Wednesday, 19 February 2025

مسلمانوں کے اندر سیاسی شعور کی کمی ہے : پرشانت کشور

 





پٹنہ: مسلم سماج میں سیاسی شعور بیدار نہیں ہو رہا ہے۔ ان کے دل و دماغ میں ڈر بیٹھا ہوا ہے کہ اگر ہم اپنے حق و حقوق کیلئے احتجاج کریں گے تو گرفتار ہو جائیں گے لیکن اگر کوئی مسلم نوجوان غلط طریقے سے گرفتار ہوتا ہے تو جن سوراج اسے بچائے گا لہذا مسلمانوں کو جمہوریت میں حصہ دار بننا پڑے گا ورنہ آپ کا وجود ختم ہو جائے گا۔مذکورہ باتیں آج ستیہ گرہ آشرم میں جن سوراج کے روح رواں پرشانت کیشور نے اردو اخبارات کے نمائندوں اور صحافیوں سے ایک خصوصی ملاقات میں کہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست صرف چناو± لڑنے یا ووٹ کرنے کا نام نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو گاندھی جی نے کبھی چناو± نہیں لڑا تو کیا ان سے بڑا کوئی لیڈر پیدا ہوا۔ لہزا جس کے ساتھ عوام ہوگی وہی اپنے سماج کا لیڈر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا کی اپنی کوئی طاقت نہیں ہے بلکہ سنگھ کی طاقت پر بھاجپا اقتدار میں آتی ہے۔ سنگھ مسلسل اپنے وچار دھارا کیلئے برسوں برس سے کام میں لگا ہوا ہے۔ اس لئے ابھی وچار دھارا کی لڑائی چل رہی ہے۔ واجپائی، اڈوانی، مودی، یوگی سب سنگھ کے وچار دھارا سے نکل کر آئے ہیں۔ میں نے پایا ہے کہ مسلمانوں کے اندر اتحاد کی کمی ہے مسلم سماج کو سیاسی طور پر بیدار کرنے کی میں مسلسل کوشش کر رہا لیکن وہ اپنے بچوں کو سیاسی تربیت حاصل کرنے کیلئے نہیں بھیج رہے ہیں۔ وہ اسلام کی بنیادی تعلیم سے بھی بے بہرہ ہیں اسلام نے تعداد کی بات کبھی نہیں کی۔ اگر تعداد کی بات ہوتی تو اسلام مذہب کبھی کھڑا ہی نہیں ہوتا۔ سچ پوچھئے تو مسلمانوں کی لیڈر شپ کو راجد نے ختم کیا۔ وقف بل کے سلسلے میں پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ نائڈو، جگن ریڈی، اور نتیش کمار ہی اس بل کو روک سکتے ہیں ان سے سوال کرنے کی ضرورت ہے ان پارٹیوں کے مسلم لیڈروں کو احتجاج کرنے کی ضرورت ہے پارٹی سے استعفی دینے کی ضرورت ہے اگر میں کہہ دوں کہ وقف بل کے خلاف ہوں تو اس سے کیا ہوگا انہوں نے کہا کہ جن گننا کے مطابق بہار میں مسلمانوں کی تعداد 18 فیصد ہے تو جن سوراج آبادی کے مطابق مسلمانوں کو اسمبلی انتخاب کیلئے ٹکٹ دے گا۔ اگر لوگ کہتے ہیں کہ جن سوراج بھاجپا کی بی ٹیم تو یہ غلط ہے نتیش کمار بھاجپا کے ساتھ ہیں تو مسلمان ان کو کیوں ووٹ کرتے ہیں اسی لئے میں کہتا ہوں کہ مسلمانوں کے اندر سیاسی شعور کی کمی ہے۔


No comments:

Post a Comment