پٹنہ (پریس ریلیز) ڈاکٹر محمد شفاعت کریم، سابق جنرل سکریٹری، ایسوسی ایشن آف یونانی فزیشین، بہار نے پریس اعلانیہ جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آج مورخہ16 فروری کو پٹنہ کے گورنمنٹ طبی کالج کے اجمل خاں آڈیٹوریم میں ایک روزہ سی ایم ای کا انعقاد کیا گیا ۔ ہر سال ۱۱ فروری کو اجمل خاں کی یوم پیدائش کے موقع پر ورلڈ یونانی ڈے منایا جاتا ہے۔ امسال ایسوسی ایشن آف یونانی فزیشین بہار نے گورنمنٹ طبی کالج و اسپتال پٹنہ کے اشتراک سے یک روزہ سی ایم ای کا انعقاد کیا۔ اس پروگرام کی صدارت کالج ہذا کے پرنسپل، پروفیسر (ڈاکٹر) محمد محفوظ الرحمن نے کی۔ پرنسپل موصوف نے ڈاکٹروں سے خطاب میں کہا کہ یونانی ڈاکٹروں کو مسلسل اپنے تحریر کے ذریعہ عوام کے درمیان رہنا چاہئے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ورلڈ یونانی ڈے کے موقع پر ہم علاج کو ریسرچ کے پہلو سے گزار کر ہی اجمل خان کو سہی معنوں میں خراج عقیدت پیش کرسکتے ہیں ۔ پروگرام میں پھلواری شریف پٹنہ کے ایم ایل اے جناب کو پال روی داس مہمان خصوصی کے طور پر شامل ہوئے۔ انہوں نے سامعین سے فرمایا کہ میں جب چھوٹا تھا تو بچپن میں علاج کے لئے حکیم اورویدہی ہوا کرتے تھے اور ہم سب ان کی خدمت لے کر ہی بڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ طبی کالج پٹنہ آزادی سے قبل کا ادارہ ہے اور آج تک کوئی دوسرا سرکاری طبی کالج کا قیام نہ ہو سکا۔ میری کوشش ہوگی کہ میں حکومت بہار تک آپ کی آواز پہنچاﺅں اور دو مزید سرکاری طبی کالج کے قیام کی مانگ رکھوں گا۔ امارت شرعیہ بہار، اڑیسہ و جھار کھنڈ کے ناظم جناب محمد شبلی القاسمی نے مہمان اعزازی کے طور پر شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ ڈاکٹروں کو اپنے تجربات اور امراض سے تحفظ کے لحاظ سے مختلف روزنامے میں اپنے عنوان شائع کرانے چاہیئے، یہی آپ کو شناخت دلائے گی۔ ڈاکٹر انظار عالم، اسسٹنٹ پروفیسر جامعہ ہمدرد یونیورسیٹی دہلی خصوصی طور پر مدعو تھے جنہوں نے جلدی امراض میں سے برص کے عنوان پر ایک مقالہ پڑھا۔ انہوں نے بتایا کہ جلدی امراض میں سے برص ایسا مرض ہے جسے یونانی دواﺅں سے بآسانی ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔
یونانی حکماء زمانہ قدیم سے اس طرح کے مرض کا علاج کرتے آئے ہیں لیکن موجودہ دور میں ریسرچ کے ساتھ علاج کرنے کی ضرورت ہے۔ پروگرام میں موجود پروفیسر سید فضل اللہ قادری نے بتایا کہ میں نے 1992 میں مجلہ طبیب کو دوبارہ سے شائع کرایا تھا۔ اور ان دنوں ایک سال کے اندر دوسرے شمارے کی اشاعت قابل تعریف ہے۔ آپ لوگ لکھیئے ، اس سے آپ کی پہچان بنے گی۔ ڈاکٹر نیلو یادو، بدھا کینسر سینٹر پٹنہ کی مشہور گائنوکولا جسٹ نے بھی عوام کو خطاب کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بہار پہلا صوبہ ہے جہاں ایچ پی وی ویکسین لڑکیوں کو فراہم کرائی گئی ہے اس ویکسین سے عورتوں میں سروائیکل کینسر ہونے کے امکانات اتم درجے تک کم ہو جاتے ہیں۔ آپ سب ڈاکٹروں کو معلوم ہونا چاہیئے اور اپنے مریضوں کو اس ویکسین کے لینے کے لئے راغب کرنا چاہئے۔ جلدی امراض کے موضوع پر ڈاکٹر سلطانہ انجم کا بھی خطاب تھا، محترمہ انجم طبی کالج سے طلباءرہی اور امراض جلد و تزینیات شعبہ کی پہلی ایم ڈی ہیں۔ انہوں نے جلدی امراض سے تحفظ کے لئے اٹھائے جانے والی تدابیر پر روشنی ڈالی۔ بتاتا چلوں کہ اتنے بڑے پروگرام کی ذمہ دو مضبوط کندھوں پر تھی، ڈرمیٹ پروگرام کے صدر ڈاکٹر ندیم اختر اور سکریٹری اشرف جلال نے اس پورے پروگرام کو خوبصورتی سے انجام تک پہنچایا۔ اس پروگرام میں سلفیہ یونانی میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر محمد سلیمان صاحب ذوالفقار حیدر یونانی میڈیکل کے نائب صدر ڈاکٹر مختار صاحب بھی موجود تھے۔ مجلس میں ڈاکٹر محمد تنویر عالم، شعبہ صدر، کلیات، ڈاکٹر شمیم اختر، شعبہ صدر ما ہیئت الامراض ، ڈاکٹر ھمایوں سیم ، ڈاکٹر توصیف احمد، ڈاکٹر سرور خان، ڈاکٹر محفوظ عالم، ڈاکٹر امتیاز احمد کے علاوہ 300 سے زائد یونانی ڈاکٹر بہار کے مختلف صوبے سے اس پروگرام میں شامل ہوئے۔ بہار کے یو نیورسٹی میں سے دونوں یونیورسٹی سے ٹاپ نمبرات لانے والے طلباءکو مومینٹو دیگر اعزاز دیا گیا۔ آخر میں منتظمین میں شامل سبھی کارکنان کو مومنٹو دیکر حوصلہ افزائی کی گئی۔ اس پروگرام میں ایسوسی ایشن آف یونانی فزیشین بہار کے جنرل سکریٹری نے جملہ تشکر ادا کیا اور اس کے ساتھ ہی اپنے عہدے سے استعفی دینے کا اعلان کر دیا۔
No comments:
Post a Comment