پٹنہ، 14 فروری 2025بہار پردیش راشٹریہ جنتا دل کے ترجمان اعجاز احمد نے پرشانت کشور کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تیجسوی جی کی جانب سے خواتین کو اقتصادی انصاف دینے کے نظریے سے پرشانت کشور اتنے بے چین اور گھبرائے ہوئے کیوں ہیں؟ سبھی جانتے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو جملہ بازی میں ماہر بنانے والے اور اپنی پی آر ایجنسی کی فکر کرنے والے پرشانت کشور جی، کوئی بھی بات کہنے سے پہلے یہ ضرور سمجھ لیں کہ تمام حساب کتاب کے بعد ہی تیجسوی جی نے "مائی-بہن مان یوجنا" کے تحت مہاگٹھ بندھن حکومت بننے پر خواتین کے کھاتوں میں 2500 روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی اور جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کی بے چینی تو سمجھ میں آتی ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ خواتین کے اقتصادی انصاف کے لیے ڈبل انجن حکومت نے کوئی کام نہیں کیا، اور مہنگائی کی مار سب سے زیادہ ہماری مائیں اور بہنیں جھیل رہی ہیں۔
پرشانت کشور اس طرح بے چین نظر آ رہے ہیں جیسے 2020 کے اسمبلی انتخابات کے وقت، جب تیجسوی جی نے کہا تھا کہ پہلی ہی کابینہ میٹنگ میں 10 لاکھ نوکریاں اور روزگار دیں گے۔ اس وقت وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ "پیسہ کہاں سے لاو¿ گے، باپ کے گھر سے یا جیل سے؟" لیکن تیجسوی جی نے اپنے اس عہد کو 17 مہینوں میں مہاگٹھ بندھن حکومت کے ذریعے پورا کرتے ہوئے ساڑھے 5 لاکھ نوکریاں دیں اور تقریباً 3.3 لاکھ خالی اسامیوں کو بھی چھوڑ کر گئے۔ اس سے واضح ہے کہ تیجسوی جی عمر میں نوجوان ضرور ہیں لیکن اپنے وعدے کے پکے ہیں۔
پرشانت کشور جی، آپ بی جے پی کی "بی ٹیم" ہیں اور سیاست آپ کے بس کی بات نہیں۔ آپ بی جے پی کے اشارے پر کب تک تیجسوی جی کے خلاف اس طرح کی زبان استعمال کرتے رہیں گے؟ آپ اپنی پی آر ایجنسی کی فکر کریں، سیاست آپ کے بس کی بات نہیں ہے۔ بہار کی عوام آپ کو بخوبی جان چکی ہے اور سمجھتی ہے کہ آپ یہاں کس کے لیے سیاست کر رہے ہیں۔
No comments:
Post a Comment