیٹ نامی ایک امریکی صحافیہ نے تصدیق کی کہ جس اکاو¿نٹ نے یہ تفصیلات ’ایکس‘ پلیٹ فارم اور ٹیلی گرام پر شائع کی ہیں وہ دراصل حافظ الاسد کا ہے۔


اسد کی حامی صحافیہ نے اپنے فیس بک اکاو¿نٹ پر کہاکہ "میں تصدیق کر سکتی ہوں کہ یہ اکاو¿نٹ حقیقی ہے جعلی نہیں۔ ہم حال ہی میں رابطے میں تھے۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ یہ چینل ٹیلی گرام کے ساتھ ساتھ X پلیٹ فارم پر اپنا اکاو¿نٹ بنانے والا ہے"۔


"دمشق سے فرار"

حافظ الاسد کے اس اکاو¿نٹ کی تصدیق ’بلیو ٹیک‘کے ساتھ کی گئی تھی۔ اس نے اکاو¿نٹ پر لکھا کہ دمشق چھوڑنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا، یہاں تک کہ کوئی بیک اپ بھی نہیں تھا۔


انہوں نے مزید کہا کہ "گذشتہ 14 سالوں میں شام ایسے حالات سے گذزا ہے جو نومبر کے آخر اور دسمبر کے شروع میں گذرے حالات سے کم مشکل اور خطرناک نہیں تھے۔ جو بھی فرار ہونا چاہتا تھا وہ ان برسوں میں ملک سے نکل گیا۔ خاص طور پر پہلے سالوں میں جب دمشق کا تقریبا محاصرہ کیا گیا اور روزانہ بمباری کی جاتی تھی۔دہشت گرد اس کے مضافات میں تھے، اور ان کے دارالحکومت تک پہنچنے کے تمام امکانات موجود تھے مگر اس وقت بھی بشارالاسد نے ملک نہیں چھوڑا"۔


اکاو¿نٹ پر لکھی پوسٹ میں کہا گیا کہ "حالیہ واقعات شروع ہونے سے پہلے میں نے 29 نومبر کو اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کے لیے شام ونگز ایئر لائنز پر 20 نومبر کو دمشق سے ماسکو کا سفر کیا۔ میری والدہ (اسمائ الاسد) اس وقت ماسکو میں تھیں جو ہڈیوں کی پیوند کاری کے بعد موسم گرما کے آخر میں علاج کروا رہی تھیں۔ ڈگری سے متعلق کچھ طریقہ کار کو مکمل کرنے کے لیے مجھے ڈاکٹریٹ کے بعد کچھ دیر ماسکو میں ٹھہرنا تھا، لیکن شام میں حالات خراب ہونے کی وجہ سے میں اتوار یکم دسمبر کو شامی ایئر لائنز کے ذریعے دمشق واپس آگیا تاکہ اپنے والد اور اپنے بھائی کریم کے ساتھ رہوں، میری والدہ اپنا علاج مکمل کرنے کے لیے ماسکو میں رہیں۔ ان کے ساتھ بہن زین کو چھوڑا گیا‘۔


حکومت کے زوال کی تفصیلات

اس کے بعد ’ ایکس‘ اکاو¿نٹ پر شامی حکومت کے زوال کی تفصیلات شائع کی گئیں جب اسد رجیم مسلح دھڑوں کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچی۔ اس نے لکھا کہ"جہاں تک ہفتہ 7 اور 8 دسمبر کے واقعات کا تعلق ہے تو ہفتے کی صبح میرے بھائی نے دمشق میں ہائر انسٹی ٹیوٹ برائے اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں ریاضی کا امتحان دیا جہاں وہ پڑھ رہا تھا۔ میں خود کو اگلے دن کام پر واپس جانے کے لیے تیار کر رہا تھا۔ میری بہن نے اگلے دن شام کی ایئر لائنز کا ٹکٹ بک کرایا“۔


اس نے وضاحت کی کہ "ہفتے کی سہ پہر افواہیں پھیل گئیں کہ ہم ملک سے فرار ہو گئے ہیں۔بہت سے لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا کہ تو میں نے بتایا کہ ہم دمشق میں ہیں۔ میں اس افواہ کی تردید کرنے کے لیے المہاجرین کے پڑوس میں واقع النیرابین پارک گیا اور اپنی ایک تصویر لی جو میں نے انسٹاگرام پر پوسٹ کی تاکہ لوگوں کو یقین ہو کہ میں دمشق میں ہوں۔ یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی“۔


بیان میں کہا گیا ہے کہ "اس وقت تک دور دراز سے فائرنگ کی آوازوں کے باوجود جنگ کے پہلے ابتدائی عرصےے جیسی کوئی چیز نہیں تھی۔ حالات ایسے ہی جاری رہے جیسے کہ فوج دمشق کے دفاع کی تیاری کر رہی تھی۔حالات اس وقت تک خراب نہیں ہوئے جب تک حمص سے فوج کے انخلائ کی خبر نہ آئی۔ حمص کی طرف سے فوج کے انخلائ کی وجہ سے ہم حیران رہ گئے تھے‘۔


روسی اہلکار اور الاذقیہ جانے کی درخواست


بشار الاسد کے بیٹے نے اپنی پوسٹ میں اشارہ کیا کہ: "ایسی کوئی تیاری یا کوئی چیز نہیں تھی جس سے یہ باور کرایا جاتا کہ ہم وہاں سے چلے جائیں، یہاں تک کہ روس کی جانب سے ایک اہلکار آدھی رات کے بعد المالکی محلے میں واقع ہمارے گھر پر پہنچا۔ اس نے صدر سے الاذقیہ منتقل ہونے کی درخواست کی۔"


انہوں نے مزید کہا کہ "تھوڑی دیر کے بعد ہم دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طرف روانہ ہوئے اور نصف شب کے بعد تقریباً تین بجے وہاں پہنچے۔ وہاں ہم اپنے چچا ماہر سے ملے، کیونکہ ہوائی اڈہ کنٹرول ٹاور سمیت ملازمین سے خالی تھا۔ پھر ہم روسی فوجی طیارے میں الاذقیہ چلے گئے، جہاں سے ہم فجر سے پہلے حمیمیم ہوائی اڈے پر اترے"۔


انہوں نے بتایا کہ کہ "اتوار کو دن کے ابتدائی اوقات میں ہمیں برج اسلام کے علاقے میں واقع صدارتی ریسٹ ہاو¿س کی طرف لے جایا گیا جو اڈے سے بذریعہ سڑک 40 کلومیٹر سے زیادہ دور ہے، لیکن کسی سے رابطہ کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں"۔




"ماسکو روانگی "

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس وقت "وہ تمام فون بند کر دیے گئے تھے جنہیں کال کی جا رہی تھی۔دہشت گردوں کے ساتھ محاذ سے افواج کے انخلائ اور آخری فوجی مقامات کے سقوط کے بارے میں اطلاعات آنا شروع ہو گئیں۔ اسی وقت پے در پے ڈرون حملے شروع ہو گئے، اور اس کے آس پاس کے علاقے میں قریب اور دور سے گولہ باری شروع ہو گئی"۔


آخر میں حافظ الاسد نے کہا کہ "دوپہر میں ایئر بیس حکام کی قیادت نے ہمیں اس کے ارد گرد کی صورت حال کی سنگینی سے آگاہ کیا۔ہمیں بتایا کہ دہشت گردوں کے پھیلاو¿، افراتفری اور بیس کی حفاظت کے لیے ذمہ دار یونٹوں کے انخلائ کی وجہ سے اڈہ چھوڑنا ناممکن ہے۔ اس کے علاوہ ماسکو سے مشاورت کے بعد ہم نے ماسکو کو محفوظ طریقے سے ایک طیارہ روانہ کرنے کے لیے کہا جہاں ہم اتوار 8 کی رات ماسکو کے لیے روانہ ہوئے"۔


پوسٹ کی طوالت کی وجہ سے بہت سے شامیوں کی طرف سے اس پوسٹ کا مذاق اڑایا گیا، جس کا اختتام اس بیان پر ہوا کہ وہ 8 دسمبر کی صبح شام سے فرار ہو گئے تھے، جبکہ اکاو¿نٹس نے اس بات کی تردید کی تھی کہ یہ اکاو¿نٹ بشار الاسد کے بیٹے سے وابستہ تھا۔



No comments:

Post a Comment