ممبئی۔: بہار کے ہر دلعزیز اور سینئر سیاسی رہنما، راجیہ سبھا کے رکن فیاض احمد ان دنوں ممبئی کے دورے پر ہیں، جہاں وہ بہار اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اہالیانِ بہار سے مسلسل مشاورت میں مصروف ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ان کے استقبال میں شاندار اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت دیکھنے کو مل رہی ہے۔گزشتہ روز ناگپاڑہ کے سیف ہال میں ان کے اعزاز میں ایک خصوصی استقبالیہ اجلاس منعقد ہوا، جبکہ اتوار کے روز گوونڈی میں ایک عظیم الشان تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں تین ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں فیاض احمد کے ہمراہ ان کے بیٹے انجینئر آصف احمد بھی موجود تھے۔
اس موقع پر صغیرہ فاو¿نڈیشن کے روحِ رواں ابرار احمد شیخ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جب بہار اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہو جائے تو اہالیانِ بہار اسے ایک تیوہار کی طرح منائیں اور جس طرح وہ تہوار منانے کے لیے اپنے گاو¿ں کا رخ کرتے ہیں، اسی طرح انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کے لیے بھی گاو¿ں جائیں، تاکہ مسلم ووٹ فیصد میں اضافہ ہو اور سیکولر جماعتوں کی کامیابی کے امکانات روشن ہوں۔ناگپاڑہ سیف حال میں ڈاکٹر بدرالحسن بدر، نظام الدین شیخ وغیرہ شامل تھے۔
پروگرام کو نوشادصاحب فرقان شیخ عارف شیخ ندیم شیخ نے آرگنائز کیا تھا۔ اس دورے کے دوران فیاض احمد کی ملاقاتوں کا سلسلہ ممبئی کے دیگر علاقوں میں بھی جاری ہے۔بروز اتوار 16/02/2025بعد نماز عصر، گوونڈی میں بھی ان کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی، جہاں بہار کے مسائل اور اسمبلی انتخابات میں مسلم ووٹوں کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مقامی رہنماو¿ں اور سماجی کارکنوں نے اس موقع پر اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا اور انتخابات میں متحد ہو کر سیکولر امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنانے کی اپیل کی۔قابلِ ذکر ہے کہ فیاض احمد کا شمار لالو پرساد یادو کی پارٹی راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سینئر رہنماو¿ں میں ہوتا ہے۔ وہ بسفی بلاک اسمبلی حلقے سے کئی بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں اور فی الحال راجیہ سبھا کے رکن ہیں۔ مدھوبنی میں ان کے زیر انتظام کئی تعلیمی ادارے، اسپتال اور فلاحی مراکز قائم ہیں، جہاں سے لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ ان کے اس دورہ¿ ممبئی کو بہار کے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو آنے والے انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔

No comments:
Post a Comment