مصر نے سعودی عرب کے خلاف اسرائیلی بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے حد سے تجاوز اور نا قابل قبول قرار دیا ہے۔ مصر نے باور کرایا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی سرخ لکیر ہے جس کو نقصان پہنچانے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی۔
مصری وزارت خارجہ نے آج ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا ہے کہ وہ سعودی عرب کے خلاف اسرائیل کے غیر ذمے دارانہ بیان کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے، اور اس بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف اشتعال انگیز بیان میں سعودی اراضی پر فلسطینی ریاست بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ بیان سعودی عرب کی خود مختاری پر براہ راست حملے کے مترادف ہے اور بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
مصری وزارت خارجہ نے باور کرایا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور اس کی خود مختاری کا احترام "سرخ لکیر" ہے اور مصر اسے گزند پہنچانے کی اجازت ہر گز نہیں دے گا۔
مصر کا کہنا ہے کہ مملکت سعودی عرب کا استحکام اور قومی سلامتی مصر اور عرب ممالک کی سلامتی و استحکام کا حصہ ہے جس کے حوالے سے کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔ اسرائیل کا یہ بیان سعودی عرب کی خود مختاری اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق پر حملہ ہے۔
مصر نے باور کرایا ہے کہ وہ اس طرح کے غیر ذمے دارانہ بیانات کے خلاف پوری طرح سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ... اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس بیان کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا جائے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل با خبر ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا تھا کہ رواں ماہ فروری کے اواخر میں قاہرہ میں عرب لیگ کا ایک ہنگامی سربراہ اجلاس منعقد کرنے کے حوالے سے عرب وزرائے خارجہ کے بیچ کثیر مشاورت جاری ہے۔ اجلاس میں فلسطینیوں کی جبری ہجرت کی کوششوں اور منصوبوں کے حوالے سے ایک یکساں موقف پیش کیا جائے گا۔
مصری وزیر خارجہ نے مسئلہ فلسطین کی صورت حال کے حوالے سے تبادلہ خیال کے لیے سعودی عرب، امارات، کویت، سلطنت عمان، بحرین، اردن، عراق، الجزائر، تونس، موریتانیا اور سوڈان کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے ہیں۔ ساتھ ہی فسلطینی عوام کو ان کی سرزمین سے ہجرت پر مجبور کرنے یا فلسطینی اراضی کے باہر دوسرے ممالک منتقل کرنے کے حوالے سے کسی بھی اقدام کو مسترد کرنے کے سلسلے میں دو ٹوک موقف کو دہرایا۔
No comments:
Post a Comment