"ہم نے انہیں یہ رقم مفت میں دی تھی اور ہم اسے واپس حاصل کریں گے " یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یوکرین اور اس کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے بارے میں حال ہی میں دیے گئے شعلے دار بیانات کی ایک مثال ہے۔
ہفتہ کی شام امریکی صدر نے ایک بار پھر اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کے ملک نے اس سے پہلے یوکرین کی امداد پر جو رقم خرچ کی ہے اسے وہ واپس حاصل کریں گے۔ انہوں نے کنزرویٹو پولیٹیکل ایکشن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا "میں اپنا پیسہ واپس لانے یا اس کی حفاظت کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔"
ٹرمپ نے مزید کہا کہ "یورپ نے کیف کو 100 بلین ڈالر قرض کے طور پر دیے جبکہ واشنگٹن نے اسے 350 بلین ڈالر دیے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ وہ ہمیں فراہم کردہ تمام رقم کے بدلے میں کچھ دیں۔"
یہ بیانات ٹرمپ کی طرف سے حال ہی میں دئے گئے غصے سے بھرے اشتعال انگیز بیانات کے سلسلے کے ایک حصے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ٹرمپ اپنے بیانات میں یوکرینی صدر زیلنسکی کو مسلسل ایک آمر کے طور پر بیان کرنے تک چلے گئے ہیں۔ جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین بھی ایک آمر ہیں تو انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا۔
غصے کی وجہ کیا ہے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ کے غصے کی سیاسی وجوہات اور محرکات واضح ہیں اور ٹرمپ ماضی میں بارہا ان کا اعلان بھی کیا ہے۔ ان وجوہات میں سرفہرست وہ رقم ہے جو امریکہ نے کیف کو اب تک ادا کی ہے۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ اس رقم کی تلافی کی جائے۔ لیکن پچھلے دس دنوں کے 5 لائیو واقعات نے بھی ٹرمپ، ان کے نائب صدر وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کے غصے اور اشتعال کو ہوا دی ہے۔
12 فروری کو ٹریڑری سکریٹری سکاٹ بیسنٹ نے کیف میں زیلنسکی سے ملاقات کی تاکہ ایک تجویز پیش کی جا سکے جو واشنگٹن کو امریکی تحفظ کے بدلے یوکرینی معدنیات تک رسائی دے گی۔ لیکن زیلینسکی نے بیسنٹ کے ساتھ بدتمیزی کی اور اس کے ساتھ اپنی ملاقات اس بنا پر ملتوی کر دی کہ وہ سو رہے تھے۔
پھر دو دن بعد 14 فروری کو میونخ سیکورٹی کانفرنس میں ٹرمپ کے نائب صدر اور وزیر خارجہ نے زیلنسکی سے ملاقات کی تاکہ دھاتوں کے سودے کی منظوری حاصل کی جا سکے۔ لیکن باخبر حکام نے انکشاف کیا کہ زیلنسکی نے یہ کہہ کر امریکیوں کو حیران کر دیا کہ اس کے پاس پارلیمنٹ میں واپس آئے بغیر اسے منظور کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
15 فروری کو سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب زیلنسکی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران عوامی طور پر اعلان کیا کہ اس نے امریکی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔ وائٹ ہاو¿س کے ذرائع نے تصدیق کی کہ ان کے بیانات گزشتہ روز دیے گئے سابقہ بیانات سے بالکل مختلف تھے۔
چوتھا واقعہ 18 فروری کو پیش آیا جب روبیو اور امریکی صدارتی ایلچی سٹیو وٹ کوف سعودی عرب میں امن کے بارے میں بات کرنے کے لیے روسی مذاکرات کاروں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اس ملاقات پر تنقید کی گئی کیونکہ یہ ملاقات مذاکرات کی میز پر یوکرینی وفد کی موجودگی کے بغیر منعقد ہوئی۔
اس کے بعد ناراض ٹرمپ نے زیلنسکی کو تنقید کا نشانہ بنایا زیلنسکی پر روس کے ساتھ جنگ شروع کرنے کا الزام لگایا۔ ٹرمپ نے زیلنسکی کی بہت زیادہ گرتی ہوئی مقبولیت پر بھی تنقید کی۔
تاہم یوکرین کے صدر نے جواب دینے میں دیر نہیں کی اور اگلے ہی دن 19 فروری کو انہوں انے کہا کہ ان کے امریکی ہم منصب کو روسی معلومات سے گمراہ کیا گیا ہے۔ ٹرمپ کے پاس زیلنسکی پر اپنی تنقید کو بڑھانے اور ہدایت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یوکرین کے صدر ایک انتہائی معمولی کامیاب کامیڈین ہیں اور وہ بغیر انتخابات کے آمر بن چکے ہیں۔
لفظوں کی یہ جنگ اس وقت ہوئی جب امریکی انتظامیہ ابھی تک یوکرینی معدنیات پر کوئی معاہدہ طے کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ امریکی وزیر خزانہ نے یوکرین کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا یہ معاہدہ روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے بعد ملک کی ترقی کو سہارا دے گا اور اس میں کوئی زبردستی معاشی دباو¿ شامل نہیں ہوگا۔ یوکرین کے متعدد عہدیداروں نے کہا ہے کہ ٹرمپ کا زیلنسکی پر حملہ اور انہیں ایک آمر کے طور پر بیان کرنا محض اس معاہدے کو ختم کرنے اور اس کی شرائط کو تسلیم کرنے کے لیے دباو¿ کا ایک ذریعہ ہے۔
No comments:
Post a Comment